#ہمارے_لیڈر_کو_رہا_کرو
ہر تعلق کی طرح ریاست اور اس کے شہریوں کا تعلق بھی اعتبار پر قائم ہوتا ہے۔ ریاست کاغذ کے ایک ٹکڑے پر اپنی مہر لگاتی ہے اور دہقان اپنے مہینوں کی محنت کاغذ کے ایسے چند ٹکڑوں کے عوض اپنی ریاست کے حوالے کردیتا ہے۔پھر دوسرا شہری اس اناج کو کاغذ کے ایسے ہی ٹکڑوں کے بدلے لیتا ہے، محنت لگا کر اُسے روٹی بنا کر مزید ٹکڑوں کے عوض آگے بیچ دیتا ہے۔ کاغذ کے یہ ٹکڑے صرف ان شہریوں کا گھر نہیں چلاتے وہ شہری اور ریاست کے مابین اعتبار کی علامت ہوتے ہیں۔ کروڑوں لوگ دن رات محنت کرتے ہیں جن کے عوض ریاست انہیں کاغذ کے یہ ٹکڑے فراہم کرتی ہے جنہیں فقط اس کی مہر معتبر بناتی ہی۔ اپنی یہ محنت کی کمائی پھر شہری ریاست کو لوٹاتا ہے ٹیکسوں کی صورت۔ بدلے میں ریاست سے بنیادی ڈیمانڈ صرف ایک ہوتی ہے۔ تحفظ؛ افلاس، آفات اور بدامنی سے۔ شہریوں سے اپنا یہ تعلق نبھاتے ہوئے، انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے ریاست آئین بناتی ہے۔ جس کے تحت ادارے بنتے ہیں اور کچھ قوانین بنائے جاتے ہیں۔ شہریوں کا اپنی ریاست پر اعتبار انہیں ان قوانین کا پابند اور ریاست کا وفادار رکھتی ہے۔ اس لیے ٹریفک سگنل پر لوگ رُکتے ہیں اور خلاف ورزی کرنے والے کو چالان کیا جاتا ہے (نہ کہ وہیں کے وہیں دو جھانپڑ لگا کر سیدھا کیا جاتا ہے)۔ اپنے آپسی مسائل اپنے زورِ بازو پر حل کرنے کے بجائے عدالتوں میں لے جائے جاتے ہیں جہاں ایک انجان آدمی جج کی کرسی پر بیٹھ کر میاں بیوی کے مابین طلاق سے لے کر انہی کی اولاد کے نان نفقے، سگے بھائیوں کے درمیان جائیداد اور قبیلوں کے بیچھ قتل تک کے فیصلے کرتاہے۔ یہ عوام کا اپنی ریاست پر اعتبار ہوتا ہے کہ دونوں فریق ایک انجان آدمی کے فیصلے پر سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ خوف نہیں، اعتبار۔ کیونکہ تابعداری ہمیشہ اعتبار کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ گذشتہ دو تین ہفتوں سے ہم پنجاب میں جیسے افسوسناک واقعات کی بازگشت سن رہے ہیں اور جو چند دن سے ہم کشمیر میں دیکھ رہے ہیں، وہ حالات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ریاست اور شہریوں کے مابین اعتبار معدوم ہورہا ہے۔ دو سال سے جو چلن ریاست نے اپنا رکھا تھا اُس کا یہی انجام تھا جس سے ہم خبردار کرتے آرہے ہیں۔ جس تعلق کا بنیادی تقاضہ ہی تحفظ ہو وہ خوف پر کیسے قائم رہ سکتا ہے؟ خوف ہمیشہ صرف نفرت کو جنم دیتا ہے اور نفرت بغاوت کو۔ عوام نے ایک حکومت منتخب کی, جو کہ آئین کے تحت عوام کا اپنی ریاست پر حق بنتا تھا۔مگر ریاستی ادارے عوام کے اعتبار کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے اُس حکومت کے خلاف سازش میں آلہ کار بنے۔ پھر جن ریاستی اہلکاروں نے حلف لیا تھا اس عوام کو تحفظ فراہم کرنے کا وہ اپنی نوکریاں بچانے یا اپنے ذاتی فوائد کے لیے اُسی عوام کے خلاف جرائم کے مرتکب ہوئے۔ ہزاروں لوگوں کے گھر توڑے گئے۔ کاروبار بند کیے گئے۔ انہیں ناحق قید میں رکھا گیا۔ ان پر بہیمانہ تشدد کیا گیا۔ ہر ایک انسان کے ساتھ دسیوں لوگ جڑے ہوتے ہیں جن کی زندگیاں ان کی کامیابی، ناکامی، خوشی غمی سے متاثر ہوتی ہیں۔ جتنا خوف کا کاروبار بڑھتا گیا نفرت پھیلتی گئی۔ مگر وفاداری کا تقاضہ تحمل تھا سو قوم نے پھر بھی تحمل سے کام لیا اور دوبارہ اپنے حق کا استعمال کیا مگر پھر ننگی ڈھٹائی سے ان کی آنکھوں کے سامنے ان کا حق لوٹا گیا۔ جس ریاست کا کام تھا عوام کو افلاس، آفات اور بدامنی سے تحفظ فراہم کرنے کا وہ عوام کے لیے دہشت کا نشان بن گئی۔ بدامنی وافر۔ افلاس درودیوار سے ٹپک رہا اور آفت بن کر تو خود ریاست ہی ٹوٹ پڑی۔ اُس پہ ضد کے جو لکیر ہم نے کھینچ دی اس پر سر رکھو۔ جب تعلق کا بنیادی تقاضہ ہی تحفظ کا ہے تو وہ تعلق خوف پر کیسے قائم رہ سکتا ہے؟ اب نفرت بغاوت میں بدل رہی ہے تو چاہے آپ جتنی بھی گیدڑ بھبکیاں دے دیں حقیقت یہی ہے کہ ڈنڈے کے زور پر جانوروں کے ریوڑ چلتے ہیں (اور ironically وہ بھی اعتبار کی بنیاد پر ہی چلتے ہیں) قومیں نہیں۔ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ عمران خان آپ کے اور عوام کے مابین آخری پردہ ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عمران خان نے کسی سحر سے انہیں جھکڑ رکھا ہے۔ عمران خان اس وقت ریاست اور عوام کے تعلق کی آخری کڑی ہے۔ وہ اس حق کی علامت ہے جو ریاست نے اس آئین کے تحت انہیں دیا جو آئین ان کے تحفظ کا بنیادی فرض نبھانے کے لیے تخلیق کیا گیا۔ اس اعتبار کی علامت جو ریاست اور عوام کے تعلق کی اساس ہے۔ ریاست کے کرتا دھرتا ہر شخص کی بقا اور سلامتی یہ حقیقت تسلیم کرنے میں ہے۔ وگرنہ پچھلے کچھ عرصے میں جتنے پاکستانی ریاست سے اپنے تعلق سے مایوس ہوکر دنیا کے دیگر ملکوں میں منتقل ہوگئے ہیں یقین مانیں کسی کو کہیں پناہ نہیں ملنی۔ یوں نہ ہو کہ کل کو کلیساؤں کی دہلیزوں پر اپنی پہچان سے مُکرتے پائے جاؤ اور عین ممکن ہے کہ اُس پر بھی گلو خلاصی نہ ہوپائے کیونکہ جس خوف کی تم نے آبیاری کی، اُس خوف نے تابعداری نہیں نفرت جنی ہے اور نفرت کے بوٹوں پر کونپلیں صرف ایک طرز کی کھلتی ہیں؛ بغاوت۔
"مشکل وقت میں اپنے لیڈر کو تنہا چھوڑنا ہماری روایات میں نہیں،
بڑے لوگوں نے کہا تم اتنے آگے مت جاؤ تمہاری جان کو خطرہ ہے ۔"
خالد خورشید
سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان
ایک سب انسپکٹر کا پاکستانی فوج کے نام پیغام۔ اس سی بہتر پیغام ہو نہیں سکتا۔ امید کرتے ہیں سب انسپکٹر کی بات پر توجہ دی جائے گی۔ https://t.co/FYdCQQQaL6
رانا ثنا اللہ نے عمران خان کو قتل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اب وہ اسٹبلشمنٹ سے مطالبہ کر رہا ہے کہ عمران خان کا وجود ہی ختم کر دیں۔ اس ہر خیبر پختون خواہ میں فوری ایف آئی آر درج ہونی چاہئے۔ یہ خان کو قتل کی دھمکی ہے۔ اس کی شدید مذمت کریں۔