ایران اسرائیل حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب سے جہاں ایک طرف ایران کی تنصیبات اور شہری مراکز پر بمباری کی جارہی ہے وہیں اس جنگ میں دہشت گردی کی وارداتوں کاعنصر بھی شامل ہوگیا ہے۔ایران میں اب کاربم دھماکوں اورٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی کرائے جارہے ہیں جس سے ایران کے شہریوں کی جانوں اور املاک کا نقصان بھی ہورہا ہے۔ اس سے پہلے ایران کے اندر موجود اسرائیل کے ہاتھوں ایجنٹ بن جانے والے مخبروں کی اطلاعات کی بنیاد پر ہی اسرائیل نے میزائل اور ڈرون سے precise حملےکرکے ایران کے نیوکلیئر سائنسدانوں اور کئی اعلیٰ فوجی وسول حکام کو ہلاک کردیا تھا۔
جن میں ایران کےچیف آف آرمی اسٹاف، پاسداران انقلاب کے چیف کمانڈر سمیت فوج کےکئی اعلیٰ افسران، کئی نیوکلیئر سائنسدان اوراہم شخصیات شامل ہیں ۔
��نٹرنیشنل میڈیا کی رپورٹ کےمطابق اسرائیل نےایران میں نہ صرف خفیہ ٹھکانے بنالئے ہیں جہاں سے ایران کے اندرحملے کئے جارہے ہیں بلکہ ایرانی سیکوریٹی فورسز اور دیگر اداروں کے اہم لوگوں کوبھی خریدلیا گیا ہے جواندرسے اپنے ملک کونقصان پہنچارہے ہیں۔
میں ایران کےسپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ، صدر مسعود پازیشکیا اور اعلیٰ حکام سے دردمندانہ اپیل کرتاہوں کہ اگروہ ایران کے عوام کو ان حملوں سے بچانا چاہتے ہیں اور اپنےملک کو اندرسے کئے جانے والے حملوں اوراہم شخصیات کے قتل کے واقعات کو روکناچاہتے ہیں توانہیں اپنے اندر کے غداروں کوپکڑنا ہوگا، اپنی سیکوریٹی ایجنسیوں کی صفوں کوکالی بھیڑوں سے پاک کرناہوگا۔میں ان سےاپیل کرتاہوں کہ اپنی تمام سیکوریٹی ایجنسیوں کی اسکریننگ کیجئے اوران کوری شفل کیجئے ۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست سے خطاب
15جون 2025
During the ongoing Iran-Israel conflict, #Israel has not only launched airstrikes targeting Iranian installations and civilian centers, but the war has now entered a far more dangerous phase—marked by acts of terrorism within #Iran itself.
The alarming rise in car bombings and targeted assassinations inside Iran indicates a coordinated strategy aimed at destabilizing the country from within. These attacks are causing significant loss of life and property among Iranian citizens.
In recent years, Israel has conducted highly precise drone and missile strikes inside Iran—eliminating nuclear scientists and senior military and civilian leaders. These attacks were made possible through intelligence provided by local informants who had been compromised and recruited by Israeli intelligence agencies.
Among those assassinated were Iran’s Chief of Army Staff, the Commander-in-Chief of the Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC), high-ranking military officers, nuclear experts, and other critical national figures.
According to reports from the international media, Israel has established covert operational bases inside Iran. From these hidden strongholds, attacks are launched deep within Iranian territory. More alarmingly, Israeli intelligence has allegedly succeeded in infiltrating and bribing key individuals within Iran’s security forces and governmental institutions. These insiders, acting as collaborators, are aiding hostile operations against their own nation.
In light of these deeply troubling developments, I make an urgent and heartfelt appeal to Iran’s Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei, President Masoud Pazeshkian, and all relevant authorities:
If you genuinely seek to protect the Iranian people from further bloodshed and preserve the sovereignty of the Islamic Republic, you must act decisively against the enemy within.
Identify and apprehend the traitors embedded in your system. Cleanse your intelligence and security agencies of infiltrators and disloyal elements.
I strongly urge the leadership to immediately conduct a comprehensive internal audit and screening of all security and intelligence agencies, followed by a thorough reshuffling and restructuring to restore institutional integrity and national security.
Only by purging the system of internal betrayal can Iran effectively resist external aggression and safeguard its people from further tragedies.
Altaf Hussain.
A Thoughtful Session on TikTok on 15 June 2025.
