نگاہ رکھتا ہے جیسے شکاری گردن پر
نظر ہے میرے لبوں کی تمہاری گردن پر
صراحیِ مئے خالص نہاں نہ رکھ مجھ سے
غزل کہوں میں تلوں سے سنواری گردن پر
لبوں کو تشنہ لبی یاد آگئی اپنی
پسینہ آیا ہوا ہے کنواری گردن پر
شرف تلوں کی زیارت کا ہم کو بخشا ہے
تمہارا قرض ہے جاناں ہماری گردن پر
اقتدار کے ایوانوں میں معیشت کی ترقی کے دعوے ہو رہے ہیں۔ ٹائی سوٹ والے غریبوں کو صبر کا درس دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ "ملک کے لیے سخت فیصلے ضروری ہیں۔"
لیکن ان فیصلوں کی اصل قیمت کچی بستیوں میں چکائی جا رہی ہے۔ جہاں سالن اب ایک عیاشی بن چکا ہے۔ وہاں ایک ماں پانی کا کٹورا لیے بیٹھی ہے اور سوکھی روٹی کو پانی میں بھگو رہی ہے، تاکہ وہ اتنی نرم ہو جائے کہ بچے کے حلق سے آسانی سے اتر سکے۔
نوالہ حلق سے نیچے اتر نہیں پاتا،
کہ سوکھی روٹی کو پانی میں ڈوبنا پڑتا ہے۔
حکمرانوں کے لیے غربت صرف بجٹ فائل کا ایک اعداد و شمار ہے۔ لیکن عوام کے لیے یہ پانی میں بھیگی وہ سوکھی روٹی ہے جسے نگلتے ہوئے سفید پوشی اور آنسو ایک ساتھ بہہ جاتے ہیں۔ کاش! کوئی ایوانوں سے نکل کر غریب کے حلق میں پھنستی اس روٹی کا درد بھی دیکھ سکے۔
پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا نیوروسرجن بھی گزرا ہے جو دولت کے بے حد لالچ کی وجہ سے برباد ہوا اور اب بھی اپنی کسی کوٹھی کے ایک کمرے میں گم سم پڑا رہتا ہے اور دن میں متعدد بار اپنا سر نوچ لیتا ہے ۔۔۔۔
یہ شہر ہی نہیں ملک کا ایک کامیاب اور مشہور ترین نیوروسرجن تھا ۔ اسکے حوالے سے دو باتیں مشہور تھیں کہ یہ مریض کو تب دیکھتا تھا جب ایڈوانس رقم اسکی دراز میں پہنچ جاتی تھی اور دوسری یہ کہ اسکے آپریشن تھیٹر میں اگر کوئی زخمی شخص پہنچ جاتا تھا تو موت کو اندر داخلے کی اجازت نہ ہوتی تھی مریض ہر حال میں بچ جاتا تھا ۔۔۔۔
شاید یہ "میں" اس ڈاکٹر کو لے ڈوبی ، ایک روز ایک نوجوان کا ایکسڈنٹ ہوا اور اسے اسی نیوروسرجن کے ہسپتال میں لایا گیا ، زخمی نوجوان کو سر میں شدید چوٹ آئی تھی اور اسکے لواحقین بھی ساتھ موجود نہ تھے ، سرجن ڈاکٹر کو جب پتہ چلا کہ ابھی پیمنٹ نہیں ہوئی تو اس نے زخمی کو دیکھنے سے بھی انکار کر دیا آپریشن تو دور کی بات تھی ، سٹاف نے بہت زور لگایا کہ کسی طرح اس نوجوان کے لواحقین کو بلا لیا جائے لیکن کچھ پتہ نہ چلا اور اسی چکر میں کافی دیر گزر گئی ،
آخر سٹاف میں سے ہی کسی نے ایک خوبرو نوجوان کو موت کے منہ میں جاتے دیکھ کر ازراہ انسانی ہمدردی ڈاکٹر کو یقین دہانی کروائی کہ اگر اس کے لواحقین نہ آئے یا پیسے نہ دیے تو آپ میری تنخواہ کاٹ لیجیے گا ۔۔۔
نیورو سرجن صاحب اس یقین دہانی کے بعد آپریشن تھیٹر پہنچے مریض پہلے ہی وہاں پہنچا دیا گیا تھا ۔ سرجن ڈاکٹر پر یہ دیکھ کر قیامت ٹوٹ پڑی کہ زخمی نوجوان کوئی اور نہیں اسکا اپنا اکلوتا بیٹا تھا جو تیز رفتاری کے ساتھ موٹرسائیکل چلانے کا شوقین تھا اور آج حادثہ کر بیٹھا تھا ۔۔
