ایران امریکی چال کو سمجھ گیا ہے ایکسیوس نے رپورٹ کیا کہ ایرانی حکام نے ثالث ممالک پاکستان، مصر اور ترکیہ کو بتایا ہے کہ امریکہ کی فوجی نقل و حرکت اور ٹرمپ کی جانب سے بڑی تعداد میں فوجی کمک تعینات کرنے کے فیصلے نے ان کے اس شبہ کو بڑھا دیا ہے کہ امن مذاکرات کی پیشکش محض ایک چال ہے۔
#پاکستان
افغان طالبان اس خطے کو معاشی و سیاسی بحران کیساتھ ساتھ ایک ایسی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں جس سے صرف عالمی طاقتوں کا فائدہ ہوگا مگر اس خطے کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوگا۔ یہ خطہ مسلسل جنگ میں رہنے کے بعد بڑی مشکل سے امن کی جانب گامزن ہوا ہی تھا کہ افغان طالبان کو اپنی خطے میں پاور شو کرنے کا بخار چڑھ گیا۔ اب وہ بخار پاکستان اتار رہا ہے تو افغان طالبان اس وائرس کو خطے میں پھیلانا چاہتے تھے۔سب سے پہلے روس ن�� افغانستان میں افغان طالبان کی سرپرستی میں انٹرنیشنل دہشت گردوں کے حوالے سے رپورٹ جاری کی۔حالانکہ روس دنیا کا واحد ملک ہے جس نے ابھی تک افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا اور اپنے روابط بڑھائے۔ مگر صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا کیونکہ افغان طالبان کی عقل کام کرنا چھوڑ چکی ہے جس وجہ سے وہ اس خطے میں تباہی چاہتے ہیں۔
امریکی سیکرٹری مارکو روبیو نے کہا کہ آج میں افغانستان کو State Sponsor of Wrongful Detention نامزد کر رہا ہوں۔ طالبان پالیسی مراعات حاصل کرنے کے لئے دہشت گردانہ حربوں کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن اس انتظامیہ کے دور میں یہ کام نہیں آئے گا۔ طالبان کو چاہیے کہ وہ ڈینس کوائل، محمود حبیبی اور افغانستان میں ناحق قید تمام امریکیو�� کو رہا کریں۔چائنہ نے یکطرفہ امریکی اقدامات کی مخالفت کی اور پاکستانی مؤقف کی تائید کی۔لیکن پاکستان کے افغانستان میں غیر قانونی اسلحہ ڈپو پر حملوں کی نہ مذمت کی نہ مخالفت کی بلکہ کئی حد تک انٹیلی جنس شیئرنگ بھی کی کیونکہ اس خطے کی شفٹنگ کے پیچھے چائنہ کا جیو اکنامک انٹرسٹ تھا اب چائنہ کا اکنامک انٹرسٹ خطے میں لگنے والی آگ کی لپیٹ میں آنا تھا تو چائنہ بھی سمجھ گیا کہ افغان طالبان نے اگر افغانستان میں حکومت کرنی ہے تو ان کی عقل کا علاج کیا جانا چاہیے۔
امریکہ کا ایران میں رجیم چینج کرنے کا پلان بی یہ تھا کہ افغانستان میں جمع کئے گئے انٹرنیشنل دہشت گردوں کو ایکٹیو کر کے ایران کے اندر ایک نئی جنگ چھیڑ دی جائے۔مگر پاکستان نے اپنے اتحادیوں کی مدد سے اس ہدف کو نشانہ بنایا۔ افغان طالبان کے ٹریننگ سینٹر سے لیکر بگرام ایئر بیس پر سٹرائیکس کیں۔ امری��ہ ایران میں پھنستا ہوا نظر آ رہا ہے تو اس کو راستہ اب افغانستان سے ملنا ہے ایرانی حکومت مخالف کرد ، بلوچ اور دہشت گرد اندرونی انتشار کا سبب نہیں بنے امریکہ ایران میں ڈائریکٹ نہیں اتر سکتا تو وہ جواز بنا رہا ہے۔ اور افغان طالبان بھی یہی چاہتے ہیں کہ امریکہ اس خطے میں دوبارہ آئے تو وہ پاکستان کیساتھ کشیدگی بڑھا کر امریکہ کو شامل کرنا چاہتے ہیں، پہلے امریکہ کے کہنے پر اس خطے کو آگ کی لپیٹ میں جھونک رہے تھے مگر پاکستان نے مغربی بارڈر کو سیکیور کیا۔اور کئی پلان جو مشکل ہو رہے تھے وہ ناممکن بن گئے۔
پاکستان کے چار اہم چار مطالبات تھے کہ تحریک طالبان پی اور حافظ گل بہادر گروپ کی سر پرستی نہ کی جائے مگر افغان طالبان ماننے سے انکاری تھے افغان حکومت کے وزیر دفاع ملا یعقوب عمر نے پاکستان کے موقف کی تصدیق کی کہ افغان طالبان ان کے سر پرست ہیں اور کہا کہ ہم ان کو دہشت گرد کہیں یہ ایک جذباتی بات ہے۔دوسرا پاکستان نے افغان سپریم لیڈر سے فتویٰ مانگا تھا کہ وہ ان دہشت گرد تنظیموں کیخلاف فتنہ الخوارج کا فتویٰ دیں مگر وہ مکر گئے۔تیسرا ڈیورنڈ لائن پر بفر زون قائم کیا جائے گا افغان طالبان نے نہیں مانا تو پاکستان نے افغان طالبان کی سیکیورٹی فورسز پر ائیر سٹرائیک کرتے ہوئے تیس کلو میٹر کا بفر زون قائم کیا ہے اس ایریا میں جیسے افغان فورسز قدم رکھتی ہیں یہاں سے فائرنگ کر دی جاتی ہے کچھ علاقوں کو مزید کلیئر کروایا جا رہا ہے چوتھا مطالبہ ت��ارتی تھا کہ ٹرک ڈرائیور یا افغان قبائل میں سے بغیر کسی ڈاکومنٹس سے آنے جانے کی اجازت نہیں ہوگی ٹرک ڈرائیور صرف پاکستان کے طے کردہ روٹس پر چلیں گے۔
قطر ، ترکیہ ، سعودی عرب ، ایران اور ترکمانستان کے بعد افغان طالبان نے ملائیشیا سے رابط کیا اور کچھ لوگوں کیساتھ بات چیت کرنے کی پیشکش کی۔ پاکستان سے تین لوگ افغان طالبان کیساتھ مذاکرات کیلئے گئے۔وفد کی قیادت پاکستانی عالم دین فضل الرحمان خلیل کررہے ہیں، مولانا عسکریت پسند گروپ حرکت المجاہدین کے بانی اور انصار الامہ کے موجودہ رہنما ہیں۔( ملا یعقوب اور حکمت یار گلبدین کے بیانات پردو مزید تحاریر لکھنی ہیں)۔
تحریر: فرحان ملک
#TelAviv #IsraelIranConflict #InvestInPakistan #Iran #Iranwar #بھاگ_طالبان_بھاگ #PetrolDieselPrice #IranIsraelUSWar
سعودی وزیر خارجہ کا بڑا انکشاف اگر پاکستان کی انٹیلیجنس ہمیں بروقت اطلاع نہ دیتی تو ہم کو یہ معلوم نہ ہوتا کے آئل ریفائنری پر حملہ ایران نے نہیں اسرائیل نے کیا تھا یہ بات ہمیں حملے کے دو گھنٹے کے اندر مل گئی تھی ۔۔۔۔
Israel has killed tens of thousands of Palestinian women and girls in its genocidal war on Gaza.
On International Women's Day, we look at the number of women and girls Israel killed in Gaza in 2025.