2/2
اسی لئے اب دنیا میں ایک بہت بڑاحلقہ یہ سوچنے پرمجبورہورہاہے، ابھی ان کا مطالبہ سامنے نہیں آیاہے کہ لیکن اس حلقےکاخیال ہے کہ جنگیں بند کرانے اور تنازعات کوحل کرانے کے سلسلے میں اقوام متحدہ ایک useless یا بے کارادارہ ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہUNO دنیا کے ممالک کے مابین جنگیں بند کرانے اور تنازعات اورمسائل کوحل کرانے میں مکمل طورپرناکام ہوگئی ہےلہٰذاجو ادارہ جنگیں بند کرانے اور تنازعات کوحل کرانےمیں مکمل طورپرناکام ہوتوپھر ایسےبڑے ادارے کی ضرورت کیا ہے؟ یا تواس ادارےکی ری اسٹرکچرنگ کی جائے، سلامتی کونسل ختم کی جائے اور اقوام متحدہ کانیا آئین بنایاجائے ورنہ موجودہ شکل میں یواین او کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
الطاف حسین
(لندن میںAPMSOکے 47 ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے خطاب)
14جون 2025
اقوام متحدہ جنگیں بند کرانےاور تنازعات اورمسائل کوحل کرانےمیں مکمل طورپرناکام ہوگئی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقوام متحدہ کی ری اسٹرکچرنگ کی جائے، سلامتی کونسل ختم کی جائے اورUN کانیا چارٹر تشکیل دیاجائے
#APMSO47YearWithAltaf
اقوام متحدہ 1945ء میں اپنےقیام کے سے لیکر گزشتہ 80سال میں دنیاکے مختلف ممالک کے مابین ہونے والی کسی بھی جنگ کونہیں رکواسکی،اقوام متحدہ فلسطین اورکشمیرسمیت دنیا کاکوئی بھی بین الاقوامی تنازعہ حل کرانےمیں بھی مکمل طورپر ناکام رہی ہے۔اس صورتحال کی روشنی میں دنیاکا بہت بڑا حلقہ اب اس نتیجے پر پہنچ گیاہے کہ اقوام متحدہ کی ری اسٹرکچرنگ کی جائے،سلامتی کونسل ختم کی جائےاور اقوام متحدہ کانیا منشورتشکیل دیاجائے ورنہ پھر اس ادارے کاکوئی فائدہ نہیں ہے۔
آج کے جدید دور سے پہلے دنیا میں مختلف سلطنتیں قائم تھیں جواپنی طاقت کے ذریعے اپنے جغرافیوں میں اضافہ کرتی تھیں، آج کے کئی ممالک مختلف س��طنتوں کی کالونی بنے ہوئے تھے ۔مختلف سلطنتیں عروج وزوال کاشکارہوئیں۔جس کے بعداپنی طاقت کی برتری ثابت کرنے کے لئے جنگ عظیم اول اورجنگ عظیم دوئم ہوئیں جن میں کروڑوں انسان اورمویشی ہلاک ہوئے ۔ شہرکے شہر تباہ وبربادہوئے ، علاقے مٹی کاڈھیربن گئے۔دنیا کی طاقتورسلطنتیں لڑ لڑکرکمزورہوچکی تھیں، عسکری اور معاشی لحاظ سےتباہ ہوچکی تھیں ۔جس کے بعدانہوں نے طے کیاکہ اب ایساعالمی ادارہ بنایاجائے جوسلطنتوں اور طاقتورممالک کے درمیان جنگوں کوبند کرائے اورممالک کے مابین تنازعات کوبات چیت کے ذریعے حل کرے ۔ لہٰذا اکتوبر1945 ء میں اقوام متحدہ قائم کی گئی۔ اقوام متحدہ کوقائم ہوئے 80سال ہوچکے ہیں۔ان 80برسوں میں دنیا میں جہاں جہاں بھی جنگیں ہوئیں، کیااقوام متحدہ وہ جنگیں بند کرانے میں کامیاب ہوسکی؟
فلسطینی اوراسرائیلی 80 سال سے زائد عرصہ سے ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں لیکن اقوام متحدہ آج تک ان کامسئلہ حل نہیں کراسکی۔اقوام متحدہ نے 1948 میں اسرائیل کوتودنیا کی ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طورپر تسلیم کرلیا لیکن فلسطین کوآج تک ایک آزاد ریاست کادرجہ نہیں دیا گیا۔ اقوام متحدہ کو ایمانداری سے فیصلہ کرتے ہوئے چاہیے تھاکہ ایک طرف اسرائیل کوآزادریاست بنایا تھا تو دوسری طرف فلسطین کو بھی آزاد ریاست کے طورپرڈکلیئرکرتے لیکن ایساعملاً نہیں ہوا۔ اس کامطلب یہ ہےکہ یہیں سے اقوام متحدہ کے وجود کے مقصد کی خلاف ورزی ہوگئی اور اقوام متحدہ کاوجود یہاں سےفیل ہوگیا۔
