Matiullah Jan doesn't hide behind fancy words; he says things as they are.
I don't remember others going to PIMS to find out the truth about the 26th November. It was he who was doing field reporting.
That's real journalism, not sitting in studios and being a regime apologist.
نواز شریف کی منہ بولی بیٹی بھی اب دنیا کو انڈیپینڈینٹ صحافت سکھائیں گی۔ سوشل میڈیا نے ان کا لبادہ اتار دیا۔ انکے چہرے پر سے مکر فریب اتار دیا۔ اب یہ تڑپ رہیں ہیں۔ زخمی سانپ کی طرح۔ سمجھ نہیں آ رہی کسی کو کاٹیں۔ جس کو مرضی کاٹیں۔ آپ کا لبادہ اتر چکا۔ اب ساری دنیا آپ کو جان چکی
سینئر صحافی مطیع اللہ جان صاحب کے طرز کلام یا الفاظ کے چنائو پہ اعتراض کیا جاسکتا ہے جیسا کہ کسی کے حوالے سے بھی ایسا اعتراض کیا جاسکتا ہے لیکن مطیع اللہ جان صاحب کبھی بھی مقبول بیانیے کے ساتھ نہیں گئے بلکہ ہمیشہ اصولوں کے ساتھ کھڑے ہوئے، ہمیشہ جمہوریت، انسانی حقوق، میڈیا کی آزادی کے لئے جدوجہد کی۔
پی ٹی آئی کے دور میں جنرل باجوہ اور اس وقت کی ہائبرڈ حکومت پہ کھلے عام تنقید کی، قاضی فائز عیسی کے ریفرنس معاملے پہ قاضی کے لئے آواز بنے، پانامہ کے ہنگامے میں چھپے ہاتھوں کو بے نقاب کرتے رہے۔ ہمارے کئی سینئر صحافی جنہیں پی ٹی آئی کے دور میں فوجی مداخلت، عدالتی مداخلت پہ بڑے اعتراضات تھے، ججوں کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے ان میں سے زیادہ تر نے توبہ تائب کرتے ہوئے فوج سے رجوع کیا اور اپنا قبلہ درست کیا۔ وہ اب پی ٹی آئی کے خلاف جاری ریاستی جبر کو جسٹیفائی کرتے نظر آتے ہیں، نہ اب ان کے لئے انسانی حقوق کوئی مسئلہ ہیں اور نہ ہی انہیں اب کوئی جمہوریت یا جمہوری روایات کی کچھ فکر، نہ انہیں فوجی مداخلت پہ بھی کوئی اعتراض ہے اور نہ انہیں عدلیہ تباہی پہ کچھ رنج یا دکھ لیکن مطیع اللہ جان ان سب سے کل بھی الگ تھا اور آج بھی الگ ہے اسی لئے پی ٹی آئی دور میں بھی مقدمے بھگتا رہا اور آج بھی ایک جعلی مقدمے کو بھگت رہا ہے، نوکری اس کی چھین لی گئی ہے لیکن وہ اپنی لگن اور ایمانداری سے اپنا صحافتی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ مطیع اللہ جان مقبول بیانیے نہیں بلکہ ہمیشہ اصولوں کے ساتھ کھڑا ہونے والا شخص ہے۔ مطیع صاحب کے طرز کلام پہ اعتراض کیجیے کھل کر کیجئیے لیکن اسے مقبول بیانیے کے لئے بکنے والا لغو الزام تو نہ دیں۔
@Matiullahjan919
الحمدللہ! یہ ہے شعور، یہ ہے اصول، یہ ہے وہ انداز جو ہر ظلم کے سامنے ڈٹ کر منہ توڑ جواب دیتا ہے
یہ ہے عمران خان کا شعور، جس نے قوم کو جھکنا نہیں، حق کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہونا سکھایا!
