کیا آپ نے اپنے گھر میں نماز کے لیے ایک خاص جگہ مخصوص کر رکھی ہے؟
ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیے…
آپ کے گھر میں مہمانوں کے لیے جگہ ہے،
سامان رکھنے کے لیے جگہ ہے،
آرام کے لیے جگہ ہے،
بچوں کے کھیلنے اور پڑھنے کے لیے جگہ ہے…
لیکن کیا اس گھر میں اللہ کے لیے بھی کوئی جگہ ہے؟
کبھی اپنے گھر کو غور سے دیکھیے…
کیا اس میں کوئی ایسا گوشہ بھی ہے جو گواہی دے سکے کہ یہاں رہنے والے اپنے رب کو یاد کیا کرتے ہیں؟ جس نے گھر کی نعمت عطا کی، کیا اس کے نام کی بھی اس گھر میں کوئی مخصوص جگہ نہیں ہونی چاہیے؟
میں نے بچپن سے اپنے گھر میں ایک ایسا ہی گوشہ دیکھا، جسے خواتین کی چھوٹی سی مسجد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سلیقے سے رکھی ہوئی جائے نماز، ایک خوبصورت تسبیح دان، دینی کتابوں کی ایک پیاری سی الماری، سب سے اوپر رکھا قرآن مجید، اس کے ساتھ سپارے اور پھر ترتیب سے رکھی ہوئی دیگر کتابیں۔
گھر کے ایک کونے میں ایک خاص جگہ…
صرف اللہ کے لیے۔
وہیں میری والدہ نماز ادا کرتی تھیں، قرآن مجید کی تلاوت کرتیں، دعائیں مانگتیں اور ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتیں۔ آہستہ آہستہ ہم بچوں کو بھی اسی جگہ سے انس ہو گیا۔ اسے ہمیشہ صاف ستھرا رکھا جاتا، اکثر خوشبو سے معطر کیا جاتا، اور اس کی طہارت و پاکیزگی کا خاص خیال رکھا جاتا۔
وقت گزرنے کے ساتھ مجھے محسوس ہونے لگا کہ یہ صرف ایک جگہ نہیں، بلکہ سکون کا ایک جہان ہے۔ جیسے دیواروں نے بھی اللہ کا ذکر سن رکھا ہو، جیسے فرش نے سجدوں کی حرارت اپنے اندر جذب کر لی ہو، جیسے اس جگہ کی فضا میں دعاؤں کی خوشبو بسی ہوئی ہو۔
بچپن میں یہ احساس صرف دل تک محدود تھا، لیکن بعد میں علمِ نفسیات کا مطالعہ کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ انسان جس جگہ بار بار ایک ہی عمل انجام دیتا ہے، اس جگہ کے ساتھ ایک نفسیاتی اور جذباتی تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ جدید نفسیات اسے ماحول اور رویوں کے باہمی تعلق سے تعبیر کرتی ہے۔ مخصوص مقامات مخصوص احساسات کو بیدار کرنے لگتے ہیں۔
لیکن ایک مسلمان کے لیے یہ معاملہ صرف نفسیات تک محدود نہیں۔
ہمارے دین میں بھی جگہوں کی برکت اور نسبت کا تصور موجود ہے۔ جس جگہ اللہ کا ذکر ہو، قرآن کی تلاوت ہوتی ہو، درودِ پاک پڑھا جاتا ہو، آنسو بہائے جاتے ہوں اور سجدے کیے جاتے ہوں، وہاں دل کا سکون پانا کوئی حیرت کی بات نہیں۔
مجھے گھروں کی مہنگی سجاوٹ، جدید ڈیزائن یا قیمتی فرنیچر اتنا متاثر نہیں کرتے، جتنا وہ خاموش گوشہ متاثر کرتا ہے جہاں گھر کے مکین اپنے رب سے ملاقات کرتے ہیں۔
میں جب بھی کسی گھر جاتی ہوں تو دل یہی تلاش کرتا ہے کہ کیا یہاں کوئی ایسا گوشہ بھی ہے جہاں جائے نماز بچھی ہو؟ جہاں قرآن رکھا ہو؟ جہاں کبھی کسی نے سجدے میں سر رکھ کر اپنے رب سے راز و نیاز کی باتیں کی ہوں؟
اور اگر ایسا گوشہ موجود ہو تو دل چاہتا ہے کہ کچھ لمحے وہیں بیٹھ جاؤں۔ شاید اس جگہ کی برکت سے میرے دل کو بھی کچھ سکون نصیب ہو جائے۔
پیارے بہن!
