“پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا!
میں غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں نہ ہی جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا!
عمران خان
اس وقت اسلام آباد میں دھرنا جاری ہے
#حق_كى_جيت_ہو_گى#sajjadkhanpk21
آپ سوچتے ہوں گے گذشتہ چار سال میں اس ریاست نامی ڈائن کی کون سی مکروح شکل نہیں ہوگی جو آپ نے نہیں دیکھی ہوگی اور پھر یہ پہلے سے زیادہ قبیح صورت میں آپ کے سامنے آجاتی ہے۔
گذشتہ ہفتے سے خیبر پختونخواہ میں بے شرمی کا ایک بازار گرم ہے۔ جو شاید ۹ مئی کے ڈھکوسلے کے بعد بھی پختون سرزمین پر نہیں ہوا وہ حدود بھی پار کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت صبر سے اپنے خلاف ہر وار سہہ رہی ہے تاکہ ان ناجائز طاقتوں کو مزید کسی رنڈی رونے کا بہانہ نہ مہیا کیا جاسکے مگر پس پردہ حقائق ہوشربا ہیں۔
خیبر پختونخواہ کی منتخب قیادت کے خلاف ہونے والے حملوں میں “ریاست” کھلم کھلا گڈ طالبان اور کرمنلز کو استعمال کررہی ہے۔ ہر علاقے میں ایسی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں متعلقہ علاقے کے سنگین ترین جرائم میں ملوث افراد، چند گڈ طالبان، آئی ایس آئی اور ایم آئی شامل ہے۔ زرا سوچیے کس حد تک طاقت کی ہوس میں اندھے ہیں یہ کہ خطرناک ترین جرائم میں ملوث عادی مجرموں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی کی صورت میں آپ پر ابھی تک کے سارے چارجز ختم کر دیے جائیں گے۔ گڈ طالبان تو تھے ہی ان کے اپنے، اب جرائم پیشہ افراد کو بھی، ایف سی اور کے پی پولیس کی وردیاں مہیا کی گئی ہیں۔ صوبائ وزیر فضل شکور کے اغوا میں بھی اس ٹیم کے لوگ شامل تھے۔ اگر شکیل خان بروقت ریکٹ نہ کرتا تو شاید آگے یہ ٹیم ان کے بھی انتظار میں ہوتی۔ میرے حوالے سے تو پاکستان اور پڑوس میں ایسی ٹیموں کی کاروائیاں کوئی نئی بات نہیں لیکن پورے پختونخواہ میں بلوچستان طرز پر باقاعدہ سنگین جرائم پیشہ افراد، گڈ طالبان اور تمام جاسوسی ادارے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے کر خیبر پختونخواہ حکومت کے منتخب نمائندگان اور تحریک انصاف کے عہدیداران کو اغوا اور ان کی املاک پر حملے کر رہے ہیں۔
میں اپنے نمائندگان سے کہتا ہوں ان کی مزید پردہ پوشی کریں گے تو یہ کل کو کسی بھی اغواشدہ لاپتہ فرد کو “فتنتہ الہندوستان” اور “فتنتہ الخوارج” کی کاروائ قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیں گے۔ یا تو شکیل خان کی طرح اپنا دفاع کریں یا لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشوں اور کراس فائرنگ میں موت کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہوں۔ اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
میں اپنے اقرباء کو بھی واضح الفاظ میں بتا رہا ہوں فی الفور کل رات کے واقعات کی ایف آئ آر آئ ایس آئی اور ایم آئی پر درج کر آئیں۔ قانون آپ کو یہ اجازت دیتا ہے کہ بغیر وارنٹ کے یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشت گرد تو کیا اگر کوئی باوردی شخص بھی آپ کی چاردیواری کی پامالی کرتا ہے تو آپ کو اپنے گھر بار اور اپنے عیال کی حفاظت کے لیے ان سے اسی انداز میں نپٹنے کا حق حاصل ہے، جس کے یہ دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولتکار مستحق ہیں۔ میری سیاست میرا نظریہ میری ذمہ داری ہے۔ میری سیاست کی خاطر اپنی غیرت اور حمیت پر کوئ بھی سمجھوتہ کرنے سے میں آپ کو آزاد کرتا ہوں۔
