"بڑھاپا اور نیا سکون"
مجھے معلوم تھا کہ میری عمر ہو رہی ہے۔
تو میں نے خود کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ۔
خاموشی سے بغیر کسی کو احساس دلائے۔
کچھ زیادہ گہرا۔
یہ وہ دن تھا جب مجھے خود کو، ثابت کرنے کی ضرورت نہ رہی۔
جب میں نے ان لوگوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دیا ، جن کے رویے بدل گئے تھے ، جب لوگ آپ کو چھوڑنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ان کے لہجے ، اور رویے بدلتے ہیں۔ میں نے دو قدم پیچھے ہٹ کر ان کے لئے آسانی کر دی۔
میں نے سب کچھ چھوڑ دیا – غصے سے نہیں، بلکہ سکون سے۔
جب مجھے وضاحت دینے کی ضرورت نہیں رہی ، تو میں زیادہ پر سکون ہو گئی۔
جب مجھے آخری بات کہنے کی ضرورت نہیں رہی۔
بڑھاپا شور مچاتے ہوئے نہیں آیا۔
کوئی بڑا اعلان نہیں ہوا۔
کوئی خوف نہیں۔ کوئی غم نہیں۔
بس ایک نرم سا ٹھہراؤ… جیسے ایک لمبے، روشن دن کے بعد شام کا اندھیرا چھا جائے۔
میں نے ان معافیوں کا انتظار کرنا چھوڑ دیا ، جو کبھی نہیں آنی تھیں۔
میں نے دوسروں سے وابستہ توقعات سے منہہ موڑ لیا۔
مجھے اب خاموشی اور تنہائی میں سکوں ملتا ہے۔
مجھے اپنا کمرہ اپنی خاموشی اور تنہائی پسند ہے۔
میں نے یہ سوچنا چھوڑ دیا کہ " لوگ کیا کہیں گے "
میں نے پسند کیے جانے کی ضرورت چھوڑ دی۔
سمجھے جانے کی۔
ہر جگہ شامل ہونے کی۔
اب میں منظوری کی بجائے سکون کا انتخاب کرتی ہوں۔
کارکردگی کی بجائے سکون کا۔
ذمہ داری کی بجائے خوشی کا۔
میرا جسم؟
یہ اب کوئی جنگ کا میدان نہیں رہا۔
یہ ایک ڈائری ہے – جو کھنچاؤ کے نشانات، زخموں، نرمی اور مضبوطی میں لکھی گئی ہے۔
یہ مجھے محبت، نقصان، پیدائش، دل ٹوٹنے، شفا یابی کے ذریعے لے کر آیا ہے۔
میں اس کی عزت کیوں نہ کروں؟
اب، میں اپنی شرائط پر جیتی ہوں۔
کوئی جلدی نہیں۔
کوئی "یہ کرنا چاہیے" نہیں۔
خود کو منتخب کرنے پر کوئی شرمندگی نہیں۔
میں اپنی چائے آہستہ آہستہ پیتی ہوں – گرم، دوبارہ گرم کی ہوئی نہیں۔
میں تب جواب دیتی ہوں جب میں تیار ہوتی ہوں۔
میں بغیر کسی جلدی کے چلتی ہوں۔
میں اپنی ضروریات سنتی ہوں۔
میں بغیر شرم کے خود کو گلے لگاتی ہوں۔
اب میں اپنی ملکیت ہوں۔
اور اپنی زندگی میں پہلی بار…" یہ کافی سے زیادہ ہے۔ "
ہمیں امن عمران خان کے دور والا چاہیے
ہمیں گندم کا ریٹ اور ادائیگی عمران خان کے دور والی چاہیے
ہمیں صحت کی سہولیات عمران خان کے دور والی چاہییں
ہمیں گروتھ ریٹ عمران خان کے دور والا چاہیے
ہمیں ایکسپورٹس عمران خان کے دور والی چاہییں
ہمیں نیت اور اہلیت عمران خان کے دور والی چاہیے
ہمیں عمران خان چاہیے !
