Blind Lake, also known as Jarba Zhou, Shigar. Gilgit-Baltistan
This is my Pakistan.
Look at the beauty of this lake at an elevation of 8200 feet above the sea level.
Video courtesy @sharafataly3. Follow this young man for more amazing videos.
اپنی زندگی کا ظاہر اور باطن اپنے نبی ﷺ کے طور طریقوں کے مطابق ڈھال لو۔ مولانا طارق جمیل
#pakistan@TariqJamilOFCL
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
اس شدید گرمی میں اگر آپ بجلی کے بھاری بھرکم بل اور ظالمانہ سلیب سسٹم سے پریشان ہیں تو ایک سادہ اور مؤثر حل موجود ہے—سولر سسٹم!
صرف ایک بار کی سرمایہ کاری سے مہینوں کا سکون حاصل کریں:
550 واٹ کی 6 سولر پلیٹس: 125,000 روپے
مضبوط فریم: 25,000 روپے
10KV دیسی انورٹر: 45,000 سے 50,000
وائرنگ + مزدوری: 20,000 روپے
کل لاگت: تقریباً 225,000 روپے (3KW سسٹم)
دن کے وقت مکمل سولر پر چلیں
رات کو آسانی سے واپڈا پر شفٹ ہو جائیں
نتیجہ؟
ماہانہ بجلی کا بل 3000 روپے سے بھی کم
گرمیوں کے پورے سیزن میں کل بل صرف 12–15 ہزار روپے
سلیب سسٹم کے اضافی چارجز اور جرمانوں سے مکمل نجات
ایک بار خرچ، بار بار فائدہ ۔۔۔
اپنی جیب اور سکون دونوں بچائیں
اپنے گھروں سے غیبت کو مٹا دو۔ نہ کسی کی بُرائی کرو اور نہ ہی کسی کی بُرائی سُنو۔ مولانا طارق جمیل
@TariqJamilOFCL#pakistan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
"مدد کے لیے پکارنا ہے، تو صرف اللہ کو پکارو؛ جو تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے!"مولانا طارق جمیل
@TariqJamilOFCL
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“آسمان چرچرا رہا ہے اور اسے چرچرانا ہی چاہیے، کیونکہ وہاں چار انگلیوں کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ سجدہ نہ کر رہا ہو۔”
حوالہ: جامع ترمذی ، حدیث نمبر: 2312
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے آسمان کی عظمت اور فرشتوں کی کثرتِ عبادت کو بیان فرمایا ہے، جس میں آپ ﷺ نے بتایا کہ آسمان فرشتوں کی عبادت کی وجہ سے گویا بوجھ محسوس کر رہا ہے کیونکہ ہر جگہ فرشتے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہیں، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی عبادت کا حق بہت بڑا ہے اور فرشتے مسلسل اس کی بندگی میں مصروف رہتے ہیں، مثال کے طور پر جب انسان یہ تصور کرتا ہے کہ پوری کائنات میں اللہ کی عبادت جاری ہے تو اسے بھی اپنی عبادت کی طرف زیادہ متوجہ ہونا چاہیے، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت بے حد و حساب ہے اور اس کی مخلوق ہر وقت اس کی تسبیح اور عبادت میں مشغول ہے۔
🕊️🕊️🕊️🕊️🕊️🕊️🕊️🕊️🕊️🕊️🕊️
شب بخیر🤍🤍🤍
جھاڑ پھونک خود کرلیں
عاملوں کے چکر نہ لگائیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
جنوں اور انسان کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، یہاں تک کہ معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) نازل ہوئیں، جب یہ سورتیں اتر گئیں تو آپ نے ان دونوں کو لے لیا اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیا۔
ترمذی، ح2058