1948میں اسرائیل کی ریاست وجود میں آنےکےبعد مقبوضہ فلسطین کے علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے مسلسل جارحیت کی جاتی رہی اورجو ظلم مقبوضہ غزہ میں کیا جارہا ہے، کیا UN اسےختم کرانےمیں کامیاب ہوسکی؟
کیا اقوام متحدہ کسی بھی ملک کی آزادی اور علاقائی خودمختاری کوبرقرار رکھنےکےلئے بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی ایک تنازعےکاکوئی فیصلہ کرانےمیں کامیاب ہوئی؟
کیااقوم متحدہ 1947ء سے لیکر آج تک کشمیر کےتنازعے کوحل کراسکی؟
عراق میں صدام حسین کی حکومت وہاں کے عوام کامعاملہ تھا لیکن امریکہ نے طاقت کے بل پر صدام حسین کی حکومت ختم کرکے عراق پر قبضہ کیا لیکن کیااقوام متحدہ عراق پر وہ قبضہ ختم کراسکی؟
لیبیا میں بھی معمرقذافی کی حکومت کے خلاف ایک جعلی احتجاج شروع کرکے اس کی حکومت ختم کرادی گئی، معمرقذافی کو قتل کروادیا گیا،وہاں جو کچھ کیا گیا، کیا UN اسے رکواسکی؟
کیا اقوام متحدہ سوویت یونین اور امریکہ کےدرمیان ہونےوالی افغان وار کو رکوانےمیں کوئی مثبت کردار اداکرسکا؟ کیا اقوام متحدہ روس اوریوکرین جنگ بند کراسکا؟
امریکہ کے صدرڈونلڈ ٹرمپ بار بار یہ کہتے رہےکہ وہ صدربنتے ہی روس اور یوکرین جنگ بندکرادیں گے، کیاوہ یہ جنگ بند کراسکے ؟
کیاامریکہ کے صدرڈونلڈ ٹرمپ اوراقوام متحدہ مل کرروس اوریوکرین کی جنگ بندکراسکے؟
کیااقوام متحدہ غزہ میں جاری بمباری بند کرانے میں کامیاب ہوسکا؟
کیااقوام متحدہ اسرائیل اورایران جنگ بند کراسکا؟
پےدرپےناکامیوں کے بعد دنیاکاایک حلقہ اس نتیجےپر پہنچ گیا ہےکہ یاتو اقوام متحدہ کی ری اسٹرکچرنگ کی جائے اور سیکوریٹی کونسل ختم کی جائے اوراقوام متحدہ کانیا منشور بنایاجائےورنہ اقوام متحدہ کاوجود ہی بے معنی ہے۔ جس اسپتال میں کسی زخمی کی جان بچانے کےلئے مرہم پٹی کرنے کاسامان ہو، وہاں علاج معالجہ کی سہولیات نہ ہوں، وہاں کسی قسم کی کوئی دوائی نہ ہو توایسے اسپتال میں جانےسےکیافائدہ؟ اسی طرح جب United Nations کاادارہ ممالک کے درمیان جنگیں بند نہ کراسکے اورتنازعات حل نہ کراسکےتواس ادارےکاکیا فائدہ ؟ 1/2
اے پی ایم ایس او کے 47ویں یوم تاسیس پر بانی تحریک الطاف حسین کا پیغام
………………………………
#APMSO47YearsWithAltaf
11جون ایک عزم کا نام ہے ۔
11جون ایک شجاعت کا نام ہے ۔
11جون ایک سچائی کا نام ہے ۔
11جون ایک حقانیت کا نام ہے ۔
11جون ایک عزم وحوصلے کا نام ہے ۔
11جون ایک بہادری کا نام ہے ۔
11جون قربانی کا نام ہے ۔
11جون کمزوروں پر ظلم ڈھانے والوں کے خلاف برسرپیکارہونےکا نام ہے ۔
11جون محروم ومظلوم قوم کے اجتماعی حقوق کےلئے اپنےآپ کوقربان کرنے کا نام ہے ۔
11جون قوم کی ایک ایک ماں، بہن،بیٹی کی عزت کرنے کا نام ہے ۔
11جون اپنے بزرگوں اوراساتذہ کااحترام کرنے کا نام ہے۔
11جون سب سے بڑھ کر اپنی تحریک، اپنے نظریہ اوراپنے کاذ سے وفاداری کا نام ہے ۔
میں APMSO کے 47ویں یوم تاسیس پرقوم کی ایک ایک ماں، ایک ایک بہن ، ایک ایک بیٹی، ایک ایک بزرگ، ایک ایک نوجوان، ایک ایک بچے اورخاص طورپر اے پی ایم ایس او کے کارکنوں سمیت تحریک کے تمام کارکنوں کودل کی گہرائیوں سے یوم تاسیس کی مبارکبادپیش کرتاہوں۔
