اسلام علیکم
میرے نبی کریم محمد صلی اللّہ علیہ وسلم
اللہ کے آخری نبی ہیں ان کے بعد نبوت ختم ہو گئ
روز قیامت انھی کی شفاعت ملنی ہے
میرا عقیدہ اور میرا ایمان یہی ہے بس
میرے فالورز میں کوئ قادیانی ہے تو اسی وقت نکل جائے ان کا میرے فالورز میں ہونا میرے ایمان کی توہین ہے
شروع ہو گے نورانی کے سہولت کار ، نورانی نے یہاں ایک صحافی خاتون کو دھوکہ دیا دوسری شادی کی د�� بچے پیدا کئیے پھر امریکہ بھاگ گیا وہ عورت سوشل میڈیا پر روتی رہی کہ بچوں کو پوچھتا نہی تب اس اعزاز سمیت ایک صحافی نے اس کے حق میں ٹویٹ نہی کی الٹا یہ اور نورانی کے دوس�� اسے آئی ایس آئی کا ایجنٹ کہتے رہے اس عورت کی بدترین ٹرولنگ کی گی اب گورایہ نے تسلیم کیا کہ طلاق کے جعلی کاغذات نورانی نے امریکہ جمع کرائے اتنا درد ہوتا تو ان معصوم بچوں کے لیے بولتے جنہیں نورانی چھوڑ گیا کبھی منہ تک نہی لگایا
@AmbreenFatimaAA
ہمارا مائک بند کرنا مسلئے کا حل نہیں
حضرت سیدہ طیبہ طاہرہ امی جان حضرت عائشہ صدیقہ پر بات کیوں نہیں ہوئی اور 17 رمضان المبارک کو میری جگہ دوسرا بندہ کیوں بٹھایا گیا ؟
صرف اس لئے کہ میں اپنی ماں حضرت عائشہ صدیقہ کی عظمت پر بات کروں گا ،
وہ ہو گی ہر صورت ہو گی
پہرہ جاری رہے گا ان شاءاللہ
✍️ مفتی ابو محمد عفی عنہ
🚨🚨 احمد نورانی کی صحافتی بددیانتی بے نقاب
احمد نورانی نے ایک گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی رپورٹ لکھی ہے جو صحافتی اصولوں کی کھل�� خلاف ورزی ہے۔ پاکستان گزٹ، جو تمام سرکاری معاملات پر ضوابط وضع کرتا ہے، اس میں واضح ہے کہ سفارتی پاسپورٹ سے متعلق شرائط عمران خان کے دور میں تبدیل کی گئیں۔ اس کی تصدیق کے لیے نیچے اصل دستاویز کا عکس موجود ہے۔
پاکستان میں پاسپورٹ کی تین اقسام
1:- سفارتی پاسپورٹ (سرخ رنگ) – مخصوص اعلیٰ سرکاری و حکومتی عہدیداران کے لیے
2:- ��فیشل پاسپورٹ (گہرے نیلے رنگ) – سرکاری ملازمین اور مجاز افراد کے لیے
3:- عام پاسپورٹ (سبز رنگ) – عام شہریوں کے لیے
اہم نکات:
✅ پاکستان مختلف سرکاری عہدیداروں کو سفارتی پاسپورٹ جاری کرتا ہے، اور اگر وہ سرکاری ڈیوٹی پر ہوں تو ان کے بیوی بچوں کو بھی مل سکتا ہے۔
✅ فوج کے چار ستارے والے جنرل (آرمی چیف) سفارتی پاسپورٹ کے اہل ہوتے ہیں، جبکہ ان کے بچے آفیشل پاسپورٹ رکھنے کے مجاز ہیں۔
✅ احمد نورانی نے جھوٹ بولا کہ آرمی چیف کی بیٹیوں کے پاس سفارتی (سرخ) پاسپورٹ ہے، جبکہ حقیقت میں وہ صرف آفیشل پاسپورٹ کی حقدار ہیں۔
یہ جھوٹی خبر اب کیوں چلائی جا رہی ہے؟
یہ پاسپورٹ سال 2022 میں جاری کیے گئے، جب آرمی چیف کی تعیناتی کا مرحلہ جاری تھا۔
•اسی وقت ان معلومات کو سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کو بھیجا گیا تاکہ مخصوص افراد کا راستہ روکا جا سکے۔
•اب انہی پرانی سفری دستاویزات کو توڑ مروڑ کر ایک جھوٹی کہانی بنائی جا رہی ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
🚨 بنیادی سوال: احمد نورانی کو یہ سرکاری دستاویزات کس نے فراہم کیں؟
