پاکستانی فورسز کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دہشتگرد۔ غور سے دیکھئے آپ کے گھروں میں بھی ایسے چہرے نظر آئیں گے۔ آپ کے بابا؛ اماں یا بچے کی شکل میں۔
اور سوچئے، پاکستان ان کی لاشوں پر جشن آزادی منائے گا۔
#Balochistan
Graphic footage: The Pakistani Air Force conducted a series of air strikes in Gindan, Gidar area of Surab district. More than 20 innocent civilians, including women and children, lost their lives.
It has now become a norm for Pakistan to celebrate its so-called independence with the mass killing of innocent Baloch civilians every year.
We have no complaints about Pakistan, but we are shocked by the international community’s silence and ignorance of such war crimes in Balochistan.
@UN_SPExperts@EUPakistan@Trade_EU@usembislamabad@ukinpakistan@profbensaul
🚨🚨#EXCLUSIVE: Listen how poor victim families of blasphemy gang, poor street vendors and families of missing in court today and worried & crying for @ImaanZHazir & @AdvHadiali, this is how poor people love this human rights defenders couple, Watch UNCENSORED complete on video on this link: https://t.co/d76dHnSBzV
آج مجھے اور ہادی کو ٹویٹس کیس میں سزا سنائی جا رہی ہے اس کے باوجود کے ٹرانسفر کی intimation دے دی گئی ہے۔ پورا ٹرائل عدالت نے خود چلایا - پروسیکیوشن اویڈنس ہماری غیر موجودگی میں ریکارڈ کیا گیا۔ گواہان پر جرح سٹیٹ ڈیفینس کونسل نے کی جس پر ہم نے عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ کل 342 اسٹیٹمینٹ بھی اس ہی ڈیفینس کونسل نے جمع کروا دی- نا ہم نے دیکھی ہے اور نا ہی ہم سے کسی نے کچھ پوچھا۔ ہمارے لیے یہ سزا اس بات کی recognition ہے کے ہم نے ظلم کے سامنے کلمہ حق بُلند کیا۔ ہم جیل کی سلاخوں کو خوشی سے اپنائینگے لیکن آپ اس بدنامی کو کبھی نہیں بھول پائینگے۔
ہمیں جیل میں ڈالنے سے آپ کے گندے کرتوت کوئی نہیں بھولے گا - اس ملک کو آپ نے توڑا، آپ نے ڈالروں کے لیے بد امنی اور خون خرابا کیا، بلوچ نسل کشی کی، پشتون نسل کشی کی، غریب عوام کے وسائل پر دن دہاڑے ڈاکہ ڈالا، بے گناہ لوگوں کو جھوٹے توہین مذہب کے مقدمات میں پھنسایا، الیکشن چوری کیا، پارلیمان اور عدالتوں کو ہائجیک کیا۔ ہمیں جیل بھیجنے سے آپ کے جرائم نہیں مٹ جائینگے۔ اور ہماری آواز آپ دبائینگے تو اور لوگوں کی آواز ہماری آواز میں شامل ہوگی۔ اس غلط فہمی میں نا رہے کہ کیونکہ آپ بزدل ہے تو ہم سب بھی آپ جیسے ہونگے۔ جیل جسم کو قید کرتا ہے، سوچ کو نہیں۔ لیکن جنہے سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں، انہے ہم کیا سمجھائے؟
ہم نے اپنی پوری کوشش کی ہے کہ جو ہم کر سکے ہم کرے۔ لیکن یہ زمیداری ہم سب کی ہے۔ اندر جانے سے پہلے آپ سب سے بس ایک ہی ریکویسٹ ہے۔۔۔ یاد رکھے کہ ہماری جنگ کسی ایک فرد کے لیے نہیں، یہ ہماری بقا کی جنگ ہے۔ اگر آج آپ نہیں لڑینگے، باری باری ذلت والی موت کی تیاری کرے۔ اس ملک میں نا تو کوئی آئین ہے نا قانون نا پارلیمان نا عدالتیں اور نا ہی میڈیا۔
جب تک عوام کی dignity, life اور آزادی کو تحفظ نہیں دیا جائے گا تب تک آج میں تو کل آپ اندر ہونگے۔ جو ہمیں سزا دے رہے ہے اور جن کی چابی پر دی جا رہی ہے، انہے یاد رکھنا چاہیے:
“آہ! تم فطرتِ انسان کے ہم راز نہیں
میری آواز، یہ تنہا مِری آواز نہیں
اَن گنت روحوں کی فریاد ہے شامل اِس میں
سسکیاں بن کے دھڑکتے ہیں کئی دل اِس میں
تہہ نشیں موج یہ طوفان بنے گی اک دن
نہ ملے گا کسی تحریک کو ساحل اِس میں
اِس کی یلغار مِری ذات پہ موقوف نہیں
اِس کی گردش مِرے دن رات پہ موقوف نہیں
ہنس تو سکتے ہو، گرفتار تو کر سکتے ہو
خوار و رسوا سرِ بازار تو کر سکتے ہو
اپنی قہّار خدائی کی نمائش کے لیے
مجھے نذرِ رسن و دار تو کر سکتے ہو
تم ہی تم قادرِ مطلق ہو، خدا کچھ بھی نہیں؟
جسمِ انساں میں دماغوں کے سوا کچھ بھی نہیں
آہ! یہ سچ ہے کہ ہتھیار کے بل بوتے پر
آدمی نادر و چنگیز تو بن سکتا ہے
ظاہری قوت و سطوت کی فراوانی سے
لینن و ہٹلر و انگریز تو بن سکتا ہے
سخت دشوار ہے انساں کا مکمل ہونا
حق و انصاف کی بنیاد پہ افضل ہونا”
My elder borther, Balach Bali, lecturer at University of Turbat, was abducted by FC yesterday from Salala Bazara Turbat. We as family are concerned about his safety.