میں رابطہ کمیٹی کے ایک ایک رکن اور اوورسیز یونٹوں کے تمام کارکنوں اور سب سے بڑھ کرپاکستان میں تمام ترنامساعد حالات اورمصائب ومشکلات کے باوجود تحریک کاکام کرنے والے اپنے گمنام اورثابت قدم کارکنوں کی دل کی گہرائیوں سے مبارکبادپیش کرتا ہوں۔
میں تحریک کے تمام اسیرساتھیوں اورلاپتہ ساتھیوں کویوم تاسیس کی مبارکباد پیش کرتاہوں جوبرسوں سے قیدوبند کی اذیتیں اورمصیبتیں برداشت کررہے ہیں اورپھر بھی ثابت قدم ہیں۔
میں آج کے دن تحریک کے تمام شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرتاہوں اوردعاکرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے شہیدساتھیوں کے مقدس لہو اور ثابت قدم ساتھیوں کی قربانیوں کے صدقے ہماری تحریک کوکامیابی سے ہمکنارفرمائے۔
الطاف حسین
(APMSO کے 47ویں یوم تاسیس کے موق�� پر کارکنوں کے اجلاس سے خطاب)
11جون 2025
A MESSAGE FROM ALTAF HUSSAIN – FOUNDER OF #APMSO
ON THE 47TH FOUNDATION DAY OF APMSO
#APMSO47YearsWithAltaf
June 11 – The Spirit of Struggle, Sacrifice, and Loyalty
June 11 is the name of unshakable determination.
June 11 is the name of fearless courage.
June 11 is the name of the unwavering truth.
June 11 is the name of righteous resistance.
June 11 is the name of bravery in the face of injustice.
June 11 is the name of standing tall against the oppressors of the weak.
June 11 is the name of sacrificing personal comfort for collective rights.
June 11 is the name of devotion to the oppressed and deprived nation.
June 11 is the name of honoring every mother, sister, and daughter of our homeland.
June 11 is the name of showing respect to every elder and teacher who shaped our journey.
June 11 is, above all, the name of loyalty—to our movement, to our ideology, and to our mission for justice.
On this historic June 11, marking the 47th Foundation Day of APMSO, I extend heartfelt congratulations to every mother, sister, daughter, elder, youth, and child who has stood with us.
On this June 11, I salute all the workers of APMSO and the movement at large, whose dedication remains unshaken despite all odds.
On this June 11, I congratulate every member of the MQM’s Coordination Committee, every overseas worker, and especially our anonymous heroes who continue their mission in the toughest conditions in Pakistan.
On this June 11, I send my deepest gratitude to our imprisoned and missing comrades who have borne the brunt of torture and captivity, yet remain resilient.
On this June 11, I bow my head in tribute to the martyrs of our movement.
I pray that Almighty Allah grants us success through the sacred blood of our martyred companions and the unwavering sacrifices of our loyal comrades.
ALTAF HUSSAIN.
Address to the workers on the 47th Foundation Day of APMSO.
June 11, 2025.
