دو اقساط میں لکھے اس بلاگ میں "قومی "میڈیا کے روشن ستاروں کے سندھ حکومت سے برتے جانے والے امتیازی سلوک پر کچھ بحث کی کوشش کی ہے اپ کے کمنٹس کا انتظار رہے گا
جب داخلے کی بات ہو جابز کا بندر بانٹ ہو چیف منسٹر بنانا ہو تو کراچی یاد نہیں آتا اور جب کہو کراچی اور اندرون سندھ تو گاف میں چنونے چنچناتے ہیں
تو بھائی کراچی ایک صوبہ بنے گا اور اندرون سندھ اور حیدرآباد بھی الگ ہوں گے
سندھ تمھارے باپ کا نہیں کے لوٹ کر کھا جاو
#بااختیار_کراچی
مطالعۂ پاکستان میں ہندو سے مسئلہ تھا، اب سندھی مسلمانوں سے بھی ہے۔ بھائی، اتنی ہی شکایتیں ہیں تو پنجاب چلے جائیں، پنجابی بھائی ویسے بھی آپ کے بڑے مداح ہیں۔
#sindhisone
سندھی بچیوں کو و ڈیرہ اٹھا کر لے جاتے - سندھی جاہل ہیں - سندھی مافیاز ہیں بلا بلا بلا - بھائی اصل بات بھی بتا دیں تجھے ابا بلانے والے بچے بھی سندھیوں کے بدولت ہیں۔ اور کھاؤ گٹخا
آپ کچھ بھی کرلیں
پاکستان دشمن
سندھو دیشی
آپ کو روتا ھوا ہی نظر آۓ گا
اسے کوئئ غرض نہیں
سردار کھلے عام انکی بیٹیوں کو اٹھالے جانے کا اعتراف کرے
بچے قحط سے مر جاییں
جانور اور انسان ایک جگہ سے پانی پییں
بیروزگاری عام سندھی نوجوان کا مقدر
یہ بس قبضہ مافیا کا سہولت کار ہی بنارھے گا
کراچی صوبہ ۔ الطاف حسین کی قلابازی :-
میرے زہن میں اس حوالے سے کبھی شک نہیں رہاکہ الطاف حسین کی موقع پرست سیاست نے اردو سپیکنگ ( مہاجر قوم ) کو زبردست سیاسی ومعاشی وتعلیمی وتہذیبی نقصان پہنچایا، ان کے تازہ بیان نے پھر یہ ثابت کردیاہے کہ وہ شعلہ بیاں مقرر تو ہوسکتے ہیں لیکن سیاسی سوجھ بوجھ سے عاری شخصیت ہیں ۔
اس وقت جبکہ نئے صوبوں کی بحث زوروں پر ہے ، بہاولپور ، ہزارہ صوبوں کے کیس تیار ہیں ، سٹبلشمنٹ کراچی صوبے کے قیام میں گہری دلچسپی لے رہی ہے تو عین اس وقت الطاف حسین نے الگ کراچی صوبےکے قیام کی مخالفت کردی ، یوں ان کے سیاسی پروگرام اور وژن کی عمارت دھڑام سے نیچے آگری ، کوئی ان سے پوچھےکہ جب تم الگ کراچی صوبے کے حامی نہیں ہو تو پھر بیس تیس سال مہاجر قومیتی سیاست کس کھاتے میں کرتے رہے ؟ آخر تم چاہتے کیا تھے ؟ یہی نہ کہ مہاجروں کا سیاسی مستقبل ؟ تو وہ آج تم نے ان کی کمر پر لات مار کر قبر میں اتار دیا۔
الطاف حسین مہاجر قوم ، کلچر، کوٹہ سسٹم کے خاتمے ، بہاریوں کی واپسی کے نعرے لگاتے رہے لیکن بعدازاں خود ہی کوٹہ سسٹم کی مخالفت سے دستبردار ہوگئے ، مہاجر جو ایک تعلیمیافتہ اور مڈل کلاس کلچرڈ قوم تھی انھیں فسادی اور قاتل بنا دیا۔ میں تو اس وقت ہی الطاف حسین کی ناکامی پڑھ چکا تھا جب کراچی کی دیواروں پر نعرے لکھے گئے ۔ “منزل نہیں رہنما چاہئیے” ۔ یہ نعرہ اس بات کااعتراف تھا کہ الطاف حسین کے پاس مہاجر قوم کو دینے کیلئے کچھ نہیں ہے سوائے چند کھوکھلے نعروں کے ۔ الطاف حسین نے مہاجروں کو پنجابیوں اور پٹھانوں سے لڑوایا ۔ 1985-87 کے تین سال خونی واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے۔
کراچی صوبے کی مخالفت کرکے الطاف حسین نے اپنی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ صاف نظر آرہا ہے کہ بیماریوں اور بڑھتی عمر نے ان میں صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت ختم کردی ہے۔
کراچی صوبے کے خلاف الطاف حسین کے بیان سے مہاجر اردو سپیکنگ میں سخت غم وغصہ پایاجاتا ہے اور لوگ اب باغی گروپوں کی طرف دیکھ رہے ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ کراچی ایک الگ تشخص رکھتا ہے۔ کراچی میں سرمایہ کاری پنجابیوں، میمنوں اور اس کے بعد اردو سپیکنگ قوم کی ہے اور کراچی صوبے کے انتظام میں صرف ان تین قوموں کی شراکت داری ہونی چاہییے ۔ بھیڑ بکریاں چرانے والے کراچی کے دعوے دار کیسے بن سکتے ہیں ؟
شہزادناصر
HELLO WORLD!
Finished my book on Sindh. Sent the manuscript, all 210,000 words to Endowment Fund Trust yesterday at 6:00 AM. Last night, after so many nights I had very peaceful sleep.
This was the hardest writing I have ever done in my life.
کیا ایسا کوئی احتجاج کوئی لانگ مارچ کرنا جس سے امن عامہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، عوام کیلئے تکلیف ہو، کیا وہ کرنا مذہبی شرعی اعتبار سے جائز اور اجازت ہے۔۔۔؟ سوال ۔۔۔
وفاقی وزیر مذہبی اُمور، سردار محمد یوسف کا جواب ۔۔ 👇👇
#GFG
ایک بات زہن نشین کرلیں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس کا مطالبہ شہری سندھ کے عوام کی دلی خواہش ہے یہ کسی سیاسی جماعت کا کسی مخصوص سیاسی شخصیت کا مطالبہ نہیں نا ہی کسی کی حمایت یا مخالفت سے شہری سندھ کے عوام اس مطالبے سے دستبردار ہونگے
نئے صوبوں میں چار پانچ نئی جیلیں بنانا پڑیں گی کیونکہ کراچی جیل سے قیدیوں کو ان کے صوبوں میں منتقل کریں گے تو یہ جگہ تو خالی ہو جائے گی پھر یہاں چڑیا گھر شفٹ کر کے اس میں بھولڑے پالیں گے
#بااختیار_کراچی_خودمختار_پاکستان