Please raise voice for immediate and safe release of Balach.
#ReleaseBalachBali
Islamabad police arrested Muhammad Azam right after he left the court. Azam has been searching for his younger brother saeed baloch, who was forcibly disappeared six months ago by security forces. Facing constant hurdles at police stations and courts, now he too has been arrested
ذرائع کے مطابق ٘کچھ دیر پہلے اسلام آباد پولیس نے لاپتہ سعید بلوچ کے اس بھائی محمد اعظم کو بھی ضلعی عدالت سے نکلتے ہی گرفتار کر لیا ہے، اس سے پہلے محمد اعظم کچھ وکلا کے ہمراہ دو ائڈیشنل سیشن ججز کی عدالتوں میں پیش ہوا اور اپنی ممکنہ گرفتاری سے قبل ضمانت کی درخواست دائر کرنے کی کوشش کی، ایک جج نے کہا کہ یہ کیس اسلام آباد ویسٹ کا نہیں اس لیئے نہیں سن سکتا، دوسرے جج نے کہا کہ عدالت کا وقت ختم ہو گیا ہے اور ویسے بھی عدالت کے سامنے ایف آئی آر یا مقدمے کی تفصیلات نہیں تو اس لئیے یا تو ایف آئی آر پیش کریں یا پھر ضمانت بعد از گرفتاری دائر کی جائے۔ وکلا کا موقف تھا کہ پولیس کو ھدایت کی جائے کہ گرفتاری سے پہلے الزامات سے متعلق آگاہ کیا جائے مگر جج نے درخواست پر کاروائی سے انکار کر دیا۔
BSC (Islamabad) has announced a campaign on X (formerly Twitter) to demand his safe release, calling on people from all walks of life to participate and raise their voices in support of Saeed's immediate release
@ImaanZHazir@AdvHadiali@BalochNadir5@AzazSyed@MaryLawlorhrds
Shameful Complicity of Quaid e Azam University in the abduction of Saeedullah Baloch
Saeed Baloch, a 5th-semester student of Defense and Strategic Studies (DSS) at Quaid-e-Azam University, was forcibly abducted on 8 July 2025 from Islamabad Toll Plaza (1+)
#ReleaseSaeedBaloch
Quaid-e-Azam University has been closed for four days. The students are protesting and are demanding the safe and immediate recovery of Saeed Baloch, a Baloch student who was forcibly disappeared on July 8th 2025 from Islamabad Toll Plaza by the plainclothes security personnel
A protest camp has been set up at Quaid-i-Azam University (QAU) in Islamabad, now entering its fourth day, as students demand the safe return of Saeedullah Baloch, a sixth-semester student of Defence and Strategic Studies. Saeedullah was allegedly abducted by unidentified men near the Islamabad Toll Plaza on July 8, 2025, and remains missing. This incident has heightened concerns about the safety and security of Baloch students in the capital, with many expressing fears of systemic racial profiling and harassment.