تحریک اس وقت شدید مالی بحران کاشکار ہے، لہٰذا میں پاکستان سمیت دنیابھرمیں موجود تحریک کے تمام کارکنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اے پی ایم ایس او کے 47 ویں یوم تاسیس کے موقع پر اپنی بساط کے مطابق تحریک کی ہرممکن مالی معاونت کریں اور 5 پاؤنڈ سے 25 پاؤنڈ تک تحریک کے فنڈ میں جمع کرائیں اورتحریک کومالی بحران سے نکالنے کی کوششوں میں اپناحصہ ڈالیں ۔ آپ کے عطیات تحریک کی مالی مشکلات دورکرنے میں معاون و مددگارثابت ہوں گے۔
الطاف حسین
(APMSOکے 47ویں یوم تاسیس کے موقع پرجنرل ورکرزاجلاس سے خطاب)
11جون 2025
انڈیا کے شہراحمد آباد میں بھارتی طیارے کو پیش آنے والا حادثہ نہ صرف انتہائی افسوسناک اور دل خراش ہے بلکہ بہت بڑا سانحہ بھی ہے۔
میں، طیارہ حادثے میں مسافروں اور جہاز کے عملے سمیت مختلف ممالک کے 242 سے زائد شہریوں کے جاں بحق ہونے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ، @narendramodi اور بھارت سمیت مختلف ممالک کی حکومتوں ،ان کےعوام اور جاں بحق ہونے والے تمام افراد کےسوگوارلواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں ۔
میری تمام تر ہمدردیاں اس سانحے میں جاں بحق ہونے والے تمام افرادکےسوگواران کے ساتھ ہیں۔
میں اور میری جماعت @OfficialMQM تمام سوگواران کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور ان کیلئے دعا گو ہیں۔
الطاف حسین
تمام قوموں کوان کے حقوق دیں، کسی کے ساتھ دوسرے تیسرے درے کے شہری جیساسلوک نہ کریں
اے پی ایم ایس او کے 47ویں یوم تاسیس پر خطاب
#APMSO47YearsWithAltaf
……………………………………
اے پی ایم ایس اوکے قیام کے پیچھے محرومیوں اورحق تلفیوں کی طویل داستان ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے مہاجروں کے ساتھ زندگی کے ہرشعبے میں ناانصافیاں کی جارہی تھیں اورطرح طرح سے مہاجروں کے ساتھ نفرت وتعصب کاسلوک کیاجارہاتھا۔اے پی ایم ایس او کے قیام سے قبل کراچی یونیورسٹی میں پاکستان کی تمام ہی قومیتوں کی طلبہ تنظیمیں موجود تھیں جن کی جانب س�� مہاجروںسے نفرت اورتعصب کامظاہرہ کیاجاتا تھا۔
ہم نے نفرت وتعصب کے اس ماحول میں مہاجرطلباء کے ساتھ ناانصافیوں اوران کی حق تلفیوں ک�� خلاف جدوجہدکرنے کے لئے 11جون 1978ء کوجامعہ کراچی میں آل پاکستان مہاجراسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (APMSO) قائم کی ۔
اے پی ایم ایس او کے قیام کے بعد ہم نے کراچی یونیورسٹی کے طلباء یونین کے انتخابات میں حصہ لیا۔ہم نے 1979ء میں 90 اور1980 کے یونین الیکشن میں 900 ووٹ حاصل کئے ،طلبہ میں APMSO کی مقبولیت بڑھ رہی تھی جس کے پیش نظر صاف نظرآرہاتھاکہ اگلے یونین الیکشن میں APMSO ہزاروں ووٹ حاصل کرتی لیکن 3فروری 1981ء کوجماعت اسلامی کی طلباء تنظیم اسلامی جمعیت طلباکے تھنڈراسکواڈ نے APMSO کے اسٹالز پر حملہ کردیا۔ ہمارے کارکنوں اور طالبات تک کو تشددکا نشانہ بنایاگیا۔ گن پوائنٹ پر ہم پر جامعہ کراچی اور��یگرتمام تعلیمی اداروں کے دروازے بندکردیے گئے۔ جس کے بعد ہم نے علاقوں میں اپناپیغام پھیلاناشروع کردیا۔ ہم نے مہاجرطلبہ کی اس تنظیم کادائرہ عوامی سطح پربڑھاتے ہوئے 18مارچ1984ء کو مہاجرقومی موومنٹ قائم کی ۔ا س طرح ایک طلبہ تنظیم نے ایک عوامی جماعت کو جنم دیا۔ APMSO کے آٹھویں سالانہ کنونشن پر 8،اگست 1986ء کومہاجر قومی موومنٹ نے کراچی کے نشترپارک میں ایک تاریخی جلسہ کیاجونشترپارک کی تاریخ کا سب سے بڑاجلسہ تھا۔
ایم کیوایم نے1987ء میں پہلی مرتبہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا، کراچی اورحیدرآباد میں ایم کیوایم کے میئرز اورڈپٹی میئرز بلامقابلہ کامیاب ہوئے ۔اوریوں جس اسلامی جمعیت طلبہ اور اس کی جماعت اسلامی نے ہمیں 1981ء میں جامعہ کراچی اوردیگر تعلیمی اداروں سے نکالاتھا ،ہم نے عوامی حمایت سے اس جمعیت اورجماعت اسلامی کو کراچی اورحیدرآباد سے نکال دیا ۔