میں اپنے صوبے کی پولیس کو بھی کہنا چاہتا ہوں یہ ناجائز حکومت اور ان کا سہولت کار مافیہ جو خود کو ریاست کہتا ہے جس آگ کا ایندھن آپ کو بنا رہے ہیں۔ اُن پالیسیوں کے خلاف میں، تحریک انصاف اور یہ قوم ہی ہے جو کل بھی اور آج بھی آپ کی ہم نوا، آپ کے ساتھ اور آپ کے لیے کھڑے رہے ہیں۔ جرنیلوں کی ناجائز طاقت کی مدت ہوتی ہے۔ اُس کے بعد ان کے یہی ماتحت ادارے ان کی ان پالیسیوں کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے جن کی وجہ سے آپ کے بچے یتیم ہوتے ہیں اور آپ کے عیال کو آپ کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کل کو ان شہروں میں، اس صوبے میں، ان کی پالیسیوں کے نتائج کے ساتھ، میں نے رہنا ہے اور آپ نے رہنا ہے۔
کسی بھی ناجائز اقدام کی سہولت کاری سے پہلے یہ یاد رکھنا یہ مُلک ہمارا ہے، اسے کسی غاصب ٹولے کی خاطر آگ میں جھونکوگے تو بھگتوگے تم بھی۔
پشاور سے صوبائی وزیر خیبرپختونخوا فضل شکور خان کے مبینہ اغوا کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ ایک منتخب عوامی نمائندے کو سول کپڑوں میں ملبوس افراد کی جانب سے مبینہ طور پر اٹھایا جانا آئین، قانون اور جمہوری اقدار کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔
جمائمہ گولڈ سمتھ نے اس حرامزادے @KhawajaMAsif فارم 47 کے ٹُچے کے کانوں کے نیچے رکھ کر دی ہے مگر مردے اوہ جنا اچ غیرت ہووے اور اس جیسے بھڑووں کو وہ چھو کر بھی نہیں گذری
جمائمہ کا ٹویٹ ریٹویٹ کرو
“وزیرِ دفاع کی بات درست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی برادری نے مجھے کبھی یہودی نہیں سمجھا۔ میری والدہ ’چرچ آف انگلینڈ‘ کی پروٹسٹنٹ تھیں۔ اور اس منطق کے تحت، میرے والد بھی یہودی نہیں تھے۔ ان کی والدہ فرانسیسی کیتھولک تھیں۔ حسبِ معمول، میرے بیٹوں کو نیچا دکھانے کی کوشش میں پاکستان کے وزیرِ دفاع نے خود اپنے ہی خلاف شرمناک ’اون گول‘ (own goal) کر لیا ہے”
ضلع مہمند کے غلنئی ہیڈکوارٹر ہسپتال کا دورہ کیا، جہاں علینگار کے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی۔
اس موقع پر زخمیوں کی خیریت دریافت کی، ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی، اور متعلقہ ڈاکٹروں سے ان کے علاج معالجے کے حوالے سے تفصیلات حاصل کیں۔
ہسپتال انتظامیہ اور طبی عملے کو ہدایت کی گئی کہ زخمیوں کو ہر ممکن بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کے علاج میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی نہ برتی جائے۔
اڈیالہ جیل کے باہر موجود ہیں۔
ملاقات پر پابندی لگ سکتی ہے، لیکن جذبوں پر نہیں۔ دروازے بند کیے جا سکتے ہیں، مگر عوام کے دلوں میں اپنے قائد کی محبت اور اعتماد کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
#ReleaseImranKhan
7.7.2026
On the way to Adiala.
Heading to Adiala to stand in solidarity with Imran Khan. True leadership is tested in difficult times, and our commitment to justice, dignity, and the rule of law remains unwavering.
#ImranKhan#Adiala#StandForJustice#PTI