عدالت نے حکم دیا ہے کہ دوران علاج شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے اردگرد کوئی جمگھٹا نہیں ہونا چاہئے ہم نے عدالت سے وعدہ کیا ہے کہ ہم بطور جماعت اس حکم کی تعمیل کریں گے۔ میری عمران خان کے کروڑوں چاہنے والوں سے التجا ہے کہ جو عدالت عظمیٰ نے حکم دیا ہے اس کا پاس رکھا جائے۔
میں نے عدالت کو کہا کہ ہماری سیاست اصول کی سیاست ہے ہم آئین و قانون کی جنگ لڑ رہے ہیں ، ہماری جنگ بڑے مقاصد کی جنگ ہے جس کی وجہ سے عمران خان جیل میں ہیں، ہم یقین دلاتے ہیں ہسپتال کے باہر کوئی ہجوم جمع نہیں ہوگا۔ @salmanAraja
اس بجٹ کی سب سے ظالمانہ تجویز شریک حیات کی وفات کے بعد دس سال کے بعد پینشن بند کرنا ہے۔ یعنی کوئی خاتون پچاس سال کی عمر میں بیوہ ہو جائے تو ساٹھ سال کی عمر میں بھیک مانگ کر گزارہ کرے گی؟
جبکہ وزراء اور ایم این ایز کی تنخواہوں میں بے انتہاء اضافہ کیا گیا ہے۔
چلیں جی قاضی صاحب بھاگ گئے۔ خبر آ رہی ہے کہ آج کا کیس live stream نہیں ہو گا۔ مطلب قاضی صاحب کا سارا انقلاب خان کی ایک appearance نے نکال دیا۔
آواز اٹھائیں اس اس ٹرینڈ کو ٹوئیٹ کریں تا کہ قاضی صاحب تک آواز جائے
#wewantimrankhanlive
عمران خان نے فوج کو آخری موقع دے دیا ہے۔
عمران خان نے بالآخر ڈیڑھ سال بعد لب کشائی کردی ہے اور نام لے لے کر عاصم منیر کی طبیعت درست کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود عمران خان نے فوج کو بحثیت ادارہ تختہ مشق نہیں بنایا۔ کسی دوسرے افسر کا نام تک نہیں لیا۔
عمران خان کے براہ راست نام لینے سے قبل ہی عوام سب کچھ جانتے اور سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ فوج اور جرنیلوں کو ہر جگہ زبردست تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن عمران خان نے اپنا نشانہ صرف عاصم منیر تک رکھ کر فوج کو ایک آخری موقع دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر پہلے سے ہی لوگ فوج کو بحیثیت ادارہ لتاڑتے رہتے ہیں۔ اگر اب فوج نے اپنی اندر سے سسٹم کو ٹھیک نہ کیا تو شاید کچھ ہفتوں یا مہینوں بعد عمران خان فوج کو بطور ادارہ نشانے پر رکھ لے گا۔
فوج اس وقت عمران خان سے تو کچھ نہیں چھین سکتی۔ وہ پہلے سے قید میں ہے۔ اسکی اہلیہ کو زہر دیا جاچکا۔ اسے ماردینے کی خواہشات کا تذکرہ روزانہ میڈیا میں ہوتا ہے۔ یعنی اس کے پاس کھونے کو کچھ بھی نہیں۔ نہ اسے ڈرا سکتے ہیں نہ اسے جھکا سکتے ہیں۔
لیکن اگر فوج نے اس آخری موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو شاید فوج کے لیے بہت دیر ہوجائے گی۔
@ii_Riski_ii مجھے نہیں لگتا عمران خان کی ووٹ بینک کو پیر مریدی سے نقصان ہو جب سامنے خان کا بیانیہ یو تو لوگ امید وار کو نہیں دیکھتے میں عام آدمی سے اتفاق کرتا ہو موروثیت نہیں ہونی چاہئے ووٹ جائے باڑ میں