An exceptional human with a heart of gold named Yusuke Furusawa has conducted a daily, one-man protest for over 1,000 consecutive days in solidarity with Gaza.
#FreePalestine#SaveGaza
اسامہ کا کیس دنیا بھر میں وائرل ہوا
سب نے دیکھا کہ بائیس سال بعد اسامہ کا خاندان ملا اور پھر کیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
اسامہ کا انٹرویو جب ہمارے چینل پر نشر ہوا تو ان کے گاؤں والوں نے اسامہ کے تمام عزیز و اقارب کو لنک بھیج کر اطلاع دی کہ ایسے ایسے مسئلہ ہے۔
سوائے اسامہ کی ایک خالہ کے کسی نے بھی اسامہ کو قبول نہیں کیا۔
یہ قبول کیا کہ ہاں ہمارا بیٹا/بھائی ہے لیکن اتنے سالوں بعد اچانک ملنا سمجھ میں نہیں آرہا وغیرہ۔
اسامہ کی خالہ زاد بہن ڈاکٹر صاحبہ تک خبر پہنچی تو انہوں نے ہم سے رابطہ کیا اور بہت اچھے طریقے سے بات کی،انکی باتوں سے صلہ رحمی اور انسانیت چھلک رہی تھی اور انہوں نے کہا کہ کوئی ملے نا ملے ہمارا خون ہے ہم اسامہ کو ایسے چھوڑ نہیں سکتے۔ انہوں نے تمام خاندان والوں کو سمجھانے کی کوشش بھی کی ہے۔
اسامہ کی نانی نے جب اسکے بچپن کی تصویر دیکھی ہے تو وہ بھی بہت روئی ہے اور جلد اپنے نواسے سے ملنے کا کہتی رہی ہے۔
اسامہ کو لیکر کل رات ہم کراچی سے روانہ ہوچکے ہیں ان شاءاللہ لاہور میں انکی خالہ نانی اور دیگر عزیز و اقارب سے ملاقات ہوگی۔
اللہ انکی اس خالہ اور خالہ زاد بہن کو خوب عزتیں عطا کرے جب سے انہوں نے اسامہ کو کال پر کہا کہ “اسامہ تم اکیلے نہیں ہو ہم تمہارے ساتھ ہیں،تم بالکل بھی پریشان مت ہونا” تب سے اسامہ کی سانسیں بحال ہوئی ہیں اور چہرے پر خوشی اور آنکھوں میں چمک آئی ہے۔
ایک بچہ جس نے بائیس سال تک کبھی خوشی نہیں دیکھی،تنہائی اور لاوارثی کی زندگی گزاری،جب ہم نے گزشتہ روز اسے کہا تھا کہ کل شاپنگ کے لئے جائیں گے کہیں مت جانا اپنے کواٹر میں رہنا۔تو اگلے روز تک خوشی کے مارے سویا نہیں اور دوستوں کو بتات رہا ہے کل ولی بھائی مجھے شاپنگ پر لےجائیں گے۔ اپنے ہم غم دوستوں میں مٹھائی لاکر بانٹی کہ میں خالہ سے ملنے جارہا ہوں۔
اسامہ کے کیس نے بڑے بڑے پتھر دل انسانوں کے دل کو موم کئے ہیں، بائک پارکنگ میں بائک کھڑی کی تو پارکنگ والے بھائی نے بھی اسامہ کو دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ وہی لڑکا ہے جسے اپنوں نے منع کیا؟ اور پارکنگ کے پیسے لینے سے انکار کردیا۔جہاں کچھ خریدنے گئے یا کچھ کھانے پینے گئے اسامہ کو دیکھ کر لوگوں نے پہچانا کہ یہ وہی لڑکا ہے نا۔
آپ سب سے دعاؤں کی اشد درخواست ہے اللہ تعالی اسامہ سمیت ہم سب پر رحم فرمائے اور ہم سب کو اللہ ہدایت دے،آمین
#waliullahmaroof
لاوارث کراچی
بلدیہ ٹاؤن سیکٹر 9 میں دلپسند ہوٹل پر بھتہ نہ دینے پر فائرنگ کا واقعہ
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرِ عام پر آگئی، دو مسلح ملزمان کو فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے
جدید اسلحے سے لیس ملزمان نے ہوٹل پر اندھا دھند فائرنگ کی، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، صدر کراچی موبائل اینڈ الیکٹرانک ڈیلر ایسوسی ایشن
🇵🇰 is overpopulated by design with brain dead zombies, who have net nuisance
A Wadera can plunder PKR 100 billion and this mob will be sitting ducks
But a false accusation peddled via mosque's loudspeaker by Molvi will turn them Genghis Khan
Hopeless in the extremes
Karachi’s Gulshan-e-Hadeed robbery victim Basant Kumar appeals for justice, requesting security officials to recover his stolen belongings and take action against those responsible.
