FAK Commander Baseer, mastermind of the 30 Sept 2025 attack on FC (North) Balochistan Headquarters Quetta, has been eliminated in a major intelligence-based operation by Security Forces.
Baseer had remained at large despite elimination of 15 khawarij linked to the attack in previous operations. His hideout in Shaban was earlier targeted on 14/15 May, where 33 khawarij were eliminated.
On 20 May, Security Forces finally tracked and eliminated Baseer, while one of his accomplices was apprehended alive.
Baseer, son of terrorist Noorullah of Gulistan, Chaman, was also involved in suicide attacks, assaults on FC posts, and quadcopter activity against Security Forces.
سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی خاران میں دہشت گردوں کی ناکہ بندی اور بھتہ خوری کی کوشش ناکام ، دہشت گردوں کے جہنم واصل ہونے کی اطلاعات
سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے خاران میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی جانب سے ناکہ بندی لگا کر بھتہ خوری اور بلوچ عوام کو لوٹنے کی کوشش ناکام بنا دی۔ سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے، دہشت گردوں کے جہنم واصل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
🚨 🚨
بریکنگ نیوز: پی ٹی آئی اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب!
افغانستان میں بیٹھے خوارجی سرغنہ 'بادشاہ' اور جنوبی وزیرستان کے 'راکٹی' کی آڈیو لیک نے سچائی سامنے لا دی۔ پی ٹی آئی کے ایم پی اے آصف محسود کو "اپنا بندہ" قرار دے کر بھتے اور اغوا سے روک دیا گیا۔ یہ سیاسی سرپرستی نہیں تو اور کیا ہے؟
#AudioLeak #KPKPolitics #PTTOfficial
🚨 پی ٹی آئی کے ایم پی اے کو دہشت گردوں کا تحفظ۔۔‼️
خوارج نے خود کہا: “آصف محسود ہمارا بندہ ہے، اسے چھوڑ دو”
جنوبی وزیرستان کے خوارجی راکٹی کو افغانستان سے حکم ملا کہ پی ٹی آئی کے ایم پی اے آصف محسود سے بھتہ نہ لیا جائے اور اغوا نہ کیا جائے۔
یہ آڈیو لیک اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر رہی ہے کہ پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کو جو سیاسی جگہ دی ہے، اب وہ انہیں اپنا حامی سمجھ رہے ہیں۔
ٹی ٹی پی اور تحریک انصاف کا یارانہ بے نقاب 🔥
جب پی ٹی آئی کے MPA آصف محسود کو ٹی ٹی پی کے بھتے کا پرچہ ملا اور تلاشی لی گئی، تو افغانستان سے خوارجی سرغنہ کا فون آتا ہے کہ اس کو ہاتھ نہیں لگانا، وہ اپنا بندہ ہے، اسے چھوڑو اور الٹا معذرت کرو۔ یعنی صوبے کی غریب عوام تو دن رات ان خارجیوں کے ہاتھوں بھتہ اور بدامنی کا عذاب بھگتے اور PTI والوں کو 'اپنا بندہ' ہونے پر VIP چھوٹ ملی ہوئی ہو؟ یہ تو سیدھا ملک دشمنوں کے ساتھ یارانہ ہے جو بے نقاب ہو چکا ہے اور اب سیاست کے نام پر دہشت گردوں کی سہولت کاری کرنے والے نہیں بچیں گے۔
اپڈیٹ:
شمالی وزیرستان: شیوا اور بوبلی گاؤں میں مزید 8 دہشتگرد ہلاک، جس کے بعد ہلاک دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 30 ہو گئی:
آپریشن کے دوران 2 مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا، جبکہ خوارج کے مرکز اور زیرِ زمین بنکرز کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
دہشتگردوں کے خلاف سرچ اینڈ ہنٹ آپریشن تاحال جاری ہے
🔴🔴بلوچستان سے متعلق معاملات کو محض محرومی یا پسماندگی کا مسئلہ قرار دینا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ اصل چیلنج وہ مسلح دہشت گرد عناصر ہیں جو بیرونی ایجنڈوں کے تحت خوف، خونریزی اور تشدد کے ذریعے اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ یہ گروہ نہ سیاسی نمائندے ہیں اور نہ ہی بلوچ عوام کے حقیقی ترجمان، بلکہ بندوق اور بارود کے ذریعے ریاست اور معاشرے کو یرغمال بنانے کی کوشش کرنے والے دہشت گرد ہیں۔ دہشت گردوں کا کسی قومیت مذہب ملت ، بلوچ روایات، غیرت، مہمان نوازی اور قومی اقدار کا ان کے طرزِ عمل سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ معصوم نوجوانوں، بچوں اور خواتین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا کسی بھی مہذب روایت اور ثقافت کے خلاف ہے۔
