احتجاجی دھرنوں کے شرکاء کی جدوجہد کو سلام
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا گھر بار چھوڑ کر نکل آئے ہیں- ان میں سے ہر ایک کو پتہ ہے کہ جس ظُلم ، جبر اور فسطائیت کا ہمارے تحریک دوست نشانہ بنے نجانے کس لمحے ہم سے ہماری ذندگی بھی چھین لی جائے مگر یہ پرعزم ہیں- پرعزم کیوں؟ وجہ ذاتی عیاشی نہیں قوم کا مستقبل ہے، اپنے بچوں کا مستقبل ہے اور یہی وجہ ہیکہ استقامت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں-
تاریخ لکھی جا رہی ہے اور یہ کشمیر کے تاریخی تسلسل کو برقرار رکھے ہوئے ہیں-
دلاور کیانی کے ورثہ نے راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران عوامی ایکشن کمیٹی پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو ایکشن کمیٹی نے اغوا کیا ہوا ہے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اس الزام کو یکسر مسترد کرتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دلاور کیانی کو عوامی ایکشن کمیٹی نے نہیں بلکہ مقامی عوام نے مشکوک حالات میں روکا تھا۔ اس کے بعد معاملہ مقامی جرگہ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں خود دلاور کیانی، ان کے والد اور دیگر معززین موجود تھے۔ جرگہ میں تمام معاملات پر گفتگو کے بعد دلاور کیانی کو ان کے والد کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
اس ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ دلاور کیانی اور ان کے والد جرگہ میں موجود ہیں۔ اگر دلاور کیانی اغوا تھے تو پھر وہ اپنے والد کے ساتھ جرگہ میں کیسے بیٹھے تھے؟ اور جرگہ کے فیصلے کے بعد انہیں ان کے والد کے حوالے کیسے کیا گیا؟
عوامی ایکشن کمیٹی سمجھتی ہے کہ عوامی حقوق کی اس تحریک کو بدنام کرنے اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یکطرفہ بیانات کے بجائے ویڈیو شواہد، حقائق اور تمام دستیاب معلومات کا جائزہ لے کر خود فیصلہ کریں کہ سچ کیا ہے
@AzazSyed@AsadAToor@ShabbirDar5@HamidMirPAK
#RightsMovementAJK
#AJK
#JAAC
کشمیر کا پورا حکمران طبقہ کشمیر کی تباہی میں ملوث ہے۔ یہ طبقہ سماج کو چلانے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا۔ کشمیر کی عوام کو آگے بڑھتے ہوئے ایک مزدور ریاست کی بنیاد رکھنی ہو گی۔
عوامی حقوق تحریک کو کچل دینے کا مطالبہ اور شدید خواہش رکھنے والے سردار عتیق ،راجہ فاروق حیدر سردار یعقوب سردار تنویر الیاس اس چھوٹے سے خطے کے وزیراعظم رہ چکے ہیں ۔۔ باقی بھی سارے اسمبلی ممبران نسل در نسل اس اسمبلی کے ممبر بنتے آ رہے ہیں ۔۔۔یہ ساری محرومیاں انکی پیدا کردہ ہیں ۔۔
اگر انھوں نے دیانتداری کے ساتھ وسائل عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کئے ھوتے تو آج عوامی غصہ اس نہج پر نہ ھوتا ۔۔۔
انصاف کا تقاضہ تو یہ بنتا ہے کہ ان سارے لوگوں کا احتساب کیا جاتا۔۔ انکے اثاثے چیک کئے جاتے ۔۔۔ اور انکی جواب طلبی کی جاتی کہ ہر سال اربوں روپے کا بجٹ تم نے کہاں خرچ کیا ۔۔۔
پورے آزاد کشمیر میں نہ ایک ڈھنگ کا ہسپتال بنا سکے نہ کوئ بھمبر سے نیلم تک ایکسپریس ووئے بنائ ۔۔ نہ روزگار کے مواقع پیدا کئے ۔۔۔۔۔ صرف اپنی اولادوں کا مستقبل کیوں سنوار ؟؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔
مگر افسوس جن کو کٹہرے میں کھڑا کرنا تھا وہ اپنے آپ کو کمال ہوشیاری سے بچا کر عوام کے سامنے فورسز کو لا کھڑا کر گئے ۔۔۔۔۔
اب بھی وقت ھے ۔۔۔ جنھوں نے گلشن اجاڑا ان سے حساب مانگا جائے ۔۔۔
عوام کے ساتھ لڑائ بنتی ہی نہیں ۔۔۔ عوام کل بھی تمام بنیادی سہولیات سے محروم تھی آج بھی محروم ھے ۔۔۔
قصور انکا ھے جو خالی ہاتھ اسمبلی میں آئے اور آج ارب پتی بن گئے ہیں ۔۔۔
Weekly Communist Circle: Marxist Critique of Post colonialism.
The session witnessed an extensive and in-depth discussion, with participants actively and enthusiastically contributing to the debate. 🚩
#Marxism#PostColonialism#WorkersOfTheWorldUnite
Comrade Ehsan Ali is free ✊
Congratulations to all revolutionaries!
Long live the revolutionary struggle!
Long live the Awami Action Committee!
Down with capitalism!
Uncompromising struggle will continue until the socialist revolution!
Workers of the world, unite!
