یہ ایک منٹ تیرہ سیکنڈ کے کلپ میں جاپان کی ترقی کا اوپن سیکرٹ ہے
یہ جاپان کے لئے ہفتے وار تعطیل کا عام سا دن تھا کلینڈر پر 7 اور 3 کا ہندسہ 7 تاریخ کو مارچ کے مہینے سے ملارہا تھا ہفتے وار تعطیل تھی اس لئے جاپان کی مشینی زندگی میں زرا ٹھہراؤ تھا لیکن اس کے باوجود سی سی ٹی وی کیمروں نے عجیب منظر ریکارڈ کیا ایک پتلی دبلی خاتون ایک نوجوان کے ساتھ سانسیں پھلائے یوں بھاگ رہی تھی جیسے کراچی کی زیب النساء اسٹریٹ پر کوئی لٹیرا پیچھے پڑ گیا ہو۔
جاپانی بہت منظم زندگی گزارتے ہیں پبلک پلیسز پر ایسی دوڑ پسند نہیں کرتے، سب ہی انہیں نوٹس کرنے لگے اور متجسس ہونا بھی فطری تھا کہ اس روز ٹوکیو میں کہیں کسی قدرتی آفت کی خبر تھی نہ کسی خوفناک سونامی کی وارننگ جاری ہوئی ۔۔۔ لوگ بھی مڑ مڑ کر دیکھنے لگے کہ ماجرا کیا ہے ؟
ایک جانب متجسس لوگ تھے اور دوسری جانب سوٹ پہنے پتلی دبلی، اسمارٹ سی خاتون جو بس پاگلوں کی طرح ہانپتی کانپتی بھاگے چلی جا رہی تھی، پھر یہ ایک کثیر المنزلہ عمارت میں داخل ہوئی اور پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ ایک میٹنگ میں شریک ہوگئی۔
آپ اتنا تو سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ خاتون کوئی عام خاتون نہیں، ہوتی تو آپ کا سیلانی بھائی یہاں ذکر نہ کرتا یہ جاپان کی سیاست کا ایک انتہائی طاقتور اور معروف چہرہ—کیمی اونودا (Kimi Onoda) ہیں جاپانی کی معاشی سلامتی کی وزیر ۔۔۔۔۔ انہیں وزیر اعظم کی ایک اہم میٹنگ میں شریک ہونا تھا لیکن روڈ پر ایک روڈ ایکسیڈنٹ کے باعث ٹریفک ایسا جام ہوا کہ وزیر صاحبہ کے پاس گاڑی سے باہر نکلنے کے کوئی راستہ نہ رہا،وہ باہر نکلیں اور گاڑیوں کا اژدھام دیکھ کر سمجھ گئیں کہ کار سے وقت پر پہنچنا ممکن نہیں رہا اب ان بیچاروں کے پاس ہمارے وزیروں کی طرح پروٹوکول تو ہوتا نہیں کہ سیٹیاں بجا ڈنڈے اٹھا کر ماں بہن کر کر کے کوئی راستہ نکال دیتے۔۔۔۔ کیمی کو بھی اندازہ تھا سو اس نے پیدل ہی دوڑ لگا دی، اس دوڑ کا فائدہ یہ ہوا کہ وہ میٹنگ میں شریک تو ہوگئیں لیکن پانچ منٹ کی تاخیر سے۔۔۔۔ اور یہیں جاپان کا اصل چہرہ دنیا نے دیکھا میٹنگ میں کیمی نے جو معذرت کرنی تھی سو کی میٹنگ کے بعد بھی شرمندہ شرمندہ کیمی کیمروں کے سامنے آئیں اور اجلاس میں تاخیر پر قوم سے روایتی جاپانی انداز میں جھک کر معافی مانگنے لگی اور ٹوئٹ پر قوم سے کہا کہ"آج کابینہ کے اجلاس میں مجھ سے 5 منٹ کی تاخیر ہوئی۔ وجہ ہائی وے پر ہونے والا ایک ایکسیڈنٹ تھا، جس کے باعث ٹریفک بالکل رک گئی تھی۔ اگرچہ میں گاڑی سے اتر کر بھاگی اور جتنا جلدی ہو سکتا تھا اجلاس میں پہنچی، لیکن بہرحال تاخیر تاخیر ہے۔ اس تاخیر کی وجہ سے جو پریشانی اور رکاوٹ پیدا ہوئی، میں اس پر تہہ دل سے معافی چاہتی ہوں۔ آئندہ سے میں اس بات کو یقینی بناؤں گی کہ ایسے کسی بھی غیر متوقع حادثے سے نمٹنے کے لیے وقت کا مزید بڑا مارجن رکھ کر گھر سے نکلوں"
یک یہ کیمی صاحبہ ہیں اور دوسری جانب ہماری وزیر آئی ٹی جنہیں موبائل ٹاور والے ایسٹ انڈیا کمپنی دور کے قانون پر کوئی شرمندگی ندامت خجالت نہیں،دنیا نے لتر ہاتھ میں لے رکھا ہے اور حکومت مستی بھری انگڑائیاں لے رہی ہے
