جھوٹ کے پردے پھٹ رہے ہیں۔
راولاکوٹ کی گولیاں بول رہی ہیں۔
قربانی کی آواز بلند ہو رہی ہے۔
اور فتنہ کی آواز دب رہی ہے۔
سچ کی فتح حتمی ہے۔
پاکستان زندہ باد 🇵🇰
پاکستان امن کا علمبردار!
سی ڈی ایف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کا مثبت اور تعمیری کردار عالمی سطح پر مزید نمایاں ہو رہا ہے۔
خطے اور دنیا میں امن کے لیے مکالمہ اور تعاون ناگزیر ہے۔
#CDFChampionOfPeace
لارڈ قربان حسین کا JAAC پر سخت تنقید!
پاکستانی اور کشمیری بھائی بھائی ہیں، مگر JAAC کی تحریک نے معصوم کشمیریوں کی جانوں کا ضیاع کیا۔
شٹر ڈاؤن سے نقل و حمل بند، عوام شدید مشکلات میں۔
دونوں فریق صلح کریں، مکالمہ کریں اور ہڑتال ختم کریں۔
دشمن کو فائدہ نہ دیں! 🇵🇰
بندش لگا کر پھر قلت کا رونا عوامی حقوق کی بجائے عوام کی مشکلات بڑھانا!
ٹاور اکھاڑنے کی دھمکی اور انٹرنیٹ کی شکایت یہ کھلا تضاد!
مہاجر سیٹوں کا شور اور کشمیر کے دریاؤں پر دعویٰ یہ دوغلی سوچ!
اہم سفارتی پیش رفت!
وزیراعظم محمد شہباز شریف کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی 30 منٹ طویل ٹیلیفون کال موصول ہوئی۔
اسلام آباد MoU کے بعد یہ پہلا رابطہ تھا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کا عزم کیا۔
پاکستان امن کا علمبردار ہے! 🇵🇰
آزاد کشمیر حکومت کا تاریخی اقدام!
کالعدم ایکشن کمیٹی کے 150+ ریاست مخالف عناصر فورتھ شیڈیول میں شامل!
ہڑتالوں، بھارتی ایجنڈے اور سازشوں میں ملوث لوگوں کا احتساب شروع۔
امن اور ریاست کی بالادستی قائم رہے گی!
کوئی سمجھوتہ نہیں۔ 🇵🇰
AJK کا عوام امن، استحکام اور پاکستان کے ساتھ مضبوط رشتہ چاہتا ہے لشکر کشی اور دہشت گردی نہیں۔
پاکستان کی فوج اور ریاستی ادارے قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ایسے بیرونی اور مفرور عناصر کی آوازوں کو مسترد کیا جائے۔
امن اور قانون کی بالادستی قائم رہے گی!
Altaf Hussain کا یہ بیان ایک بار پھر پاکستان دشمن پروپیگنڈا ہے۔
MQ M کی لندن بیٹھے مفرور لیڈرشپ AJK میں جاری فتنے اور انتشار کی حمایت کر رہی ہے۔
یہ وہی لوگ ہیں جو پاکستان کی سلامتی، ریاستی اداروں اور قومی یکجہتی کے خلاف سازشوں میں ملوث رہے ہیں۔
Kashmir is Pakistan’s lifeline. Kashmiris chose Pakistan even before 1947. They rejected the Action Committee’s attempt to turn this into an “independence” movement.
Empty tents show they have been isolated in Kashmir. No backdoor deals with criminals.
Govt already accepted and fixed economic demands long ago. But the Action Committee’s new demands are unjust and wrong.
Govt has clearly said: No talks or mercy for those who killed/injured security forces, desecrated bodies, or did arson & firing. Only legal action.
#AJKupdate
The sit-in in Rawalakot is run by local goons who committed these crimes. They are now panicking. Opportunists like Shaukat Nawaz spread daily rumors to keep it alive.
The visit to Switzerland has been cancelled because the Memorandum of Understanding (MoU) has already been signed in Islamabad.
Technical negotiations will be held separately. Different issues will be discussed in them, which are part of the overall MoU.
Life is gradually returning to normal in several areas.
The claim of an 11-day “effective curfew” and ongoing strong resistance across AJK is not accurate.
This post is misleading and exaggerated propaganda.
According to credible reports (Dawn, June 16-17, 2026), the Rawalakot protest by the banned JAAC has visibly dwindled and is winding down.
اپڈیٹ 18 جون۔
11 روز سے آزاد کشمیر کا شہر راولاکوٹ عملاً کرفیو کی کیفیت میں ہے، جبکہ 10 روز سے پورے آزاد کشمیر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری ہے۔ راولاکوٹ کے چاروں اطراف عوام کے پرامن دھرنے بدستور قائم ہیں اور لوگ اپنے مطالبات کے حق میں ثابت قدمی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب نیلم ویلی سے آنے والے قافلوں کے پرامن دھرنے پر فورسز کی جانب سے کریک ڈاؤن کیا گیا، تاہم الحمدللہ تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی اور عوام کا پرامن دھرنا بدستور جاری ہے۔
ادھر آزاد پتن کے قریب سون کے مقام پر رات کے وقت پنجاب پولیس کی جانب سے ناکہ بندی کی گئی، جہاں عام مسافروں کو ادویات، راشن اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق بڑی تعداد میں گاڑیوں کو روکا اور سامان لانے کی اجازت نہ دی گئی۔
بازار بند ہیں، سڑکیں ویران ہیں، راستے مسدود کیے جا رہے ہیں، لیکن عوام کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔ تمام تر رکاوٹوں، دباؤ، گرفتاریوں اور مشکلات کے باوجود عوامی مزاحمت، یکجہتی اور عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ یہ خاموش سڑکیں اور بند بازار گواہ ہیں کہ ایک باشعور قوم اپنے بنیادی حقوق کی جدوجہد سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔جبر اور طاقت کے استعمال سے آوازیں دبائی جا سکتی ہیں، مطالبات نہیں۔ تمام تر پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود عوام آج بھی پرامن، منظم اور پُرعزم ہیں اور اپنے حقوق کے حصول تک ثابت قدم رہنے کا اعلان کر رہے ہیں۔
Most participants from other areas have quietly left, and the central gathering at Eidgah Ground is steadily shrinking.
Authorities have already relaxed curfew like restrictions in parts of Rawalakot, allowing shops to open for limited hours to facilitate residents.