وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ
اور عنقریب ظالم جان لیں گے کہ وہ کس انجام کی طرف پلٹائے جائیں گے۔
سورۃ الشعراء، آیت 27
سیدھی گولیاں اور شہادتیں تو سنتے رہے اور اب عام ہوتا جا رہا ہے لیکن لاشوں کو پامال کرنا، سیلفیاں بنانا، ریجنرز کی گاڑیوں سے کچلنا ،زندہ جلا دینا سب کچھ 2025 میں یقین نہیں آتا دنیا کےپانچویں لارجسٹ اسلامی جمہوری ملک میں ہورہا ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (Human Rights Council of Pakistan)
تاریخ: 13 اکتوبر 2025
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان ملک بھر میں تحریکِ لبیک کے احتجاجات پر ہونے والے کریک ڈاؤن اور نہتے شہریوں پر طاقت کے بے جا استعمال کی شدید مذمت کرتی ہے۔ پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و جمہوری حق ہے، اور اس حق کے استعمال پر گولیاں برسانا کسی بھی مہذب ریاست یا جمہوری نظام میں ناقابلِ قبول اور صریح انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ طاقت کے ذریعے مسائل دبائے نہیں جا سکتے، بلکہ اس سے معاشرے میں مزید انتشار، غم و غصہ اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر طاقت کا استعمال بند کرے اور مذاکرات کے ذریعے حالات کو معمول پر لائے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے مطالبات:
1.تحریکِ لبیک کے پرامن کارکنان پر تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو سزا دی جائے۔
2.جاں بحق افراد کے لواحقین کو مکمل انصاف اور مالی امداد فراہم کی جائے۔
3.تمام گرفتار مظاہرین کو فی الفور رہا کیا جائے۔
4.حکومت، مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے درمیان مذاکراتی عمل کو بحال کیا جائے تاکہ حالات مزید سنگین رخ اختیار نہ کریں۔
ہم حکومتِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ تحمل و بردباری کا مظاہرہ کریں، کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا تشدد سے گریز کیا جائے، اور مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کیا جائے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان ان افسوسناک واقعات میں جاں بحق تمام افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور دعاگو ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ان شہداء کے درجات بلند فرمائے
#TLPMarchForPalestine
مریدکے میں ہونے والا ظلم ناقابل بیان اور قابلِ مذمت ہے، اتنی بربریت اور کشت و خون کہ اب تک شہادتوں اور زخمیوں کے حوالے سے مکمل حقائق سامنے نہیں آئے۔ سعد رضوی اور انس رضوی کے حوالے سے بھی حکومت اب تک خاموش ہے۔
شرمناک اور نہائیت قابلِ مذمت۔۔۔ حقائق جلد از جلد سامنے لائے جائیں
جو لوگ TLP کو فتنہ سمجھتے ہیں انہیں ریاست سے پوچھنا چاہیےکہ اس فتنے کو اسرائیل مخالف احتجاج کی پاداش میں ہی کیوں کچلا گیا؟ اور بھی بہت موقعے تھے۔ دماغ ہو تو سوچیے گا ضرور۔۔۔۔
مریدکے میں خون کی ہولی کھیلی گئی ہے آج پاکستان کی تاریخ کے بدترین دنوں میں سے ایک دن ہے یہ ایک طرح سے انتہا پسندی ہی ہوئی ہے آپ لبیک کے نظریہ سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن ظلم کی حمایت نہیں کی جا سکتی ۔
عمران ریاض خان
دنیا کے کئی ممالک میں ٹرمپ کی امن ڈیل کے باوجود فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیل کے اقدامات کے خلاف ابھی تک مظاہرے ہو رہے ہیں مگر خون صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بہا ہے۔
خاندان کی عورتوں کو گرفتار کرنا، دودھ پیتی بچی کو جیل میں ڈالنا، کیا اس سیاست کی آپ بات کر رہی تھی مریم نواز صاحبہ؟؟ یہ سیاست نہیں یہ ظلم ہے۔
#گولی_کیوں_چلائی
تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد رضوی کے اہلِ خانہ، بالخصوص باپردہ غیر سیاسی خواتین اور معصوم بچوں کی جبری گرفتاری انتہائی قابل مذمت اور ریاستی طاقت کے بے جا استعمال کی بدترین مثال ہے۔
یہ نہ صرف انسانی حقوق، آئینِ پاکستان اور اسلامی اقدار کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی اور اخلاقی حدود کو بھی پامال کرچکی ہے۔
اختلافِ رائے کو جبر اور انتقام سے دبانے کی یہ روایت خطرناک ہے جس سے نفرت اور تقسیم کو بڑھاوا ملے گا۔
میں حکومتِ وقت سے پرزور مطالبہ کرتی ہوں کہ حافظ سعد رضوی کے اہلِ خانہ، خصوصاً خواتین اور بچوں کو فوری اور بلا شرط رہا کیا جائے، اور اس افسوسناک اقدام میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
سعد حسین رضوی کی فیملی کو حراست میں لیے جانے اور ان کی معصوم بیٹی نعلین فاطمہ کی پولیس وین میں موجودگی کی تصویر قابل مذمت اور شرمناک ہے، مریم نواز پنجاب کی بیٹی ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں تو اس بیٹی کے ساتھ اس سلوک پر معذرت کریں اور فی الفور اس ظلم کا ازالہ کریں
🚨🚨#BREAKING: In a large scale operation against #TLP in #Muridke in the early hours of Monday, law enforcement agencies clamp down protesters, burnt container of #SaadRizvi. Unconfirmed reports of casualties.
The footage coming from the TLP protest is horrible & deeply hurtful. The government should have chosen dialogue instead of a crackdown. Innocent people have been severely injured, and some have lost their lives. This will not take us forward. This is not how countries progress.
ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ قتلِ عام کو معمول نہ بنایا جائے، مگر افسوس آج پھر وہی ہو رہا ہے۔ جو 26 نومبر پر خاموش رہے، کیا اب بھی خاموش رہیں گے؟ کیا ہمارے ملک میں اب یہی معمول بن جائے گا کہ جو بھی آواز اٹھائے، جو سڑکوں پر آئے اسے گولی مار دی جائے گی؟ ہمارے اپنے لوگوں پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔ کب تک ہم چپ رہیں گے؟