مجھے پولیس کی گاڑیوں کے سکواڈ میں شفا انٹرنیشنل ہاسپٹل لے جایا گیا اور ایک کمرے میں بٹھا دیا گیا ، مجھے کہا گیا کہ کچھ دیر میں عمران خان آ جائیں گے، ڈھائی تین گھنٹے کے انتظار کے بعد مجھے کہا گیا کہ عمران خان نہیں پہنچ پائے ، ان کو واپس اڈیالہ منتقل کردیا گیا ہے تو ہمیں بھی جانا ہوگا اور یوں مجھے ساڑھے چار واپس اڈیالہ پہنچا دیا گیا ، جب میں وہاں پہنچا تو ڈاکٹر عظمیٰ ایک اور گاڑی سے اتریں، انہوں نے بتایا کہ ہمیں پمز لے گئے تھے ، میں نے بتایا کہ مجھے شفا انٹرنیشنل لے گئے تھے ، ڈاکٹر فیصل سلطان
عمران خان کو دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا اس دوران کیا میڈیکل بورڈ نے چیک اپ کر لیا ؟ ٹیسٹ ہو گئے یا نہیں ؟؟ اس حوالے سے رپورٹس سپریم کورٹ کے سامنے آئے گئیں تو ہی پتہ چلے گا
عمران خان پر پابندی ہے کہ جیل سے سیاست نہیں کر سکتے، جب شہباز شریف کو کوٹ لکھپت سے نیب عدالت لایا جاتا تھا تو پانچ منٹ کی سماعت کے بعد جب تاریخ پڑ جاتے تھی اور شہباز شریف جج صاحب سے کہتے تھے عملے کو حکم دیں کہ مجھے ابھی واپس نہ لے جائیں مجھے اپنے رفقا سے بات چیت کرنی ہے۔ پھر عدالت کے حکم پر وہ دو گھنٹے تک سیاسی میٹنگز کمرہ عدالت میں کرتے تھے
یہ وہ صحافی ہیں جو گزشتہ روز عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق فیصلہ سنائے جاتے وقت خود کمرۂ عدالت میں موجود تھے۔ انہوں نے جو کچھ سن کر رپورٹ کیا، تحریری حکم نامے نے حرف بہ حرف اس کی تصدیق کی۔ یہ ’فارورڈڈ ایز ریسیوڈ‘ والی زرد صحافت کرنے والے لوگ نہیں۔
یہ کسی کے پے رول پر فرمائشی خبریں نہیں بناتے، اسی لیے نہ انہیں 'تمغۂ امتیاز' ملتا ہے اور نہ ہی انہیں اس کی طلب ہے۔ یہ پورا دن عدالتوں کی کارروائی دیکھتے، سنتے اور تحریری فیصلوں کا مطالعہ کر کے حقائق عوام تک پہنچاتے ہیں۔ کل کچھ کالی بھیڑوں نے انہیں جھوٹا کہا اور ایک مخصوص سیاسی جماعت سے جوڑنے کی کوشش کی، مگر جب اپنا ہی جھوٹ ثابت ہو گیا تو معافی مانگنے کی اخلاقی جرات بھی نہ دکھا سکے۔مجھے فخر ہے کہ یہ سب میرے کولیگ ہیں، میں ان کے ساتھ کام کرتا ہوں اور ان سے سیکھتا ہوں۔ ان کی صحافت کاسہ لیس صحافیوں پر بھاری ہے۔
اگر عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں 14 سال قید کی سزا ملی تو کیا نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں سات سال قید کی سزا نہیں ملی تھی؟ کیا اس سزا کے باوجود عدالتوں نے نواز شریف کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا؟کیا انہی عدالتوں نے کچھ میڈیکل رپورٹس کو سامنے رکھتے ہوئے نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی تھی؟ کیا اس سے پہلے کوئی ایسی مثال موجود تھی کہ کسی سزایافتہ مجرم کو علاج کیلئے لندن جانے کی اجازت مل گئی؟ " حامد میر کا کالم
@HamidMirPAK
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan #ImranKhan #NawazSharif
دن سے رات اور پھر رات سے صبح ہو گئی۔ن لیگ اپنے اندر ہمت اور گریس پیدا کرنے میں ناکام رہی۔ ابھی تک خوف زدہ ہے۔ ادھر ادھر سے کافی تسلیاں پہنچائی گئی ہیں کہ سب ٹھیک ہے۔ علاج کے بعد واپس بھیج دیں گے۔ حکومت کو خطرہ نہیں کیکن ابھی تک وہ پاؤں سے لپٹ کر بیٹھی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کیاہوتا ہے: ثمینہ پاشا
@pasha_samina
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد اور آڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان، جو وفاقی حکومت کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں، ان دونوں نے عمران خان صاحب کو ہسپتال منتقل کرنے اور ہسپتال منتقل کر کے ان کا پراپر علاج کروانے کی بھرپور مخالفت کی جو کہ بہت افسوسناک ہے۔ یہ ان کی ذات کا مسئلہ نہیں ہے، ان کو وفاقی حکومت کی ہدایات تھیں۔ اس سے زیادہ کم ظرفی اور نیچ پن نہیں ہو سکتا۔ صدیق جان
@SdqJaan
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan #ImranKhan
یہ اصل خبر بالکل نہیں بلکہ اصل فیک خبر ہے، کیونکہ عدالت میں تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان اور ایڈوکیٹ جنرل نوید ملک نے نہ صرف کھل کر مخالفت کی بلکہ جب عدالت اس فیصلے کی جانب بڑھنے لگی تو دونوں لا افسران نے کہا کہ ہمیں تو درخواستوں پر نوٹس نہیں ہوا۔وسیم ملک
@iwaseemmalik
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan #ImranKhan
ملک کا سب سے زیادہ مقبول اور بڑ ا لیڈر اس حال کو کیونکر پہنچا کہ اسے علاج کے لیے ھسپتال منتقل کرنا پڑا۔خان کی صحت قابل رشک تھی جب وہ گرفتار ہوئے۔خان کی میڈیکل صورتحال کو چھپانے کی کوشش اور شرط کیوں لگائی گئی ہے، قوم سے کیا چھپنانا مقصود ہے