It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
جاوید ہاشمی نے کہا تھا فوج نے آفر کی تم ہمارے ساتھ مل جاؤ ہم پر جتنی چاہے تنقید کرو جب ہمیں ضرورت ہو یعنی کوئی بل وغیرہ ہو کہیں ووٹ دینا ہو تو ہماری حمایت کردو۔
سہیل آفریدی منرلز بل میں فوج کے ساتھ ، منرل کمپنی میں فوج کے ساتھ ، بجٹ میں فوج کے ساتھ ، ڈرون حملوں میں فوج کے ساتھ ، فوجی آپریشن پر فوج کیساتھ۔ لگتا ہے صرف تنقید والی آفر پسند کرلی ہے۔
“مجھے دو سال پہلے کہا گیا کہ تین سال کے لیے پیچھے ہٹ جاؤں اور موجودہ نظام کو چلنے دوں، لیکن میں کسی یزید کے کہنے پر تین سال تو کیا تین منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا۔
مجھ پر چھبیسویں ترمیم کو قبول کرنے کا بھی زور ڈالا جا رہا ہے لیکن میری جدوجہد ہی قانون کی حکمرانی کی ہے اور چھبیسویں آئینی ترمیم عین اس کے منافی ہے۔
مجھ سے نو مئی کی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر معافی وہ لوگ مانگیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہے، جنہوں نے عورتوں کی عزتیں پامال کیں، لوگوں کے گھروں کا تقدس برباد کیا، ہزاروں سیاسی ورکروں کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈالا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔ نو مئی کے کیسز کی ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو تو یہ بےبنیاد مقدمات فوری ختم ہو جائیں گے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف ہونا تو دور کی بات انصاف ہوتا نظر بھی نہیں آ رہا۔
ظلم سے قومیں کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ نئے سرے سے بنتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے 13 سال مشکل ترین وقت کاٹا لیکن آپ ﷺ ڈٹے رہے اور بالآخر سرخرو ہوئے۔ لہٰذا ہم سب کو آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بحیثیت قوم ڈٹ کر آخری دم تک مقابلہ کرنا ہوگا۔
جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے پھر پر امن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ تحریک انصاف سمیت پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں۔
پاکستان میں قانون مکمل طور پر معطل ہے۔ یہاں عورتوں کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم صرف سہولت کاری کے الزام میں 14 ماہ سے قید تنہائی میں ہیں حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور اور بزرگ خاتون ہیں مگر ان کو بھی بے شرمی سے جعلی مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ میری ہمشیرگان، جن کی عمریں 65 سے 70 سال کے درمیان ہیں، ہائی کورٹ کے حکم پر جیل مجھ سے ملنے آتی ہیں جو ان کا اور میرا بنیادی حق ہے مگر ایک کرنل ان کو روک دیتا ہے اور عدالت کا حکم ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنگل کے قانون کا یہ عالم ہے کہ میری بہنوں کو یہاں سے گرفتار کیا جاتا ہے اور چکری کے پاس آدھی رات کو لے جا کر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس ملک میں اپنی ہی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہاں کا اخلاقی معیار فوت ہو چکا ہے۔ مریم نواز کے لندن میں 5 فلیٹس نکلے تھے مگر ان کی ضمانت دو ماہ میں ہی ہو گئی تھی کیونکہ شریف خاندان ڈیل پر راضی تھا۔ جو فرعونیت کے آگے جھک جاتا ہے اس کے سب کیس معاف ہیں مگر جو حق پر کھڑا ہو وہ بے جرم بھی سزاوار ٹھہرتا ہے۔
دو سال میں بیرون ملک سے کوئی سرمایہ کاری اسی لیے نہیں آ سکی کیونکہ دنیا جانتی ہے یہاں قانون ایک کرنل کے جوتے کی نوک پر ہے۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر نہ ملک میں معاشی استحکام آتا ہے اور نہ ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔ جب تک عدالتی احکامات کرنل کے اشاروں کے محتاج ہوں گے تب تک سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کی فضا ناپید رہے گی۔
