مسلم لیگ ن کا وزیر خواجہ آصف پارلیمنٹ کے فلور سے پی ٹی آئی کی معزز خواتین پر گالم گلوچ اور زہر اگلنے والا گندی نالی کا وہ کیڑا ہے جس کی بدبو ناقابل برداشت ہے اور جس کے ساتھ اسے جینے کی عادت ہو چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کی ایک خاتون رکن کے جانے پہچانے چہرے پر دکھائی دینے والی مسکراہٹ ان کی اپنی بیمار ذہنیت کی علامت ہے۔ یہ دونوں نفرت انگیز پستی کی حامل ایک حقیر مخلوق ہیں جو انسانوں کے معاشرے میں قبول کیے جانے کے مستحق نہیں- ان کا تعلق گٹر میں بسنے والی ��نیا سے ہے- انہیں مستقل طور پر وہیں بھیج دیا جانا چاہیے۔
عمران خان کی گاڑی اسلام آباد سے واپس لاہور جاتے ہوئے پیٹرول پمپ پر رکی تو عوام نے گاڑی کو گھیر لیا۔
ہر طرف "عمران خان زندہ باد" کے نعرے بلند ہونے لگے۔
الیکشن سے بھاگنے والوں کی پریشانی کی وجہ سمجھنا مشکل نہیں۔ 😉
9 مئی کی صبح دیا گیا پیغام جس نے اس دن فالس فلیگ آپریشن کامیاب نہیں ہونے دیا اور جس پیغام کی گونج نے آج بھی پاکستان میں طاقت کے ایوانوں کو ھلا کر رکھا ہوا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی سینیٹر ڈاکٹر زرقا کی جانب سے مناسب تعلیم و تربیّت سے محروم اور خاص طور پر خواتین کے بارے میں گفتگو کے بنیادی آداب و اطوار سے بالکل بے بہرہ ایک حکومتی وزیر کی نفرت انگیز گفتگو کا جواب دیے جانے پر محکمۂ صحت نے لاہور میں ان کے دونوں کلینیکس پر چھاپے مارتے ہوئے انہیں سربمہر (Seal) کر دیا جبکہ انکے ملازمین (اکاؤنٹنٹس) کو اغوا کرلیا گیا۔
اس سب کے دوران جو امر نہایت حیرت انگیز ہے وہ تحریک انصاف کے کارکنان خصوصاً ہماری خواتین کے بنیادی حقوق کی صریح پامالیوں پر انسانی حقوق اور حقوقِ نسواں کے تحفّظ کیلئے کام کرنے والی تنظیموں پر طاری گہری خاموشی ہے۔
دو مہینے تک لمبے بال، داڑھی، جسمانی حالت کمزور- بار بار مقامات کی تبدیلی-
کیا خیال ھے کہ ھماری آنکھیں ڈھونڈ نہ سکیں گی؟ ھمیں سب حقائق پتہ نہ ھوں گے؟
سب پتہ ھے، ناکارہ نظام، بے جان ادارے، غیر موثر قانون�� عدالتی احکامات کی بے وقعتی- کب تک؟
سب سامنے آنا ھے، آج نہیں تو کل-
آج و�� میڈیا تنظیمیں اور مالکان نظر نہیں آ رہے جو پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے خلاف دن رات ایک کئے ہوئے تھیں، پیمرا کا ترمیمی بل حکومتی کٹھ پتلی پیمرا کو تمام اختیارات کا مالک بنا دیتا ہے اب پہلے عملی طور کے بعد قانونی طور ہر بھی میڈیا کی آزادی ختم کردی گئ، جہاں ہم ایک ایسا ادارہ تشکیل دے رہے تھے کہ جس میں حکومتی مداخلت نہ ہو اس حکومت نے ایک ماتحت ادارے کو میڈیا کو مکمل ماتحت کر دیا ہے،
عمران ریاض خان کی بازیابی سے متعقلہ 25 جولائی کو عدالت میں لگا ھوا کیس بوجہ عدم دستیابی چیف جسٹس لاھور ھائیکورٹ کی عدالت جو کہ سالانہ گرمیوں کی چھٹیوں پر ھیں، ری شیڈول ھو گیا ھے-
@soldierspeaks پیپلز پارٹی کا44 سالہ مرکزی عہدے دار ہوں لیکن میں ان چوروں کے ساتھ نہیں ہوں میں نے ان کو چھوڑ دیا عمران خان کیوں اچھا لگتا ہے جب یہ بیٹھتا ہے اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُؕ کہتا ہے اللہ کی مدد مانگنے والا کبھی رسوا نہیں ہوتا تم رسوا ہوگے
https://t.co/TrTF0TgWEl
بابا نے اس وڈیو رکارڈنگ کے بعد کہا تھا اب میرا جینا مشکل ہوگا، ننگا بادشاہ اب بہت غسے میں آگیا ہے اور پھر بابا شہید ہوگئے۔💔😭
لیکن ان کی باتیں سچ ثابت ہورہی ہیں، موجودہ بادشاہ اس بھی زیادہ ننگا ہو چکا ہے۔
آپ سب سے التجا ہے بابا کے لیے سورہ فاتحہ پڑھ کر کمینٹس میں ڈن لکھیں۔ 🙏
ایک طرف حکومت جانے میں ایک مہینے سے بھی کم وقت باقی اور دوسری طرف یہ پریشانی کہ اس بار حکومت چھن گئی تو پھر ملے گی بھی یا نہیں؟
ان کا بوکھلاہٹ میں الٹے سیدھے بیانات جاری کرنا سمجھ میں آتا ہے-
#سائفر_ایک_حقیقت