جس کےبعد ایم کیوایم نے 1988ء میں پہلی مرتبہ عام انتخابات میں حصہ لیا اورملک کی تیسری بڑی جماعت بنکر ابھری۔ ایم کیوایم نے ملک کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو اسمبلیوں میں بھیج کر ایک سیاسی انقلاب برپاکیا۔ اسے دیکھ کر پورے ملک سے غریب ومتوسط طبقہ کے پنجابی، پختون،بلوچ، سندھی، سرائیکی، کشمیری عوام نے ایم کیوایم سے رابطے شروع کئے کہ ان کے علاقوں میں بھی ایم کیوایم قائم کی جائے۔ میں نے پاکستان میں رائج فرسودہ جاگیردارانہ نظام کوبدلنے اور ملک سے جاری اسٹیٹس کو توڑنے کےلئے مہاجرقومی موومنٹ کادائرہ پورے ملک میں پھیلانےکے لئے اسے متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کرنے کااعلان کیاتو فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ نظام اور اسٹیٹس کی محافظ سول اورفوجی اشرافیہ نے ایم کیوایم کواپنے لئے بہت بڑاخطرہ تصورکیا، وہ نہیں چاہتے تھے کہ کراچی ،حیدرآباد،سکھر،میرپورخاص اوردیگرشہری علاقوں کی طرح پورے ملک سے غریب ومتوسط طبقہ کے پڑھے لکھے نوجوان اسمبلیوں میں پہنچیں لہٰذا انہوں نے ایم کیوایم کوکچلنے کےلئے اس کےخلاف 19جون 1992ء کوفوجی آپریشن شروع کردیااورہم پرریاستی ظلم وستم کے پہاڑتوڑے گئے، ہم نے پھربھی ہمت نہیں ہاری، اپنی جدوجہد جاری رکھی ��ور26جولائی 1997ء کومہاجر قومی موومنٹ کومتحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کردیااورتمام قومیتوں کے نوجوانوں کوایم کیوایم میں شامل کیا۔ پورےملک میں ایم کیوایم کے یونٹس قائم کئے، پورے ملک میں تمام قومیتوں کے عوام ایم کیوایم میں شامل ہونے لگے، نائن زیرو پر تمام قومیتوں کے نمائندوں پر مشتمل ان کے دفاترقائم کئےگئے۔ ایم کیوایم ملک کے نظام کی تبدیلی اور اسٹیٹس کوکے خاتمہ کے لئے تمام غریب ومظلوم عوام کی امیدوں کامرکز بنی تو ایم کیوایم کوکئی گروپوں میں تقسیم کرنے اورکئی جعلی ایم کیوایم بنانے کاعمل کیاگیا،2016ء میں ایم کیوایم پربہت بڑاوار کیا،ایم کیوایم پرپابندی لگادی، اس کے مرکز نائن زیرو کوتال الگادیااورایم کیوایم پر ظلم وستم کے پہاڑتوڑنے کانیا سلسلہ شروع کردیا۔
1/2
https://t.co/OO5qcBXHnB
The tragic incident involving an Indian airplane in the city of Ahmedabad, Gujrat is deeply saddening and profoundly distressing.
It is not only a heartbreaking incident but also a major calamity.
I, Altaf Hussain, founder of the @OfficialMQM , extend my heartfelt condolences and sincere sympathies to the Prime Minister of India, Mr Narendra Modi, @narendramodi the government and citizens of India and other affected countries, and especially to the families of all those who lost their lives.
More than 200 individuals, including passengers and crew members from various nations, have perished in the unfortunate disaster.
My thoughts and deepest sympathies are with the bereaved families who have suffered unimaginable loss in the tragedy.
I, along with my party, the Muttahida Qaumi Movement (MQM), stand in full solidarity with all those in mourning and offer our prayers for strength, patience, and healing.
Altaf Hussain
On the auspicious occasion of Eid Al Adha, I extend my sincerest felicitations to all devoted comrades, steadfast sympathisers, and to the people of Pakistan and the international community.
