ایران کے 99 سالہ مذہبی رہنما آیت اللہ جنتی نے سپریم لیڈر کے جنازے میں شرکت کی
اسرائیل سے زیادہ عمر رکھنے والے رہنما نے کہا کہ
اسرائیل کا زوال اب جلد ہونے والا ہے
بریڈفورڈ یونیورسٹی مشاعرے میں جب پاکستانی قونصلر جرنل سٹیج پر آیا تو غیرتمند اٹھ کر منہ پر کہہ اٹھا " میرے لوگوں پر تماری فورسز گولیاں برسا رہی ہیں تمارا کلام سننا شہداے کشمیر کی توہین ہے "
مریم نواز کے جیل قیام کی تصاویر سب نے دیکھی ہیں، جہاں وہ عام سیل کی بجائے ڈرائنگ روم جیسی سہولیات والے کمرے میں رہ رہی تھیں۔ اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ انہیں ٹوٹے شیشے کے برتن سے شہد پینا پڑا تو یہ سنجیدہ سوال پیدا کرتا ہے۔ 1978 کے پنجاب پرزن رول690 واضح طور پر کہتا ہے کہ جیل میں ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے والی کوئی چیز نہیں رکھی جا سکتی۔ اس لیے شیشے کے برتن ممنوع ہیں اور صرف پلاسٹک کے برتن استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ حقائق واضح کرتے ہیں کہ ٹوٹے شیشے کی بوتل سے شہد پینے کی کہانی محض فرضی، من گھڑت اور جھوٹ ہے۔
بیرسٹر ابوزر سلمان خان نیازی
@SalmanKNiazi1
”ہم آپس میں پنجابی بولا کرتے تھے۔ ہم عمران خان کے طرزِ زندگی کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے 20 سال تک سخت محنت کی کیونکہ وہ اپنے ملک کو کچھ لوٹانا چاہتے تھے۔ انہیں جیل میں دیکھ کر مجھے شدید دکھ ہوتا ہے۔“
— عمران خان کے بارے میں کپل دیو
رضا ڈار کو کسی نے مخبری کی کہ انہیں گھر سے نکالو کیونکہ یہ خواتین اگر گھر سے بازیاب ہوتیں تو گھر کا مالک اور رضا ڈار بھی ملوث ہوتے رضا ڈار نے جان بوجھ کر گاڑی سلو کی اور پاسپورٹ اپنی ٹانگ پہ رکھے تاکہ یہ خواتین خود ہی گاڑی سے نکل جائیں اور پھر جب پولیس ان کو بازیاب کرے تو رضا ڈار ساتھ نہ ہو اب لاہور کے سیف سٹی کا اور مریم کا پتہ چلے گا کہ وہ خواتین کے لیے کتنی سنجیدہ ہیں ! مطیع اللہ جان ۔۔
لڑکیوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ ان لڑکوں کے فون سے کالز ہوتی تھیں میسجز ہوتے تھے تو پھر یہ فون ٹریس کیوں نہیں کیے گئے
میں داخلہ کا مشیر رہا ہوں مجھے پتا ہے ہمارے پاس فون ٹریس کرنے کی مکمل صلاحیت ہے یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب DIG فیصل کامران نے نہیں دیا
شہزاد اکبر
سنتا جا شرماتا جا !
غیر ملکی خواتین کے ساتھ لاہور میں پیش آنے والے زیادتی کے افسوسناک واقعے نے شہریوں کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
👇
سلطان صلاح الدین ایوبی کو انکے جاسوسوں نے بتایا
کہ ایک عالمِ دین ہیں جو بہت اچھا خطاب کرتے ہیں لوگوں میں بہت مقبول ہو گئے ہیں
سلطان نے کہا آگے کہو
جاسوس بولے کچھ غلط ہے جسے ہم محسوس کر رہے ہیں مگر الفاظوں میں بیان نہیں کرپا رہے
سلطان نے کہا جو بھی دیکھا اور سنا ہے بیان کرو
جاسوس بولے کہ وہ کہتے ہیں کہ نفس کا جہاد افضل ہے بچوں کو تعلیم دینا ایک بہترین جہاد ہے، گھر کی زمہ داریوں کیلئے جد وجہد کرنا بھی ایک جہاد ہے
سلطان نے کہا تو اس میں کوئی شک ہے؟؟
جاسوس نے کہا کہ انہیں کوئی شک نہیں لیکن اس عالم کا کہنا ہے کہ
جنگوں سے کیا ملا؟
صرف قتل وغارت گری صرف لاشیں جنگوں نے تمہیں یا تو قاتل بنایا یا مقتول
سلطان بے چین ہو کر اٹھے، اسی وقت عالم سے ملنے کی ٹھانی ملاقات بھیس بدل کر کی اور جاتے ہی سوال کردیا کہ جناب ایسی کوئی ترکیب بتائیے کہ بیت المقدس کو آزاد اور مسلمانوں کے خلاف مظالم کو بغیر جنگ کے ختم کرایا جاسکے؟
عالم نے کہا دعا کریں
سلطان کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا وہ سمجھ چکے تھے کہ یہ عالِم پوری صلیبی فوج سے بھی زیادہ خطرناک ہے
سلطان نے سب سے پہلے اپنے خنجر سے اُس عالم کی انگلی کاٹ دی وہ بری طرح چیخنے لگا
اب سلطان نے کہا کہ اصلیت بتاتے ہو یا گردن بھی کاٹ دوں
پتہ چلا کہ وہ سفید پوش عالم ایک یہودی تھا، یہودیوں کو عربی بخوبی آتی تھی جسکا اس نے فائدہ اٹھایا
سلطان نے پایا کہ اسکے جیسا درس اب خطبوں میں عام ہو چلا تھا بڑی مشکل سے یہ فتنہ روکا جاسکا
یہ فتنہ اس وقت بھی پوری آب وتاب سے رواں دواں ہے
آخر کیوں لوگ اسلام کو بدھ ازم بنا دینا چاہتے ہیں جبکہ کھلی حقیقت ہے کہ ظالم کا سامنا کئے بغیر ظلم کا مداوا ہوجائے یہ ممکن ہی نہیں۔
جب آیت اللہ خامنہ ای کو ریفرنڈم سے پہلے ایک سال کیلئے ایران کا سپریم لیڈر بنایا گیا، تو انہوں نے اپنی تقریر میں اس منصب کیلئے خود کو نااہل قرار دیا.
دلائل بھی پیش کیئے، لیکن مجلس نے ان کی بات کو رد کر دیا. اور انہیں اس منصب پر فائز کر دیا.