جو لڑکیاں مولانا فضل الرحمان کے خلاف ویڈیوز بناتی ہیں، اگلے ہی روز انہیں ریاستی اداروں کی جانب سے پروٹوکول دیا جاتا ہے۔
اس محترمہ نے قصور کے جلسے کے خلاف ویڈیو بنائی تو اگلے ہی روز اس کی تصویر جی ایچ کیو میں نظر آئی۔ گزشتہ ت��ن، چار روز سے اس کے وی لاگز مولانا صاحب کے خلاف آ رہے ہیں، اور آج اس کی تصویر طورخم بارڈر سے سامنے آئی ہے۔
حالانکہ اس کا تعلق کسی سیٹلائٹ ٹی وی چینل، کسی مستند صحافتی ادارے یا رجسٹرڈ نیوز ایجنسی سے نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر اسے یہ خصوصی رسائی اور پروٹوکول کس حیثیت میں دیا جا رہا ہے؟
حقیقت تو یہ ہے کہ اس کی ویڈیو پر 13 ویوز بھی نہیں آئے، جبکہ ایکس پر ایک لائیک تک اس کی ریچ نہیں پہنچ سکی۔
کم از کم انویسٹمنٹ کسی صحافی پر تو کریں، آپ بیوٹی پارلر کی لڑکیوں سے مولانا کی کردار کشی کروا رہے ہیں!
ہم رہیں نہ رہیں، پاکستان نے رہنا ہے۔
ہماری سانسیں رک جائیں گی، ہماری آوازیں خاموش ہو جائیں گی، ہماری قبریں مٹی میں مل جائیں گی...مگر یہ وطن، یہ پرچم اور یہ مٹی ہمیشہ زندہ رہے گی
وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تحفظ بقا استحکام کےلئے علماء کرام کا وجود ناگزیر۔۔ اسلامی نظام اورجمہوریت کا علمبردار مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی قیادت پر فخر کرتے ھے
Muftiameerzaman JUI Attock
#مولانا_کا_پاکستان#علماء_وطن_کے_معمار#دھرتی_کی_بنیاد_کلمہ
پاکستان کے بنیادی مقاصد سے آنکھیں چرانا قبول نہیں،
انگریز کی غلامی، خوشامد اور جاگیریں ��مہاری تاریخ ہے، اور قربانیاں ہماری تاریخ ہے۔۔۔۔
قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کا اسلام آباد میں خطاب
قومیں اپنی تاریخ مٹانے سے نہیں بلکہ اسے سمجھنے سے آگے بڑھتی ہیں۔ علماء اور مجاہدین کی قربانیوں کو یاد رکھنا کسی دوسرے طبقے کی نفی نہیں؛ یہ تاریخ کے ایک اہم حصے کو اس کا جائز مقام دینا ہے۔ ان شاءاللہ ہم اکابر کے کردار کو فراموش ہونے نہیں دیں گے۔
#مولانا_کا_پاکستان
#علماء_وطن_کے_معمار
#دھرتی_کی_بنیاد_کلمہ
30/
پاکستان کی آزادی ایک عامانت ہے؛ اس امانت کا تقاضا ہے کہ ہم تاریخ کے شہداء کو یاد کریں، آئین کی پاسداری کریں اور ملک کو اس کے بنیادی مقاصد کی طرف لے جائیں۔
#جشن_آزادی_مبارک#پاکستان_ہمیشہ_زندہ_باد
لفظ آزادی خود بتلاتا ہےمجھ سے قبل غلامی تھی پاؤں میں زنجیزیں تھیں سانس نہیں گھٹن تھی ، اختیارات نہیں احکامات کی پاسداری کرنا تھی اور ماضی بڑی تابناک تھی ، قربانیاں اور کوششیں تھیں ، تب جا کر غلامی ختم ہوئی اور آزادی ملی #مولانا_کا_پاکستان#علماء_وطن_کے_معمار#دھرتی_کی_بنیاد_کلمہ
بالاکوٹ کے میدان میں شہداء کا خون بہا، شاملی میں علماء نے قربانیاں دیں، 1857ء کے بعد دہلی اور گردونواح میں ہزاروں مسلمان شہید ہوئے۔ یہ سب آزادی کی اس جدوجہد کے ابواب ہیں جنہیں پاکستان کی تاریخ سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا اسلام آباد میں کانفرنس سے خطاب
#مولانا_کا_پاکستان
#علماء_وطن_کے_معمار
#دھرتی_کی_بنیاد_کلمہ