علیمہ خان بھی روسٹرم پر آگئیں۔ گفتگو کی اجازت طلب کر لی
ہم صرف کتابیں مانگ رہے ہیں۔ آخری دفعہ نومبر میں کتابیں بھیجی تھیں۔ علیمہ خان
ان سب سے کہیں کہ کچھ دن قید تنہائی میں رہ کر دیکھیں کہ کتابوں اور قرآن کے علاوہ کوئی ساتھی نہیں ہوتا۔ علیمہ خان
اڈیالہ جیل سے آج جاری ہونے والی رپورٹ حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو اپنی قانونی ٹیم سے بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
بیرسٹر سلمان صفدر
احمر رشید بھٹی پی ٹی آئی کے ایم پی اے ہیں اعلی تعلیم یافتہ ہیں ان کے ساتھ پنجاب پولیس کا ناروا سلوک انتہائی قابل مذمت ہے ۔۔۔
@TahirNaeemMalik کی فیسبک وال سے ۔۔
عدالت نے زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں بعد ہماری عمران خان سے بات کروانے کا حکم دے رکھا ہے لیکن ہماری بات نہیں کروائی جا رہی شائید یہ اب تک کا سب سے لمبا دورانیہ ہے جس میں ہماری بات عمران خان سے نہیں ہو رہی ۔
قاسم خان کی سی این این سے گفتگو
This lot of generals have little sense of strategy. Like Yahya Khan they can’t see beyond their greed. If we want to save the country call spade a spade.
The generals’ constituency is not Pakistani people, its rulers of Washington, London, Berlin, Riaz, Dubai etc.
how to stop them from causing harm to Pakistan and its people, consider the following: 1. The regime has already isolated itself socially, regionally as well as politically. Make it a slogan.
2. Oppose every move of the regime including creation of more provinces. It will be a trap.
3. Support Kashmiri and Baloch causes. This is the only way forward to isolate separatists as well as the regime.
4. Express solidarity with minorities, journalists & civil society activists and oppose extremist mindset.
5. Any step that can lead to anarchy oppose it.
6. Make restoration of the Constitution an integral part of movement. Focus on socio-civil and economic rights.
7. Welcome everyone who expresses regret and ask for apology and own his wrong doings.
ابھی پاکستان بنا تھا قائداعظم محمد علی جناح موجود ہیں اور ایک میٹنگ ہے جس میں فوجی جرنیلوں کا ایک جھتہ کھڑا ہو کر قائد اعظم سے کہتا ہے کہ :
“جناب ملک بن گیا ہے اس میں ہمارا حصہ کیا ہے “
یہ بات قائداعظم کو کہی گئی !
اسکے بعد انھوں نے مشہور خطاب کیا:
“آپ ملک کے سرونٹ ہیں آپکا کام سول حکومت کی بنائی گئی پالیسیوں پر عمل کرنا ہے اور بس ۔”
اسکے بعد ایوب نے پہلا مارشل لاء لگایا باقاعدہ قائداعظم کے خلاف سازشیں شروع کیں گئیں ،اسکے بعد ہی فاطمہ جناح کے خلاف کیمپین چلائی گئی ۔
اہم خبر 🚨
سلمان صفدر صاحب آپ کیا چاہتے ہیں۔ جسٹس خادم حسین سومرو کا سوال
میں حل کی طرف آتا ہوں۔ سلمان صفدر کا جواب
سب سے پہلے یہ کلئیر ہونا چاہیے کہ ہم میں اور جیل حکام کے دعوں میں کتنا تضاد ہے۔ سلمان صفدر
پہلا مطلابہ۔ آزاد وکلا کا ایک پینل اڈیالہ جیل بھیجا جائے جو خود دیکھ لے کیا صورتحال ہے۔ سلمان صفدر
دوسرا مطالبہ: لوکل کمیشن بنایا جائے جو عمران خان کا انٹرویو کرے ۔ سلمان صفدر
تیسرا مطالبہ: آپ دونوں قیدیوں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اس عدالت میں طلب کیا جائے۔ سلمان صفدر
بریکنگ: بیرسٹر سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ مسترد کر دی!