#TOKReports#Karachi#Robbery#GulshaneHadeed
پہلے سینیٹ چلانے کا خرچہ 5 ارب تھا، اس بجٹ میں وہ 10 ارب ہوگیا، قومی اسمبلی کا خرچہ 8 ارب تھا،اب 17 ارب روپے مختص کیا گیا، ایم این ایز کی تنخواہ ایک لاکھ 88 سے 5 لاکھ 19 ہزار کر دی گئی، ڈاکٹر فرخ سلیم
Dawn newspaper told her to stick to cooking and child-rearing.
She built her own magazine instead.
And used it to bring down a military dictator.
Zaib-un-Nissa Hamidullah. Born December 1918 in Calcutta. Daughter of Syed Wajid Ali, a Cambridge-educated writer who translated Tagore into English and Iqbal into Bengali. A family that breathed literature.
She published her first poem in The Illustrated Weekly of India in 1933 at age 15. At 18 she won a poetry competition in England's Daily Mirror.
After partition she moved to Karachi with her husband and began writing a column for Dawn. She became Pakistan's first female political commentator. Her editor let her write on the condition she stuck to feminine matters.
She wrote about politics anyway.
In 1951 the Dawn editor sent her a letter. It is still in the archives.
Dear Mrs. Hamidullah. You will have noticed that we could not use your article last week. The reason was that it dealt with problems other than feminine.
She read the letter. Resigned. And in 1952 founded her own magazine.
The Mirror.
Pakistan's first female editor and publisher. Her own press. Her own voice. No editor to answer to.
In 1955 she became the first woman to address Al-Azhar University in Cairo. One of the oldest universities on earth. She spoke about Kashmir. The audience was shocked. Thrilled. Divided.
She did not care.
In 1957 she published a ferocious editorial defending Prime Minister Suhrawardy after Iskander Mirza forced him out. The government banned the Mirror for six months. Advised her to apologise.
She took them to the Supreme Court instead.
She won. First woman journalist in Pakistan to successfully challenge press censorship in court.
In October 1962 she published Please Mr. President. An open letter to Ayub Khan about the blood staining Pakistan's streets after student protests. She printed his photo upside down as a sign of protest.
Ayub Khan called her rashly emotional. Then replied publicly to her letter. Because even he knew she could not be ignored.
The Mirror was banned twice. Government advertising was withdrawn. She kept publishing.
In 1969 she reprinted Please Mr. President alongside a new editorial. No, thank you, Sir. Pakistan will continue to erupt as long as you remain its President.
Ayub Khan abdicated months later.
A street in Karachi is named after her. Zaibunnisa Street. Previously called Elphinstone Street. Named by the British. Renamed for a woman who spent her life defying exactly their kind of power.
She died September 10, 2000.
The editor who told her to write about cooking accidentally created Pakistan's most fearless journalist.
Zaib-un-Nissa Hamidullah.
Pakistan Zindabad. 🇵🇰
What no one tells you about the Bosnian genocide is how some rich White people from Italy, France and the UK paid upwards of $90k and extra to kill children for 'snipper hunts.'
افغان وزیرعطا اللہ عمری کہتے ہیں کہ انکا اور بھارتیوں کا ڈی این اے ایک ہے۔ ڈی این اے کاتو معلوم نہیں تھا،مگر ہمیں کابل پرقبضے سے قبل ہی انکے ساتھ نشستوں میں طالبان کی بھارت نوازی کا اندازہ ہوگیا تھا۔اقتدار میں لانے اور اللہ اکبرکے ٹویٹ کرنے والوں کو سلام
گلستان جوہر بلاک 13 ، پارک میں یہ عذاب گھر بنا کر بیٹھ گئے ہیں ۔۔ یہ شہریوں، بچوں کی جگہ ہے۔ یہاں ان ناسوروں کا کھانا پینا رہنا سب یہی چل رہا ہے ۔۔۔ کل یہی اسنیچنگ، ڈکیتی، بچے اغواء کرنے میں ملوث ہونگے اور پھر اپنے گوٹھ دیہات بھاگ لینگے
@EngrSyedUsman
کراچی آئیں اور پان نہ کھائیں، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟؟؟کراچی کے تاجر رہنما کاشف سعیدی صاحب،صدر آل کراچی پان اینڈ چھالی ایسوسی ایشن اور ان کے ساتھی تاجر رہنماوں نے پان کی بریفنگ دی اور پان کھلایا۔۔۔
هذه ام وابنها مقيدين ينظروا نظرتهم الاخيره لبعض من مسلمى البوسنه وهذا جندى قذر صربى وهذه من مذبحة سربرنتسيا قتلوا ٨ آلاف فى يوم واحد واغتصبوا ٦٠ الف امرأه مسلمه
اليوم ذكراها منذ عام ١٩٩٥.