🛑 "ہم پچھلے دو سال سے اپنے بھائی کے ساتھ کھڑے ہیں اور آخری دم تک کھڑے رہیں گے۔ اگر اپنے اپنوں کے لیے آواز اٹھانا اور مشکل وقت میں ساتھ نبھانا موروثیت ہے، تو ہمیں اس پر فخر ہے۔ عمران خان تنہا نہیں ہیں، ہم ایک خاندان اور ایک اکائی کی طرح ان کے ساتھ متحد ہیں۔"
ایڈووکیٹ فائزہ مراد کا عمران خان کو خط
محترم عمران خان صاحب،
ایسے دن آتے ہیں جب میں سوچنے لگتی ہوں کہ کیا یہ قوم واقعی آپ کی مستحق ہے؟
یہ سوال اس لیے نہیں کہ آپ مکمل انسان ہیں۔ کوئی لیڈر کامل نہیں ہوتا۔ نہ ہی اس لیے کہ آپ نے کبھی غلطیاں نہیں کیں۔ ہر انسان غلطیاں کرتا ہے۔ بلکہ اس لیے کہ بہت کم لوگ اس ملک کے لیے وہ سب کچھ برداشت کرنے کو تیار ہوتے ہیں جو آپ نے برداشت کیا ہے اور پھر بھی سر تسلیم خم نہیں کیا۔
آپ بہت پہلے ہی آسان راستہ منتخب کر سکتے تھے۔ آپ سمجھوتہ کر سکتے تھے، خاموش رہ سکتے تھے، اپنی آرام دہ زندگی کو محفوظ رکھ سکتے تھے اور اپنی آزادی کو یقینی بنا سکتے تھے۔ اس کے بجائے آپ نے اصول پسندی کو ذاتی فائدے پر ترجیح دی اور مزاحمت کے راستے پر چلے۔ اس انتخاب کی خاطر آپ نے ایک ایسی قیمت ادا کی ہے جسے بہت کم لوگ پوری طرح سمجھ سکتے ہیں۔
بہت سے لوگوں نے آپ کی جدوجہد سے فائدہ اٹھایا۔ بہت سے لوگ اس اعتماد کی وجہ سے آگے بڑھے جو آپ نے ان پر کیا۔ لیکن بہت کم لوگوں نے اس قیمت کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی ادا کیا ہے جو آپ آج بھی ہر روز ادا کر رہے ہیں۔
جیسے بے شمار دوسرے سپورٹرز، میں بھی آپ کی آزادی کے لیے کچھ معنی خیز کرنا چاہتی ہوں۔ مگر اکثر اوقات میرے پاس صرف بے بسی کا احساس رہ جاتا ہے۔ میں دن گزرتے دیکھتی ہوں۔ مہینے گزرتے دیکھتی ہوں۔ ایک اور منگل، ایک اور جمعرات، ایک اور سماعت، ایک اور تاخیر۔ اور میں خود سے وہی سوال کرتی ہوں کہ ایک عام سپورٹر اور کیا کر سکتا ہے؟ یہ احساس برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔
مجھے نہیں معلوم مستقبل کیا لاتا ہے۔ اس وقت تک ہم میں سے بہت سے لوگ اس مایوسی کے ساتھ جی رہے ہیں کہ پاکستان کے لیے آپ نے جو کچھ بھی برداشت کیا، ہم آپ کے لیے اتنا کچھ نہیں کر سکے جتنا کے آپ کے مستحق ہیں۔
آپ سے مخلص،
ایک پاکستانی
ایڈووکیٹ فائزہ مراد
@fayezasays
غیر مقبول عمران خان
رجیم چینج سے پہلے عمران خان غیر مقبول نہیں تھا، عمران خان کا کور ووٹر خاموش تھا ۔ جس قدر تیز رفتار تبدیلی کی انہیں امید تھی وہ ہو نہ سکی تو لوگ مایوس ہوئے ، پھر انہی لوگوں کو رجیم چینج کے بعد سے اب تک یہی سمجھ آرہی ہے کہ وہ تیز رفتار تبدیلی آکیوں نہ سکی۔ عمران خان غیر مقبول نہیں تھا عمران خان کا کچھ ڈس کنیکٹ ہوگیا تھا۔ عمران خان 2008 سے لیکر آج تک پاپولر پالیٹکس کا کھلاڑی ہے ۔ حکومت میں آنے کے بعد دو اڑھائی سال تک عمران خان کے روایتی جلسے جلوسوں کو بریک لگ گئی۔ اس کی وجہ سے لوگ اوجھل بھی ہوئے لیکن جیسے ہی عمران خان نے جلسوں کا سلسلہ شروع کیا گیج وہیں پر جاپہنچی۔
