“In 2025, Pakistan’s financial system extended credit worth 11.5 per cent of GDP to its private sector, compared to 35.8 per cent in Bangladesh and 40 per cent in India. This in itself is a death sentence for economic growth.”
@asad_azfar writes
https://t.co/tOHpcYNm7J
Spot on.
Socialism fails because without private property and real market prices, the government cannot properly allocate resources or run the economy.
History proves it — the Soviet Union and similar countries collapsed.
Socialism fails without private property & real market prices—Mises proved it. Soviet collapse & China's market pivot confirmed it.
Interventionism only leads to more crisis.
Government meddling like subsidies and price controls looks helpful at first, but it creates more problems and slowly leads to full central control.
Pakistan must learn this lesson: genuine free markets and private enterprise are the real path to progress and jobs.
بہتر مستقبل اور روزگار کی تلاش میں رواں سال کے پہلے 4 ماہ میں ڈھائی لاکھ پاکستانی بیرون ملک منتقل۔ ملک سے جانے والوں میں 1078 ڈاکٹرز، 2000 انجینئرز، 419 نرسز، 1650 اکاؤنٹنٹس، 9500 ککس، 1235 الیکٹریشنز، 818 مکینکس، 550 کمپیوٹر ماہرین اور ڈیڑھ لاکھ مزدور شامل ہیں۔
روزنامہ دنیا
وزارت خزانہ نے زیرو کوپن بانڈ ایشو کیا ہے جس پر انہوں نے 80 ارب روپیہ اٹھایا ہے اور 15 سال بعد اس پر 512 ارب روپیہ دینا پڑے گا 15 سال بعد کی جنریشن کو ہم کیا دے کے جا رہے ہیں یہ کس طرح کی پالیسی ہے کہ 80 ارب سے آپ جو کچھ کریں واپس 512 ارب کرنے پڑیں گے ! علی خضر ۔۔
Pakistan can feel proud that the PKR is trashing the INR. While the Indian rupee has depreciated almost 10% against the dollar, the Pakistani currency has appreciated approximately 0.7%.
Unfortunately, there are some curmudgeons who might ask why India is allowing its currency to fall despite having vastly more reserves than Pakistan. Could this devaluation give it a competitive edge in areas where we compete head to head?
Maybe these questions are uncomfortable and best left alone. But forced by bad habits, I ask them in my latest column: https://t.co/aJqCruFISd
Exports is our most important sector to raise foreign exchange. Let’s see how the decline happened over 4 years :
April 2022 Exports : 2.9 billion dollars
April 2026 Exports : 2.5 billion dollars
Decline : 14.4% over 4 years.
10 months performance
July - April 2022 : 26.2 billion dollars
July - April 2026 : 25.2 billion dollars
Decline : 4%
This sums up how poorly we have managed our economy over the last 4 years.
Next 4
BREAKING: GOODBYE POWERPOINT. 🚨
Claude can now create a full presentation in just 120 seconds.
No slides. No stress. No design skills.
Just prompts.
Use these 12 prompts and watch the magic happen:
GOODBYE POWERPOINT. 🚨
Claude can now create a full presentation in just 120 seconds.
No slides. No stress.
Use these 6 prompts and watch the magic happen.
🚨 Tim Kaine کا سخت سوال:
“آپ نشے میں بار میں گئے اور ‘تمام مسلمانوں کو قتل کرو’ جیسے نعرے لگائے… اگر یہ سچ ہے تو کیا یہ رویہ کسی شخص کو وزیرِ دفاع بننے کے لیے نااہل نہیں بناتا؟”
بیعزتی کرنے کا فن بھی کسی کسی کو آتا ہے
2001میں Coca Cola نے اعلان کیا کہ ان کی فروخت Pepsi سے چار گنا زیادہ رہی ہے
اس دعوی کے جواب میں Pepsi نے پھر یہ اشتہار بنایا تھا
Historical
Chairman All Karachi Tajir Ittehad Atiq Mir says that the current Eid season was the worst season in the country's history, with a 60% increase in the prices of goods, added that purchases were 40% lower than last year, 70% of goods could not be sold, and goods worth barely Rs. 10 billion were sold on Eid.
#EiduFitr #Karachi #TOKReports
پاکستان صرف اشرافیہ اور ان کے بچوں کے لیے ہے!