پوری کلپ لازمی سنیں 🔥
عجیب زندگی پائی ہے اس شخص نے میں نے جب سے اسے دیکھا ہے، ایک ہی اصول پر کھڑا پایا ہے،بھلا ہو عاصمہ شیرازی صاحبہ کا، جنہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ شخص تو مقبول بیانیے کے پیچھے کھڑا ہے
عجیب سرپھرا شخص ہے، راحیل شریف کو برا بھلا کہتا تھا، ظہیرالاسلام کو کوستا تھا، فیض حمید اور جنرل باجوہ پر سوال اٹھاتا تھا،جمیل فاروقی، ابراہیم سمیع، اوریا مقبول جان اور ہارون الرشید کی صحافت پر برستا تھا، ہمیں اس کی یہ باتیں بہت بری لگتی تھی ،ہم بھی تب عاصمہ شیرازی صاحبہ کی طرح اس کے مقبول بیانیے سے نفرت کرتے تھے، ہمیں بھی غیر مقبول بیانیہ بہت پسند تھا، فرق صرف اتنا تھا کہ اس وقت عاصمہ شیرازی صاحبہ شریف خاندان کے قدموں پر قدم رکھتے ہوئے اسی مقبول بیانیے سے عشق فرما رہی تھیں
پھر وقت بدلا، حالات بدلے، اقتدار کے چہرے بدلے اور بیانیوں کے رخ بھی بدل گئے، عاصمہ شیرازی صاحبہ نے بھی حالات کی نزاکت کو سمجھا اور عوام میں مقبول بیانیے کو چھوڑ کر اس بیانیے کا انتخاب کر لیا جس میں جرنیلوں پر تنقید گناہ اور ان کے سامنے سر جھکانا دانش مندی قرار پایا، ایسا بیانیہ جس سے چینل پر بیس تیس لاکھ کی نوکری بھی محفوظ رہتی ہے اور شریف خاندان کی نظروں میں وفاداری کا بھرم بھی قائم رہتا ہے
لیکن یہ سرپھرا آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں کل کھڑا تھا
آج بھی اسی بیانیے کا پرچار کرتا ہے جس سے طاقتور جرنیل ناراض ہوتے ہیں، جس کی قیمت حوالات کی صورت میں چکانی پڑ سکتی ہے، جس کے لیے چینل کی لاکھوں روپے کی نوکری قربان کرنا پڑتی ہے اور ملک کے سب سے طاقتور مافیا سے ٹکر مول لینی پڑتی ہے
اس ضدی شخص کو کوئی سمجھائے کہ اصول بھی کوئی چیز ہوتے ہیں جنہیں حالات، اقتدار اور شریف خاندان کی سیاسی ضرورتوں کے مطابق بدلنا پڑتا ہے
اسے کوئی بتائے کہ مشرف کی آمریت کو برا کہنا ہے لیکن عاصم منیر کے آمرانہ طرزِ عمل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے اسے کوئی سمجھائے کہ جنرل باجوہ اگر 2022 تک برا تھا تو اس کے بعد شریف خاندان نے بیانیے کی سمت بدل کر اسے اچھا قرار دے دیا، اب ہم کون ہوتے ہیں اسے برا کہنے والے؟
آخر کس جرنیل کو آمر کہنا ہے، کس کی آمریت کو وقت کی ضرورت قرار دینا ہے کس کے خلاف آواز اٹھانی ہے اور کس کے سامنے خاموشی اختیار کرنی ہے، یہ فیصلہ ہمارے اصول نہیں بلکہ شریف خاندان کی سیاسی ضرورتیں کریں گی
لیکن یہ سرپھرا شخص ہے کہ سمجھنے کو تیار ہی نہیں، کل بھی آمریت کے خلاف تھا، آج بھی آمریت کے خلاف ہے کل بھی طاقتوروں سے سوال کرتا تھا، آج بھی طاقتوروں سے سوال کرتا ہے
اسے کوئی سمجھائے کہ ہمارے ہاں اصولوں پر قائم رہنے والے کو صحافی نہیں، مقبول بیانیے کا پیروکار کہا جاتا ہے اور شریف خاندان کی خواہشوں کے ساتھ اصول بدلنے والے کو غیر جانب دار صحافت کا علمبردار
کیونکہ یہاں مسئلہ آمریت سے نہیں، مسئلہ صرف یہ ہے کہ شریف خاندان آمر کے خلاف کھڑا ہے یا حق میں
پشاور کے گودام میں لے جا کر بدترین تشدد خون سے کپڑے سرخ ہوگئے بڑے آفسر کے دفتر میں بھی مارا اب نامعلوم جگہ پر پھینک دیا گیا۔
حسنین بھائی کی آواز بنو یہ ویڈو زیادہ سے زیادہ شئیر کرو🚨
Forcibly evicting @MuradSaeedPTI elderly and disabled mother from her home and throwing her belongings onto the street is state brutality at its most shameful. What kind of lawlessness targets the mother of a political opponent? This is a flagrant violation of human dignity, fundamental rights and the rule of law. This is Viceroy Kundis Rule for you.
