🚨خوف انے لگتا ہے
عمران خان نے جو شعور بیدار کر دیا ہے قوم میں یقین کریں یہ دیکھ کر اپ کی رونگھٹے کھڑے ہو جایں گے روڈ پر چھتریاں بیچنے والے عمران خان کا ایک ایک لفظ ایسا یاد کر چکے ہیں جیسا حافظ قرآن پاک حفظ کرتا ہے یہ پاکستان کے انے والی نسلوں کے لیے بہت مفید ثابت ہے مگر 77 سال اشرافیہ خلی ولی عمران خان کا نظریہ عوام کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہا عمران خان اپنی جنگ جیت چکا ہے اب جنگ قوم کی ہے 💯♥️
🚨بستر مرگ پڑی اپنی آخری سانسیں لینی والی ماں جی کی مرشد عمران خان کے لیے خاص دعایں جب کوئی مرتا ہے وہ صرف سچائی کی گواہی دے سکتے ہیں برائی کی کبھی نہیں
اللہ و اکبر
" پاکستان میں اس وقت مارشل لاء نہیں “عاصم لاء” نافذ ہے-
ملک میں عاصم منیر کا قانون چل رہا ہے اور آئی ایس آئی اسے تحفظ دے رہی ہے- جو چیز عاصم منیر کو طاقت دیتی ہے وہ اس ملک کا قانون بن جاتا ہے- عاصم منیر اپنی طاقت کے لیے ملک کی ہر چیز کی قربانی دے گا- یہ آرمی چیف فوج کی بدنامی کروا رہا ہے، جیسا کہ یحییٰ خان نے کیا تھا۔
اس وقت سینیٹ ، قومی اسمبلی، وزیراعظم اور صدر سب غیر قانونی ہیں۔ ایک جعلی آئینی عدالت بنا کر ہماری نشستیں کم کی گئیں- جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ ایک جماعت کی نشستیں کسی اور کو دے دی جائیں۔ وہ آئینی عدالتیں جن میں انصاف ملنا چاہیے، آج وہاں عاصم منیر نے اپنے ذاتی نوکر بٹھا رکھے ہیں۔ سکندر سلطان راجہ نے تاریخی الیکشن فراڈ کیا، اور اُسے توسیع دے کر اس دھاندلی کو تحفظ دیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج سات ماہ سے میری اپیلیں نہیں سن رہا، کیونکہ اسے بھی ہدایات عاصم منیر سے مل رہی ہیں۔ اس وقت ملک میں عاصم منیر کا قانون ہے، جیسے پاکستان اس کی ذاتی ملکیت ہو۔
ملک میں عدلیہ، ادارے اور جمہوریت کو منظم طریقے سے تباہ کیا گیا ہے۔ ملٹری کورٹس کو قانونی قرار دے دیا گیا، اور یہ اقدام دراصل عدلیہ کی جانب سے خود اپنے اوپر عدم اعتماد ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مجھے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن میں یہ واضح کر دوں: میں مر جاؤں گا، مگر کبھی عاصم منیر کی بادشاہت کو تسلیم نہیں کروں گا۔ یہ ایک قبضہ گروپ ہے، جس نے ملک پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔
اس وقت پاکستان میں "ڈاکو، ڈفر الائنس" مکمل طور پر قابض ہے۔ چھبیسویں ترمیم سے ججوں کی خودمختاری مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ ججز کے احکامات کی کوئی اوقات نہیں رہ گئی، ایک پولیس والا بھی جج کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیتا ہے۔ آج دورانِ کاروائی جج صاحب نے باہر گیٹ پر منتظر میری فیملی کو اندر بلانے کا حکم دیا اور بارہا کاروائی رکوائی بھی مگر میری فیملی کو اندر نہیں لایا گیا۔ اسکا مطلب ہے کہ پولیس اہلکار کے سامنے بھی جج کے احکامات کی کوئی وقعت نہیں۔ ہمارا انصاف کا نظام مکمل طور پر دفن ہو چکا ہے۔
ملک اس وقت تباہ ہوتا ہے جب نا اہل شخص کو اس پر بٹھا دیا جائے۔۔۔