#Balochistan #Quaidiazamuniversity #Saeedullahbaloch
یونیورسٹی آف سرگودھا کے گریجوئیٹ یہ ۲۴ سالہ محمد اعظم ہیں جنکے قائد اعظم یونیورسٹی ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز میں چھٹے سمسٹر میں پڑھنے والے ۲۲ سالہ بھائی سعید اللہ کو ٹول پلازہ اسلام آباد سے اُسکے پانچ دوستوں کے سامنے 8 جولائی کو جبراً اُٹھایا گیا، اس سے پہلے 3 جولائی کو سی ٹی ڈی کے اہلکار یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹ میں آئے تھے اور وہاں ایک پروفیسر صاحب کے ذریعے سعید اللہ کو بلایا گیا اور پوچھ گچھ کی گئی، پھر پانچ جولائی کو ہاسٹل میں یہی دو اہلکار آئے سعید اللہ کا پوچھا جو کمرے میں موجود نہیں تھا، 8 جولائی کو امتحانات کے بعد جب سعید اللہ اپنے گھر کوئٹہ جا رہا تھا تو اسکی بس کو مبینہ طور پر آٹھ گاڑیوں نے روکا اور اُسے لیکر چلے گئے، ایس ایچ او نے ایف آئی آر سے انکار کیا تو عدالتی حکم ہوا مگر آج تک بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، اسلام آباد ہائی کورٹ میں حبسِ بیجا کی درخواست پر جسٹس انعام امین منہاس کی عدالت میں چار سماعتیں ہوئی جہاں حکومتی اداروں نے عدالتی احکامات کے باوجود کوئی جواب جمع نہیں کرایا اور آئیندہ تاریخ 8 نومبر مقرر ہوئی ہے۔
شبیر جان باتیں بہت ہیں، سمجھ نہیں آ رہا کیا کیا بتاؤں، لیکن بس اتنا کہہ سکتی ہوں تمہارے بعد ریاست نے ہمیں بہت تنگ کیا، ہر صورت دھمکایا، لیکن سیما کی ہمت نے مجھے، زرینہ، اماں اور ابا کو مضبوطی سے تھاما ہوا ہے۔ شبیر تمہیں یاد ہے نو سال پہلے تک سیما بات کرتے ہوئے بھی کتراتی تھی؟ اردو تو سیما کے بس کی بات بھی نہیں تھی، لیکن شبیر جان آج سیما اردو میں کراچی اور اسلام آباد کی چوراہوں پر کھڑے ہو کر ریاست کو للکارتی ہے۔
ہمیں تمہارے غم نے باہمت کردیا ہے شبیر، ہم غم میں بڑے ہو رہے ہیں۔۔۔
میں اب اس خط کا اختتام کرتی ہوں اسی امید کے ساتھ کہ یہ جدائی کا غم ایک دن مٹ جائے گا، لیکن قریب بھری یادیں میرے دل میں پیوست رہیں گی اور شبیر یہ وعدہ ہے تم سے کہ جب تک ہمارے جسموں میں سانس باقی ہے، ہم میں سے کوئی بھی جبری طور پر گمشدگان کے لیے مزاحمت بند نہیں کرے گا۔
شبیر ہمیں ماہ رنگ نے سکھایا ہے، مزاحمت زندگی ہے اور ہم اسی زندگی میں زندہ ہیں۔۔۔!
#SaveShabirBaloch
@SammulBaloch19 ❤️
Every oppressive regime finds a loyal lackey from within the oppressed community....
Sarfraz Bugti’s role is to provide cover for the military’s crimes he is a tool, not a leader.
گزشتہ دنوں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان @PakSarfrazbugti نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں اپنی چکنی چپڑی اردو اور بناوٹی شائستگی کے ساتھ بار کے اراکین کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کے بے بنیاد الزامات پر میرا جواب پیش ہے:
1- بگٹی نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ جہاں بھی جاتی ہیں، پاکستان کا پرچم اتار کر ایک پرچم لہراتی ہیں جسے انہوں نے “آزاد بلوچستان کا پرچم” کہا۔ یہ ان کا پرانا جھوٹ ہے۔ اپریل میں بھی وہ یہ الزام لگا چکے تھے اور پھر ایک BYC رہنما پر جھوٹا الزام دھرنے کے بعد سرِعام معافی مانگنے پر مجبور ہوئے کہ اس نے پاکستان کا پرچم جلایا اور بلوچستان کا پرچم لہرایا۔ اب وہی الزام ماہ رنگ بلوچ پر دہرا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے: ثبوت کہاں ہے؟ وہ ویڈیوز کہاں ہیں؟ اور اگر الزام درست تھا تو پھر پہلے عوام کے سامنے معافی کیوں مانگنا پڑی؟
