With Iranian President @drpezeshkian in Pakistan, a major long-discussed project is back in the spotlight: Iran-Pakistan Gas Pipeline, also known as “Peace Pipeline.”
But what exactly is this pipeline project and why has the project remained stalled for years?
Find out in my latest for @indyurdu
#Independenturdu #Pakistanforpeace #Pakistan #Iran #GASPIPELINE
راولا کوٹ سے بریکنگ نیوز
راولاکوٹ: حکمت عملی تبدیل یا دھرنا ختم ؟عوامی ایکشن کمیٹی نے رات گئے دھرنا گاہیں خالی کرا دیں۔
راولاکوٹ: جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے جاری احتجاجی دھرنے کے حوالے سے رات گئے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق راولاکوٹ کے گرد قائم دونوں مرکزی دھرنا مقامات کو ایکشن کمیٹی نے خالی کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد جبکہ شرکاء منتشر ہو گئے ہیں ۔
عینی شاہدین کے مطابق دھرنا گاہ کے مرکزی اسٹیج سے اعلان کیا گیا کہ سیکورٹی کی سنگین صورتحال اور حفاظتی اقدامات کے پیش نظر شرکاء گراؤنڈ خالی کر دیں۔ اعلان کے بعد دھرنے کے دونوں مقامات پر موجود مجمع منتشر ہونا شروع ہو گیا جبکہ اسٹیج اور دیگر انتظامی ڈھانچے بھی ہٹا دیے گئے۔
تاحال عوامی ایکشن کمیٹی یا آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے دھرنا مکمل طور پر ختم کرنے کا کوئی باضا��طہ اعلان سامنے نہیں آیا، اسی طرح حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان کسی بیک چینل رابطے یا خفیہ مذاکرات کی بھی کوئی مصدقہ اطلاع موصول نہیں ہوئی، اگرچہ سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک امکان یہ بھی موجود ہے کہ رات کے اوقات میں سکیورٹی خدشات اور ممکنہ کشیدگی سے بچنے کے لیے شرکاء کو عارضی طور پر واپس بھیجا گیا ہو اور احتجاج کا سلسلہ صبح دوبارہ شروع کیا جائے تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
موجودہ صورتحال نے عوامی ایکشن کمیٹی کی آئندہ حکمت عملی کے بارے میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ آیا یہ احتجاجی تحریک کی نئی حکمت عملی ہے، حفاظتی نوعیت کا عارضی فیصلہ ہے یا پس پردہ کسی پیش رفت کا نتیجہ ہے۔
اس وقت تک کی مصدقہ صورتحال یہی ہے کہ راولاکوٹ ��ے دونوں بڑے دھرنا مقامات خالی ہو چکے ہیں جبکہ تحریک کے مستقبل اور اگلے مرحلے کے بارے میں بے یقینی برقرار ہے۔
نیشنل پریس کو تالا لگانے کے مشن پر کاربند تالا گروپ نے ایک اور چال چلتے ہوئے سیکرٹری روم کے بعد اب کمیٹی روم کو بھی تالا لگا دیا
مقصد یہ تھا کہ ریکوزیشن اجلاس نہ ہو سکے اشتعال پھیلے اور بات دنگےفساد تک جائے
تاکہ انہیں اپنے مشن میں آسانی ہو
لیکن ہم نےاس سازش کوبھی ناکام بنا دیا
اسلام آباد سے لاپتہ ہونے والا صحافی یاسر ایاز صوابی خیبر پختونخواہ میں منظر عام پر آگیا۔
صحافی نے نامعلوم نمبر سے اپنے والد کو فون پر بتایا کہ وہ "بارہ قئی" ضلع صوابی میں ہے،
اطلاع ملتے ہی جی این این کے بیورو چیف میاں شاہد اور کرائم رپورٹر عثمان بٹ صوابی پہنچ گئے۔
مقامی افراد نے صحافی یاسر ایازکو قریبی متعلقہ پولیس چوکی منصوری کے حوالے کیا۔
نامعلوم افراد مجھے یہاں چھوڑ کر چلے گئے،صحافی یاسر ایاز
صحافی کو بات کرنے میں بھی مشکل پیش آ رہی ہے۔
صحافی یاسر ایاز5جون کو اسلام آباد تھانہ آبپارہ کی حدود سے لاپتہ ہوا تھا۔
تھانہ سٹی، صوابی پولیس نے لاپتہ صحافی کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا۔
اسلام آباد پولیس صحافی یاسر ایاز کو لے کر اسلام آباد کے لیے روانہ۔
کراچی سے اسلام آباد آنے والی ائیر سیال کی پرواز PK125 8:09بجےپہنچنا تھاکو پہلے سیالکوٹ لےجایا گیا اور مسافروں کو کہا گیا کہ اگر آپ میں سےکوئی خود سے جانا چاہتا ہے تو چلا جائے اوراس وقت تمام مسافر پریشانی اور خوف کے عالم میں ہیں کیونکہ ائیر سیال کا تمام عملہ جہاز سے غائب ہو چکا ہے
True leadership isn't about titles- it's about standing shoulder to shoulder when it matters most.
