آزمانے کی چیز تھا ہی نہیں
دل لگانے کی چیز تھا ہی نہیں
کاش اُس وقت یہ سمجھ ہوتی
تو گنوانے کی چیز تھا ہی نہیں
ُاس کی تعریف ہی نہیں ممکن
وہ زمانے کی چیز تھا ہی نہیں
تیری چھوڑی ہوئی وراثت ہے
غم کمانے کی چیز تھا ہی نہیں
کیسے ابرک نہ اُس کو یاد کرے
وہ بھلانے کی چیز تھا ہی نہیں 🍁
بجھتی یادوں کو ہوا دیتی ہیں
بارشیں اور جلا دیتی ہیں
بوندیں مٹی پہ پڑیں تو تیرے
نقش خوشبو سے بنا دیتی ہیں
بیتی گھڑیاں بھی ہیں بارش جیسی
یوں برستی ہیں بہا دیتی ہیں
ایسے موسم میں ہماری انکھیں
سارے منظر کو رلا دیتی ہیں
یونہی دل بارشوں پر مرتا ہے
کیا یہ حسرت کے سوا دیتی ہیں 🍁