#EidulAdha2025#عيد_الأضحى_المبارك
As Muslims across the world commemorate the sacred tradition of Prophet Ibrahim (peace be upon him) by offering sacrifices, this solemn act stands as a timeless symbol of unwavering devotion, submission to divine will, and the ultimate readiness to forsake even the dearest possessions in the pursuit of truth and righteousness. It is a powerful testament to the spirit of altruism and moral resilience.
This Eid, I earnestly urge you to honour the memory of the martyrs of our movement, and to extend your compassion to the families of our missing and incarcerated workers, as well as to all those who live in deprivation and despair. Share your joy with those who have endured the brunt of injustice and suffering, for true celebration is found in empathy and solidarity.
May Allah Almighty, through His infinite mercy and unseen grace, bestow relief upon all those afflicted by tyranny, hardship, and oppression.
May Allah Almighty emancipate them from their trials and tribulations, so they too may bask in the blessings and jubilations of Eid.
Ameen.
Altaf Hussain
For the sake of humanity, the Israeli bombardment of #Gaza must be stopped immediately.
#GazaGenocide
Urgent international action is needed to ensure the delivery of food, water, medicine, and protection to the oppressed #Palestinians, especially the innocent children.
Today, the world observes the International Day of Innocent Children Victims of Aggression, a solemn reminder that every child, regardless of nationality or faith, deserves safety, compassion, and access to life’s basic necessities. Yet, the harsh reality in occupied Gaza tells a different story.
Thousands of Palestinian children have already been martyred in relentless Israeli airstrikes. Thousands more are gravely injured, fighting for their lives without access to adequate medical care. Millions of children are facing extreme shortages of food, clean water, and essential medicines. They are running from one place to another in desperate search of aid only to face more bombings even amidst their suffering.
This is not just a humanitarian crisis—it is a tragedy of unimaginable scale. Each passing day sees dozens more innocent children perish under a rain of bombs. Their small bodies lie buried under rubble; their cries for help echo in silence.
If there is any region in the world today where peace, protection, and urgent aid are needed the most, it is Gaza. And yet, on this day meant to honor and protect children affected by aggression, the global community remains largely silent on the plight of Palestinian children.
I appeal directly to @UN Secretary-General @antonioguterres and to the entire international community:
In the name of humanity, act now.
End the Israeli bombardment of Gaza.
Ensure immediate access to food, water, medicines, and life-saving aid for the oppressed people of Gaza, especially its vulnerable and suffering children.
Let us not allow another child’s life to be lost in silence.
Altaf Hussain.
Message on the International Day of Innocent Children, Victims of Aggression
تمام وفا پرست کارکنوں، ہمدردوں اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے عوام کو عید الاضحیٰ مبارک ہو ۔
#عيد_الاضحى_المبارك#عيد_الأضحى_المبارك#EidAlAdha2025#عیدالاضحیٰ کے موقع پر دنیا بھر کے مسلمان سنؔتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ یہ قربانی ہمیں خدا کی رضا کے لئے حق کی راہ میں بڑی سے بڑی قربانی دینے کا پیغام دیتی ہے۔