نیورو سرجن نے روتے اور چیختے ہوئے آپریشن شروع کیا مگر اس روز موت کا فرشتہ آپریشن تھیٹر میں داخل ہو گیا ، زخمی نوجوان جانبر نہ ہو سکا اور آپریشن کے دوران ہی دم توڑ گیا ۔۔۔
اس غم نے دنوں میں نیوروسرجن کو پاگل بنا دیا ۔۔۔ کچھ عرصہ قبل سنا تھا کہ وہ ڈاکٹر بعد میں نیند کی دوائیون کے مسلسل استعمال سے اپنی صحت برباد کر بیٹھا اور اسکی دماغی حالت ایسی ہو گئی کہ کرنسی نوٹ دیکھتا تو چیخیں مار کر رونے لگتا تھا ۔۔۔۔۔
مکافات عمل کا سامنا دنیا میں ہی کرنا پڑتا ھے اور شاید یہ بات ہر کسی کے علم میں بھی ھے۔ لیکن آج کے دور میں جسطرح انسان انسانیت، مذھب ہر چیز کو بھلا کر دھن دولت، انا، کے چنگل میں پھنسا ہے وہ اپنے آپ کو اس بھنور سے نکالنے کی کبھی کوشش بھی نہیں کرتا،
بعض اوقات Too late جسطرح اس ڈاکٹر کی کہانی پھر جب تک زندہ ہے پچھتاوے، پریشانی، اور مصیبتوں کے علاؤہ کچھ نہیں۔ ہم لوگ بھی مسلمان تو ہیں لیکن دین کو نماز، حج،عمرہ، تک ہی سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز حقوق العباد، حقوق آلا انسان، ہر چیز واضع کیا ہے۔
بس ایک ہی دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے مسلمانوں کو ہدایت دے۔
سوشل میڈیا پر وائرل یہ تصویر کسی تعارف کی محتاج نہیں، یہ اجلے کپڑوں میں ملبوس ہمارے حکمرانوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ پسینے میں شرابور، بستر پر نڈھال لیٹی یہ معصوم بچی اس ملک کے کروڑوں عوام کی سچی تصویر ہے جو 2026ء کی اس ہولناک گرمی اور حبس میں بدترین لوڈ شیڈنگ کا عذاب جھیل رہے ہیں۔
ایک طرف عوام بجلی کے اندھے بلوں کے بوجھ تلے دب کر خودکشیاں کر رہے ہیں، اور دوسری طرف تپتی راتوں میں ان کے بچوں کو سکون کی ایک سانس تک میسر نہیں۔ سولر اور یو پی ایس غریب کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ بجلی غائب ہے، لیکن حکمرانوں کی بے حسی اور اشرافیہ کے مفت یونٹس کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
یہ تصویر چیخ چیخ کر پوچھ رہی ہے کہ اس معصومیت کا قصور کیا ہے؟ کب تک یہ عوام اس ظلم کی چکی میں پستے رہیں گے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر صرف تصاویر شیئر کرنے کے بجائے اس نظام کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔
#بجلی_بحران #لوڈشیڈنگ
جب لوگ سونے چاندی کے ذخائر جمع کرنے میں مصروف ہوں تو تم (دنیا پرستی کے بجائے) ان کلمات کو ذخیرہ کرنا، یعنی اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے رہنا ۔۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس دعا کے ہر جملہ کو ایک خزانہ قرار دیا ہے۔
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے
ابھی تو جیٹھ کی 27 ہے آگ برس رہی ہے،
ابھی ہاڑ آئے گا اور پھر ساون بھادوں،