آپ کا گھر بڑا ہو یا چھوٹا، ایک کمرے کا ہو یا کئی کمروں پر مشتمل، اپنے گھر میں اللہ کے لیے ایک خاص جگہ ضرور بنائیں۔
اسے صاف ستھرا رکھیں۔
اس میں خوشبو بسائیں۔
وہاں قرآن مجید رکھیں۔
جائے نماز بچھائیں۔
اور اس گوشے کو اپنے گھر کا روحانی مرکز بنا دیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ آپ دیکھیں گی کہ یہ صرف ایک جگہ نہیں رہے گی، بلکہ آپ کے بچوں کی تربیت کا خاموش مدرسہ بن جائے گی۔ آپ کے بچے آپ کو دیکھ کر نماز سیکھیں گے، آپ کی بیٹیاں قرآن سے محبت کرنا سیکھیں گی، اور آپ خود زندگی کی مصروفیات اور آزمائشوں کے درمیان ایک ایسی پناہ گاہ پا لیں گی جہاں دل کو قرار ملتا ہے۔
ایک ایسا کونا…
جہاں سجدے آباد ہوں،
جہاں قرآن کھولا جاتا ہو،
جہاں درودِ پاک کی خوشبو بسی ہو،
جہاں دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھتے ہوں،
اور جہاں بہنے والے آنسو خاموشی سے قبولیت کی امید میں جذب ہو جاتے ہوں۔
یقین کریں، ایک دن یہ گھر، یہ دیواریں، یہ فرنیچر اور یہ ساری سجاوٹ باقی نہیں رہے گی۔ مگر آپ کے حق میں اگر کوئی خاموش گواہ کھڑا ہوگا تو وہ گھر کا یہی گوشہ ہوگا، جہاں آپ دنیا کی نظروں سے اوجھل ہو کر اپنے رب کے سامنے جھکا کرتی تھیں۔
یہی گوشہ آپ کا روحانی کیمپ ہوگا…
ایسی پناہ گاہ، جہاں سے آپ ہر بار ٹوٹ کر بھی دوبارہ سنبھل سکیں گی، اور ایک نئے حوصلے کے ساتھ زندگی کا سفر جاری رکھ سکیں گی۔
تو پھر…
بنائیں گی نا اپنے گھر میں اللہ کے لیے ایک خاص گوشہ؟
یہ عبرت کی جاہے تماشا نہیں🥺
ایشیاء کی سب سے بڑی "کوہ نور" ٹیکسٹائل کے بانی اور سہگل خاندان کی پہچان کی خستہ حال قبر.
یہ خستہ حال قبر اس شخص کی ہے جو ایشیا کی سب سے بڑی کوہ نور ٹیکسٹائل ملز کا مالک تھا۔
یہ بوسیدہ قبر اس شخص کی ہے جس کی دولت کا محتاط اندازہ 25 ہزار کروڑ روپے ہے۔
یہ ٹوٹی پھوٹی قبر اس شخص کی ہےجو 57 کمپنیوں کا مالک تھا۔یہ پریشان حال قبر اس شخص کی ہے
جس نے اپنی بیٹی ناز سہگل کی شادی جس شخص سے کروائی وہ بھی کھرپ پتی بن کر میاں منشا(مالک نشاط گروپ) بن گیا۔
یہ قبر حاجی یوسف سہگل کی ہے جو برصغیر کے مشہور کھرپ پتی خاندان سہگل خاندان کے سربراہ تھے۔
اس دنیا کی دولت اور طاقت کا انجام بس یہ ہے.
ایک غریب دیہاتی، بارگاہ رسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم میں، انگوروں سے بھری ایک رکابی کا تحفہ پیش کرنے کیلئے حاضر ہوا۔
رسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے رکابی لی، اور انگور کھانے شروع کیئے۔
پہلا دانہ تناول فرمایا اور مُسکرائے۔
اُس کے بعد دوسرا دانہ کھایا اور پھر مُسکرائے۔
اور وہ بیچارہ غریب دیہاتی، آپ کو مسکراتا دیکھ دیکھ کر خوشی سے نہال۔۔۔
صحابہ سارے منتظر، خلاف عادت کام جو ہو رہا ہے کہ ہدیہ آیا ہے اور انہیں حصہ نہیں مل رہا۔۔۔
رسول علیہ السلام، انگوروں کا ایک ایک دانہ کر کے کھا رہے ہیں اور مسکراتے جا رہے ہیں۔
میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔۔۔۔ آپ نے انگوروں سے بھری پوری رکابی ختم کر دی۔۔
اور آج صحابہ سارے متعجب!
