ہنہ، ہرنائی، زیارت میں لوگ قتل ہوئے۔ نا کسی تحصیلدار، نا کسی اے سی، نا کسی ڈی سی، نا کسی سیکرٹری داخلہ، نا چیف سیکرٹری، نا وزیر اعلی نے استعفی دیا۔ نا کسی کو نوکری سے نکالا گیا نا کسی کو اس کا زمہ دار ٹہرایا گیا۔
یہ مذاق ہے ہمارے عوام کے ساتھ۔
@Sarawaan1 It means u people go the right to loot passengers and kill females/children ?
At least condemn what's going on in your areas in the name of liberation.
پاکستان میں پشتونوں کی زندگی مشکل میں پڑ گئی ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ 29،30 اور 31 اگست کو جنوبی پشتونخوا کے پشتونوں کا کوئٹہ میں جرگہ بلا رہے ہیں۔
دوستوں سے مشورہ کرکے شاید ستمبر یا اکتوبر میں تمام پشتونوں کا جرگہ بلائیں۔
ہمارے لوگوں کی جدی پشتی ہزاروں ایکڑ زمینیں لوگوں کو الاٹ کی جارہی ہے۔
گوادر میں آپ کہتے ہیں کہ غیر مقامی لوگوں کے آلاٹمنٹس کینسل کی جائیں پھر آپ یہاں یہی کام کیوں کر رہے ہے؟
پشتونخوامیپ ان ناجائز آلاٹمنٹس کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔
کوئٹہ کراچی شاہراہ پر لوگوں کو بسوں سے اتار کر مارا جارہا ہے، بسیں جلائی جا رہی ہے، عورتوں کو مارا جارہا ہے۔ کوئی زمہ داری قبول نہیں کرتا۔
آپ آزادی کے متوالے ہیں تو آپ کی زمہ واری بنتی ہے کہ آپ کے علاقے میں کوئی بدمعاشی نا کریں۔
بلوچ گروہوں اور ریاست کے درمیان لڑائی میں دونوں جانب سے شدت آئی ہے۔ ہم اس پر کچھ نہیں کہہ سکتے، انہوں نے اپنے لئے یہی راستہ چنا ہوگا لیکن اس کا یہاں رہنے والے پشتونوں پر خطرناک اثرات پڑے ہیں۔ نا ہمارے لوگوں کی گاڈیاں محفوظ ہے، نا عزتیں محفوظ ہے۔ سینکڑوں کوئلے کے مزدور قتل ہوئے
ہم بلوچ بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہم کمزور ہی سہی، لیکن اپنے علاقے میں نہ کسی گاڑی کو جلنے دیں گے، نہ بچوں اور خواتین پر کسی کو حملہ کرنے دیں گے، محمود خان اچکزئی
https://t.co/MDYljaSQIY
#Balochistan
@BhagatSinghone The same way, as from sarkari baloch to qabaili baloch to BYC remain silent on burning of trucks and vehicles belonging to pashtuns in baloch areas.
تربت: کلاتوک کے مقام پر مند ٹو بلیدہ روڈ کی تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار کی گاڑی کو دہشتگردوں نے نشانہ بنایا۔ ٹھیکیدار سمیت 2 افراد شہید جبکہ 1 زخمی بتایا جارہا ہے۔ تینوں پشتون تھے
#Turbat#Balochistan
"آج تک ہمیں کوئی بلوچ ملا، کوئی بلوچ کمیونسٹ، کوئی بلوچ قوم پرست، کوئی بلوچ دانشور یا کوئی بلوچ بیوروکریٹ ایسا نہیں ملا جس نے مردم شماری اور انتظامی جغرافیائی بنیادوں پر پشتونوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کو تسلیم کیا ہو۔ یہ بھائی چارہ ہے یا دشمنی؟"
یعنی پشتون اپنے ساتھ ہونے والے ظلم اور زیادتی پر خاموش رہیں...!!!