نو اپریل کو عمران خان کی حکومت ختم ہوئی۔ دس اپریل کو سارا پاکستان بغیر کسی کال کے سڑکوں پر تھا۔ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا۔ عمران خان غیر مقبول نہیں تھا۔ عمران خان کو غیر مقبول دکھایا جارہا تھا۔ دکھانے والے کون تھے؟ جی ہاں یہی میڈیا ہاوسز جو آجکل برہنہ ہوئے پھرتے ہیں۔ وہی صحافی جو جون 2021 سے بتا رہے تھے کہ گل ہوگئی ہے ، “ تجربہ کار “ آرہے ہیں۔ یہ وہی لوگ تھے جو سندھ ہاوس میں ہونے والی سودے بازیوں میں بھی بروکر تھے ، جو سیاستدانوں کے جہازوں کے بھی ہمسفر تھے۔
یہ وہی لوگ ہیں جن کا خیال تھا کہ نشان چھین لینے سے ، کیمپین نہ کرنے سے ، عمران خان کو جیل میں ڈال دینے سے تحریک انصاف تیس چالیس تیس چالیس تیس چالیس۔ یہ وہی ہیں جن کا خیال تھا کہ اسحاق ڈار آئے گا معیشت چلائے گا۔ یہ وہی ہیں جن میں سے کسی کا پٹرول پمپ نکلتا ہے ، کسی کے لیے کسی ادارے کی چئیرمینی نکلتی ہے ، کسی کے لیے مراعات اور لاکھوں تنخواہ کی نوکری۔
یہ مری ہوئی لکیریں ہیں اب انہیں پیٹنے سے حاصل کچھ نہیں ، لیکن تاریخ کی درستی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا تب بھی ان سے طاقتور تھا لیکن اس میڈیا کی سانسیں چلتی تھیں۔ رجیم چینج اور اسکے بعد انکے زوال کو گئیر لگ گیا۔ رجیم چینج نا ہوتا تو یہ میڈیا پانچ سات سال مزید نکال جاتا۔
اب واپس پلٹتے ہیں ، دس اپریل ، یہ وہ دن تھا جب ابھی نااہلوں کے اس ٹولے نے ایک دن بھی اقتدار میں نہیں گزارا تھا ، ابھی انکے تباہ کن فیصلے بہت آگے تھے ، ابھی تو نئی حکومت آئی سٹاک مارکیٹ مستحکم ہوئی روپیہ اوپر گیا والی سوچ تھی اس کے باوجود لوگ عمران خان کے لیے بغیر کسی کال کے سڑکوں پر نکل آئے اور یہ سلسلہ پورا رمضان چلتا رہا۔ ہر روز لوگ مختلف شہروں میں نکلتے اور عمران خان سے اظہار یکجہتی کرتے۔
کچھ غلطیاں بھی ہوئیں ، کچھ کوتاہیاں بھی اور غلط سیاسی فیصلے بھی ، جن کو ماپنے کا ہر کسی کا پیمانہ اپنا اپنا جدا جدا ، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان کے سیاسی و معاشی فیصلے بھی بہترین تھے اور عمران خان کی سفارتی پالیسی بھی۔ عمران خان پونے چار سال اقتدار میں رہا۔ نااہلوں کے اس ٹولے کو اقتدار سنبھالے چار سال ہوچکے ہیں۔ وہ پونے چار سال کہاں اور یہ چار سال کی ذلت و رسوائی کہاں۔
You may not be visible amidst the dazzling lights of diplomatic errands, you may have been forgotten by people you put in power, you may be suffering because of not achieving what you would have wanted but remember
YOU ARE IN OUR HEARTS, IN OUR PRAYERS, AND PART OF OUR SMALL STRUGGLES
We will speak for you, pray for you, and do whatever we can because YOU DID WHAT YOU COULD ALL YOUR LIFE!