شزہ صاحبہ ! غلطی ہوجائے تو بندہ سوری کر لیتا ہے تہذیب یافتہ ممالک میں مہذب افراد کا تو یہی چلن ہے آپ کے بارے میں بھی گمان ایک مہذب خاتون کا ہی ہے، معافی مانگ لیجئے اور بتایئے کہ یہ قانون کہاں سے آیا کس کی مشاورت سے بنا اور آپکی وزارت میں اس کا بنفشری کون تھا ۔۔۔۔۔دل کا بوجھ ہلکا کر دیں لوگوں کی اخیر ہوچکی ہے ڈر یے وہ وقت نہ آجائے کہ لوگ پیچھے پیچھے اور مہذب قیادت آگے آگے دوڑ رہی ہو،جاپان کی کیمی انودا نے تو دوڑ لگا دی تھی ہماری کیمی اونودائیں تو بھاگ بھی نہیں سکتیں۔
عمرہ ادائیگی کے لیے سعودیہ جانے والوں کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے آف لوڈ کرنے پر میاں بیوی سمیت تین شہری اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے۔ عدالت کو بتایا کہ ریٹرن ٹکٹ اور ہوٹل بکنگ دکھانے کے باوجود اس کی تصدیق نہیں کی اور ہوٹل بکنگ نا ہونے کا کہہ کر آف لوڈ کر دیا کیونکہ پیسوں کے تقاضے پر رشوت نہیں دی گئی تھی۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ہے
اسلام آباد۔آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (OCAC) نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ حالیہ پیٹرولیم قیمتوں میں کمی کے فیصلے کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) اور ریفائنریز کو مجموعی طور پر تقریباً 104 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔OCAC کے مطابق یہ نقصان نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد اسٹاک کی مالیت میں فوری کمی کے باعث ہوا، جس میں تقریباً 5 لاکھ میٹرک ٹن پیٹرول اور 6.55لاکھ میٹرک ٹن ہائی اسپیڈ ڈیزل
شامل تھا۔
"جب عالمی منڈی میں تیل سستا تھا اپکے پاس ریزرو پڑا تھا۔ پھر وہی تیل عوام کو مہنگے داموں فروخت کر کے اربوں روپے کمائے گئے۔ اس اضافی منافع کا حساب کہاں ہے؟ اگر نقصان عوام کا ہے تو منافع بھی عوام کا ہونا چاہیے۔"
آئل سستا ہونے سے کمپنیوں کو 104 ارب
کا نقصان کمپنیوں نے وزیرِ پیٹرولیم کو خط لکھ کر یہ سب تو بتا دیا
مگر یہ نہیں بتایا پیٹرول مہنگا کر کے ہم نے کمائی کتنی کی
دوغلے منافقو۔۔۔۔؟؟
🏑💔 بھارتی ہاکی کے کھلاڑی سندیپ سنگھ نے اپنے کیریئر میں تقریباً 110 گول کیے۔ 2006 میں ایک المناک حادثے کا شکار ہوا، موت کے منہ سے واپس آیا اور دوبارہ میدان میں اترا۔ اس کی جدوجہد کو سراہنے کے لیے بھارت نے 2018 میں اس کی زندگی پر فلم "سورما" بنا دی، جسے کروڑوں لوگوں نے دیکھا اور آج بھی سندیپ سنگھ کو قومی ہیرو کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ 🇮🇳🎬
مگر ذرا اپنے گریبان میں جھانکیے...
پاکستان کے پاس سہیل عباس جیسا عظیم کھلاڑی تھا، ہے اور رہے گا۔ وہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کی ہاکی تاریخ کا سب سے بڑا پینلٹی کارنر اسپیشلسٹ مانا جاتا ہے۔
🔥 348 بین الاقوامی گول!
جی ہاں، 348 گول... ایک ایسا عالمی ریکارڈ جو آج بھی قائم ہے اور جس تک پہنچنا دنیا کے بڑے بڑے کھلاڑیوں کے لیے خواب ہے۔
2001 میں اس نے ایک ہی سال میں 100 سے زائد گول کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ جب سہیل عباس پینلٹی کارنر لینے آتا تو مخالف گول کیپر کے چہروں پر خوف صاف نظر آتا تھا۔ اس کی ڈریگ فلک بجلی کی طرح گول پوسٹ میں جا لگتی تھی۔
2002 ایشین گیمز کے طلائی تمغے سے لے کر چیمپئنز ٹرافی اور اولمپکس تک، پاکستان کی کامیابیوں کے پیچھے ایک نام بار بار سامنے آتا تھا: سہیل عباس۔
لیکن افسوس...
نہ اس پر کوئی فلم بنی۔
نہ کوئی بڑا ڈرامہ۔
نہ کوئی یادگار۔
نہ کوئی مجسمہ۔
آج کی نسل کے بہت سے نوجوان شاید اس عظیم نام سے بھی واقف نہیں۔
یہ صرف ایک کھلاڑی کو بھولنا نہیں...