غریب دیہاتی کی تو عید ہو گئی تھی۔۔۔۔
خوشی سے دیوانہ۔۔۔ خالی رکابی لیئے واپس چلا گیا۔
صحابہ نہ رہ سکے۔۔۔۔ ایک نے پوچھ ہی لیا،
یا رسول اللہ؛ آج تو آپ نے ہمیں شامل ہی نہیں کیا؟
رسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مسکرائے اور فرمایا؛
تم لوگوں نے دیکھی تھی اُس غریب کی خوشی؟
میں نے جب انگور چکھے ۔۔۔۔ تو پتہ چلا کہ کھٹے ہیں۔
مجھے لگا کہ اگر تمہارے ساتھ یہ تقسیم کرتا ہوں تو ہو سکتا ہے تم میں سے کسی سے کچھ ایسی بات یا علامت ظاہر ہو جائے، جو اس غریب کی خوشی کو خراب کر کے رکھ دے۔
(اور بیشک آپ اخلاق کے بلند ترین درجہ پر ہیں
"یہ واقعہ بطور حدیث ثابت نہیں، لیکن اس میں بیان کردہ اخلاقی سبق لوگوں کے جذبات کا خیال رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے
ایک چھوٹی بچی چپکے چپکے شہزادہ ہیری کے پاپ کارن سے کھا رہی تھی، اور وہ جان بوجھ کر بے خبر بنا رہا تاکہ وہ بغیر جھجک کے کھاتی رہے واقعی دل کو چھو لینے والا لمحہ
عوام دشمن بجٹ، کشمیر میں جاری احتجاج اور ریاستی جبر سے توجہ ہٹانے کے لیے بار بار عمران خان سے متعلق "عدالتی ریلیف" اور "ہسپتال منتقلی" جیسی افواہیں گردش میں لائی جاتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عمران خان گزشتہ چھ ماہ سے منظرِ عام پر نہیں آئے، انہیں بنیادی طبی اور قانونی سہولیات تک رسائی بھی میسر نہیں
ہمار اسوال اب بھی وہی ہے: #WhereIsImranKhan
شہباز شریف نے 2021 میں 1 روپے 71 پیسے پیٹرول مہنگا ہونے پر ٹویٹ کی بیروزگاری اور ناانصافی کا سونامی آئے گا، آج ایک لیٹر پر 117 روپے لیوی ہے، تب ٹویٹ کی تھی اب کتابیں لکھنی چاہئیں تھی، اب تو 20 ریکٹر اسکیل کا زلزلہ آ جانا چاہیے تھا۔ MNA رانا عاطف
حکومت نے جو پانچواں بجٹ پیش کیا ہے اس میں کسانوں کو مکمل نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس بجٹ نے نہ صرف کسانوں بلکہ پورے ملک کی معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔
پاکستان کی جی ڈی پی (GDP) میں زراعت کا حصہ 24 فیصد ہے اور تقریباً 35 فیصد آبادی براہ راست زراعت سے منسلک ہے۔ @awaisjakhar
بریکنگ نیوز 🚨سلمان اکرم راجہ کی طرف سے وکٹری سپیچ کر دی گئی۔ سب کو فتح مبارک ہو۔ ہم اپنی فتح کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم بھاری اکثریت سے جیت گئے ہیں۔ آج پھر خان کا نظریہ جیت گیا ہے۔ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے ہاتھوں اسٹبلشمنٹ کو بدترین شکست ہوئی ہے 🔥
میں اپنی چھ سالہ بیٹی کو نہلا رہی تھی جب اُس کے بازو پر چار انگلیوں کے نیلے نشان دیکھے وہ کسی بڑے ہاتھ کی سخت گرفت تھی۔
میرا نام مہرین ہے میری بیٹی عنائیہ چھ سال کی ہےوہ اسلام آباد کے ایک مشہور نجی سکول میں پڑھتی تھی
بڑا گیٹ صاف کلاس رومزمہنگی فیس اور والدین کو مطمئن کر دینے والا ماحول