پوری قوم انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ مگر چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے پیچھے دو ہی وجوہات ہیں:
ایک تو دھاندلی ذدہ الیکشن کا تحفظ کرنا، اور دوسرا مجھ سمیت تحریک انصاف کی لیڈر شپ و کارکنان کو جیل میں قید رکھنا اور احتساب کے خوف کے بغیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے براہ راست دو نتائج نکلے ہیں:
۱: ایک یہ کہ عدلیہ نے اپنے آئینی و روایتی کردار کے برعکس انتظامیہ کے سامنے بالکل سرنڈر کر دیا ہے۔ ملٹری کورٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے متصادم ہے جو کہتا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ سے الگ ہے مگر یہاں اس آرٹیکل میں ترمیم کیے بغیر ہی ایگزیکٹو کو عدلیہ کے تمام اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ ملٹری کورٹس کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر بھی بینچ بنا کر تحریک انصاف سے یہ نشستیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ووٹ تحریک انصاف کو پڑا ہے مگر آئین کے بر خلاف یہ نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کی کوشش جاری ہے۔
۲: دوسرا یہ کہ عدلیہ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور جج اپنی مرضی سے مقدمات لگا ہی نہیں سکتے۔ نتیجتاً مجھے بھی عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ کبھی میرے کیسز کے لیے بینچ مکمل نہیں ہوت تو کبھی سماعت نہیں ہوتی۔ جان بوجھ کر میرے مقدمات کو التواء میں رکھا جاتا ہے۔ میرے بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہیں۔ جیل مینوئل کے مطابق جو حقوق ایک عام قیدی کو حاصل ہوتے ہیں مجھے وہ بھی نہیں دئیے جا رہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری اہلیہ سے ہفتے میں ایک طے شدہ ملاقات بھی روک دی جاتی ہے اور تو اور میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ میں ٹوٹ جاؤں۔
1/2
پہلی خبر:
پاکستان نے سعودی عرب سے 6۔7 ارب ڈالر کا تیل ادھار مانگ لیا !
دوسری خبر:
پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر ادھار مانگ لیے !
تیسری خبر:
پاکستان نے چینی قرضہ موخر کرنے کی درخواست کر دی !
چوتھی خبر:
پاکستان کی ترقی دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی !
🙄منقول🙃
سہیل آفریدی کو مروت ، گنڈاپور سے زیادہ ٹائم ملا۔ سہیل آفریدی پر بوجھ بھی گنڈاپور اور مروت وغیرہ سے زیادہ آئے گا اور انجام بھی زیادہ بھیانک۔ جس ڈھٹائی اور بے شرمی کا مظاہرہ سہیل آفریدی اور اسکے گینگ نے کیا ہے کسی دوسرے نے نہیں کیا۔ تنقید ہوئی تو کنٹینر کا پھیرا لگا آیا۔ بجٹ سرپلس دینے کا موقع آیا تو اڈیالہ جانا شروع کردیا۔ بجٹ پاس ہوگیا تو اڈیالہ جانا بند کردیا۔ جلسے جلوسوں میں بڑھکیں شروع کردیں۔ لوگ زیادہ نکلنا شروع ہوگئے تو ریلیوں کا سلسلہ ختم کردیا۔ عمران خان کی آنکھ کے مسئلے پر احتجاج ہوا تو پختونخواہ ہاوس میں خود ساختہ محصوری اختیار کرلی۔
سب سے پہلے، ایک 22 ویں گریڈ کا افسر کیسے فیصلہ کرتا ہے کہ ملک کا وزیراعظم ملک کی بہتری کر رہا ہے یا ملک کو تباہ کر رہا ہے؟ اس نے کس طرح یہ فیصلہ کیا؟ سابق وزیراعظم عمران خان
@ImranKhanPTI
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan#ImranKhan
اور سیز پالستانوں کو چاہیئے کہ ملک میں مقیم پاکستانیوں کی آواز بنیں کیونکہ ان کے پاس آزادی رائے نہیں ہے۔
نورین نیازی @Noreen_KhanPK کا ۹ مئی کے موقعے پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئیے پیغام
#مئی9_یوم_جبر#May9th_FalseFlag
"پاکستان کی فوج غریب کی فوج ہے۔"
(جنرل احمد شریف چوہدری)
سچ کہا، ڈی جے والے بابو نے۔ جیسا تصویر میں نظر آرہا ہے کہ 1998 میں جرنل احمد شریف غریب ہی تھے مگر آج ارب پتی ہیں۔
اس غربت سے ارب پتی بننے کے سفر میں ایمان، حق اور سچ کو قربان اور اپنی عوام کو غلام بنانا شرط ہے۔