2- انہوں نے کہا کہ ماہ رنگ بظاہر لاپتہ افراد کے لیے مہم چلاتی ہیں لیکن دھرنوں میں اس پر بات نہیں کرتیں۔ یہ صریح جھوٹ ہے۔ ماہ رنگ ہمیشہ لاپتہ افراد کے حق میں آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ اس کا ثبوت ستمبر 2022 کا معاہدہ ہے جس پر اُس وقت کے وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ نے لاپتہ افراد کے لواحقین اور ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ دستخط کیے۔ دسمبر 2023 کا اسلام آباد لانگ مارچ اور جولائی 2024 میں بلوچستان حکومت اور ماہ رنگ بلوچ کے مابین ہونے والا معاہدہ بھی ان کی جدوجہد کا ثبوت ہے۔ ماہ رنگ کی تحریک کو ٹائم میگزین، بی بی سی 100 ویمن اور عالمی سول سوسائٹی نے تسلیم کیا ہے۔ انہیں کسی سرفراز بگٹی کی سند کی ضرورت نہیں۔
3- بگٹی نے الزام لگایا کہ ماہ رنگ بلوچ اپنے اجتماعات میں بلوچستان کا قومی ترانہ بجاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قومی ترانہ نہیں بلکہ ایک قومی نغمہ ہے، جو بلوچ قوم کی بہادری اور پندھرویں صدی کے قومی ہیرو میر گہرام لاشاری اور چاکر رند کی یاد میں لکھا گیا۔ یہ نغمہ اُس وقت تخلیق کیا گیا جب بلوچستان میں نہ مسلح تحریک تھی نہ بغاوت۔ بگٹی دوسروں کو کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن خود بلوچ تاریخ کی کتابیں پڑھنا بھول جاتے ہیں۔ اس خطے کی ہر قوم: بلوچ، سندھی، پشتون، پنجابی، کشمیری اور گلگتی اپنے گیت اور داستانیں رکھتی ہے جو ان کی تاریخ اور بہادری کو اجاگر کرتی ہیں۔ کسی نغمے کو بنیاد بنا کر الزام لگانا یا گرفتاری کو جواز دینا مضحکہ خیز اور سراسر ناانصافی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہی نغمہ سرکاری تقریبات میں بھی سنایا جاتا ہے۔
4- بگٹی نے یہ بھی کہا کہ ماہ رنگ بلوچ اپنے احتجاجوں میں حلف لیتی اور دلواتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر جماعت اور تنظیم کا ایک منشور اور ڈھانچہ ہوتا ہے۔ خود بگٹی پیپلز پارٹی کے پرچم میں لپٹ کر اس کے منشور کا حلف لے چکے ہیں۔ پاکستان کی تمام بڑی جماعتیں، پیپلز پارٹی، پی ایم ایل این، پی ٹی آئی، اپنے کارکنوں سے حلف لیتی ہیں۔ مگر بگٹی کا اپنا ماضی حلف شکنی سے بھرا ہے۔ نگران وزیر کے طور پر انہوں نے غیرجانبدار رہنے کا حلف اٹھایا لیکن پھر توڑ کر الیکشن میں حصہ لیا۔ بلوچستان چونکہ باقی ملک سے کٹا ہوا ہے اور ہماری سیاسی سرگرمیاں زیادہ تر بلوچی زبان میں ہوتی ہیں، اس لیے بگٹی جیسے لوگ انہیں توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔
میری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے گزارش ہے کہ اگر وہ اس طرح کے لوگوں کو اپنے فورم پر بلاتے ہیں تو ہمیں بھی مدعو کریں تاکہ ہمارا مؤقف بھی سنا جائے۔ یک طرفہ بیانیہ بازی بند ہونی چاہیے۔
آخر میں بگٹی نے ہم پر “بیانیہ سازی” کا الزام لگایا۔ حقیقت یہ ہے کہ وسائل، میڈیا، بار ایسوسی ایشنز اور ریاستی مشینری سب ان کے پاس ہیں۔ ہمارے پاس صرف ایک چیز ہے: سچ۔ اور عوام سچ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حیرت ہے کہ بگٹی اب مذہب کو بھی سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہ ان کی گھبراہٹ اور کمزوری کی سب سے بڑی علامت ہے۔
@Matiullahjan919@PakSarfrazbugti
کبھی کبھی ہم کچھ کہہ نہیں پاتے، کچھ لکھ نہیں پاتے۔
خیالات کے اندر اٹھنے والی تند موجوں کو بس دیکھتے رہتے ہیں، انتظار کرتے ہیں کہ شاید وہ تھم جائیں، تاکہ ہم لفظوں کو صفحے پر اتار سکیں۔ مگر یہ موجیں ساحل کی اُن بے قرار لہروں کی طرح ہیں، جو کاغذ پر لکھا ہر جملہ مٹا دیتی ہیں۔
ہم بیٹھے رہتے ہیں، انتظار کرتے ہیں کہ کب ہم اس تصویر کے بارے میں لکھ سکیں، جس کے بارے میں بولنا ضروری ہے۔ اُس جبر کے بارے میں جسے ہمارے لوگوں نے سہہ لیا، اُس کہانی کے بارے میں جو دنیا سے چھپائی جائے گی۔ لیکن قلم رک جاتی ہے، الفاظ منہ موڑ لیتے ہیں۔
اور جتنا ہم اُن تصاویر کو دیکھتے ہیں، اتنی ہی گہری خاموشی دل کے اندر اُترتی ہے، شدت سے اس مرض کا احساس دلاتی ہے جس کانام غلامی ہے
#StopBalochGenocide