مگر چند ہفتوں سےعنایہ بدلنے لگی تھی
صبح سکول کا نام آتےہی اُسکا چہرہ اتر جاتا
امی آج سکول نہ جائیں؟امی پیٹ میں درد ہے
امی مس شازیہ غصہ کرتی ہیں
میں نے ہر بار یہی سمجھا کہ نئی کلاس ہے عادت ہو جائے گی
پھر اُس شام میں اسے نہلا رہی تھی
میں نے اُس کا بازو اٹھایا تو میری سانس رک گئی
اوپر بازو پر چار نیلے نشان تھے بالکل انگلیوں جیسے میں نے بہت نرمی سے پوچھا عنائیہ یہ کس نے کیا؟ وہ فوراً چپ ہو گئی نظریں جھکا لیں پھر بہت آہستہ سے بولی مس شازیہ
میرے اندر جیسے سب کچھ جم گیا کب؟
جب میں نے کاپی غلط صفحے پر کھول لی تھی
پھر اُس نے فوراً میرا ہاتھ پکڑ لیا
امی سکول میں مت بتانا مس نے کہا تھا کوئی یقین نہیں کرے گا
اُس رات میں نے اُس کے بازو کی تصویریں لیں تاریخ کے ساتھ
اگلی صبح میں اپنے شوہر عادل کے ساتھ عنایہ کو لے کر سکول گئی
پرنسپل مسز نادیہ قریشی نے ہمیں بٹھایا اور بہت نرم لہجے میں کہا
عنایہ بہت حساس بچی ہے بعض بچے معمولی ڈانٹ کو بھی دل پر لے لیتے ہیں
میں نے فون اُن کے سامنے رکھ دیا تصویر کھولی
عنایہ کے بازو پر انگلیوں کے نشان صاف نظر آ رہے تھے میں نے کہا یہ ڈانٹ نہیں ہے یہ ہاتھ ہے
عادل نے بھی سخت لہجے میں کہا
ہمیں کلاس روم کی سی سی ٹی وی فوٹیج چاہیے پرنسپل کا لہجہ فوراً بدل گیا یہ ممکن نہیں۔ سکول پالیسی اجازت نہیں دیتی
اسی وقت مس شازیہ اندر آئیں
انہوں نے عنایہ کی طرف جھک کر کہا
بیٹا امی ابو کو بتاؤ نا مس آپ سے پیار کرتی ہیں؟
عنایہ فوراً میرے پیچھے چھپ گئی
اُس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں
عادل نے یہ دیکھا تو اُس کے چہرے کا رنگ بدل گیا
پرنسپل نے بات سنبھالنےکی کوشش کی
دیکھیے آپ پہلے والدین نہیں ہیں جو ایسی شکایت لے کر آئے ہیں سکول کا نام خراب کرنےسے پہلے سوچ لیجیےگا
میں نے فوراً پوچھا پہلے والدین نہیں؟
کمرےمیں خاموشی چھا گئی
اُنہیں احساس ہو چکا تھا کہ زبان پھسل گئی ہے
عادل نےبہت سکون سے کہا
تو اس کا مطلب ہے شکایت پہلے بھی آئی ہے۔ اب معاملہ صرف ہماری بچی کا نہیں رہا ہم وہاں سے نکل آئے
اس بار ہم خاموش نہیں رہے
سب سے پہلے عنایہ کو ڈاکٹر کے پاس لے گئ میڈیکل رپورٹ بنوائی
پھر اُس رات عنایہ نے مجھےایک اور بات بتائی۔
امی حورین کو بھی مس شازیہ نے ایسے ہی پکڑا تھا
حورین اُس کی کلاس فیلو تھی جو دو ہفتے پہلے اچانک سکول چھوڑ گئی تھی
اگلے دن عادل نے حورین کے والد کا نمبر پرانے والدین گروپ سے ڈھونڈا
جب ہم نے بات کی تو دوسری طرف لمبی خاموشی ہوئی
پھر حورین کی امی روتے ہوئے بولیں
ہماری بچی نے بھی یہی بتایا تھا مگر سکول نے کہا وہ بہت حساس ہے
اسی دن ہم دونوں خاندان ملے
عنایہ کے بازو کی تصویریں تھیں
حورین کی پرانی تصاویر تھیں
دونوں بچیوں کی باتیں ایک جیسی تھیں دونوں کو ڈرایا گیا تھا دونوں کو کہا گیا تھا
گھر میں بتایا تو کوئی یقین نہیں کرے گا