@ImranKhanPTI #imrankhan #ImranKhanHealthEmemrgency
Today, I had the honour of speaking to the 47 countries that comprise the @UN#HumanRightsCouncil urging the immediate release of my father @imrankhanpti and all #Pakistan’s #politicalprisoners. Along with this, I want to be very clear. Like my father, I fully support maintaining GSP+ as the people of #Pakistan should never be punished for the actions of its leaders. But the Pakistani regime must also fully comply with the 27 treaties it committed to follow to obtain this benefit, including the International Covenant on Civil and Political Rights and Convention Against Torture. @UN@ptiofficial #HumanRights #ImranKhanUnlawfullyDetained
My sons Sulaiman & @kasim_khan_1999 applied for visas in January (again… ) to allow them to visit their father @ImranKhanPTI in Pakistan. The Pakistan consulate states that online visa processing normally takes 7–10 working days. It has now been 60 days. This despite the public promise that they could safely travel there to see their father after 4 years, made by both Defence Minister @khawajaMAsif to @mehdirhasan & PM spokesperson @mosharrafzaidi to @SkyYaldaHakim
Meanwhile, they are not allowed to speak to him on the phone, nor send him a letter. They haven’t seen him since 2022 after he was shot in an assassination attempt.
This is an appeal directly to Pakisan’s PM @CMShehbaz to please allow Imran Khan’s two sons to see their father asap, particularly since, by all accounts, his health is in decline.
خان صاحب کو پہلے سے ہی معلوم تھا کہ سینیئر لیڈرشپ کی طرح یہ لوگ بھی مطلبی نکلیں گے اور اخر میں رہ جائیں گے صرف خان صاحب اور عوام
یاد رکھیں یہ مطلبی لیڈرشپ خان کو اکیلا چھوڑ سکتی ہے لیکن ہم عوام نہیں ✌️
The man who gave millions access to affordable cancer treatment is now being denied treatment for his own failing eyesight. Illegally imprisoned. Going blind. This is Pakistan's most beloved son — the embodiment of its national will. This is completely unacceptable. He must be released immediately. The nation will neither forget nor forgive.
My father, Imran Khan, has now spent over 900 days in a death cell with no family visits and no access to his personal doctors. Credible reports confirm he has been diagnosed with central retinal vein occlusion, a dangerous blockage that can lead to permanent vision loss if not treated through urgent medical intervention in a proper hospital.
Yet authorities continue to block his treatment and deny him the doctors he trusts. I am even denied the right to speak to him. This is not governance. This is authoritarian cruelty.
I call on every defender of human rights to act before it is too late. The world must see that in Pakistan today, democracy is hollow and basic human rights are being crushed.
