میں خاموشی سے مشاہدہ کرتی ہوں
میٹھے طنز ، آہستہ سے بدلتے ہوئے لہجے اور رویے ، بیوقوف سمجھ کر کی گئی چالاکی ، خوش اخلاقی میں چھپا مطلب
وقت کے حساب سے ظاہر اور غائب ہونا اور نظروں کا مفہوم
میں ظاہر نہیں کرتی لیکن ان برائیوں کو انہی لوگوں کے پاس چھوڑتے ہوئے وہاں سے نکل آتی ہوں
لاہور ہائیکورٹ: رضوی برادران کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 50 روزہ تعطل کے بعد 16 اکتوبر 2026 بروز جمعہ کو ہوگی
سربراہ ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس رضوی کے جبری گمشدگی کیس کی سماعت جسٹس جواد ظفر کریں گے
13 اکتوبر 2026 کو سانحہ مریدکے کی پہلی برسی پر رضوی برادران کی جبری گمشدگی کا ایک سال مکمل ہو چکا ہے
گزشتہ سماعت پر جسٹس جواد ظفر نے اپنی تعطیلات کو وجہ قرار دیتے ہوئے سماعت کو 15 اکتوبر 2026 تک ملتوی کیا تھا
ٹی ایل پی وکلاء نے گزشتہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ دونوں قائدین کی زندگیاں خطرے میں ہیں تاہم معاملے کی سنگینی کو نظر انداز کیا گیا
رضوی برادران کے جبری گمشدگی کیس میں اب تک 6 مرتبہ جج تبدیل ہو چکے ہیں اور کیس مسلسل غیر معمولی التواء کا شکار ہے
جب یکم مئی 2025 کی کال کو مؤخر کیا گیا تو طلال چوہدری اور آئی جی اسلام آباد علی ناصر نے تحریک لب یک پاکستان کےساتھ مذاکرات کیے تھےاور معاہدہ کیا تھا
توسوال یہ ہےکہ 13 اکتوبر 2025 کو مذاکرات کیوں نہیں کیےگئے؟
مریدکے میں ظلم وجبر کیوں کیا گیا؟
ہزاروں مسلمانوں کاخون کیوں بہایا گیا؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 🌸
فرمانِ مصطفیٰ ﷺ:
سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ
(بخاری: 6406)
صبح بخیر 🌄
اللہ پاک آپ کا دن مبارک کرے اور آسانیاں عطا فرمائے۔ آمین 🤲✨
#ﷺﷺﷺﷺ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ""سیاہیاں مجھ میں داغ مجھ میں
جلیں اُسیﷺ کے چراغ مجھ میں
اثاثہِ قلب و جاں بس وہی ہے
میرا تو سب کچھ میرا نبیﷺہے
✿ آلَـلََّـﮬـُــــــمًَّ صّـــَلَِِّ وٌَسَِــــــلَِّــمًْ وٌَبًَـــآرِکْْ
؏َــلََے سَِــــــــــيَِــدٍِنَِــآ مًُــحًَــمًـَّــدٍ
لاہور ہائیکورٹ: سعد رضوی اور انس رضوی کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ایک بار پھر ملتوی
لاہور (کورٹ رپورٹر): لاہور ہائیکورٹ میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس حسین رضوی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت، 50 روزہ تعطل کے بعد مقرر ہونے کے باوجود، ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی۔
عدالتی ذرائع کے مطابق فاضل جج، جسٹس جواد ظفر کی عدم دستیابی کے باعث کیس کی باقاعدہ سماعت نہ ہو سکی۔ اس سے قبل بھی مذکورہ جج کی رخصت کے باعث درخواست پر کارروائی 50 روز تک معطل رہی تھی۔ اب عدالتِ عالیہ نے کیس کی آئندہ سماعت 19 اکتوبر، بروز پیر مقرر کر دی ہے۔
اہلِ خانہ اور پارٹی ذرائع کے مطابق دونوں بھائی گزشتہ 368 روز سے مبینہ طور پر لاپتا ہیں، جن کی باحفاظت بازیابی کے لیے قانونی چارہ جوئی کا سلسلہ جاری ہے۔
واضح رہے کہ ایک سال سے زائد کا عرصہ گزرنے اور بینچ میں 6 مرتبہ جج کی تبدیلی کے باوجود یہ اہم آئینی درخواست تاحال حتمی فیصلے کی منتظر اور زیرِ التوا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ: رضوی برادران جبری گمشدگی کیس کی 50 دن کے تعطل کے بعد مقرر ہونے والی سماعت کو ایک دفعہ پھر ملتوی کردیا گیا
جسٹس جواد ظفر رضوی برادران کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دن چُھٹی پر چلے گئے
اس سے قبل، جسٹس جواد ظفر رضوی نے کیس کی سماعت کو اپنی چھٹیوں کی بنیاد پر 50 دن کے لیے ملتوی کر چکے ہیں
سربراہ ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس حسین رضوی ایک سال سے زائد عرصے، 368 دنوں سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں
رضوی برادران جبری گمشدگی کیس کی آئندہ سماعت اب 19 اکتوبر بروز پیر کے لیے مقرر کی گئی ہے
ٹی ایل پی قائدین کی بازیابی کے لیے دائر درخواست 6 دفعہ جج کی تبدیلی اور ایک سال گزر جانے کے باوجود مسلسل زیرِ التواء ہے
@DrDanish5 رضوی برادران کو غائب ہوئے 1 سال کا عرصہ بیت گیا 1 سال میں عدالت سے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی 16 اکتوبر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد ظفر دونوں بھائیوں کی گمشدگی کی درخواست پر سماعت کرنی تھی مگر کیوں؟ چھٹی کا بہانہ بنایا گیا پھر سے ہمارے جزبات کے ساتھ کھیلا گیا خدارا حق کا ساتھ دیں