اب یہ صرف شکایت نہیں رہی تھی یہ ثبوت بن چکا تھا
ہم نے مل کر چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن پر شکایت کی
ایجوکیشن اتھارٹی کو درخواست دی پولیس میں رپورٹ جمع کروائی
اور سکول کو قانونی نوٹس بھجوایا
دو دن بعد ایک تیسرا والد بھی سامنے آ گیا
اُس کے بچے نے بھی کلاس میں سخت رویے اور بازو سے کھینچنے کی بات کی تھی
سکول نے پہلے اسے غلط فہمی کہا
پھر اندرونی انکوائری کا اعلان کیا
اور آخرکار جب دباؤ بڑھا تو مس شازیہ کو کلاس سے ہٹا دیا گیا
سی سی ٹی وی کی مکمل فوٹیج تو ہمیں نہ دی گئی مگر اتنا ضرور سامنے آ گیا کہ شکایت صرف ہماری نہیں تھی
پرنسپل کے خلاف بھی کارروائی شروع ہوئی کیونکہ شکایات پہلے سے موجود تھیں اور دبائی جا رہی تھیں
عنایہ نے سکول بدل دیا شروع کے دن آسان نہیں تھے
نئے سکول کے گیٹ پر وہ میرا ہاتھ زور سے پکڑتی اور پوچھتی
امی یہ والی میم اچھی ہیں نا؟ میں ہر بار جھک کر کہتی
بیٹا اگر کوئی بھی تمہیں ڈرائے ہاتھ لگائے یا کہے کہ امی ابو کو نہ بتانا تو سب سے پہلے ہمیں بتانا
آہستہ آہستہ اُس کی ہنسی واپس آنے لگی
وہ گاڑی میں پھر نظمیں پڑھنے لگی ایک دن گھر آ کر بولی
امی آج میں نے کلاس میں نظم سنائی
میں نے اُسے سینے سے لگا لیا کیونکہ وہ صرف نظم نہیں تھی
وہ میری بچی کی واپسی تھی
میں نے ایک بات سیکھ لی ہےجب بچہ بار بار کہے پیٹ درد ہے سکول نہیں جانا
میم اچھی نہیں لگتیں تو اسے ہمیشہ ضد نہ سمجھیں
کبھی کبھی یہ ایک چھوٹی سی جان کی آخری کوشش ہوتی ہےکہ کوئی اُس کی خاموشی پڑھ لے
بچوں کو صرف بڑے سکولوں میں داخل نہ کروائیں
اُنہیں یہ یقین بھی دیں کہ اُن کی بات گھر میں سنی جائے گی
منقول
کاشف عباسی کا ٹی وی اسکرین پر شاندار کم بیک آتے ہی میاں نوازشریف کی مجی ٹھوک ڈالی، ننگا کر کے رکھ دیا 🔥🔥🔥
میاں صاحب کو میں سن رہا تھا مجھے ہنسی آرہی تھی کہتے ہیں 25 کروڑ عوام آپ کیوں کھڑے نہیں ہوتے؟ حضور آپ نے پچھلے پچیس تیس سال میں کیا کیا ہے جہاں آپ کو موقع ملا ڈیل کر گئے 1999 میں مارشل لاء لگا آپ کھڑے رہتے آپ ڈیل کر کے باہر چلے گئے لوگوں کو اِدھر ہی چھوڑ گئے واپس آئے پھر لوگوں نے آپ کو بھاری مینڈیٹ سے جتوایا 2016/2017 میں حالات خراب ہوئے آپ نے اس پورے ملک کو پنجاب کو اینٹی اسٹبلیشمنٹ بنایا فوج کے پیچھے لگایا خلائی مخلوق پانچ جج یہ عدلیہ یہ فوج اور یہ آئی ایس آئی آپ نے لگایا پھر ڈیل کی باہر چلے گئے اب واپس آئے ڈیل کر کے واپس آئے پہلے سے فیصلہ طے کر کے آئے میں مینارے پاکستان جاؤں گا وہاں پر میں کبوتر اُڑاؤں گا پھر عدالت سے میرے کیس ختم ہونگے پھر الیکشن ہوگا الیکشن میں نے جیت جانا ہے نہیں بھی جیتا تو ہارنے والے کو بازی گر کہتے ہیں بازی گر بن گئے وہ جس میں انکی حکومت بھی بن گئی آپ حلقے کی سیٹ بھی ہارے ہوئے ہیں یہ ہے ہماری جمہوریت
عوام کو پٹرول کی نہیں چھتروں کی کمی ہے !
