مولانا فضل الرحمان کی جائیدادوں کا پنڈورا باکس کھل گیا! 🔥
ڈیرہ اسماعیل خان کے شہباز علی گنڈاپور میں پرتعیش جائیدادوں اور ہزاروں ایکڑ زمین کے انکشافات کر دیے۔ مولانا صاحب، جواب دیں!
خدا جانے یہ اتفاق ہے یا مجرم عمران نیازی سے جڑنے والا ہر شخص ہی کرپٹ ہوجاتا ہے۔
مجرم نیازی ساری عمر اپنی ٹھرک کی خاطر لوگوں کے گھر توڑتا رہا اور آخر میں ایک بڈھی جادوگرنی کو طلاق دلوا کر دوبار شادی کی۔ اسی طرز پر چلتے ہوئے آجکل مجرم عمران نیازی کو پیارے ہو جانے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد سے انکی اہلیہ نے خلع لے لی۔
اسلام آباد کی فیملی کورٹ نے سابق سینیٹر مشتاق احمد کی اہلیہ حمیرا طیبہ کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کردی۔
صدر زرداری کے ٹھٹہ اور سجاول کے دورے سے کم از کم وہاں کی قابلِ رحم ٹُوٹی پُھوٹی سڑکوں کی حالتِ زار تو عوام کے سامنے آگئی۔ کاش ایک وزٹ کوٹری کا بھی کرلیں تاکہ وہاں کی بھی ویڈیوز وائرل ہوں اور کُچھ ترقی ہو۔
#سندھ_کھنڈر
.مولانا فضل الرحمٰن سے منسوب جائیدادوں کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں شہباز علی گنڈاپور نے پرتعیش املاک اور ہزاروں ایکڑ اراضی سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو دستاویزی ثبوت سامنے لائے جائیں۔ عوام جاننا چاہتے ہیں !
اپارٹمنٹ اور مکان کے حوالے سے سامنے آنے والے معاملات وضاحت کے متقاضی ہیں۔ جائیداد کی خرید و فروخت، ملکیت کی تبدیلی اور مبینہ سیاسی وابستگیوں کا ریکارڈ سامنے لایا جائے تاکہ قیاس آرائیوں کے بجائے مستند شواہد کی بنیاد پر حقیقت واضح ہو سکے۔
اگر سی ڈی اے کا الاٹمنٹ لیٹر سامنے آیا ہے تو متعلقہ فریقین کو اس کی حقیقت واضح کرنی چاہیے۔ عوام کو الزامات نہیں بلکہ اصل ریکارڈ، مکمل تفصیلات اور شفاف جواب چاہیے ہوتا ہے
طاقتور مافیاز کے پوشیدہ حقائق عوام کے سامنے لانا قومی ذمہ داری اور حب الوطنی کا تقاضا ہے۔ کرپشن کے خلاف آواز بلند کرنا، حقائق کو بے نقاب کرنا اور شفافیت کے لیے ڈٹ جانا جرات، اصول پسندی اور عوامی شعور کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ایک قابلِ تحسین کاوش ہے۔
تبدیلی سرکار کی 13 سالہ ‘تعلیمی ایمرجنسی’ کا اصل چہرہ!
پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کے اپنے حلقے مالاکنڈ میں سرکاری اسکول کھنڈر بن چکا ہے، دروازے، کھڑکیاں اور بجلی سب غائب۔ عمارت اب کچرا کنڈی اور نشے بازوں کا اڈہ بن چکی ہے۔
جہاں اربوں کے اشتہارات میں ‘تعلیمی انقلاب’ کے نعرے لگائے جاتے رہے، وہیں اپنے ہی حلقے کا اسکول اس حال میں۔...
یہ غفلت نہیں، مکمل ناکامی ہے۔ 13 سال میں اپنے حلقے کا ایک اسکول بھی نہیں سنبھال سکے تو صوبے بھر کے ہزاروں کھنڈر اسکولوں کا کیا حساب دیں گے؟
#مذہب_فروش_سیاستدان
گورنر راج کے بعد پشاور میں ترقی کی نئی رفتار!