اگر ہر کسی کیلئے اپنے گھر کے سامنے درخت لگانا لازم نہ کیا گیا اور درخت نہ لگے ہونے پر جرمانے نا کئے گئے تو پھر چند سالوں میں انتظار کریں اپنے بچوں کے گرمی سے بھونے جانے کا
درخت لگائیں اپنے لئے نسلوں کیلئے
یہ سندھ کا دور دراز علاقہ نہیں بلکہ لاہور کی ایک پوش آبادی #فضائیہ ہاؤسنگ سوسائٹی ہے۔ یہاں کتوں کا راج ہے۔ حفیظ جالندھری سے معذرت کے ساتھ ۔۔۔
یہاں کتوں کو آزادی ہے
آزادی کے پابند رہیں ۔۔۔ جس کو چاہے چیریں پھاڑیں ۔۔۔۔ کھائیں پئیں آنند رہیں
یاد رہے یہاں سے چند قدم کے فاصلے پر پنجاب کی ماں کہلانے والی وزیر اعلیٰ کا محل بھی ہے۔
#فضائیہ کی مینجمنٹ کو صرف چائنہ کٹنگ سے غرض ہے یا بچوں کے پارکس پر کمرشل بنا کر بیچنے سے۔
گرمی کی چھٹیاں ہیں
سیرو تفریح پر جائیں گے مگر آج عہد کرلیں کبھی کمزور دل انسان کا مذاق نہیں اڑائیں گے
اسے زبردستی جھولے پر نہیں بٹھائیں گے
کوئی لڑکی عورت بچہ یا مرد کسی جھولے پر نہیں بیٹھنا چاہتا تو ہنسی ٹھٹھولے کے لئے انجوائے منٹ کے لئے زبردستی لعن طعن کرکے نہیں بٹھائیں گے
آپکے زوردار قہقہے ساری زندگی کا پچھتاوا بن سکتے ہیں
جب خوف , ظاہری پریشر سے دل ہی بند ہوجائے کسی کا
جوان موت کا بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے.
اس تصویر کے پس منظر سے تو سب واقف ہی ہوں گے۔
آوارہ کتوں کو مارنے پر پابندی ہے اور پکڑ کر کسی ڈاگ سنٹر منتقلی کا کوئی طریقہ کار یا میکنزم نہیں۔ لوگ سوسائٹی میں گھروں کے باہر واک نہیں کر سکتے، بچے قریبی شاپ تک جانے کو پریشان ہیں۔ آوارہ کتوں نے شہریوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ کوئی تو حل نکالیں
کھلاؤ سونے کا نوالہ دیکھو شیر کی آنکھ سے ، اپنے بچون سے دوستی کریں مردہ بچوں سے زندہ بچے بہتر ہوتے ہیں۔
بچوں سے غلطی ہو جاتی ہے جانے انجانے میں غلط لوگون کے ساتھ تعلق بن جاتا ہے ۔
آخر سولہ سترہ سال کی عمر ہوتی ہی کتنی ہے ؟ نئی نئی جوانی چڑھ رہی ہوتی ہے دنیا کی ہوا لگ رہی ہوتی ہے سب کچھ ہرا ہرا سوجھ رہا ہوتا ہے اور وہی وقت ہوتا ہے جب بچوں پر نظر رکھنے کا بلکہ ویسے ہی جیسے وہ پیدا ہوتا ہے تو والدین اس کی ایک ایک آہٹ کے اوپر کان دھر کر بیٹھے ہوتے ہیں ۔
بچیوں کے والدین کو تو زرا اور محتاط ہونا پڑتا ہے ، بچی کا کونسا مرد دوست یا کزن بہانے بہانے سے گھر کے چکر لگاتا ہے ، کون سا لڑکا کلاس فیلو زیادہ کتابیں بدلنے آتا ہے اور لڑکی کے فون کا استعمال کتنا ہے ؟ کیا وہ گھر والوں کے ساتھ بیٹھی بھی فون استعمال کر رہی ہے ، مسلسل چیٹ چل رہی ہے اور چیٹ کے جواب میں اس کے گال سرخ اور ہونٹوں پر مسکان آ رہی ہے تو سمجھ جائیں معاملہ خراب ہو رہا ہے ۔
بلکہ یہی حال لڑکے کے والدین کو دیکھنا ہو گا ، لڑکا گھر سے کتنی دیر باہر رہتا ہے ، کون سے دوست ہیں کس برادری اور گلی کے ہیں کون سا دوست کس قماش کا ہے ، لڑکا بالوں کو زرا کنگھی زیادہ ہی تو نہیں کرنے لگ گیا ؟ وقت سے پہلے منہ پر پھوٹنے والی داڑھی کی فکر تو نہیں کرنے لگ گیا یہ سب دیکھنا پڑتا ہے اور سب سے اہم بات والدین بچون کے موبائل پر لازمی نظر رکھیں