1لیٹر پٹرول پر 5 ، 2لیٹر پر 10چھتر ،میں 3لیٹر ڈلواتا ہوں مجھے 15چھتر مارے جائیں
” میاں صاحب مہربانی کریں اور قوم کو چھتر مروانے کا بھی انتظام کریں تاکہ آپ کو بھی مزہ آئے اور شبانہ روز ترقی دگنی ہو۔ “شہری کا مطالبہ
#خان_کے_سائے_سے_بھی_خوف .
#سائفر_ایک_حقیقت
عمران خان کا گلگت بلتستان میں تاریخی خطاب ۔۔۔صرف ان کی بات سنیں ان کی بات عوام سے شروع ہوتی ہے عوام بھی ختم ہوتی ہے ۔۔۔کیا اور بھی کوئی ایسا لیڈر ہے جو ہم عوام کے بارے میں سوچتے ہیں ؟؟؟
اولاد کے لیے دعا بہت پیاری دعا ہے سب لوگ اپنی اپنی اولاد کے حق میں اس دعا کو دل سے پڑھ کے امین ضرور لکھتے جائیں*
اپنی اولاد کے لیے دعا کیا کرو، کیونکہ دعا تقدیر کو بھی بدل دیتی ہے۔
1. اے اللہ! جیسے تو نے مجھے میری اولاد بغیر میری کسی طاقت اور کوشش کے عطا کی، ویسے ہی انہیں بغیر میری طاقت کے محفوظ رکھ۔
2. اے اللہ! اے وہ ذات جسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، میں اپنی اولاد کو تیرے سپرد کرتی ہوں، انہیں اپنی اس نگاہ سے محفوظ رکھ جو کبھی نہیں سوتی۔
3. اے اللہ! میری اولاد کو وہ بہترین نعمتیں عطا فرما جو تو اپنے نیک بندوں کو دیتا ہے، اور انہیں بدکاروں کے شر اور حسد کرنے والوں کی چالوں سے بچا۔
4. اے اللہ! انہیں مکاروں کی مکاری اور ظالموں کے ظلم سے امن میں رکھ، اور حسد کرنے والوں کی نظر سے محفوظ رکھ۔
5. اے اللہ! میں ان کے جسم تیرے سپرد کرتی ہوں، انہیں بیماریوں، تکلیفوں اور خطرناک امراض سے محفوظ رکھ۔
6. اے اللہ! میں ان کے اخلاق تیرے سپرد کرتی ہوں، انہیں بہترین اخلاق کا نمونہ بنا دے۔
7. اے اللہ! میں ان کے رزق تیرے سپرد کرتی ہوں، انہیں حلال اور پاکیزہ رزق عطا فرما، ان پر رزق کی بارش فرما، ان کی زندگی کو تنگی اور مشقت والی نہ بنا، اور ان کے رزق میں برکت عطا فرما اور انہیں اپنے دیے ہوئے پر راضی رکھ۔
8. اے اللہ! ان کے دلوں میں اپنی محبت ڈال دے۔
9. اے اللہ! ان سے محبت فرما، ان سے راضی ہو جا، اور انہیں اتنا عطا فرما کہ وہ راضی ہو جائیں۔
10. اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتی ہوں کہ تو اپنے فرشتوں میں میری اولاد کے نام لے کر اعلان کر دے کہ میں ان سے محبت کرتا ہوں، پس تم بھی ان سے محبت کرو۔
11. اے اللہ! ان پر اپنی نعمتیں مکمل فرما اور ان کے رزق کو وسیع کر دے۔
12. اے اللہ! انہیں اس سے زیادہ خیر عطا فرما جتنی وہ امید رکھتے ہیں، اور اس سے زیادہ برائیوں سے بچا جتنی وہ ڈرتے ہیں۔
13. اے اللہ! دنیا میں انہیں بہترین حصے عطا فرما، اور آخرت میں انہیں وہ نعمتیں دے جو تو نے انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے لیے مقرر کی ہیں۔