یہ بارہا کہا گیا کہ ہتھیار چھوڑ کر قومی دھارے میں واپس آنے والوں کے لیے امن اور عام معافی کے دروازے کھلے ہیں، مگر دوبارہ تشدد اور دہشت گردی کا راستہ اختیار کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رکھنے کا عزم اس بات کی علامت ہے کہ ماضی کی نرم یا مفاہمتی پالیسیوں کے بجائے اب زیرو ٹالرنس کی حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے۔ سرحد پار سے دہشت گرد گروہوں کو ملنے والی پناہ اور معاونت کے تناظر میں بھی ریاستی ردعمل پہلے سے زیادہ منظم، فعال اور سخت ہو چکا ہے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے اہم پہلو قومی یکجہتی اور دہشت گردوں کے خلاف ہر محاذ پہ اتفاق و یگانگت ہے ۔ بلوچستان چند مسلح عناصر کا نہیں بلکہ کروڑوں محبِ وطن شہریوں کا صوبہ ہے، جہاں بلوچ، پختون، پنجابی، سندھی، براہوی، ہزارہ اور دیگر تمام قومیتیں ایک مشترکہ قومی شناخت کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ دہشت گردی کسی ایک علاقے یا قوم کے خلاف نہیں بلکہ پورے ملک کے امن، استحکام اور مستقبل پر حملہ ہے۔ جب قوم متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہوتی ہے تو کوئی دشمن اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
#Balochistan
#BLA
#TTP
#Terrorism
#FAH
بے روزگار جتھا ایک بار پھر اسلام آباد پر حملہ آور۔۔۔۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی، بے روزگاری اور بدامنی اپنے عروج پر ہے، مگر اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک بار پھر اسلام آباد کا رخ کیا گیا۔
سہیل آفریدی اپنی ناقص کارکردگی چھپانے کے لیے سیاسی ڈرامہ بازی میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے کارکنان پر فائرنگ کے دعوے بھی موقع پر موجود صحافیوں نے مسترد کر دیے۔ مبینہ “گولیوں” کی کہانی صرف راہِ فرار اور فیس سیونگ کی کوشش ثابت ہوئی۔
علیمہ خان اور نورین خان حالات کو مزید خراب کرنے میں مصروف رہیں، جبکہ دوسری جانب دس گھنٹے تک سڑکیں بند کر کے لاکھوں شہریوں کو اذیت میں مبتلا کیا گیا۔ ایمبولینسز کا راستہ روکا گیا، طلبہ، مریض اور عام عوام شدید مشکلات کا شکار رہے۔
پنجاب کے عوام نے جب ان کی کال کو رد کر دیا تو اس شرپسند گروہ نے راستے بدل کر اہم شاہراہیں بند کر دیں۔ مردان اور صوابی سے آنے والے مریض گھنٹوں تاخیر کے بعد ہسپتال پہنچ سکے۔
یہ سیاست نہیں، عوام دشمنی ہے۔
سہیل آفریدی سے اپنے صوبے میں امن اور روزگار کی صورتحال سنبھالی نہیں جا رہی اور شوق چیک کرو کہ چلے ہیں اسلام آباد فتح کرنے۔ ان کو جب دوسرے صوبوں کی عوام نے لفٹ ہی نہیں کرائی، تو انہوں نے اپنی خفت مٹانے کے لیے راستے بند کر دیے۔
روڈ بند کر کے ریاست کے نام پر لاکھوں شہریوں کو یرغمال بنانا اور ایمبولینسز روک کر مریضوں کو 10، 10 گھنٹے سڑکوں پر تڑپانا کہاں کا انصاف ہے؟ اور وہ جو "گولیاں چل گئیں" کا سستا اسکرپٹ تھا نا، وہ میڈیا نے لائیو کیمروں پر سیکنڈوں میں بے نقاب کر دیا۔ جب دیکھا کہ دال نہیں گلنے والی، تو Face Saving کے لیے گولیوں کا ڈرامہ رچایا اور لیڈرشپ خود پتلی گلی سے نو دو گیارہ ہو گئی۔
اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لیے عوام کو خوار کرنا بند کریں اور عوام پر رحم کھائیں۔
@SohailAfridiISF@PTIofficial
🚨🚨
یہ سیاست نہیں بلکہ عوام دشمنی ہے۔ 💯
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور بے روزگاری عروج پر، مگر ناکامی چھپانے کیلئے ایک بار پھر اسلام آباد میں سیاسی ڈرامہ کیا گیا۔ سڑکیں بند کر کے عوام، طلبا اور مریضوں کو شدید مشکلات میں ڈالا گیا۔ 🚨⚠️
‼️ صوبہ جل رہا ہے، مگر وزیراعلیٰ اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے ہیں!
