پرسوں PTI کے کچھ ورکرز نے فیلڈ مارشل کی تصویر والے بینر پکڑے تھے جس وہ عمران نیازی کا جوتا صاف کر رہے ہیں.
اور ایک ایک کو چُن چُن کے گھروں سے اٹھا لیا گیا.... پندرہ دن ہوگئے ہیں گجرات میں عالم دین کا قتل ہوا ابھی تک ایک بھی قاتل نہیں پکڑا گیا.
ہے کسی کے پاس جواب..؟؟😊
پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والا “اسپیشل سیکیورٹی کیس” قانون عدلیہ کی آزادی اور شفاف انصاف کے لیے ایک خطرناک قدم ہے۔
اس قانون کے تحت ایک گریڈ 20 یا اس سے اوپر کا افسر، جسے وزیرِ اعلیٰ نامزد کرے گا، تن تنہا یہ فیصلہ کرنے کا اختیار رکھے گا کہ کون سا دہشت گردی کا مقدمہ “خصوصی تحفظ” کا مستحق ہے۔ جیسے ہی وہ یہ نامزدگی کرے، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اس پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے، نہ انکار کی گنجائش، نہ نظرثانی کا حق۔ ایک غیر منتخب، غیر شناخت شدہ افسر کو عدلیہ پر یہ بالادستی دینا انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔
سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ ایسے اختیارات پہلے ہی موجود قوانین میں شامل ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 (دفعہ 21) ججز کو اپنی صوابدید پر بند کمرہ کارروائی کرنے کی اجازت دیتا ہے، اور 2018 کا گواہ تحفظ قانون جیل میں ٹرائل کی سہولت دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آزاد ججز سے یہ اختیار چھین کر ایک ایسے سرکاری افسر کو کیوں دیا جا رہا ہے جو خود ایگزیکٹو کا تابع ہے؟
وزیرِ اعلیٰ کا نامزد کردہ افسر کسی بھی حکم سے انکار کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔ نہ آزادانہ نگرانی، نہ عوامی ریکارڈ، نہ کوئی ضمانت کہ یہ “دہشت گردی مخالف” قانون سیاسی مخالفین، صحافیوں یا اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگا۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ قومی سلامتی کے نام پر بننے والے قوانین اکثر سیاسی انتقام کا ہتھیار بن جاتے ہیں۔
مزید یہ کہ آئین کا آرٹیکل 10-A ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا حق دیتا ہے۔ گمنام جج، گمنام گواہ اور سربمہر ریکارڈ اس بنیادی حق کو کمزور کرتے ہیں۔ وکلا برادری اور سول سوسائٹی کے لیے بھی یہ تشویش کا باعث ہے کیونکہ دفاعی وکیل تک محدود رسائی رکھیں گے۔
ایسے وقت میں جب ملک میں عدلیہ کی آزادی پر پہلے ہی سوالات اٹھ رہے ہیں، اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی گورننس اور رول آف لا پر نظر رکھی جا رہی ہے (بشمول FATF جیسے فورمز)، ایسی قانون سازی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور عوام کے تحفظ کے احساس دونوں کو نقصان پہنچائے گی۔
سیکیورٹی کے نام پر اداروں کی چیک اینڈ بیلنس کو قربان کرنا نہ انصاف ہے، نہ تحفظ۔
محترم جناب عطاء تارڑ صاحب یہ دیکھیں آپکی وزارت اطلاعات منسٹری کے انڈر پاکستان کے میڈیا چینلز اب ڈراموں کے نام پر یہ سافٹ پورن بیچ رہے برائے کرم ایکشن لے لیجئے🙏
@reportpemra@TararAttaullah
देवबंदी और अहले हदीसों के अकाबिर उलेमा का फैसला: मीलाद मनाना सवाब है।
वहाबियों/देवबंदियों/अहले खबीसों तुम तो अपने ही मौलवियों की नहीं मानते नाफरमानों...
بقول حکومت کے اور حکومتی پئیڈ کُتوں کے کہ پمز پاکستان کا بہترین اسپتال ہے.
اور حال یہ ہے کہ 14 نومولود بچے زندہ جل گئے ہیں کوئی وزیر مشیر نہیں پہنچا... کیونکہ ان میں سے کوئی بچہ بھی وزیر مشیر کا نہیں ہونا.
ایران کے بچوں کو بچاؤ @CMShehbaz اپنے زندہ جل جائیں بھلے.
میلاد مصطفی منانے کا بہترین اور شاندار انداز۔ تعلیمات نبوی کا حقیقی مظہر۔ گوجرانولہ میں ثاقب رضا مصطفائی صاحب کے ادارے، ادارۃ المصطفٰی (انٹرنیشنل) کے زیر اہتمام
@idaratulMustfa
मिलाद की महफिल खिलाफत-ए-उस्मानिया में भी होती थी, इसे बिदअत बोलने वाले खुद अंग्रेजों की बनाई बिदअती जमात से हैं।
👉 जहाँ तक खुराफात की बात है, यह हर जगह और हर समय बुरा है, चाहे वह जश्न-ए-देवबंद हो या कोई और महफिल।