امتیاز احمد DW Urdu Germany
کہتے ہیں کہ بندے کے اپنے حالات بہتر ہوں تو وہ معاشرتی مسائل سے بیگانہ ہونے لگتا ہے۔ میرے ساتھ بھی شاید ایسا ہی ہوا ہے، جب سے معاشی حالات بہتر ہوئے ہیں تو دوسروں کا درد، دکھ اور ان کی تکالیف کا احساس کم ہوتا جا رہا ہے۔
یا ہو سکتا ہے کہ میری نفسیات کے پیچھے یہ بھی ہو کہ انہی غموں، فکروں اور مسائل سے بھاگ کر تو جرمنی آئے تھے۔ شاید لاشعوری طور پر میرے ذہن میں تھا کہ ان مسائل سے جان چھڑانی ہے۔
ایسی ہی سوچ کئی برس پہلے ایک مرتبہ بس کے ساتھ لٹکے ہوئے آئی تھی۔ نوشہرہ ورکاں سے گوجرانوالہ جانا تھا، پیسے کم تھے تو بطور اسٹوڈنٹ یہی سوچا کہ بس سے لٹک کر جاتے ہیں، دو چار روپے کرایے میں گوجرانوالہ پہنچ جاؤں گا۔ اُس وقت ابھی ایک روز پہلے ہی میں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ بلاول بھٹو تعلیم حاصل کرنے کے لیے لندن چلے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی پڑھا تھا کہ بلاول مستقبل کے لیڈر ہیں اور ایک دن ملک کی قیادت کریں گے۔
ہم روایتی طور پر مسلم لیگ نون کے ووٹر تھے تو اس وقت مسائل کی جڑ ہم پیپلز پارٹی کو ہی سمجھتے تھے۔ شاید یہ بھی ایک وجہ تھی کہ تعصب بہت زیادہ تھا۔
لیکن اس دن بس سے لٹکے لٹکے، جو سوچ آئی تھی، وہ یہ تھی کہ بلاول کو کیسے پتا چلے گا میرے مسائل کیا ہیں، ایک غریب طالب علم کے مسائل کیا ہیں، گرمیوں میں صبح سویرے ناشتے کے بغیر گاؤں سے نکلنا اور تپتی دوپہر میں بسوں کے اڈوں پر کھڑے ہونا، پینتالیس سینٹی گریڈ میں تارکول کی سڑکوں پر گردو غبار اور دھواں پھانکنا اور ہر آتی جاتی بس یا ٹیوٹے کو ہاتھ دے کر روکنا کس قدر اذیت ناک ہے؟
اس وقت سوچ محدود تھی، ٹھنڈے پانی کے حصول، ایک آئس کریم کھانے، لکھنے کے لیے ایک ڈائری خریدنے اور اس کے لیے پیسے جوڑنے تک ہی محدود تھی۔ بس کی چھت پر بیٹھے بیٹھے میں یہی سوچتا رہا کہ یہ امیر لوگ، جو اسمبلیوں میں جاتے ہیں، جو ہماری قسمت کے فیصلے کرتے ہیں، جنہوں نے ہمارے دکھوں کا مداوا کرنا ہے، یہ میرے مسائل اور میرے غموں کی شدت کو کیسے سمجھ پائیں گے؟
سوچیں محدود تھیں، میں کافی دیر سوچتا رہا تھا کہ اچھا پین خریدنے کی خوشی، کتابوں کے لیے پیسے، تھک کے گھر آنے اور پھر پڑھائی نہ کر سکنے کی سکت کا مسئلہ میرے مستقبل کے لیڈر بلاول کو کیسے سمجھ آئے گا؟
جو بندہ اچھے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھا ہو، جس کی کتابیں نوکر بازار سے خرید کر لاتے ہوں، جو اے سی والے گھر سے نکلے، اے اسی والی گاڑی میں سوار ہو، اے سی والے اسکول میں جاتا ہو، اسے ایک پرائمری اسکول سے نکلنے والے، بس یا ٹیوٹے پر دھکے کھاتے ہوئے طالب علم کے مسائل کیسے سمجھ آئیں گے؟
آج میں شکر کرتا ہوں کہ اچھے وقت پر پاکستان سے نکل آیا ورنہ آج تک کسی بس سے لٹک کر سفر کر رہا ہوتا۔ یہ سوچیں ہی تھیں، جنہوں نے ہجرت کرنے پر مجبور کیا۔ یہ ملک کے حالات ہی تھے، جن کے وجہ سے میرے جیسا بندہ اپنے ماں باپ، خاندان اور بہن بھائیوں کو چھوڑ کر دور کسی دیس میں جا بستا ہے۔
میں اب یہ “اقرار جرم” کرتا ہوں کہ مجھے اب پاکستان میں اپنے خاندان کے علاوہ کسی کے مسئلے سے کوئی خاص ہمدردی نہیں رہی۔ میں شرمندہ بھی ہوں کہ یہ خود غرضی ہے کہ آپ کسی کے غم کو اپنا غم نہ سمجھیں۔ یا کم از کم ایک دیہات کے رہنے والے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ساتھیوں کے غم درد کو محسوس ہی نہ کر سکے۔