هؤلاء من يحاضروننا عن حقوق الإنسان وان الإسلام دين عنف #مذبحة_سربرنتسيا
201 دن کی غیر قانونی حراست...
بابا، نہ جانے آپ اور محسن بھائی کیسے ہوں گے، مگر مجھے اللہ پر پورا یقین ہے کہ آپ دونوں خیریت سے ہوں گے، صبر، ہمت اور استقامت کے ساتھ ہر آزمائش کا سامنا کر رہے ہوں گے، کیونکہ اللہ آپ کے ساتھ ہے۔
201 دن گزر گئے۔ نہ آپ نے ہمیں دیکھا، نہ ہم آپ سے مل سکے۔ مگر ایسا ایک بھی دن نہیں گزرا جب آپ اور محسن بھائی کی یاد نہ آئی ہو۔
مجھے یقین ہے کہ جن لوگوں نے آپ کو اپنی غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے، وہ بھی آپ کی عزت کرتے ہوں گے، کیونکہ شاید انہوں نے آپ جیسا باکردار، بااصول اور ایمان دار انسان نہ پہلے کبھی دیکھا ہو، نہ پایا ہو، جو اپنے ضمیر اور ایمان کا سودا کرنے پر کبھی آمادہ نہ ہو۔
اللہ سے دعا ہے کہ آپ دونوں جلد از جلد باحفاظت، خیریت، صحت اور عزت کے ساتھ اپنے گھر واپس آئیں۔
جو لوگ آپ کو آزاد دیکھنے سے خوفزدہ ہیں، وہ ہر روز اسی خوف میں جیتے ہوں گے کہ جس دن سابق ایم این اے نثار احمد پنہوار اور محسن پنہوار آزاد ہو گئے، اس دن ان کے جھوٹ اور ظلم کا انجام بھی قریب آ جائے گا۔
آپ دونوں غیر قانونی حراست میں ہونے کے باوجود یقیناً سکون میں ہوں گے، کیونکہ حق آپ کے ساتھ ہے۔ لیکن جو لوگ ظلم کر رہے ہیں، وہ آزاد ہو کر بھی کبھی حقیقی سکون حاصل نہیں کر سکیں گے۔
وہ جان چکے ہوں گے کہ سابق ایم این اے نثار احمد پنہوار نہ کبھی جھکیں گے، نہ ہار مانیں گے، اور نہ ہی ان کے بیٹے محسن پنہوار۔ ان شاء اللہ، اللہ تعالیٰ انہیں سرخرو کرے گا۔ چاہے جتنی بھی قید، ظلم اور اذیت دی جائے، ہم نہ خاموش ہوں گے اور نہ اپنی قانونی جدوجہد روکیں گے۔
ان شاء اللہ، منافقوں اور غداروں کی شکست ہوگی، اور وطن سے محبت کرنے والوں، انسانیت کا درد رکھنے والوں، اور پاکستان کی عزت، ترقی اور کامیابی پر یقین رکھنے والوں کی فتح ہوگی۔
سابق ایم این اے نثار احمد پنہوار اور محسن پنہوار کو فوری طور پر باحفاظت، صحت و سلامتی اور عزت کے ساتھ رہا کیا جائے۔
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
#wherearejournalist?
Anchor Person Faisal Qureshi criticized the Pakistan Peoples party over its governance in Karachi after the city was ranked fourth from the bottom in the latest EIU Global Liveability Index.
#Karachi#TOKReports
@SyedNasirHShah Walaikumus Salam
With due respect, isn't it contradictory2praise Sindh's healthcare system while seeking treatment abroad after ruling the province for 17 years? Isn't it disappointing that U still haven't built hospitals in which even U have enough confidence2receive treatment?
کراچی میں کسی کاغذی مجاہد کو بقول اس کے ایک خط ملا۔ جس میں کسی کرسچئین نے باقاعدہ اپنا نام پتہ فون نمبر تحریر کرکے قرآن پاک کا ایک صفحہ بھیجا ہے۔ کاغذی مجاہد کی گواہی پر علاقے کی ساری مسلکی زومبیوں نے مل کر مسیحی کے خلاف مقدمہ درج کروادیا ہے. مسیحی علاقے پر جتھہ کشی کی تیاری ہے۔
کوئی جسٹس گلزار کو بتائے تمہارے ظالمانہ فیصلے کو آئینی عدالت نے کچرے کی ردی میں ڈال دیا ہے اس ملک میں کوئی ایسی عدالت ہے جو جسٹس گلزار کو عدالت کے کٹہرے میں لائے ان کی وجہ سے سیکڑوں لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی ملیامیٹ ہو گئی تھی وہ سارے پیسے جسٹس گلزار سے وصول کئے جائیں
وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لیے https://t.co/edGsHXVdFv