میں تمام کارکنوں، ہمدردوں اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے عوام کو عید الاضحیٰ کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان سےکہتا ہوں کہ وہ عید الاضحیٰ کے موقع پر تحریک کے شہیدوں، لاپتہ اور اسیر کارکنان کے اہل خانہ اور دیگرضرورتمندوں کو بھی اپنی خوشیوں میں ضرور یاد رکھیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصیبتوں، پریشانیوں میں مبتلا اور ظلم وجبر کا شکار عوام کی غیب سے مدد فرمائے اور انہیں تمام مصائب و مشکلات اور پریشانیوں سے نجات دلائے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیاں مناسکیں۔ آمین ثمہ آمین
آج جارحیت سے متاثرہ بچوں کا عالمی دن منایاجارہاہے۔یقینا پوری دنیا کے بچے تحفظ ، توجہ اورزندگی کی تمام بنیادی سہولتوں کے حقدار ہیں۔ لیکن یہ المیہ ہے کہ مقبوضہ غزہ کےہزاروں بچے اسرائیلی بمباری کانشانہ بن کرشہیدہوچکے ہیں، ہزاروں زخمی ہوکر موت اورزندگی کی کشمکش میں مبتلاہیں جبکہ غزہ کے لاکھوں بچے آج خوراک، پانی اوردوائیوں کوترس رہے ہیں۔ وہ امداد کے لئے ادھرادھربھاگ رہے ہیں لیکن اس حالت میں بھی ان پر اسرائیل کی جانب سے بمباری کی جارہی ہے اور روزانہ درجنوں بچے شہید ہورہے ہیں۔اس وقت پوری دنیا میں خوراک، پانی ادویات، امن وسکون اورتحفظ کی س�� سے زیادہ ضرورت غزہ کے بچوں کوہے۔ آج جارحیت سے متاثرہ بچوں کا عالمی دن تو منایا جارہاہےلیکن افسوس کہ غزہ کے مظلوم فلسطینی بچوں کےلئے عالمی سطح پرکوئی متفقہ آواز بلند نہیں ہورہی ہے۔
میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹونیو گوٹریس اورپوری پوری عالمی برادری سے انسانیت کے نام پر اپیل کرتاہوں کہ خدارا غزہ پراسرائیلی بمباری بندکرائی جائے اوروہاں کے مظلوم فلسطینیوں خصوصاً بچوں کو خوراک، پانی ،ادویات کی فراہمی اورجانوں کے تحفظ کے لئے ہنگامی بنیادوںپر اقدامات کئے جائیں۔
الطاف حسین
جارحیت سے متاثرہ بچوں کے عالمی دن کے موقع پر پیغام
@antonioguterres @WFP @UN
#GazaGenocide
#ملیر_جیل_ٹوٹی_نہیں_تڑوائی_گئی
کراچی کی ملیر جیل کے ٹوٹنے کے واقعے پر میرا تبصرہ یہ ہے کہ ملیر جیل زلزلے کے باعث نہیں ٹوٹی بلکہ تڑوائی گئی ہے۔
جیل توڑنا یا تڑوانا پیپلزپارٹی کی حکومت کا خاصہ رہا ہے اور 2 جون 2025 کو ملیر جیل تڑوانے میں بھی پیپلزپارٹی کی حکومت کے بڑے بڑے ہاتھ ملوث ہیں اور اس میں ملیر جیل کے حکام بھی پیپلزپارٹی کی حکومت کے معاونین کی حیثیت سے شامل ہیں۔ پاکستان کی جیلوں میں قید سزا یافتہ قیدی یا برسوں سے جیلوں میں اسیر قیدی اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ جیل کا توڑنا کسی ایک فرد یا چند آدمیوں کا کام نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ انہیں جیل حکام اور حکومت وقت کی مدد ��اصل نہ ہو۔
بعض اطلاعات کے مطابق حکومت کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ جیل توڑنے کا منصوبہ حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران بنایا گیا تھا جس میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے اہم ارکان اور جیل کے عملے نے یہ کام سرانجام دیا ہے اور اب عوام کو گمراہ کرنے کے لئے یہ کہا جارہا ہے کہ جیل زلزلے کے باعث ٹوٹی ہے۔ اس طرح جیل ٹوٹنے کا الزام نعوذ بااللہ اللہ تعالیٰ پر لگادیا گیا ہے۔
جیل کے قیدی بخوبی جانتے ہیں کہ جیل کی دیواریں بہت اونچی اور م��بوط ہوتی ہیں جبکہ اطراف کے گھروں کی دیواریں اتنی اونچی یا مضبوط نہیں ہوتیں۔ توجب زلزلے کے باعث کسی گھر کی دیوار نہیں ٹوٹی تو جیل کیسے متاثر ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں میں پیپلزپارٹی کے تربیت یافتہ انتہائی خطرناک دہشت گرد بھی شامل ہیں۔
میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ملیر جیل ٹوٹنے کے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائے اور واقعے کے ذمہ داروں کو عبرتناک سزا دی جائے۔ جو بھی تحقیقاتی کمیٹی جیل ٹوٹنے کی تحقیقات کرے وہ اس بات کی تحیقات ضرور کرے کہ جیل حکام جیل ٹوٹنے کے کئی گھنٹوں بعد جیل کیوں پہنچے؟ و��قعے کے ذمہ داروں کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے ۔
الطاف حسین
2 جون 2025
پاکستان کو خطرات سےبچانےکےلئےملک کے اعلیٰ فوجی حکام اورحکمراں ارباب اختیارکو MQM کےقائد الطاف حسین کا پیغام:
جنگ ختم نہیں ہوئی،انڈیا دوبارہ حملہ کرنے کےپرتول رہاہے،وقت کا تقاضہ ہےعمران خان سمیت PTI اور MQM کےتمام سیاسی کارکنوں کو رہا کیاجائے اورملکر سوچیں ہم ملک کی حفاظت کیسےکریں