سعودی عرب اور یو اے ای، پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی عائد کرنے کے قریب تھے لیکن آخری لمحے پر رک گئے، انہوں نے خبردار کیا ’اگر پابندی لگا دی گئی تو اسے ہٹوانا بہت مشکل ہوگا‘۔ڈان نیوز
سی ایم کے استعفے میں آئین کے آرٹیکل 130/8 کو مدنظر نہیں رکھا گیا،آئین کے مطابق اگر استعفیٰ گورنر کو بھجوا دیا گیا تو وو قبول تصور ہوگا۔گورنر چیف منسٹر کو آئین کے مطابق طلب نہیں کر سکتا اگر کر ے گا تو گورنر پر آرٹیکل6 لگ سکتا ہے ، کنور دلشاد
ان فرعونوں سے بچانے کے لیے خان صاحب نے ہر پاکستانی کی جیب میں 10 لاکھ کا صحت کارڈ ڈالا تاکہ ان کی محتاجی ختم ہو سکے کم از کم وہ اپنے پیاروں کا علاج کروا سکیں ۔۔۔۔ کتنا حقیر سمجھتے ہیں یہ عوام کو ۔۔۔ ذرا سی طاقت سے یہ خود کو خدا سمجھ لیتے ہیں 😡
جس ملک میں ٹیسٹ ٹیوب سیاستدان اور صحافی معافی کے جڑے ہاتھوں کے ساتھ اس دنیا میں آئیں گے تو وہاں لہراتے گھونسوں کے ساتھ یوٹیوب صحافی ہی خبر اور تجزیوں کا قابل اعتماد ذریعہ ہوں گے۔مطیع اللہ جان
وڑائچ صاحب نے عمران خان کی مستقل مزاجی کا کریڈٹ اُسی طرح یو ٹیوبرز کو دیا ہے جس طرح 2024 کا عوامی مینڈیٹ پی ٹی آئی کی بجائے شھباز شریف کی جھولی میں ڈال دیا گیا تھا۔مطیع اللہ جان
، دوسرا وہ جو با اختیار نہ ہو تو زبان سے برائی کو برائی کہے (یہ صحافت کے لئیے مناسب ہے) اور تیسرا درجہ وہ ہے جو کمزور ترین ہے یعنی جو برائی کو دل میں برا جان کر خاموش رہے۔ عام حالات میں صحافی اپنی قلم اور زبان کی طاقت سے برائی کو برائی کہنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے ۔
#ImranKhan
صحافیوں کا کام اپنی تلخ تاریخ کو مسخ کر کے سیاستدانوں سے معافیاں منگوانا نہیں بلکہ ملک، قوم اور آئین کے غداروں کے کیخلاف قوم کو یکجا کرنا ہے۔ عمران خان نے جس جوانمردی کیساتھ جیل کاٹی ہے ایسی جیل کا ہمارے جیسے صحافی تصور بھی نہیں کر سکتے۔
فوج سیاست کا دروازہ کھٹکھٹائے بغیر اندر داخل ہو گی تو سیاست فوج کے دروازے پر دستک تو دے ہی آئے گی۔
بنگلہ دیش میں کیا ہوا؟ وہی جو غیر منتخب حکمرانوں کیساتھ ہوتا ہے اور ہونا چاہیے۔ اس ساری صورتِ حال میں معافی تو سب کو قومی ترانے کی دھن پر مل کر مانگنی چاہیے۔ مطیع اللہ جان
پھر آرمی پبلک سکول پشاور میں معصوم بچوں کی حفاظت میں سنگین غفلت، امریکہ کے ایبٹ آباد حملے کو روکنے میں ناکامی اور 1990, 2018 اور 2024 کے الیکشنز کی چوری پر بھی کسی کو معافی مانگنی چاہیے۔ مطیع اللہ جان #ImranKhan#9thmayfalseflag