آج جمیل جان کو ہم سے جدا ہوئے ایک سال پورا ہوا اور دل مان ہی نہیں رہا کہ جمیل جان نہیں ہے ہمارے درمیان مگر جمیل جان ہمیشہ زندہ رہیں گے کیونکہ وہ اب ایک نظریہ ہیں، خاص کر سریاب کے نوجوانوں کے لیے جمیل بلوچ مشعل راہ رہیں گے. جمیل جان کو جاننے کے لیے نیچے دیا گیا خوبصورت تحریر ضرور پڑھیں جو کہ شہید جمیل بلوچ نے لکھی ہے
👇
ایک انسان کا آگے جانا کتنا خوبصورت عمل ہے۔ ایک ایسا عمل جو باقی سب جذبات کو دھکیل کر آگے نکل جائے۔جس میں نفرت جیسی شے نہ ہو۔ محبت کُھل کے سامنے آئے۔ ایک کھلکھلاہٹ جب چہرےپر پڑتی ہے کسی کی اُڑان کے وقت وہ دیکھنے والی ہوتی ہے۔ کسی کا آگے جانا کسی دوسرے کا پیچھے جانے کا سبب کبھی نہیں بنتا۔آگے جانے کا عمل ہر کسی کے پاس ہے بلکہ ہر کوئی آگے جاسکتا ہے بس وقت کا انتظار رہے اور وہ وقت اُسکی اپنی کوشش پر مبنی ہوتا ہے اور ہاں ایک مثبت سوچ کا ہونا لازم ہے۔
وہ چہرے، وہ مسکراہٹیں ، وہ اچانک سے دوڑتا ہوا خون جو رگوں میں جان پیدا کرے، وہ آنکھوں میں بن بلائے آنسو، اور وہ سب جو کسی انسان کا آگے جانا اپنے لئے باعث فخر سمجھے، مجھے بہت پسند ہے۔ کسی ایک انسان کے آگے جانے سے کتنے خواب سچ میں بدل جاتے ہیں۔ محسوس کُن لمحہ وہ ہوتا ہے جب کسی کامیاب انسان کے دماغ کو پڑھنا اور وہ بن کر سوچنا کے اس وقت وہ کیا محسوس کررہا ہے؟ کئی جگہ ہم کامیاب نہیں ہوتے لیکن ہم وہ منظر دیکھ سکتے ہیں جب کوئی کامیاب انسان اتنی کوششوں کے بعد وہاں تک پہنچ جاتا ہے۔ مجھے کسی کامیاب انسان کا مسکرانا بھا لیتا ہے کیونکہ وہ مسکراہٹ صدیوں کے دُکھ، اور کئی نسلوں کی محرومی کو ہرا کر یکدم یہ ثابت کرتا ہے کہ ہاں ہم نے کر دکھایا اور اُن سب نے جو یہاں تک پہنچنے کا کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ یہ مسکراہٹ کسی ناکام انسان کے رونے سے کئی ہزار بہتر ہے جب وہ کامیابی کا منظر نہیں دیکھ پاتا۔ دیکھو۔۔۔۔۔۔ ضرور دیکھو کہ کوئی دوسرا کامیابی حاصل کرتا ہے اُسکے لئے کتنا اہمیت کا دن ہوتا ہے۔ تم بھی محسوس کرو اُسکی خوشی۔ کامیابی یا ناکامی دونوں حالات یکسر اہمیت رکھتے ہیں لیکن کامیاب ہونا ایک احساس دلاتا ہے کہ انسانی کوششوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ چلنا، آگے بڑھنا، اور بڑھتے رہنا، کتنا حسین منظر ہے، پتھر سے پتوں تک، اور پھر کاغذ سے سائن بورڑ، یہ خوبصورت عوامل کا ایک دریچہ ہے بس محسوس کرنے کو ہے۔ ترقی پزیرائی ہے آپ کے اُن تمام کمزوریوں اور نقائص کا جب آپ نے کوشش کی کہ بہتری آئے۔
اپنے آپکو ہمیشہ ایک ایسے سانچے میں ڈالیں جہاں سے صرف مثبت دنیا کا عکس نظر آئے۔ یہ نظر آئے کہ دیکھو آگے جانے کا عمل کتنا خوبصورت ہے۔ کے جی سے لے کر پرائمری اور پھر انٹرمیڈیٹ اور پھر کسی خاص پوزیشن پر فائض ہونا۔ اور پھر اُس شخص کو یاد دلانا کہ آپ کا پنجم گریڈ کا وقت آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے جب ایک بچے کو بڑے خواب دیکھنے کی کوئی دقت نہیں تھی۔ انسان کی کامیابی سب سے بڑی لذت ہونی چاہئیے کسی بھی دوسرے انسان کے لئے جسکی جدوجہد ابھی تک جاری ہے۔ اور بس کسی کو آگے جاتے دیکھنا کسی بھی منظر سے دلکش اور دلفریب ہے بس آگے جانے کا عمل جاری و ساری رہے۔۔۔
جمیل بلوچ
ڈپریشن سے نکلنے کا ایک حل آوارہ گردی بھی ہے۔ کسی ایک جگہ بیٹھ کر زندگی کا انتظار نہ کریں۔ نکل جائیں کھلی ہوا میں سانس لیں، آسمان کو چھوئیں،اپنی پسند کی چیزوں میں اپنے آپ کو غرق کریں اور پھر دیکھے زندگی کتنی بڑی نعمت ہے.