انا للہ و انا الیہ راجعون
پہلے دو خبریں
پہلی خبر: پاکستان اور کئی دوسرے مسلمان ممالک نے صدر ٹرمپ کے گازہ امن بورڈ میں شمولیت کااعلان کر دیا۔ خود اسرائیل کا بھی اس میں شمولیت کا اعلان۔
دوسری خبر: امن بورڈ کا مقصد گازہ میں امن کا قیام ہے ۔ یہ بورڈ پہلے غزہ میں حماس کا صفایا کرے گا پھر لبنان میں حزب اللہ کا۔ صدر ٹرمپ کی پریس کانفرنس۔
بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو کسی بات کے ہونے کا پورا یقین ہوتا ہے مگر پھر بھی دل کے کسی کونے میں کوئی امید ہوتی ہے کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے اور ایسا نہ ہو۔ جیسے آپ کی کوئی عزیز ہستی آئی سی یو میں ہو۔ ڈاکٹروں نے بتا دیا ہو کہ اب ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں آپ اپنی تیاریاں کر لیں۔ مگر آپ پھر بھی باہر بینچ پر بیٹھے کسی معجزے کی دعا کر رہے ہوں کہ شاید وہ ہستی آنکھیں کھول دے۔ مگر تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر آ کر آپ کو بتائے کہ ہونی ہو چکی ہے اور وہ قیامت کی گھڑی حقیقتاً آ چکی ہے۔
آج جب یہ خبریں پڑھیں تو دل کی وہی کیفیت تھی۔ ہر قرینہ ہر تجزیہ یہی بتا رہا تھا ہمارے حکمران ازرائیل کی پکار پر لبیک کہہ کر گازہ کے قتل عام کی آخری قسط میں اپنا کردار ہر صورت ادا کریں گے۔ اور عظیم نیتن کے قدموں میں جا کر اپنا وہ سر پبلکلی ضرور رکھیں گے جو کہ بند کمروں میں پہلے ہی ان پیروں پر رکھا جا چکا ہے۔ مگر نہ معلوم کیوں کہیں ایک موہوم سی امید تھی کہ شاید اتنی بڑی قوت میں سے چند ایک کے اندر ابھی اتنی غیرت باقی ہو کہ وہ کہیں کہ باقی جو کچھ بھی ہے، ہم مسلمانوں کے قتل عام میں حصہ نہیں بنیں گے۔ شاید ہزاروں علمائے کرام میں سے کسی ایک اندر ابھی اتنا جذبہ اسلامی زندہ ہو کہ وہ با آواز بلند کہے کہ خدارا ایمان کے نچلے درجے پر تو قائم رہو۔ برائی کو دل میں برائی سمجھو اور علیحدہ رہو۔ اس میں حصہ دار نہ بنو۔
مگر ہونی ہو کر رہی۔ وہ خبر آ کر رہی کہ جس کا خوف کئی ہفتوں سے دلوں میں جاگزیں تھا۔ اب ہم گازہ میں وہ کریں گے جو ازرائیل نے دو سال کیا۔ اس خدمت پر یہودی کاسہ لیس ہماری تعریف اور سرپرستی کریں گے اور دانشور ہماری مسلمانوں کے لاشوں کی قیمت پر بنائی گئی کامیاب حکمت عملی کے گن گائیں گے اور ہمیں بتائیں گے کہ ہمارے ٹھگنے کی بین الاقوامی میٹنگز میں کتنی آؤ بھگت ہوتی ہے۔
میری یہ کیفیت اس دن بھی تھی جس دن اسی عمارت کی بنیاد دھرنے کے لیئے یہودی حکم نامے اور امریکی اشارے پر ایک نام نہاد جعلی عدم اعتماد کے ذریعے پاکستان میں جمھوریت کا گلا گھونٹ کر اس رجیم کو ہم پر مسلط کیا گیا تھا ۔ مگر عدم اعتماد کے کامیاب ہونے پر ہر گز وہ دکھ اور حزن نہیں تھا جو آج ہے۔ ہمیں لگتا تھا کہ کوئی بات نہیں ہم پھر اپنی جدوجہد سے اس بازی کو پلٹ دیں گے۔
مگر آج مجھے معلوم ہے کہ مسلمانوں کے ایک جسد و جان ہونے کا قصہ ہمیشہ کے لیئے تمام ہوا۔ مسلمانوں نے خود لا تعداد بار ایک دوسرے سے جنگیں لڑیں اور وحشیانہ قتل عام کیئے۔ مگر تاریخ میں پہلی بار اب ہم غیر مسلموں سے اپنے اپنے ناجائز اقتدار کی سپورٹ کی قیمت پر مسلمانوں کا صفایا کریں گے اور وہ گلاس ہاتھ میں پکڑے سائیڈ پر بیٹھ کر ہمیں ایسا کرتے دیکھ کر قہقہے لگائیں گے۔
میں ہمیشہ اقبال کا یہ مصرع لکھتا ہوں مگر آج تو یہ مصرع۔ اہل کنعان کے خون سے لکھا گیا ہے۔ قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند۔ مسلمان بھائیوں کے خون کی قیمت چند سالہ اقتدار؟ بہت کم قیمت لگائی آپ نے بادشاہ سلامت، بہت ہی کم۔
ملک آفتاب احمد اعوان