ڈاکٹر شہباز گل نے تقریباً سارے صحافیوں اور ساری پارٹی کو غدار بنانے کے بعد اب سہیل آفریدی کو غدار بنایا پھر ریکشن آنے پہ دیوتا کہنا شروع کر دیا۔ کچھ حضرات ڈاکٹر صاحب کی ویورشپ سے گھبراتے بات نہیں کرتے کہ ان کے خلاف بات کرنے سے پولیٹیکل کیریئر تباہ نہ ہو جائے کیونکہ گل صاحب اور ان کی ٹیم اور اتحادی باقائدہ ایک سیاست دان کا آن لائن جینا حرام کر سکتے ہیں، اور کچھ لوگ گل صاحب کو گندے بگڑے ہوئے بدتمیز بچے کی طرح محفل میں اپنا اپنا دامن بچا کے برداشت کرتے ہے ، بچے کو اپنا آپ بادشاہ محسوس ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
اب اندازہ لگائیں ڈاکٹر شہباز گل نے سہیل آفریدی کی عوامی پزیرائی کو مائنس عمران خان فارمولا قرار دیا ہے، گل صاحب پھر تو آپ کی شہرت بھی عمران خان مائنس فارمولے کے تحت آتی ہے۔ پھر محسن نقوی کو عاصم منیر کا باس بنا دیا۔ اب کہیں گے مراد سعید کے گھر والوں کو بےدخل کر کے عاصم منیر اس کو ہیرو بنا رہا ہے۔😑
(نوٹ ۱: سہیل آفریدی اور مراد نہ میرے رشتہ دار ہیں نہ ان کی اتنی اوقات ہے کہ مجھے کچھ دے سکیں، یہاں دوستی بھی نظریے کی اور دشمنی بھی۔)
(نوٹ ۲: ابھی تک گل صاحب میرے کچھ دن پہلے کیئے سوالات کا جواب نہیں دے سکے )
آگے چلتے ہیں جو سمجھنے والی بات ہے وہ یہ کہ مائنس عمران کامطلب کوئی مختلف لیڈر نہیں بلکہ یہ ہے کہ عمران خان کی پیغام رسانی کو ایسے کنٹرول کرنا کہ صرف فیلڈ مارشل کے فائدے والے بیانات باہر آئیں۔ اس کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پیغام رساں بیرسٹر سیف یا ان کی طرح کا کوئی اور بندہ ہو، جو جرنیلوں کے مطابق چلے۔
اس کو حاصل کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جو دو چار بندے PTI کور کمیٹی میں بولنے والے ہیں، انہیں بھی سائیڈ لائن کیا جائے اور طاقت پارلیمانی کمیٹی کو دی جائے — جو لوگ ایفیڈیوٹ دے کر پارلیمان میں آئے ہیں۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ بیانیہ بنایا جائے، جس کے لیے مارچ 2027 میں سینیٹ کی 48 نشستوں پر الیکشن کو ہڈی کے طور پر استعمال کیا جائے، جس کے گرد ہر طرح کے سورما رالیں ٹپکا رہے ہیں اور کھلے عام یا پسِ پردہ ہر قسم کی واردات ڈالنے کو تیار ہیں۔
یہاں مشال یوسفزئی کا نام سرفہرست ہے، ان کا الیکشن بھی مارچ 2027 میں ہونا ہے۔ سینیٹر سیف اللہ نیازی، سینیٹر بیرسٹر علی ظفر اور سینبیٹر فوزیہ ارشد سمیت یہ سب پی ٹی آئی کور کمیٹی سے طاقت پارلیمانی کمیٹی میں منتقل کروانے میں پیش پیش ہیں۔اعظم سواتی نے بھی اپنا کَٹا کھولا ہوا ہے۔
اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت بیرسٹر سیف کے حق میں فواد چوہدری اور عمران اسماعیل بھی ہیں۔
مائنس عمران کا دوسرا پہلو عمران خان کے وفادار گروپ کو سائیڈ لائن کرنا ہے۔ اب اس میں کون ہے اور کون نہیں ہے، یہ ایک اور بحث ہے لیکن اپنے اتحادی ڈھونڈنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ لوگوں کے دشمن دیکھ لیں۔
جرنیل ایک تابع دار وزیراعلیٰ چاہتے تھے، نہ کہ گورنر راج۔ اب بھی اگر ان کو یہ میسر آ جائے تو وہ گورنر راج ہٹا دیں گے۔ اس کو بھانپتے ہوئے علی امین گنڈاپور اس وقت اسلام آباد بیٹھے ہیں اور 30 ایم پی اے ساتھ ہونے کا دعویٰ بھی کر رہے ہیں، جو کہ سچ معلوم ہوتا ہے، کیونکہ حکومت جانے سے ان ارکان کا اثر و رسوخ اور مال پانی بھی کم ہوتا ہے۔
