میں نے جو قوم کے پیٹ میں چھرا گھونپا ہے وہ مجھے سونے نہیں دیتا ۔۔۔ مجھے اسکی سزا ملنی چاہیے ۔۔۔۔
اس ملک میں سچ بولنے والوں کو ایسی سزا ملتی ہے کہ ان کا نام ونشان مٹ جاتا ہے۔۔یہ ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان💔
علیمہ خان کی گفتگو 🚨
ہمیں پکا یقین ہو گیا ہے یہ کچھ چھپا رہے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں عمران خان کا علاج کروائی جائے۔
سوشل میڈیا اس پر زیادہ سے زیادہ آواز اٹھائیں
بریکنگ نیوز 🚨اداکاروں کے بعد رمیز راجہ نے بھی خُوف کے بُت توڑ دیے۔ بڑا بیان جاری کردیا۔ میری پوری قوم سے اپیل ہے سب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے کرپٹ لوگوں سے اس ملک کی جان چھڑوانے میں عمران خان کی مدد کریں۔ وہ اکیلا آپ لوگوں کیلئے لڑ رہا ہے 🔥
برطانیہ پارلیمنٹ کا پاکستان سے مطالبہ 🚨
عمران خان کے ساتھ غیر انسانی سلوک بند کیا جائے
عمران خان کی آنکھ کا اعلان انکے ڈاکٹروں کی نگرانی میں کی جائے, یہ انتہائی ضروری ہے!!
برطانوی پارلیمنٹ نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے رپورٹس کو انتہائی تشویش ناک قرار دے دیا
اور یہ بھی معاملہ اٹھایا گیا ہے کہ عمران خان کو طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی
میں تین واضح اور میرے خیال میں معقول مطالبات کرنا چاہتا ہوں، جن کی بنیاد پاکستان کے اپنے آئین اور قانونی روایات پر مضبوطی سے استوار ہے۔
پہلا مطالبہ: ماہر طبی امداد کی فوری فراہمی۔ پاکستان کے آئین کی دفعہ 9 زندگی اور آزادی کے حق کی ضمانت دیتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے محترم خاتون بیرونس الیگزینڈر سے سنا ہے، پاکستان کی عدالتوں نے بارہا اس کی تشریح میں صحت کے حق اور طبی دیکھ بھال تک رسائی کو شامل کیا ہے۔
جہاں کسی قیدی کی صحت کامعاملہ ہو، وہاں ریاست کی ذمہ داری صوابدیدی نہیں بلکہ لازمی ہوتی ہے۔
اس بات کو یقینی بنانا کہ مسٹر خان کو ایک آزاد ماہر طبی معائنے کی سہولت ملے،جس میں ان کی اپنی پسند کا طبی ماہر بھی شامل ہو، کوئی رعایت نہیں بلکہ ایک آئینی فریضہ ہے۔
دوسرا مطالبہ: جیسا کہ میں نے مرکزی ایوان میں بھی سوال کیا تھا، ان کے خاندان تک مکمل اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی، خاص طور پر ان کے دونوں بیٹوں قاسم اور سلیمان کو ویزوں کا اجراء، جو دونوں برطانوی شہری ہیں۔ پاکستان کے اسی آئین کی دفعہ 14 انسانی وقار کی حرمت اور گھر کی رازداری کی توثیق کرتی ہے۔
خاندان سے رابطہ محض ایک جذباتی معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی وقار کا حصہ ہے اور ملکی قوانین اور بین الاقوامی حقوق دونوں میں تسلیم شدہ ہے، جن کا پاکستان خود بھی حصہ دار ہے۔
قریبی خاندان کے ارکان تک رسائی سے انکار، خاص طور پر کمزوری کے وقت، جیسا کہ موجودہ صورتحال ہے، اسی وقار کو مجروح کرنے کا خطرہ ہے جس کے تحفظ کا آئین وعدہ کرتا ہے۔ میرے نزدیک ان کے بیٹوں کے لیے ویزوں کی سہولت فراہم کرنا ایک سادہ، انسانی او�� قانونی قدم ہے۔
تیسرا مطالبہ: میں مطالبہ کرتا ہوں کہ انہیں شرائط کے تحت نظر بندی (ہاؤس اریسٹ) میں منتقل کیا جائے۔
پاکستان کا قانونی ڈھانچہ، بشمول اس کے ضابطہ فوجداری کی دفعات، قید کے متبادل کی اجازت دیتا ہے جہاں حالات اس کا تقاض�� کریں، خاص طور پر جہاں صحت، سیکورٹی یا وسیع تر عوامی مفادات کا معاملہ ہو۔
نظر بندی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ قانونی عمل برقرار رہے جبکہ صحت، شفافیت اور موزونیت کے حوالے سے خدشات کو دور کیا جا سکے۔ یہ ایک متوازن اور قانونی راستہ ہے جو دونوں پہلوؤں سے مطابقت رکھتا ہے۔
کسی نا اتفاقی کا حصہ نہ بنیں۔ جس نے جھکنا تھا، وہ 9 مئی کو جھک گیا اور جس نے بکنا تھا، وہ بک گیا۔ جو عمران خان کے ساتھ کھڑے تھے، وہ ان شاء اللہ عمران خان کے سات�� ہی کھڑے رہیں گے۔
وزیر اعلیٰ صاحب! میں آپ کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ اللہ کی قسم! اگر آپ ایک گولی کھائیں گے، تو خدا کی قسم آپ کا ��وبائی صدر پانچ گولیاں کھائے گا۔ اگر آپ کا وزیر ایک گولی کھائے گا، تو پی ٹی آئی کا ورکر پانچ گولیاں کھائے گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، پوری تنظیم آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ صوبائی صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر خان
جی، میں ایک ایک بات کی تصدیق کرتا ہوں اور صرف میں نہیں، محبوب شاہ ایم این اے صاحب اور صبغت اللہ صاحب بھی تصدیق کریں گے۔ ہمیں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر آپ کے دو دوست ایم این اے سلیم رحمان صاحب اور ڈاکٹر امجد صاحب بھی ساتھ ہوں گے تو پھر مولانا صاحب کی ضرورت نہیں ہوگی۔ مزید ی�� کہ خیبر پختوانخوا کی گورنر شپ، ایک منسٹری اور پانچ، پانچ ارب کے فنڈ بھی دیں گے۔
بڑی بریکنگ🚨🚨
عوام میں جو کنفیوژن پیدا کی گئی تھی کہ رہائی تحریک اچکزئی نے چلانی ہے وہ بھی آج دور ہو گئی، بیرسٹر گوہر نے واضع طور پر اعلان کر دیا ہے کہ رہائی تحریک کو سہیل آفریدی لیڈ کر رہے ہیں اور وہی لائحہ عمل دیں گے
https://t.co/yFgslrUsYa
اس بار ہمارے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے الیکشن کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ میرے اور آپ کے حلقے یا صوبے کا مسئلہ نہیں ہے یہ پاکستان کا مسئلہ ہے اور پاکستان کے عظیم اور محبوب لیڈر عمران خان کی زندگی کا مسئلہ ہے۔ انشااللہ ہم نے ایک بھی راستہ ایسا نہیں چھوڑنا جہاں ناکامی ہو اس دفعہ ہم کامیاب ہونگے انشااللہ۔وزیراعلی @SohailAfridiISF