عوامی ریلیف اولین ترجیح
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد ترقیاتی کاموں میں واضح تیزی آ گئی ہے۔ پشاور کا ایک اہم اوور پاس ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، جس سے شہریوں کو فوری ریلیف ملا ہے۔
جمیل چوک انڈر پاس پر بھی شب و روز کام جاری ہے اور شہریوں کا دیرینہ ٹریفک مسئلہ حل ہونے کے قریب ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے عوامی سہولت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
#مذہب_فروش_سیاستدان
فضل الرحمن افغان مہاجرین کے حق میں بیانات دے رہا ہے اور پولیس/بیوروکریسی پر الزام لگا رہا ہے، مگر یہ نہیں بتاتا کہ پاکستان نے 40 لاکھ سے زائد افغانوں کو دہائیوں تک پناہ، تعلیم، صحت اور روزگار دیا۔
اس کے جواب میں طالبان حکومت پاکستان پر حملہ کرنے والے گروہوں کو پناہ دیتی ہے، کچھ مہاجرین دہشت گردی میں ملوث پائے گئے، اور کئی بار پاکستانی پرچم کی توہین، نعرہ بازی اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات سامنے آئے
یہ مہمان نوازی نہیں، احسان فراموشی کی انتہا ہے۔ پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث عناصر کا دفاع کرنا اور بین الاقوامی اداروں کو اندرونی معاملات میں مداخلت کی دعوت دینا صریح ملک دشمنی ہے۔
#مذہب_فروش_سیاستدان
فضل الرحمان کے فرخ کھوکھر جیسے "اجرتی قاتل" اور بدمعاش کو جے یو آئی میں شامل کرنے کی اصل وجہ
پانچ مرلہ کمرشل پلاٹ کے عوض سی سی ڈی سے بچاؤ کا پیکج
سوکالڈ دین کے محافظ اب زمینوں اور پلاٹوں کے بھی محافظ بن گئے ہیں۔
جنت کے پلاٹ تو اللہ دیتا ہے، دنیا کے پلاٹ مولانا لے رہے ہیں۔ 😏
فضلو اور اس کے ڈیجیٹل زیبرے زرا بتانا پسند کریں گے کہ
پلاٹ کہاں ہے؟ کس کے نام منتقل ہوا؟ کب؟ مارکیٹ ویلیو کیا تھی؟ فرنٹ مین استعمال ہوا یا براہ راست؟
یا اس کے جواب میں بھی ہذیان ہی بکنا ہے؟؟
#مذہب_فروش_سیاستدان
.🚨 کروڑوں کا اپارٹمنٹ، سینیٹ ٹکٹ اور سیاسی مفادات! سینیٹر دلاور خان کی جانب سے عطاء الرحمٰن کو مبینہ تحفے اور G-6 مکان کے معاملے پر شفاف تحقیقات ہوں۔ تمام متعلقہ افراد جواب دیں، قوم حساب مانگ رہی ہے!
🚨 بڑی بریکنگ نیوز!
اسلام آباد کے سیکٹر G-6 میں متنازعہ گھر کے حوالے سے امان اللہ کے نام مبینہ سی ڈی اے الاٹمنٹ لیٹر سامنے آ گیا۔ اب معاملے کو شور کے بجائے دستاویزات کی بنیاد پر واضح کیا جائے۔ عوام کو مکمل حقائق جاننے کا حق ہے! 🔥
زیبرہ ڈیجیٹل فورس کو بس اتنا کہنا ہے کہ
یوتھیوں سے بڑی فورس نہیں ہو 😛
وہ بھی پیلے گئے تھے
تم بھی پیلے جاو گے 😆😂
ویڈیو ریلیز کر کے بہت اچھا کیا چھترول میں آسانی ہو گی 😂😂
#مذہب_فروش_سیاستدان
نئے صوبوں کی تشکیل آئندہ نسلوں کے لیے محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ پاکستان کی حقیقی ترقی، استحکام اور قومی یکجہتی کی ضمانت ہے۔ موجودہ صوبائی نظام میں کئی علاقے وسائل، نمائندگی اور بنیادی سہولیات کے معاملے میں مسلسل نظرانداز ہو رہے ہیں؛ جنوب پنجاب، ہزارہ، جنوبی بلوچستان اور سندھ کے کئی اضلاع اس کی واضح مثال ہیں۔ جب کوئی خطہ اپنے مسائل خود حل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا تو وہاں غربت، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی اور عدم اطمینان بڑھتا ہے، جو بالآخر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور سماجی کشیدگی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ نئے صوبے ان علاقوں کو اپنے بجٹ، تعلیمی پالیسی، صحت، زرعی منصوبوں اور انفراسٹرکچر پر خود فیصلہ کرنے کا حق دیں گے، جس سے ترقی کی رفتار تیز ہوگی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی۔
چھوٹے اور مربوط انتظامی یونٹ مقامی مسائل کا فوری حل نکال سکتے ہیں، پولیس اور انتظامیہ عوام کے قریب رہتی ہے، اور احتساب کا نظام بہتر کام کرتا ہے۔ اس سے کرپشن کم ہوتی ہے اور عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔ محفوظ پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ کوئی علاقہ پسماندگی کی وجہ سے ریاست سے دور نہ محسوس کرے۔ جب لوگوں کو اپنے علاقے کی ترقی کا احساس ہوگا تو وہ قومی سلامتی کے بھی محافظ بنیں گے۔ نئے صوبے وفاق کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کریں گے، کیونکہ مضبوط یونٹوں پر مشتمل وفاق ہی حقیقی طور پر متحد ہوتا ہے۔
آنے والی نسلیں اگر تعلیم، روزگار، انصاف اور بنیادی سہولیات سے محروم رہیں گی تو وہ پاکستان کے مستقبل کو سنبھال نہیں سکیں گی۔ نئے صوبوں کا قیام اس نسل کو مواقع فراہم کرنے، علاقائی شناخت کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور ایک مضبوط، خوشحال اور محفوظ پاکستان کی بنیاد رکھنے کا عملی قدم ہے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ جذبات کی بجائے حقائق اور قومی مفاد کی بنیاد پر اس مسئلے پر سنجیدہ غور کیا جائے۔
#مذہب_فروش_سیاستدان