President PFUJ Afzal Butt, time and again you've proven what it means to lead the journalists' community with courage, integrity, and resolve.
Thankyou!
#PFUJ@Afzalbutt01@Fakharrehman01 #Journalism #Leadership
اسلام آباد: سینئر صحافی اختر بلوچ پر ان کے سالے کی جانب سے ہونے والا افسوسناک اور دل دہلا دینے والا قاتلانہ حملہ بالآخر ان کی جان لے گیا۔ وہ کئی دنوں تک پمز ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے، مگر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
یہ واقعہ صحافتی برادری کے لیے نہ صرف ایک گہرا صدمہ ہے بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جس نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا ہے۔ اپنے ہی رشتے کے ہاتھوں اس طرح بے دردی سے زندگی چھن جانا ایک ایسا درد ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔
اس اندوہناک خبر کے ملتے ہی
نیشنل پریس کلب کے فنانس سیکرٹری عابد عباسی ,راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر طارق علی ورک، ، سینئر صحافی حمید لنگرا اور دیگر صحافی فوری طور پر ہسپتال پہنچے اور غمزدہ لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا۔ لواحقین کی ��رخواست پر مرحوم کا پوسٹ مارٹم پولی کلینک ہسپتال میں کیا جا رہا ہے، جس کے بعد میت کو ان کے آبائی گاؤں کروڑ لال عیسن، ضلع لیہ منتقل کیا جائے گا جہاں ان کی نمازِ جنازہ ادا کر کے سپردِ خاک کیا جائے گا۔
اختر بلوچ کی وفات نے صحافتی برادری کو سوگوار کر دیا ہے۔ وہ نہ صرف ایک بہادر اور سچے صحافی تھے جنہوں نے ہمیشہ سچ اور انصاف کا ساتھ دیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔ آمین۔
@pfujpakistan @OfficialPfuj @RIUJ @NPCISBOFFICIAL
@MudassarCh007@Afzalbutt01 یہاں صحافی کو گالی دینے والے یہ نہیں سوچتے کہ شائد اگر سینئرز نے قربانیاں نہ دی ہوتی اور وہ بھی انکا زاتی معاملہ نہیں حق اور سچ لکھنے کی سزا تھی ہم پھر بھی جمہوریت کا نعرہ ہی لگاتے ہیں
آج 26 رمضان ہے، عید بھی آ گئی لیکن ان بے رحم میڈیا ہاوسز نے ابھی تنخواہیں نہیں دیں___!
نوائے وقت نے بقایاجات ادا نہیں کیے ڈان نے کٹ واپس نہیں کیا_کل سے RIUJ احتجاج کرے گی_
ہونے دو چراغاں محلوں میں ___ کیا ہم کو اگر دیوالی ہے
مزدور ہیں ہم، مزدور ہیں ہم ___ مزدور کی دنیا کالی ہے
جرنلسٹ پینل ہار کر بھی ایک بہترین روایت چھوڑ گیا
نیشنل پریس کلب کے انتخابات میں جرنلسٹ پینل کی ہار بلاشبہ ایک بڑا اپ سیٹ ہے۔ کامیاب ہونے والے گروپ کو مبارکباد۔ جمہوریت کا حسن ہی یہی ہے کہ فیصلے ووٹ کرتے ہیں اور سب کو اسے تسلیم کرنا پڑتا ہے۔
تاہم ایک بات جرنلسٹ پینل کے بارے میں ہمیشہ کہنی پڑے گی کہ اس گروپ نے تنقید کو کھلے دل سے برداشت کیا۔ اختلافِ رائے کو کبھی ذاتی دشمنی نہیں بنایا۔ ہر بندہ ہر وقت ہر کسی کے لیے دستیاب رہا۔ یہاں تک کہ کئی ایسی پوسٹس بھی دیکھنے میں آئیں جن میں جرنلسٹ پینل پر سخت ترین تنقید کی گئی، مگر پھر بھی یہی لوگ ہنستے مسکراتے ملتے رہے۔
امید ہے کہ جیتنے والا گروپ بھی اسی وسیع ظرفی اور برداشت کی روایت کو آگے بڑھائے گا۔ کیونکہ برسوں سے ایک ہی الزام سننے کو ملتا رہا ہے کہ یہ کھا گئے، اربوں بنا گئے ، پلاٹ لوٹ گئے۔اب وقت آ گیا ہے کہ باتوں کے بجائے عمل سے ثابت کیا جائے کہ واقعی سب صحافیوں کے حقوق کا یکساں خیال رکھا جا سکتا ہے