#Infograph
سکول کے بچوں کو بمباری کا نشانہ بنانے والی نئی فوٹیج سامن�� آگئی میں
ایران میں IRGC کی ایک سائٹ کو نشانہ بنانے والا امریکی ٹوماہاک میزائل دکھایا گیا ہے جو امریکی حملے کی تصدیق کرتا ہے۔
لڑکیوں کے اسکول کے قریب پہلے ہی دھواں اٹھ رہا ہے جہاں تقریباً 175 افراد شہید ہوئے جن میں بہت سے بچے تھے۔
#TelAviv #IsraelIranConflict #InvestInPakistan #Iran #Iranwar #بھاگ_طالبان_بھاگ #PetrolDieselPrice #IranIsraelUSWar
ایران آج رات اسرائیل پر بڑا حملہ کرے گا،ایران کی فارس نیوز نے ایک باخبر ذریعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ IRGC آج رات سے شروع ہونے والی جارحانہ کارروائیوں کو ��یز کرے گا، جس میں بھاری اور اسٹریٹجک میزائلوں کے استعمال میں 100 فیصد اضافہ اور مؤثر طریقے سے ان کی تعیناتی کو دوگنا کرنا ہے۔
#TelAviv #IsraelIranConflict #InvestInPakistan #Iran #Iranwar #بھاگ_طالبان_بھاگ #PetrolDieselPrice
ایرانی پاسداران انقلاب کی زمینی فورسز ایران کے صوبہ ماریوان کردستان میں منتقل ہو گئی ہیں اور وہاں کے رہائشیوں کو وہاں سے نکل جانے کو کہا ہے۔وہ ممکنہ طور پر ممکنہ زمینی لڑائی ہونے کی صورت میں اپنی تیاری اور پوزیشنیں قائم کر رہے ہیں۔
ریئلٹی آف جنریشن Z
وہ نسل جو سن 2000 کے بعد پیدا ہوئی، جنریشن زی کہلاتی ہے۔ آج ماشاءاللہ یہ نوجوان 24، 25 سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ کمزور، ناتواں اور نفسیاتی دباؤ کا شکار نسل بنتی جا رہی ہے۔
یہ نسل ذہنی دباؤ، اضطراب اور بے چینی میں گھری ہوئی ہے۔ جسمانی طور پر لاغر، ذہنی طور پر منتشر، اور تربیت گھر کے بزرگوں کے بجائے سوشل میڈیا سے حاصل کی گئی ہے۔ ہر وقت موبائل، اسکرین، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور فیس بک،جس کا نتیجہ گردن میں خم، آنکھوں کی کمزوری، جسم میں طاقت کی کمی اور رشتوں میں برداشت کی شدید قلت کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
نہ دھوپ برداشت ہوتی ہے، نہ آدھا گھنٹہ کھڑے ہونے کی سکت، نہ پانچ کلومیٹر پیدل چلنے کی ہمت۔ جسم کمزور، ذہن منتشر اور برداشت تقریباً ناپید ہو چکی ہے۔جنریشن زی کی اصل حقیقت جاننے کے لیے اس ویڈیو کو ضرور دیکھیں۔
بسم الله الرحمن الرحيم
تُعرب مؤسسة ايران بالعربية الإعلامية عن تضامنها الكامل مع قناة الجزيرة في مواجهة الهجمة السياسية والإعلامية التي تتعرض لها، وذلك بعد التصريحات الصادرة عن وزير الأمن القومي في كيان الاحتلال “إيتمار بن غفير”، والتي وصف فيها قناة الجزيرة بأنها تهديد لأمن إسرائيل، أعقبها اعتقال عدد من كوادر القناة ومراسليها، في تصعيد خطير ضد حرية الصحافة والتغطية المستقلة.
إننا في مؤسسة ايران بالعربية نؤكد أن هذه الممارسات تمثل اعتداءً صارخاً على حرية الإعلام، ومحاولة مكشوفة لإسكات الصوت المهني الحر الذي فضح جرائم الاحتلال، خاصة في ظل ما يشهده العالم من اعتداءات ممنهجة ضد المدنيين والصحفيين في فلسطين المحتلة.
كما نعتبر أن استهداف قناة الجزيرة هو استهداف لكل مؤسسة إعلامية تكشف الحقيقة وتنقل صوت الشعوب المظلومة، ونطالب المنظمات الدولية المعنية بحماية الصحفيين وحرية التعبير، بالتحرك العاجل لوقف هذه الانتهاكات ومحاسبة مرتكبيها.
نُجدد تضامننا مع زملائنا في قناة الجزيرة، ونؤكد أننا معهم في خندق إعلامي واحد، دفاعاً عن الحقيقة، وفضحاً للعدوان، ووفاءً لرسالتنا الإعلامية الحرة.
وما النصر إلا من عند الله.
مؤسسة ايران بالعربية الإعلامية
الخميس 19 حزيران 2025
ايران – طهران