14. اے اللہ! میری اولاد کو زبان کی فصاحت اور بیان کی قوت عطا فرما تاکہ وہ تیری بہت عبادت کریں اور تجھ سے بہت استغفار کریں۔
15. اے اللہ! انہیں ہدایت دینے والے اور ہدایت پانے والے بنا، انہیں گمراہ یا گمراہ کرنے والا نہ بنا۔
16. اے اللہ! انہیں نماز کا پابند بنا، نماز کو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے، انہیں ایسے دل عطا فرما جو نماز سے سستی نہ کریں، اور ایسے دل عطا فرما جو تجھ سے اس طرح ڈریں جیسے وہ تجھے دیکھ رہے ہوں۔
17. اے اللہ! قرآنِ عظیم کو ان کے دلوں کی بہار، ان کے سینوں کا نور، ان کے غموں کا علاج اور ان کی پریشانیوں کا خاتمہ بنا دے۔
18. اے اللہ! ان کے دلوں کو اپنی محبت سے بھر دے، ان کی زبانوں کو اپنے ذکر، شکر اور بہترین عبادت سے تر رکھ۔
19. اے اللہ! ایمان کو ان کے دلوں میں محبوب بنا دے، اسے ان کے دلوں میں مزین کر دے، اور کفر، نافرمانی اور گناہ کو ان کے لیے ناپسندیدہ بنا دے۔
20. اے دلوں کو پھیرنے والے! میری اولاد کے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ، اور اے دلوں کو بدلنے والے! ان کے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف موڑ دے۔
21. اے اللہ! میری اولاد کو اپنے قرب کی مٹھاس چکھا دے اور انہیں اپنے دوستوں کے قریب کر دے۔
22. اے اللہ! میری اولاد کو برے دوستوں سے بچا اور ان کے دلوں میں اپنی ایسی محبت ڈال دے جو انہیں تیرے احکام پر خوشی سے عمل کرنے والا بنا دے۔
اے اللہ! انہیں خوش رکھ اور ہمیں ان کے ساتھ خوش رکھ، انہیں بدبخت نہ بنا اور نہ ہمیں ان کے ساتھ بدبخت کر۔
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے!
اور جو جو اس دعا کو پڑھ رہے ہیں ان سب کی اولاد کو بھی،
ا ور اس شخص کی اولاد کو بھی جس نے یہ دعا لکھی،
اور اس کی اولاد کو بھی جس نے اسے آگے بھیجا۔
اے اللہ! قبول فرما۔ آمین۔
میری نو سالہ نواسی اچانک چیخنے لگی
نانا جلدی کریں ورنہ میری شلوار خراب ہو جائے گی
میں زندگی میں کبھی اتنا شرمندہ نہیں ہوا جتنا اس دن
جب میں اپنی نواسی کو ساتھ لے کر جا رہا تھا
سڑک تقریباً خالی تھی۔
ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔
اور شاید میری گاڑی رفتار سے تھوڑی اوپر چلی گئی تھی بس پھر کیا تھا۔
پیچھے سے پولیس کی گاڑی کی لائٹس چمکیں
میں نے آہ بھری اور گاڑی سائیڈ پر لگا دی
دل ہی دل میں خود کو کوس رہا تھا
بس
اب بھرو چالان
میں نے شیشہ نیچے کیا
پولیس والا ابھی ہماری گاڑی کی طرف آ ہی رہا تھا کہ اچانک پچھلی سیٹ سے نواسی چیخنا شروع ہو گئی
نانااااا!!!
جلدی کریں!