یہ اپنی تاریخ کو بھولنا ہے۔
یہ اپنے اصل ہیروز کو فراموش کرنا ہے۔
ہم فلمی کرداروں اور وقتی شہرت رکھنے والوں کو تو یاد رکھتے ہیں، مگر وہ لوگ جو پاکستان کا پرچم دنیا بھر میں بلند کرتے رہے، خاموشی سے نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
سہیل عباس صرف ایک کھلاڑی نہیں...
وہ پاکستان ہاکی کے سنہری دور کی آخری روشن یادوں میں سے ایک ہے۔
🏑🇵🇰 سہیل عباس ہمارا فخر ہے، ہمارا ہیرو ہے، ہماری تاریخ ہے۔
اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے اصل ہیروز کو وہ مقام دینا چاہیے جس کے وہ حق دار ہیں، تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ نئی نسل جان سکے کہ دنیا کی ہاکی کا سب سے بڑا گول اسکورر پاکستانی تھا!
سہیل عباس زندہ باد!
پاکستان ہاکی زندہ باد!
پاکستان پائندہ باد! 🇵🇰❤️
منقول
ایران کی سب سے بڑی کامیابی اسے تیل اور گیس بیچنے کی اجازت ملنا ہے۔
پاکستان کو بھی اس اجازت سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور پڑوسی ملک سے سستی گیس اور تیل خرید کر اپنی عوام کو ریلیف دینا چاہیے۔
قومی اسمبلی میں بِل منظوری کا مضحکہ خیز منظر دیکھا ہے؟
سپیکر ایک شخص کو کھڑا کرتا ہے، جو بِل کا عنوان انگریزی میں پڑھتا ہے۔ سپیکر کہتا ہے کہ جو لوگ بِل کے حق میں ہیں وہ ہاں بولیں، جو مخالفت میں ہیں وہ ناں بولیں۔
پھر سپیکر بغیر گنے کہتا ہے کہ ہاں والوں کی تعداد ناں والوں سے زیادہ ہے اس لیے یہ بِل منظور کیا جاتا ہے۔
25 کروڑ بھیڑ بکریوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے قوانین ایسے منظور ہوتے ہیں۔ منظور کرنے والوں میں سے 99 فیصد کو اس بِل کا مطلب بھی معلوم نہیں ہوتا۔
"ابھی کچھ ہی دیر پہلے اسلام آباد ایکسپریس وے پر ایک وی آئی پی موومنٹ تھی، جس میں 80 کے قریب گاڑیوں کا پروٹوکول بھی شامل تھا۔ پاکستان 80 ہزار ارب سے زیادہ کا مقروض ہو چکا ہے، اور ان اصلی ملک دشمنوں کی عیاشیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں!"صحافی محمد ظریف
@muhammadzareef_
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
یہ گوگی گوگی کرتے ہیں گوگی اقبال گجر کی بہو تھی جو (ن) لیگ کا ایم پی اے تھا، گوگی نے جو گوجرانوالہ کا کمشنر رکھا ہوا تھا اس کا نام زاہد اختر زمان تھا ماموں جی، آجکل وہ چیف سیکرٹری ہے۔
یہ الفاظ حذف کریں، ا س طرح نہیں۔ڈپٹی اسپیکر
دنیا کا سب سے زیادہ نفرت کیا جانے والا شخص قاتل نیتن یاہو۔۔ کینیڈین رہنما ایلزبتھ مے نے نیتن یاہو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا:
“ہم جانتے ہیں کہ امن کا دشمن کون ہے۔ اور بدقسمتی سے اس کا ایک نام ہے ۔ وہ اسرائیل کا وزیرِ اعظم بنجیمن نیتن یاہو ہے!”
ن لیگی رکن اسمبلی کا کہنا ہے کہ نوٹ پہ نواز شریف کی تصویر ہونی چاہیے ۔
میں تو کہتا ہوں چار صوبے ہیں
ایک کا نام نواز
ایک کا شہباز
ایک کا مریم
اور ایک کا نام حمزہ رکھ دیں
ملک کا نام شریفستان رکھ دیں
احمد زاہد، جو نو مئی سے پہلے ہی جیل میں تھا، اس کو بھی دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اسی سے آپ اندازہ لگا لیں، کس قدر بوگس کیسز ہیں یہ نو مئی کے۔ ملک پرویز اقبال ایڈووکیٹ
#pakistan@MalikUmvi
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
آئی ٹی منسٹر شزا فاطمہ نے جس قسم کا بل اسمبلی سے پاس کروایا ہے۔، اس پر نہ صرف ان سے استعفی لینا چاہئے بلکہ سب سے پہلا ٹاور ان کے گھر میں نصب کرنا چاہئے۔ ایسی بے وقوف عورتیں وزیر بنا کر مسلط کر دی ہیں!