ایک تو پرائیویسی کے چکر نے ہر ایک کو الگ الگ موبائل لے دیا ہے اور موبائل نہین بلکہ پوری دنیا ہے جس میں سب کچھ ایک چٹکی کے اوپر دستیاب ہے اور یہئ چٹکی جب بجتی ہے تو دنیا کے خزانے اس کے سامنے کھل جاتے ہیں جس میں ہر طرح کی چیز ہوتی ہیں جو ہر کوئی برداشت نہیں کر سکتا اور یہی سے کچھ نیا کرنے اور کچھ جاننے کی رڑک محسوس ہوتی ہے اسی چکر میں لڑکا لڑکی کی طرف اور لڑکی لڑکے کی طرف مائل ہو جاتی ہے
جھنگ والا واقعہ بھی کچھ ایسا ہی ہے جس میں کم عمری میں بڑے خواب دیکھے گئے اور لڑکی اس نادانی میں اپنی کچھ چیزیں لڑکے کو بھیج بیٹھی اس کے بعد لڑکے کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہی ، پہلے دوستی کے نام پر پھر محبت کے نام پر پھر شادی کے نام پر اور آخر مین جب سب پتے کھیل لیے تو بلیک میلنگ شروع ہو گئی اور جب بلیک میلنگ شروع ہوی تو لڑکی کو معاشرے سے ڈر لگنے لگا ۔
جھنگ کے اسپائر کالج جس میں کبھی وہ خوشی خوشی داخلہ لینے پہنچی تھی وہاں ڈر ڈر کر جانے لگے کیونکہ اسے پتا تھا وہاں اس کو بلیک کرنے والا موجود ہو گا ، اس کو ہوس بھری نگاہوں سے دیکھنے والا موجود ہو گا لیکن بیچاری آخر کب تک اس سب سے لڑتی ؟ گھر والوں کو کیسے بتاتی ؟ خود ہی حالات سے لڑنے کا فیصلہ کیا اور رول نمبر سلپ لینے کے بہانے لڑکے سے ایک آخری بار ملنے پہنچ گئی ۔
آگے سے شکاری نے جال بچھایا ہوا تھا ، لڑکی کو اغوا کیا اور ہوا کا نشانہ بناتا رہے ، لڑکی چیخی ہو گی چلائی ہو گی ، بچنے کی کوشش کی ہو گی اس سب میں درندہ اس کو مزید نچوڑتا رہا ہو گا اور اس سب میں بھی لڑکی نے اپنی عزت کی حفاظت کی آخری کوشش کی مگر ناکام ٹہری ،
ہوس کے پجاری نے اپنی ہوس بھی پوری کی اور دوستوں کوبھی دعوت دی اور جب دیکھا لڑکی میں کچھ بھی نہیں رہا تو اسے آدھ موا ہسپتال چھوڑ کر فرار ہو گئے ۔
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج سے گاڑی دیکھی بندے ٹریس کیے اور لاہور سے گرفتار کر لیے ، بندے گرفتار لاہور سے سی سی ڈی نے کیے ، سی سی ڈی اپنے ریکارڈ کے مطابق ایسے ملزموں کو فل فرائی یا ہاف فرائی کا اہتمام موقع پر کرتی ہے لیکن اس دفعہ انہوں نے متعلقہ تھانے بندے پہنچا دیے ، پتا چلا جوانوں کی سیاسی سلام دعا ہے جو ان کو بچا رہی ہے اور سی سی ڈی کے ہاتھوں نہیں لگنے دے رہی ۔
مگر ایک دنیا کا نظام ہے اور ایک خدا کا نظام ہے خدا کے نظام میں تھوڑی دیر تو ہو سکتی ہے مگر اندھیر نہیں ہو سکتی ۔
ایسے میں والدین سے گزارش ہے آپ اپنے بچون کو سونے کا نوالہ کھلاؤ لیکن دیکھو شیر کی آنکھ سے ، آج کل مختلف ایپس دستیاب ہیں جو بچوں اور والدین کے موبائل میں مشترکہ کھلتی ہیں اور والدین بچون کے موبائل پر نظر رکھ سکتے ہیں ۔