ابھی نکل جائے گی، بس گئییییییییی
میں گھبرا کر پیچھے مڑا کیا؟
وہ دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھ کر پوری اداکاری کے ساتھ بولی میں روک نہیں پا رہیییی
پولیس والا اب کھڑکی تک پہنچ چکا تھا وہ رکا۔
پھر جھک کر اندر دیکھنے لگا کیا مسئلہ ہے؟
قسم سے
اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا،
وہ انتہائی معصوم چہرہ بنا کر بولی
انکل میری پوٹی نکلنے والی ہے🤣
دو سیکنڈ خاموشی رہی
پھر وہ پولیس والا ایسا ہنسا کہ اُس کی ٹوپی تقریباً گر گئی
میں شرم سے پانی پانی ہو گیا
وہ ہنستے ہوئے بولا کتنی دور جانا ہے؟
میں نے آہستہ سے کہا بس دو منٹ
وہ ابھی بھی ہنس رہا تھا اچھا ٹھیک ہے
ننھی بی بی کو جلدی گھر پہنچائیں۔
اور آئندہ آہستہ گاڑی چلائیں
میں نے فوراً گاڑی آگے بڑھا دی
چند سیکنڈ مکمل خاموشی رہی۔
پھر میں نے غصے سے rear mirror میں اُسے دیکھا
یہ کیا تھا؟
وہ بڑی سکون سے chips کھول رہی تھی
پھر ہنس کر بولی
میں نے YouTube پر دیکھا تھا
میں ساکت رہ گیا کیا دیکھا تھا؟”
وہ فخر سے بولی
کہ اگر بچے کو potty لگی ہو تو پولیس والے جلدی چھوڑ دیتے ہیں
میں نے حیرت سے پوچھا
تو تمہیں potty نہیں آئی تھی؟
وہ آرام سے سر ہلا کر بولی
نہیں۔ 😄😄
مگر آپ کا challan بھی تو نہیں ہوا نا😭🤣
قسم سے
اُس لمحے مجھے سمجھ نہیں آیا
اُسے ڈانٹوں
یا بڑے ہو کر وکیل بننے کا مشورہ دو😂
🍌 گہرے رنگ کا کیلا — کینسر سے بچاؤ کا قدرتی شیلڈ! ✨
کیا آپ جانتے ہیں؟
جتنا زیادہ کیلا بھورا اور دھبہ دار ہوتا ہے، اُتنا ہی زیادہ یہ آپ کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے!
جیسے جیسے کیلا پکتا ہے اور اس کا چھلکا گہرا ہوتا جاتا ہے، اس کے اندر حیران کن تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ اس وقت کیلے میں ڈوپامین، کیٹیچنز اور پولی فینولز جیسے طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
یہ اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں موجود فری ریڈیکلز کو ختم کرتے ہیں جو خلیوں کے DNA کو نقصان پہنچا کر کینسر جیسی بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
خلاصہ فائدہ:
✅ خلیوں کو کینسر سے محفوظ رکھنے میں مدد
✅ قوت مدافعت بڑھانا
✅ جسم میں سوزش کم کرنا
✅ قدرتی اینٹی ایجنگ اثر
تجویز:
رات کو 1-2 کیلے خرید کر رکھ دیں تاکہ اچھی طرح پک جائیں اور بھورے دھبے پڑ جائیں۔ پھر صبح ناشتے میں کھائیں۔
نوٹ:
شوگر کے مریض احتیاط سے کھائیں۔
اب آپ بتائیں...
کیا آپ بھی گہرے رنگ کے کیلے کھاتے ہیں؟ یا ابھی تک صرف ہلکے پیلے والے ہی کھاتے رہے ہیں؟
کمنٹ میں ضرور بتائیں 👇 اور یہ پوسٹ اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ وہ بھی اس اہم معلومات سے فائدہ اٹھا سکیں۔
مجھے کسی مفتی صاحب سے فتویٰ چاہیے میں بحثیت پاکستانی آئی ایم ایف کا 2لاکھ 50 یا 2 لاکھ70 ہزار کا مقروض ہوں
اور ہمارے گھر میں 7 افراد ہیں۔۔۔
اس طرح صرف میرے گھر کے سات افراد آئی ایم ایف کے 18 سے 19 لاکھ کے قرضدار ہیں
*اب پوچھنا یہ ہے کہ۔۔*
کیا ہم پر قربانی فرض ہے اس طرح پورے ملک کا ہر فرد آئی ایم ایف کا قرضدار ہے کیا ان پر قربانی فرض ہے ؟
نوٹ:- ہم کیسے قرض دار ہوئے کیوں ہوئے قرضہ کس نے لیا کس نے کہاں استعمال کیا ہمیں پتہ بھی نہیں
اس دیرینہ مسئلے کا کوئی حل نکال دیں
اور ہاں ایک سوال یہ بھی پوچھنا ہے
کہ اگر اس قرض کے ساتھ بندہ مرجائے تو اس ان دیکھے قرض کی مجھ سے پوچھ گچھ تو نہیں ہوگی۔۔؟
کیونکہ حکم ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے قرض اتار دو اگر ہو سکے تو۔
اور ساتھ میں یہ بھی کہ
ہم اس وقت غلام رعایا ہیں کیا غلاموں پر بھی قربانی فرض ہے۔
منجانب: ایک قرضدار، غریب، مظلوم اور محکوم عام پاکستانی ۔۔ 🙏