ناکامی کا سب سے نیا حربہ۔
دہشت گردی عروج پر ہے، بے روزگاری نے نوجوانوں کو گھر بیٹھا دیا ہے، مگر سہیل آفریدی کی ترجیح احتجاجی سیاست اور سڑکیں بلاک کرنا ہے۔ پی ٹی آئی نے “فائرنگ” کا ڈرامہ بھی رچایا جو صحافیوں نے خود مسترد کر دیا۔ یہ عوام دشمنی ہے، حکمرانی نہیں۔
سیاست کے نام پر راستوں کی بندش اور شرپسندی افسوسناک ہے۔ علیمہ خانم اور سہیل آفریدی کے اس احتجاج نے 10 گھنٹے تک عوام، طلبہ اور مریضوں کو شدید مصیبت میں مبتلا رکھا۔ ایمبولینسز کا راستہ روکنے سے صوابی اور مردان کے مریض ہسپتالوں تک پہنچنے کے لیے خوار ہوتے رہے۔ یہ کیسی سیاست ہے؟
#pti
علیمہ خان اور نورین خان کا نیا کھیل..‼️
ناکام حکومت کی ناکامی چھپانے کے لیے سڑکیں بند، عوام پریشان۔
دہشت گردی اور بے روزگاری سے بھرے خیبر پختونخوا کو چھوڑ کر یہ دونوں اسلام آباد آ کر ہائی وے بلاک کر رہی ہیں۔ مریضوں کا راستہ روکا جا رہا ہے، لوگ گھنٹوں پھنسے ہوئے ہیں۔
علیمہ اور نورین، شرم کرو!
یہ بے روزگاروں کا “انقلابی” ٹولہ پھر اسلام آباد پر چڑھ دوڑا، سہیل آفریدی صاحب نالائقی کی دھول چھپانے کیلئے ڈرامہ رچا رہے ہیں۔ پختونخوا میں دہشتگردی اور بدامنی عروج پر ہے، مگر یہ لوگ راہوں پر ایمبولینسز روک کر مریضوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ گولیوں والا سٹنٹ فیس سیونگ کیلئے تھا، صحافیوں نے تو بے نقاب کر دیا۔ پنجاب نے ٹھکرا دیا تو روٹ بدل کر عوام کو دس گھنٹے عذاب میں ڈالا۔ علیمہ اور نورین کا “سیاست” بس لوگوں کی زندگیاں تباہ کرنا ہے، کیا شرم نام کی کوئی چیز باقی رہی ہے ان لوگوں میں؟
@SohailAfridiISF@Aleema_KhanPK@noreen_khanum
#PakistanForPeace
صحافی طیب بلوچ کے سوال پر سہیل آفریدی دم دبا کر بھاگ گیا۔۔۔
جب چکری کا روٹ طے تھا تو 26 نمبر کیوں آئے؟
کیا پھر جی ایچ کیو کے سامنے سے گزرنے کا منصوبہ تھا؟