اس کے علاوہ ایک اور کام لازمی کریں اپنے بچوں کے دوست بن جایے وہ آپ سے اپنی بد سے بدتر بات کرنے سے پہلے بھی سوچیں مت آپ کے ساتھ اپنا ہر دکھ سکھ شئیر کریں ،، کیونکہ مردہ بچی سے بہتر ہے زخمی بچی آپ کے پاس محفوط ہو ۔
سال 2026 کی سب سے تیز آندھیاں چلنے کا اندیشہ
کیا آپ تیار ہیں؟؟
موسم کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق پرسوں بدھ 10جون سے 20جون کے دوران مغربی ہواؤں کے سلسلے پاکستان میں داخل ہوں گے۔
پہلا سلسلہ 10 جون کی شام کو داخل ہوگا اور11 سے 12 جون کے دوران خیبرپختونخوا، پوٹھوہار، کشمیر، پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں مختلف مقامات پر گرج چمک تیز بارش کے ساتھ 90 سے 130 کلومیٹر فی گھنٹہ تک آندھیاں چل سکتی ہے اور ان آندھیوں میں بعض اوقات ہوا کے جھونکوں کی رفتار 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے ان تباہ کن ہواؤں سے سولر سسٹمز سمیت انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ موجود رہے گا لہذا اپنے سولر سسٹمز کو چیک کریں اور جہاں کمی بیشی ہے انکو دور کریں اور مضبوط فریم اور انکربولٹس استعمال کریں، باغات کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اور اس وقت آم کی فصل تیار ہو رہی ہے اور ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان ریجنز میں 90 سے 130 کلومیٹر فی گھنٹہ تک آندھی چل سکتی ہے جبکہ وسطی پنجاب اور خاص طور پر نورپورتھل، جھنگ ، اٹھارہ ہزاری، فیصل آباد، سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور ملحقہ علاقوں میں 90 سے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار تک آندھی چل سکتی ہے، خطہ پوٹھوہار میں بھی 90 سے 130 کلومیٹر فی گھنٹہ تک آندھی چل سکتی ہے اور شمال مشرقی پنجاب میں بھی 90 سے 120کلومیٹر فی گھنٹہ تک طوفانی ہوائیں چلنے کا امکان ھے، بلوچستان اور سندھ میں بھی مختلف مقامات پر 90 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک طوفانی ہوائیں چلنے کا امکان ہے، نیچے دی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں ان علاقوں کی نشاندہی کر دی گئی ہے جو ان طوفانوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔
دوران طوفان آسمانی بجلی گرنے کے واقعات کثرت سے پیش آئیں گے اور مختلف علاقوں میں موٹی ژالہ باری بھی ہوسکتی ہے اس لئے غیر ضروری طور پر موسم خراب ہونے کی صورت میں کھلے آسمان تلے جانے سے گریز کریں اور گھروں میں رہیں۔
مزید تفصیلات کے لئے سرکاری ذرائع سے جاری کردہ الرٹس اور ہدایات پر عمل درآمد کیا کریں۔
Weather Guru
ڈاکٹر ماہ نور ناصر صاحبہ کے لیے دعا گو ہیں
الله تعالیٰ ڈاکٹر ماہ نور ناصر صاحبہ کو مکمل صحتِ والی زندگی عطا فرمائے، انہیں اس تکلیف سے جلد نجات دے، اور انہیں صبر، ہمت اور شفائے کاملہ نصیب فرمائے آمین 🤲🏻
شیخوپورہ میں چٹی کوٹھی روڈ پر ون ویلنگ کرتے ہوئے سر پر گہری چوٹ لگنے پر 15 سالہ حمزہ جان بحق 😭