حضورِ اقدسﷺسیدالشہداحضرت امیرحمزہؓ کی شہادت پر تشریف لائے اور آپؓ کے مُثلہ(ناک کان کاٹنا)کیے ہوئے جسم مبارک کو دیکھا،آپﷺاس موقع پر انتہائی رنجیدہ اور غمگین ہوئے کہ آپﷺ نے اس سے زیادہ تکلیف دہ منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا،اسے دیکھ کر آپﷺ شدید جلال میں آگئے،تو آپؓ نے قسم کھائی کہ میں ایک حمزہؓ کے بدلہ میں ستر کافروں کو قتل کرکے ان کا مُثلہ کروں گا،اس پر ربِ کائنات نے یہ آیت نازل فرمائی،ترجمہ ’’اور اگر تم سزا دو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی تھی اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبروالوں کا صبر سب سے اچھا ہے اور اے محبوبﷺ تم صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھائو اور ان کے فریبوں سے دل تنگ نہ ہو بے شک اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور جو نیکیاں کماتے ہیں۔‘‘اسی آیت کریمہ کے نازل ہونے پر رحمت عالم نے بارگاہِ خداوند ِ قدوس میں عرض کیا ’’اے میرے رب!بلکہ ہم صبر کریں گے۔‘‘اور ستر کفار کے قتل ومُثلہ کا ارادہ ترک کردیا اور قسم کا کفارہ ادا کردیا۔
حضرت امیرحمزہؓ کی شہادت پر حضور پر نورﷺنے ارشاد فرمایا ’’اے چچا!آپؓ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو کیونکہ آپؓ جب تک عمل کرتے رہے،بہت نیکی کرنے والے اور صلہ رحمی کرنے والے تھے۔‘‘پھر حضرت امیرحمزہؓ کے جسد مبارک کو قبلہ کی جانب رکھا اور اُن کے جنازے کے سامنے کھڑے ہوکر اس شدت سے روئے کہ قریب تھا کہ آپﷺ پر غشی طاری ہو جاتی، آقائے نامدارﷺ فرما رہے تھے
کہ اے اللہ کے رسولؐ کے چچا!اللہ اور اُس کے رسولؐ کے شیر،اے حمزہؓ،اے نیک کام کرنے والے،اور آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ہمارے جبرائیل ِ امین تشریف لائے اور ہمیں بتایا کہ امیرحمزہؓ کے بارے میں ساتوں آسمانوں میں لکھا ہے’’حمزہؓ ابن عبدالمطلب اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول ؐکے شیر ہیں۔‘‘
کریم آقاﷺ کو حضرت امیرحمزہؓ سے بے حد محبت تھی آپؓ کا جنازہ ستر مرتبہ پڑھایا گیا،آپﷺ کے حکم پر حضرت امیرحمزہؓ کے جنازے کے بعد ایک ایک شہید کو لایا جاتا رہا اور ہر بار حضرت امیرحمزہؓ کے جسد مبارک کا جنازہ ساتھ پڑھایا گیا
سَر زمینِ عرب پر غزوۂ اُحد کو رُونما ہوئے 46 سال کا عرصہ گزر چکا تھا کہ حضرتِ معاویہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے دورِ حکومت میں میدانِ اُحُد کے درمیان سے ایک نہر کی کھدائی کے دوران شہدائے اُحد کی بعض قبریں کھل گئیں۔ اَہلِ مدینہ اور دوسرے لوگوں نے دیکھا کہ شہدائے کرام کے کفن سلامت اور بدن تَرو تازہ ہیں اور انہوں نے اپنے ہاتھ زخموں پر رکھے ہوئے ہیں۔
جب زخم سے ہاتھ اٹھایا جاتا تو تازہ خون نکل کر بہنے لگتا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ پُرسُکون نیند سورہے ہیں۔
(سبل الہدی، ج4،ص252۔کتاب المغازی للواقدی،ج1،ص267۔ دلائل النبوۃ للبیہقی،ج3،ص291) اس دوران اتفاق سے ایک شہید کے پاؤں میں بیلچہ لگ گیا جس کی وجہ سے زخم سےتازہ خون بہہ نکلا۔(طبقات ابن سعد،ج3،ص7) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ شہید کوئی اور نہیں رسولُ اللّٰہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کے معزز چچا اور رضاعی بھائی خیرُ الشُّہَداء، سیّد الشُّہَداء حضرتِ سیّدنا امیر حمزہ بن عبدالمطلب رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ تھے۔ (طبقات ابن سعد، ج1،ص87۔ الاستیعاب،ج1،ص425)
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان العظیم