جموں کشمیر میں نہتے لوگوں پر گولی چلانے اور قتل کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ پاکستانی محنت کش کشمیری عوام کی حقوق کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں۔
آواز دو ہم ایک ہیں۔
دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ راولاکوٹ کے حالات نے ہر کشمیری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ لوگ پہلے ہی ایک شہید کی لاش کے ساتھ انصاف کے مطالبے کے لیے بیٹھے ہوئے تھے، مگر پھر حالات مزید خراب ہو گئے۔ گولیاں چلیں، لوگ زخمی ہوئے، کئی خاندانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔
لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ان کا قصور کیا ہے؟ اگر کوئی اپنے حق، انصاف اور بہتر زندگی کی بات کرے تو کیا اس کا جواب گولی ہے؟ کیا اپنی آواز بلند کرنا جرم ہے؟
آخر کب تک عام لوگ اس کشمکش اور بے چینی کا شکار رہیں گے؟ کب تک ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گی؟ کب تک بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ تکتی رہیں گی؟ اور کب تک عوام کے درد کو نظر انداز کیا جاتا رہے گا؟
ایسا ظلم جس کی مثال شاید دنیا کے بدترین خطوں میں بھی نہ ملے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غزہ میں اپنوں اور بیگانوں نے مظالم کی داستانیں رقم کیں، لیکن آج یہاں اپنوں کے ہاتھوں اپنوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ کلمہ گو، مسلمان کہلانے والے ہی آج مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں؟
۔ قانون اور فورسز، جن کا کام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا تھا، آج انہی کے خلاف صف آراء دکھائی دیتے ہیں۔ دل یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہے کہ آخر ان فورسز کو اپنے ہی لوگوں کا خون بہانے کا حکم کون دے رہا ہے؟ وہ کون سے چہرے ہیں جو پردے کے پیچھے بیٹھ کر اس ظلم کی ڈوریاں ہلا رہے ہیں؟
یہاں سب سے بڑا جرم سچ بولنا بن چکا ہے۔ جو کوئی بھی مظلوم کے حق میں، سچائی اور انصاف کے لیے آواز اٹھاتا ہے، اسے خاموش کر دیا جاتا ہے۔ حق کی آواز اٹھانے والے کا مقدر یا تو گمنام سلاخیں بنتی ہیں، یا پھر اس کی لاش بھی اپنوں کو نصیب نہیں ہوتی۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کی رات جتنی بھی لمبی ہو، کبھی دائمی نہیں ہوتی، اور ناحق بہنے والے خون کا ایک ایک قطرہ ایک دن حساب ضرور مانگتا ہے۔
آج عوام جس بے حسی، ظلم اور پروپیگنڈے کا سامنا کر رہے ہیں، اس نے ہر ذی شعور انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ صورتحال اس قدر بھیانک اور غیر متوقع ہو چکی ہے کہ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ عام شہریوں پر یہ وحشیانہ تشدد کرنے والے آخر ہیں کون؟ کیا یہ اپنے ہیں یا کہیں باہر (اسرائیل یا بھارت) سے بھیجی گئی کوئی بیرونی قوتیں ہیں جنہیں عوام پر مسلط کر دیا گیا ہے؟ کیونکہ کوئی بھی اپنوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتا۔
اس پورے بحران میں سب سے زیادہ افسوسناک کردار حکمرانوں اور میڈیا کا ہے۔ عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کے بجائے حکمران کہیں منظرِ عام سے غائب ہیں، اور میڈیا حقائق دکھانے کے بجائے دن رات جھوٹی رپورٹنگ اور پروپیگنڈے میں مصروف ہے۔ سچ کو چھپایا جا رہا ہے اور مظلوم کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں۔
سب سے بڑا دھچکا اور المیہ یہ ہے کہ وہ قیادت اور فورسز، جن کا تذکرہ کچھ دن پہلے تک دنیا بھر میں امن قائم کرنے اور بڑی جنگیں رکوانے کے حوالے سے فخر سے کیا جا رہا تھا، آج وہی طاقتیں اپنوں اور خاص طور پر کشمیریوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں۔ فورسز بھیج کر مظلوموں کا سرِعام قتلِ عام کروایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نفرتوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ پالیسیاں ملک کو مضبوط کرنے کے بجائے مزید کمزور کر رہی ہیں۔
آج انصاف کے ترازو الٹے ہو چکے ہیں۔ وہ عام عوام جو صرف اپنے بنیادی حقوق، روٹی، کپڑے، مکان اور امن کی بات کرتی ہے، اسے پلک جھپکتے میں "دہشت گرد" اور "غدار" قرار دے دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف، جو لوگ سرِعام قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، گولیوں کی بوچھاڑ کر رہے ہیں اور معصوموں کا خون بہا رہے ہیں، انہیں "محافظ" کا لقب دیا جاتا ہے۔
عوام کے دلوں سے آج یہ سوال چیخ چیخ کر نکل رہا ہے: کیا ایسے ہوتے ہیں محافظ؟ کیا محافظوں کا کام اپنے ہی لوگوں کے خون سے ہولی کھیلنا ہوتا ہے؟ جب محافظ ہی جارح بن جائیں، تو پھر عوام کس سے انصاف کی امید رکھیں؟
ہم تمام شہداء کے لیے مغفرت، زخمیوں کے لیے جلد صحت یابی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کشمیر پر اپنا رحم فرمائے، امن و سکون عطا کرے اور حق و انصاف کی راہیں آسان فرمائے_آمین 🤲🏻
The Epstein scandal has obliterated public trust in Britain’s core institutions: the monarchy, police, Parliament, and the rest. Millions of people are more convinced than they were before that the system is rigged, and the state is rotten to the core. https://t.co/TvVClZ5zZD