خدارا بعد میں پوری زندگی پچھتانے سے بہتر ھے، پہلے ہی اپنے بچوں کا دھیان رکھا کریں۔ انکی بازپرس کیا کریں۔ آپکو معلوم ہونا چاہیے بچہ اگر بائیک لیکر گیا ھے تو وہ کیسے چلا رہا ھے۔
بھارت کی آبی جارحیت، موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی خشک سالی کے خطرات کے پیشِ نظر پاکستان کے لیے نئے ڈیموں اور آبی ذخائر کی تعمیر اب قومی بقا کا تقاضا بن چکی ہے۔ جو پانی آج سمندر میں ضائع ہو رہا ہے، وہی کل ہماری زراعت، معیشت اور خوراکی سلامتی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ آنے والی جنگیں سرحدوں سے زیادہ وسائل پر لڑی جائیں گی۔ اس لیے بڑے آبی ذخائر ہی پاکستان کے مستقبل کا سب سے مؤثر دفاع ہیں۔
اک آدمی اپنے گھر میں گیا تو دیکھا اس کی بیوی اپنے عاشق کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی ہے۔
آدمی بہت سمجھدار تھا، اس نے دونوں کو پکڑ لیا اور اندر بٹھا لیا اور انہیں بولا، میں تم لوگوں کو کچھ نہیں کہتا، لیکن اگر جو میں بات پوچھوں وہ سچ سچ بتانا۔
اور اپنے بیوی کے عاشق کو بولا کہ تمہیں یہ اچھی لگتی ہے؟
عاشق بولا، ہاں۔
اگر میں اسے طلاق دے دوں تو کیا تم اس سے نکاح کرو گے؟
عاشق کہتا ہے، ہاں۔
اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور اس کا عاشق اسے ساتھ لے گیا اور اس سے جا کر نکاح کر لیا۔
جب تقریباً تین سال ہوئے، وہ اس کا عاشق جو تھا وہ بیرون ملک چلا گیا نوکری کے سلسلے میں۔
اس کے جانے کے بعد اس کی بیوی کسی اور آدمی کے ساتھ دوستی کر لی۔
ایک دن جب وہ گھر آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی کسی اور آدمی کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی تھی۔
اسے غصہ چڑھا، اس نے بندوق اٹھائی اور اپنی بیوی بھی مار دی اور جو تیسرا عاشق تھا اس سے بھی مار دیا۔
پرچہ ہوا، پولیس آئی اور اس آدمی کو پکڑ کر لے گئی۔
جب اس بات کا پہلے شوہر کو پتہ چلا ہے کہ اس کے عاشق سے دو قتل ہوگئے ہیں تو وہ اس سے ملنے کے لیے جیل میں آیا، ساتھ آتے ہوئے فروٹ بھی لے کر آیا۔
اور جو فروٹ لے کر آیا تھا وہ اس عاشق کو پکڑا کر کہتا کہ جو دو قتل تم نے آج کیے ہیں نا، اگر اس دن میں بھی ایسے ہی غصہ دکھاتا اور تمہیں اور اپنی بیوی کو مار دیتا تو آج تمہاری جگہ میں جیل میں ہوتا۔
مگر میرے دماغ نے اس دن کام کر لیا تھا، اس لیے میں بچ گیا۔ یہ لو فروٹ کھاؤ اور زندگی کی ایک بات یاد رکھنا۔
جو عورت ماں باپ کی نہیں بنی وہ خاوند کی بھی نہیں بنتی، اور جو خاوند کی نہیں بنی وہ کسی عاشق کی بھی نہیں بنتی۔
دنیا میں سب سے زیادہ عزت عزیز عورت کو اپنے ماں باپ اور بھائی کی ہوتی ہے۔
اور جس نے ماں باپ اور بھائی کی عزت نہیں دیکھی وہ شوہر کی بھی عزت نہیں دیکھتی، اور جس نے شوہر کی نہیں دیکھی وہ آگے کسی عاشق کی بھی نہیں دیکھتی۔
اس نے یہ نصیحت کر کے فروٹ اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