عاصم منیر ملک اور محسن نقوی کرکٹ سنبھال کر بیٹھ گیا ہے- ان کی اہلیت کیا ہے؟ محسن نقوی کی وجہ سے آج ہماری ٹیسٹ ٹیم نویں نمبر پر پہنچ چکی ہے۔ جب اس طرح کے نااہل بٹھائے جائیں گے، تو کھیلوں سمیت ہر شعبے کا یہی حال ہوگا۔ ملک تباہ تب ہوتا ہے جب نااہل لوگ اہم عہدوں پر قابض کر دئیے جائیں۔ یہ بہت خطرناک ہوتا ہے کہ کسی کو بغیر اہلیت صرف طاقت کے زور پر اداروں پر مسلط کر دیا جائے۔
مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ مجھے 22 گھنٹے سیل میں قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، کتابیں نہیں دی جا رہیں، حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے نہ ہی اخبار دیا جارہا ہے اور نہ ہی ٹی وی دیکھنے کی اجازت ہے۔ یہ نہ صرف مقامی بلکہ عالمی انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ آج جج کے حکم پر 3 گھنٹے کے بعد فقط ایک کتاب مجھے مہیا کی گئی ہے۔ جبکہ میری فیملی نے گزشتہ 1.5 ماہ کے دوران کم از کم 2 درجن کتابیں بجھوائی ہوئی ہیں۔ جب سے جیل سپرنٹینڈنٹ غفور انجم آیا ہے، مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ تمام ٹارچر اس کی سربراہی میں کیا جارہا ہے۔
ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں، پاکستان میں اس وقت جو بھی امن کیساتھ کھڑا ہے، امن مارچ کر رہا ہے ہمیں اسکے ساتھ بھرپور یکجہتی دکھانی چاہیے۔
آج سات ماہ ہو گئے، مجھے اپنے بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی۔ یہ اُن کا حق ہے کہ وہ عدالت میں جائیں، اور میں نے خود اپنے بیٹوں کو کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی بنیاد پر عالمی عدالت سے رجوع کریں۔ وہ امریکا میں کسی سے مدد نہیں مانگ رہے، صرف اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ جب صدر ٹرمپ کی حکومت آئی تب بھی میں نے یہی کہا تھا کہ پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے ۔
ہم نے تمام دروازے کھٹکھٹائے، لیکن کہیں سے سنوائی نہیں ہوئی۔ میں نے صرف ایک بار مذاکرات کا کہا تھا، وہ بھی 26 نومبر اور 9 مئی کے کمیشن کے مطالبے کے ساتھ۔ 26 نومبر کو نہتی عوام پر گولیاں چلانے کے پیچھے عاصم منیر ہے۔ میں آج پھر واضح کر رہا ہوں کہ اب بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ یہ گروہ پورا نظام ہتھیا چکا ہے-
بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، علی امین گنڈاپور اور جنید اکبر کو تاکید کرتا ہوں کہ بھرپور طریقے سے تحریک چلائیں۔ تحریک کا مقصد انصاف کا نظام، قانون کی بالادستی اور آئین کا تحفظ ہونا چاہیئے۔ اگر ہم نے سڑکوں پر آواز نہ اٹھائی تو یہ قبضہ گروپ پارلیمانی پارٹی کو بھی آہستہ آہستہ تباہ کر دے گا۔ میں کھڑا ہوں، تو آپ کو بھی کھڑا ہونا ہوگا۔
1/2
آج لاہور 9مئی کے کیس میں بیگناہ دس سال سزا پانے والے ریاض حسین کے گھر ملک پرویز ایڈووکیٹ بھائی کے ساتھ جا کر فیملی سے ملاقات کی۔دو چھوٹے بچے ہیں،انکی بیوی کا حوصلہ بلند تھا کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے،
ہمارا دو سالوں سے بہنوں جیسا رشتہ ہے، اللہ پاک ریاض بھائی کو جلد قید سے آزاد کرے