یہاں ڈاکٹر شہباز گل اور علی امین قدرتی اتحادی بنتے ہیں، اور دونوں ہی سہیل آفریدی اور مراد سعید سے ایک جتنا پیار رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی کلر انسٹنکٹ اس دفعہ ان کو دھوکہ دے گئی (Hubris)۔ اس سے پہلے کہ سہیل آفریدی ہیرو بنتا، ان سب نے مل کر اس بحث کا رخ عاصم منیر اور گورنر راج سے ہٹا کر پابندِ سلاسل سہیل آفریدی کی طرف موڑ کر اور اسے غدار بنا کر تحریک کے ساتھ بڑی زیادتی کی، اور پنجابی جرنیلوں کی روایات برقرار رکھتے ہوئے اس پر ڈٹ گئے۔
28ویں آئینی ترمیم کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس ہونے کے فوراً بعد بیرسٹر سیف عمران خان کا پیغام لے کر باہر آئیں اور کہیں کہ خان صاحب نے اس کی سخت ترن الفاظ میں مذمت کی ہے اور علی محمد خان کو پارٹی کا چیئرمین بنا دیا ہے اور اب وہ اس تحریک کو عاصم منیر کے خلاف لیڈ کریں گے۔
میری والدہ اور میری خالاؤں، ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین نیازی کو MPO (مینٹیننس آف پبلک آرڈر) کے تحت غیر قانونی طور پر حراست میں لیے ہوئے 30 دن گزر چکے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں اپنی حراست کے دوران، انہیں اپنے اہل خانہ اور قانونی مشیر (وکیل) تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے۔
کسی بھی شخص، بالخصوص خواتین کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جانا چاہیے۔ چونکہ اب حراستی حکم نامے کی مدت ختم ہو رہی ہے، اس لیے انہیں فوری طور پر رہا کیا جان چاہیے۔ @KhanShershah
انڈین ہائیکورٹ کی پروسیڈنگ کی اس گیارہ منٹس کی ویڈیو کو پاکستان کی عدلیہ کے تمام ججز کو دیکھنا چاہئے اور تھوڑا بھی اپنے عہدوں کا آئین کا قانون کا پاس ہو تو شرم بھی کرنی چاہئے
ایک پولیس کے سب انسپکٹر کے ساتھ ایک گاؤں میں بدتمیزی ہوئی گاؤں کے چند لوگ پولیس اسٹیشن کے باہر اکٹھے ہوئے پولیس نے رات کے ایک بجے گاؤں میں گھروں پر ریڈ کیا جس پر گاؤں والوں نے ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی
مکالمہ ضرور سنیں۔ اور پھر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حالت زار دیکھیں
آواز اٹھائیں سب ملکر
میاں محمود الرشید کی کوئی سوشل میڈیا ٹیم نہیں اس لئے پچھلے 3 سال سے سال سے ان کی رہائی کے لئے کوئی خاص آواز نہیں اٹھائی جا رہی۔
آگر زیادہ نہیں تو کم از کم ان کی رہائی کے لئے ایک ٹویٹ ضرور کریں تمام لوگ ملکر ،،
علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز خان کا ٹویٹ۔۔
عمرانُ خان کی بہنوں کی گرفتاری کو تیس دن مکمل ہو چکے لیکن ابھی تک ناجائز قید سے رہا نہیں کیا گیا۔ان کی فیملی اور وکلا سے ملاقاتیں بھی بند رہیں ادویات بھی عدالت کی مداخلت کے بعد دی گئیں۔
یہ بہت ہی افسوناک اور شرمناک باب ہے ہماری تاریخ کا۔
Exactly 1 week since only elected CM of kp Sohail Afridi was abducted. Since then there is no news about his whereabouts. Despite the issue being raised repeatedly, no one from the government side has given any details.
It has been 30 days since my mother and my aunts, Dr. Uzma and Noreen Niazi, were unlawfully detained under the MPO. Throughout their detention at Kot Lakhpat Jail, they have been denied access to family and legal counsel.
No one, especially women, should be subjected to such treatment. With the detention order now ending, they must be released immediately.