اگر پشتون ظلم کے خلاف بولیں گے تو اس سے تعصب اور نفرت پھیلے گا. بی ایل اے کے دہشتگردوں کے حمایتیوں کا منطق
"گاڑی روک دی گئی۔ ہمارے ہی روڈ پر ہمارے غریب پشتون بھائیوں کو گاڑیوں سے اتار کر راستے میں قتل کر دیا جاتا ہے، لیکن کوئی اس پر سوال نہیں اٹھاتا۔ کوئی اور آواز اٹھائے نہ اٹھائے، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اپنے کارکنوں اور عوام کے تحفظ کے لیے کھڑی ہوگی اور اس ظلم پر سوال کرے گی۔ کیا ہم پشتون نہیں ہیں؟ کیا ہمارے بچوں کی کوئی قیمت نہیں کہ انہیں اس طرح گاڑیوں سے اتار کر مار دیا جائے؟
اس دن کچا گاؤں سے ایک خاندان روانہ ہوا، جس میں بچے، ماں اور دیگر خواتین شامل تھیں۔ بلوچستان کے علاقے 'چھاپ' میں سڑک پر پانچ چھ گاڑیاں کھڑی تھیں۔ یہ خاندان وہاں سے تیز رفتاری کے باعث بغیر رکے گزر رہا تھا کہ راستے میں ایک اور گاڑی نے ان کا راستہ روک کر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 6 پشتون مارے گئے۔ انہوں نے خواتین سمیت سب کو گاڑی سے اتارا، ان کا سامان اور پیسے چھین لیے اور ہمارے کچھ لوگوں کی گاڑیاں بھی لے گئے۔
ہم بلوچ بھائیوں سے کہتے ہیں کہ 'بلوچ ماما!' آپ کے نام پر لوگ ہماری خواتین کو لوٹ رہے ہیں اور آپ کے علاقوں کے پاس ہماری گاڑیوں سے لوگوں کو اتارا جا رہا ہے۔ اس صورتحال پر غور کریں۔ اگر یہ کارروائیاں آپ کی طرف سے ہیں تو ہمیں بتا دیں، اور اگر آپ اس میں شامل نہیں ہیں تو معلوم کریں کہ آپ کے نام پر کون ہمارے بچوں کو مار رہا ہے اور تاوان کے لیے اغوا کر رہا ہے۔
بلوچ ماما! آپ اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، شوق سے لڑیں، لیکن ہمارے گھروں کے سامنے ہمارے عزیزوں کو اس طرح نشانہ نہ بنائیں۔ جنگ کے وقت صرف باتیں نہیں چلتیں، بلکہ حوصلہ رکھنا پڑتا ہے۔ اگر میدانِ جنگ میں صفیں درست نہ ہوں اور دفاع کے لیے ہتھیار نہ ہوں، تو دشمن آپ کی جان لینے میں دیر نہیں کرے گا۔
اس لیے میرے ساتھ وعدہ کریں۔ میں قرآن کا بھاری واسطہ نہیں دوں گا، بس ایک عام وعدہ کریں کہ ہر گھر سے ایک مرد دیں تاکہ ہم اپنی حفاظت کے لیے ایک لشکر تیار کر سکیں۔ یہ لشکر کسی کو گالی دے گا نہ کسی پر ظلم کرے گا، ہم پاکستان کے قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا دفاع کریں گے..."
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
جب آپ پشتونوں کا جانی و مالی نقصان کر رہے تھے، بھتہ خوری کر رہے تھے،
جب آپ کے سرکاری بلوچ سے لے کر قبائلی بلوچ تک پشتون اضلاع کا حق مار رہے تھے، تب بھائی چارہ یاد نہیں تھا۔
آج جب پشتون نے اپنے حق کی بات کر دی تو آپ کو بھائی چارہ یاد آ گیا!
واہ!
بلوچ ماما اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ کے نام پر لوگ پشتونوں کی گاڑیاں جلاتے ہیں، گاڑیاں، نقدی وغیرہ چھینتے ہیں، ہمیں بتائیں کہ جب آپ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں تو میرے لوگوں کو مارنا کون سی آزادی ہے؟ میرے گھر کے سامنے غنڈا ٹیکس چوری، لوٹ کھسوٹ یہ سب کیا ہے؟