یہ پوری مہم منظم طور پر اداروں کو بدنام کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے، اور اس کا مقصد سیاسی و عسکری قیادت پر بے بنیاد الزامات لگانا ہے۔ یہ صحافت نہیں، بلکہ ایک ایجنڈا ڈرائیون مہم ہے جس میں جھوٹ، مس لیڈنگ انفارمیشن اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ تبدیلی والے پڑھے لکھے لوگ پختونخوا پر بارہ سال سے مسلط ہے۔ شاہ زیب خانزادہ پریشان ہے کہ یا تو میں نے اکنامکس میں غلط پڑا ہے یا فارمولا چینج ہوگیا ہے
😂🤣😂
امریکہ میں اگر کوئی سوشل میڈیا پر لکھتا کہ چند ہزار فوجی بغاوت کردیں تو اس پر غداری کا مقدمہ چلتا اور ساری عمر وہ جیل میں رہتا
ہونا تو اس یوتھیے کے ساتھ بھی یہی چاہیے مگر ہماری عدالتیں اور قانونی نظام اس قدر کمزور ہے کہ یہ لوگ چھوٹ جاتے ہیں
ارشاد بھٹی نے جب طارق جمیل سے حور لائبہ سے متعلق کوئی مستند دلیل سہی مسلم سہی بخاری سے مانگی تو کہتا ہے وہاں نہیں ہے تجھے سہی مسلم بخاری کا بخار کیوں چڑھ گیا ہے لگتا ہے مرزے سے متاثر ہوکر بیٹھا ہے یہی وہ مولوی ہے جو نیازی کی ایمانداری کی قسم کھا رہا ہے بغیر کسی دلیل کے ۔۔۔۔
شیل بیٹا پھینک رہا ہے اور آنسو ماں کے نہیں رک رہے (لال ٹوپی والا سنا ہے گرفتار ہوگیا ہے اور والدہ رو رو کر دہائیاں دے رہی ہیں کہ میرا بیٹا بے قصور ہے )
شیل بیٹا پھینک رہا ہے اور آنسو ماں کے نہیں رک رہے (لال ٹوپی والا سنا ہے گرفتار ہوگیا ہے اور والدہ رو رو کر دہائیاں دے رہی ہیں کہ میرا بیٹا بے قصور ہے )
کون ہے یہ۔۔۔؟؟ حیدر سعید کو اٹھانے والوں میں شامل ہے کہاں لے کر گئے ہیں بچے کو۔۔۔؟؟
سب آواز اٹھائیں اور اتنی بھرپور اٹھائیں کہ یہ چھوڑنے پر مجبور ہو ��ائیں
اختر مینگل کے خط میں فرح عظیم کے سوالات کا جواب نہیں ہے جو انھوں نے پوچھا کہ آپ سردار امیر اور عام آدمی غریب کیوں ہے؟ آپ کے بچے باہر اور بلوچستان کے بچوں کے پاس سرکاری اسکول بھی نہیں؟ آخر کیوں وسائل صرف سرداروں تک رہے ؟
🚨The truth about Gwadar's history:🚨
Before Pakistan's formation, there was no province named Balochistan.
Gwadar, which was part of Makran for centuries, was later under the influence of the Gachki and Belidi Baloch tribes. In the 17th century,
it was under Iran’s Nadir Shah. It then became part of the Kalat state and was handed over to Oman’s ruler by the Khan of Kalat in 1783.
In 1861, the British took control, and after their exit, Gwadar remained with Oman. In 1958, Pakistan purchased it for $10 million. However, the payment was for the land and territorial rights, not infrastructure—Gwadar was a small, underdeveloped fishing town at the time, with no roads or significant infrastructure.
The agreement for Gwadar's transfer was presented and approved in Pakistan’s National Assembly. This was a territorial agreement, not an infrastructure purchase.