صرف لائسنس معطل نہیں، چینل کو مکمل طور پر بند کیا جائے۔ تاکہ آئندہ کسی چینل کو جرات نہ ہو سکے اور ان بے ایمانوں پر ہمیشہ کیلئے پابندی لگائی جائے۔ متنازعہ پروگرام کے پروڈیوسر ڈائریکٹر اور جتنے بھی لوگ ملوث ہیں ان سب کے خلاف قانونی کاروائی کر کے سخت سزا دی جائے،
اسلام میں کوئی بھی شخص چاھے وہ کتنے بڑے عہدے پر ھو کسی بھی وقت عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ھو سکتا خلفاء راشدین کی مثالیں سب کو معلوم ہیں ہمارے دستور میں پہلے بھی صدر کو صدارت کے دوران تحفظ دیاگیاتھا جو اسلام کے خلاف تھا اب تاحیات کسی کو یہ تحفظ دینا شریعت اور آئین کی روح کے بالکل خلاف ہے جو ملک کے لئے نہایت شرمناک ھوگا اللہ تعالیٰ ملک کو اس بے عزتی سے بچائیں آمین پارلیمنٹ کے ارکان سے دردمندانہ درخواست ہے کہ وہ یہ گناہ اپنے سر نہ لیں
افغان خارجه وزیر:
سوال یہ ہے کہ اگر واقعی افغانستان دہشت گردی کا مرکز ہوتا، تو پھر ایران، ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان اور چین جیسے ہمارے دیگر ہمسایہ ممالک کیوں شکایت نہیں کرتے؟ صرف پاکستان ہی کیوں؟
پاکستانی نیوز چینلز پر اسرائیلی پارلیمنٹ کی کاروائی کس کی اجازت سے نشر کی گئی؟
نیوز چینلز کا یہ عمل غیر آئینی اور غیر قانونی ہے.
پیمرا میں شکایات درج کروانی چاہئیں