اڈیالہ جیل کی آج کی رپورٹ مکمل طور پر فیک اور مس لیڈنگ ہے، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان صاحب کو اپنی لیگل ٹیم سے بھی نہیں ملنے دیا جا رہا۔
علیمہ خان گزشتہ دس ماہ میں تقریباً چالیس مرتبہ ہر منگل کو اڈیالہ جیل گئیں، مگر ہر بار ملاقات سے محروم رہیں!
عمران خان نہ دہشت گردی کے ملزم ہیں اور نہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے، جبکہ سائفر کیس میں بھی وہ بری ہو چکے ہیں؛ اس لیے ملاقاتوں پر پابندی کی کوئی قانونی یا قومی سلامتی کی وجہ موجود نہیں!!!
بیرسٹر سلمان صفدر
شریف خاندان نے جو گھر پہ میٹنگ کی اس میں انہوں نے محسن نقوی کے خوب لتے لیے لیکن مزا تو تب تھا کہ وہ باہر آ کر یہ باتیں کرتے لیکن باہر ان کی ہمت نہیں ہوئی ! کامران مرتضی ۔۔
پی ٹی آئی کے احتجاج کو پرانے طریقے سے روکنا مشکل ہو گا یا شاید پرانا طریقہ آزمانا بھی مشکل ہو جائے۔ آسمان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ تیزی سے سیاست سیکھ جاتا ہے اور پرانی غلطیوں سے گریز کرتا ہے لیکن میری رائے میں ایسا نہیں کیونکہ طاقت سیکھنے نہیں سبق سکھانے میں یقین رکھتی ہے۔ اگر آسمان واقعی کچھ سیکھتا تو افغانستان، وزیرستان، کے اور کشمیر کے معاملات اس قدر نہ الجھتے البتہ تحریک انصاف کا کارکن سبق سیکھ کر آگے بڑھتا ہے، حبیب اکرم
قاسم خان نے اسٹیبلشمنٹ کو انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے ایکسپوز کر دیا۔
مجھے ڈونلڈ ٹرمپ سے بہت امید تھی کیونکہ ٹرمپ کا میرے والد کے ساتھ اچھے تعلقات تھے
لیکن انہوں نے ٹرمپ کو نوبل انعام، کرپٹو کرنسی ، پاکستان کی قدرتی معدنیات کی رشوت دی اور وہ بھی خاموش ہو گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب، ملک رول آف لا (Rule of Law) سے نہیں، بلکہ رول بائی لا (Rule by Law) سے چلایا جا رہا ہے۔ وزیرِ خزانہ آپ کا، ملک کی معیشت ڈوب گئی۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی آپ کے، سیکیورٹی کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ صرف شہباز شریف سے ہی ملک نہیں چل رہا، حضورِ والا! آپ سے بھی نہیں چل رہا!اسد طور۔
بس ایک تصحیح ضروری ہے کہ عمران خان نے مشورہ نہیں دینا، فیصلہ کرنا ہے۔قیادت کا حق بھی صرف خان کا ہے اور ملک کے اہم معاملات کا مینڈیٹ بھی عوام نے انہیں ہی دیا ہے۔
ملک چھوڑنے یا ڈیل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا عمران خان کسی صورت خاموش نہیں رہیں گے بلکہ وہ عوام کے لیے کھڑے ہیں اقتدار کے لیے نہیں، اگر ملک میں کسی بھی لیول پر انصاف ہوتا تو عمران خان جیل میں سلاخوں کے پیچھے نہ ہوتا،26 ویں اور 27 ویں ترمیم کا اصل مقصد ہی ایک تھا اور وہ تھا عمران خان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھنا۔
🚨ڈی جی ISPR نے جس خبر کو جھوٹ قرار دیا تھا اب وہ خبر سچ ثابت ہو گئی ہے، 20 مئی کو DG نے 27 وائس چانسلرز کو بلا کر کہا کہ اب تم وہ پڑھایا کرو گے جو ہم تمھیں بتائیں گے اور تم طلباء کو حب الوطنی سکھاو گے،
جن وائس چانسلرز نے اپنی زندگیاں اس شعبے کو دے دیں اب وہ بھی ان سے سیکھیں گے، قاسم خان سوری