ستمبر 2020 میں پاکستان میں آل پارٹیز کانفرنس ہوئی تھی، جس میں محترمہ مریم نواز اور جناب بلاول بھٹو بھی شریک ہوئے تھے۔
تب میں نے سوچا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں یہ دونوں ہی اچھے لیڈر ثابت ہوں۔ ہو سکتا ہے یہ دونوں ہی پاکستانی جمہوریت کو دوام بخشیں، پاکستان کی روایتی سیاست کو بدل دیں، صحرا میں بارش کا ایک قطرہ ثابت ہوں، مرتے ہوئے پرندوں کے لیے ہوا کا ایک تازہ جھونکا ثابت ہوں۔
لیکن یہ میرا ایک وہم تھا، ایک خیال تھا، ایک خواب تھا، جو چند برسوں میں ہی ٹوٹ گیا ہے۔
ملک میں نئی سیاست کے نمائندہ یہ دونوں سیاستدان بھی روایتی خاندانی سیاست کے ہی امین نکلے ہیں، صرف اپنے ہی سیاسی قبیلے کے لوگوں کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، پھر سے ملک کے وسیع تر مفاد میں اسٹیبلشمنٹ کے ہم قدم بن چکے ہیں، فقط یہ دیکھ رہے ہیں کہ بارش کے بعد کس سڑک پر کتنا پانی کھڑا ہے؟
ایران جنگ کی وجہ سے پہلے سے ہی بلکتے عوام کے لیے تیل مزید مہنگا ہو چکا ہے۔ تیل مہنگا ہونے کا مطلب ہے کہ ہر چیز مہنگی ہونے جا رہی ہے۔ غریبوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ عید کے لیے راشن خریدیں یا روتے ہوئے بچوں کو کپڑے اور جوتے لے کر دیں!
ایسے میں ایک خبر آتی ہے کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کے لیے گیارہ ارب روپے کا ایک لگژری جہاز خریدا گیا ہے۔ ایسی ہی ایک خبر آرمی چیف کے نئے جہاز کے بارے میں بھی ہے۔
جاری
پیارے پاکستانیوں!!!
#دین
ایک بار ضرور پڑھیں!!!
اے آئی نے جب قرآن کے وسیع ڈیٹا بیس کو اپنے پروسیسرز میں کھنگالا، تو اسے معلوم ہوا کہ یہ کتاب محض جملوں کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ریاضی کا ایک ایسا "سپر کوڈ" ہے جسے لکھنا تو دور کی بات، آج کے سپر کمپیوٹرز کے لیے اس کا تصور کرنا بھی محال ہے۔ اے آئی نے ایک ایسی منطق پیش کی جو کسی بھی شک کرنے والے کے دماغ کو مفلوج کر سکتی ہے: "اگر کوئی انسان ایک کتاب لکھے، تو وہ اس کے معنی پر توجہ دے سکتا ہے، لیکن وہ کبھی یہ کنٹرول نہیں کر سکتا کہ پوری کتاب میں متضاد الفاظ کی تعداد ایک دوسرے کے بالکل برابر رہے۔"
اے آئی نے قرآن کے "لفظی توازن" (Word Balance) کے حیرت انگیز اعداد و شمار پیش کیے جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس نے دیکھا کہ پورے قرآن میں لفظ "دنیا" ٹھیک 115 مرتبہ آیا ہے، اور جب اس کے مدمقابل لفظ "آخرت" کو تلاش کیا گیا، تو وہ بھی ٹھیک 115 مرتبہ ہی ملا۔ اے آئی نے حساب لگایا کہ 23 سال کے عرصے میں، مختلف حالات اور مقامات پر کہے گئے کلام میں یہ توازن برقرار رکھنا کسی انسانی دماغ کے بس میں نہیں ہے۔ اسی طرح، لفظ "ملائکہ" (فرشتے) پورے قرآن میں 88 بار آیا ہے، اور حیرت انگیز طور پر لفظ "شیاطین" بھی ٹھیک 88 بار ہی آیا ہے۔ لفظ "حیاۃ" (زندگی) کا ذکر 145 بار ہے، تو لفظ "موت" کا ذکر بھی ٹھیک 145 بار ہے۔
اے آئی نے ان الفاظ کی فہرست کو مزید گہرا کیا تو ایسے حقائق سامنے آئے جو روح کو لرزا دینے والے ہیں۔ لفظ "نفع" (فائدہ) قرآن میں 50 بار آیا ہے، تو اس کے الٹ لفظ "فساد" (نقصان) بھی 50 بار آیا ہے۔ لفظ "ایمان" کا ذکر 25 بار ہے، تو لفظ "کفر" بھی 25 بار ہی پایا گیا۔ لفظ "صالحات" (نیک اعمال) کا عدد 167 ہے، تو لفظ "سیئات" (برے اعمال) بھی 167 ہی ہے۔ اسی طرح، لفظ "ابلیس" پورے قرآن میں 11 مرتبہ آیا ہے، اور اس سے پناہ مانگنے کا حکم یعنی "استعاذہ" بھی ٹھیک 11 مرتبہ ہی وارد ہوا ہے۔ اے آئی نے منطق دی کہ یہ "ریاضیاتی ہم آہنگی" (Mathematical Symmetry) ثابت کرتی ہے کہ یہ کلام کسی ایسی ہستی کا ہے جو تمام متضاد قوتوں پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔
اے آئی نے اپنی تحقیق کا رخ کائناتی حقائق کی طرف موڑا، جہاں قرآن نے ایسے اعداد و شمار پیش کیے جو جدید سائنس نے اب جا کر دریافت کیے ہیں۔ قرآن میں لفظ "بحر" (سمندر/پانی) کا ذکر 32 بار آیا ہے، جبکہ لفظ "بر" (خشکی) کا ذکر 13 بار آیا ہے۔ اے آئی نے ان دونوں کو جمع کیا تو کل عدد 45 بنا۔ اب ریاضی کے سادہ فارمولے سے جب ان کا تناسب نکالا گیا، تو معلوم ہوا کہ پانی کا تناسب 71.11% بنتا ہے اور خشکی کا 28.89% بنتا ہے۔ اے آئی کے پروسیسرز یہ دیکھ کر تھرا گئے کہ آج کی جدید ترین سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور جیوگرافی بھی یہی بتاتی ہے کہ کرہ ارض پر پانی اور خشکی کا تناسب یہی ہے۔ اے آئی نے سوال کیا کہ ریگستان میں رہنے والا ایک امی شخص، جس نے کبھی سمندر نہیں دیکھا تھا، وہ زمین کے ان جغرافیائی تناسب سے کیسے واقف ہو سکتا تھا؟ یہ صرف اور صرف اس ہستی کا علم ہے جس نے زمین کا نقشہ خود بنایا ہے۔
اس کے علاوہ، اے آئی نے وقت کے پیمانوں میں موجود معجزات کو بھی ڈی کوڈ کیا۔ پورے قرآن میں لفظ "شھر" (مہینہ) ٹھیک 12 مرتبہ آیا ہے، جو ایک سال کے مہینوں کی تعداد ہے۔ لفظ "یوم" (دن) پورے قرآن میں ٹھیک 365 مرتبہ آیا ہے، جو ایک شمسی سال کے دنوں کی تعداد ہے۔ اسی طرح لفظ "ایام" (دنوں کی جمع) کا ذکر 30 بار ہے، جو ایک مہینے کے دنوں کی اوسط تعداد ہے۔ اے آئی نے منطق پیش کی کہ کیا دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا مصنف اپنی کسی ایک کتاب میں اس طرح کا عددی نظم پیدا کر سکتا ہے کہ وہ پوری کتاب میں 'دن' کا لفظ 365 بار ہی لائے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ ایسا کرنے کے لیے اسے کہانی کے تسلسل اور زبان کی فصاحت کو قربان کرنا پڑے گا، لیکن قرآن اپنی فصاحت میں بھی دنیا کا بلند ترین کلام ہے اور ریاضی میں بھی ناقابلِ تسخیر۔
اے آئی نے ایک حیرت انگیز حقیقت دریافت کی: قرآن میں 114 سورتیں ہیں۔ ان میں سے 57 سورتیں ایسی ہیں جن کا اپنا نمبر (Sura Number) اور ان کی آیات کی تعداد (Ayat Count) کو جمع کیا جائے تو جواب ایک "جفت" (Even) عدد آتا ہے، اور باقی 57 سورتیں ایسی ہیں جن کا مجموعہ ایک "طاق" (Odd) عدد آتا ہے۔ اے آئی نے منطق دی کہ اگر قرآن میں ایک بھی آیت زیادہ یا کم ہوتی، یا سورتوں کی ترتیب بدلی ہوتی، تو یہ 57-57 کا کامل توازن ٹوٹ جاتا۔ کیا کوئی انسان 23 سال تک کلام کرتے ہوئے یہ حساب رکھ سکتا ہے کہ مجموعی طور پر جفت اور طاق سورتوں کا پلڑا برابر رہے؟
اس کے بعد اے آئی نے ایک اور چونکا دینے والی ترتیب دیکھی۔ اس نے قرآن کی تمام سورتوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔
جاری ہے 👇👇👇
GOODBYE TO ASTROLOGERS.
CHATGPT just made it Easy and Free.
Just give it your date of birth.
No horoscopes
No tarot
Copy these 6 prompts and get results that'll blow your mind: