@ZarrarKhuhro It's meant to serve as a warning and sadly it's working. We are officially under a fascist regime. We used to hear takes of Arab dictators now we have the best right here at home.
@ShazadAkbar It's a sad sad day for our country, our judicial system and our freedoms. Generals wanted this to be a warning and sadly it's working. One or two voices will always be snubbed, we as a nation have a collective responsibility to fight this fascism.
Following Imaan and Hadi’s wrongful convictions today, in yet another sham trial before a sham court, let’s see how many of Pakistan’s senior and leading anchors/journalists dare to speak up, tweet, or dedicate a show to critically examining what this case is really about.
What is their real crime? What are they actually being punished for? And who is really behind all this?
I am sure many of us will one day deliver eloquent lectures about these dark times, telling how outraged, saddened and disturbed they were by it all.
But what matters is not what we say when these dark times are over. What matters is what we choose to say and do TODAY, when speaking out actually counts.
Imran Khan’s sister Noreen Niazi taken from jail to the hospital in Pakistan. Deeply concerning. The military government has been detaining the 70-year-old woman to put pressure on her brother.
میرا آرمی کے ہر جنرل کے لئے پیغام ہے۔ بزرگ بہنوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتے۔ ایسی حرکتوں سے عوام میں آپ سب کا امیج بہت خراب ہو چکا ہے اور مزید خراب ہو رہا ہے۔ اب بس کر دیں۔ اور کتنا ظلم کرنا ہے۔ کوئی حد تو چھوڑ دیں۔
For the past few hours, we have been receiving deeply concerning reports circulating on social media that my aunt, @Noreen_KhanPK Noreen Niazi, has been admitted to the Punjab Institute of Cardiology.
Our family was never informed.
We are now standing outside her ward trying to establish her medical condition. The ward door has been chained shut, with police preventing us, her own family, from entering or seeing her.
We are extremely concerned for her health and wellbeing.
My aunt has already endured more than a month in detention, isolated from her family. Now, even in hospital, we are being denied access to her.
What is her medical condition? Why was her family not informed? On whose orders are we being prevented from seeing her?
We demand immediate access to my aunt, a full medical update from her treating doctors, and assurances that she is receiving all necessary medical care.
@ImranKhanPTI
#ImranKhan
#FreeImranKhanAndFamily
No one has seen or heard from my father since August, when he explicitly said that he was being tortured and that the regime was trying to kill him like Egypt’s government did Morsi. The UN Special Rapporteur on torture has repeatedly stated that his treatment amounts to torture. Pakistan’s fascist regime, led by military dictator Asim Munir, continue to ignore the Supreme Court order from August for my father to be assessed and treated at the private Shifa International Hospital, as well as for regular access to family visits and access to his lawyers. It is clear that they are trying to kill him as he is by far the most popular political figure in the country, and they fear him. If the worst happens, no one should make any mistake who is responsible. It is Asim Munir with the approval of the illegitimate Pakistani government. Every government that continues to legitimise this regime will be complicit in this and the resulting chaos and destabilisation it causes in the region. No state that is engaging in friendly relations with this fascist Pakistani regime can truly claim to uphold the values of democracy or human rights.
I wish I could do more to support Imran Khan and his family. I won’t stop trying, but this Iran war is making everything harder 😔
I really hope Asim Munir strikes a deal with Imran Khan and PTI and stops this persecution
I have no horse in this race, it’s just heartbreaking to see such good people be treated so badly
I fkn hate politics
🚨 160 ارب روپے کی حقیقت
لکھ کے لے لیں - وفاقی حکومت ایک روپے بھی اپنے جیب سے نہیں سے گی پختونخوا کو:
- 220 ارب روپے وفاقی حکومت کو سرپلس
- 120 ارب روپے جو صوبے سے at source کاٹے جاتے ہیں
- 70 ارب روپے NHP کے بقایاجات
- 50 ارب روپے قبائلی اضلاع کے گرانٹ اور اخراجات میں کمی
یہ سارے پیسے یعنی 460 ارب روپے صرف اس سال خیبر پختونخوا سے وفاق کے گا -
تو کوئی پیسہ شہباز شریف نے دیا بھی تو کسی پر احسان نہیں
Facts are facts
عجیب زندگی پائی ہے اس شخص نے میں نے جب سے اسے دیکھا ہے، ایک ہی اصول پر کھڑا پایا ہے،بھلا ہو عاصمہ شیرازی صاحبہ کا، جنہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ شخص تو مقبول بیانیے کے پیچھے کھڑا ہے
عجیب سرپھرا شخص ہے، راحیل شریف کو برا بھلا کہتا تھا، ظہیرالاسلام کو کوستا تھا، فیض حمید اور جنرل باجوہ پر سوال اٹھاتا تھا،جمیل فاروقی، ابراہیم سمیع، اوریا مقبول جان اور ہارون الرشید کی صحافت پر برستا تھا، ہمیں اس کی یہ باتیں بہت بری لگتی تھی ،ہم بھی تب عاصمہ شیرازی صاحبہ کی طرح اس کے مقبول بیانیے سے نفرت کرتے تھے، ہمیں بھی غیر مقبول بیانیہ بہت پسند تھا، فرق صرف اتنا تھا کہ اس وقت عاصمہ شیرازی صاحبہ شریف خاندان کے قدموں پر قدم رکھتے ہوئے اسی مقبول بیانیے سے عشق فرما رہی تھیں
پھر وقت بدلا، حالات بدلے، اقتدار کے چہرے بدلے اور بیانیوں کے رخ بھی بدل گئے، عاصمہ شیرازی صاحبہ نے بھی حالات کی نزاکت کو سمجھا اور عوام میں مقبول بیانیے کو چھوڑ کر اس بیانیے کا انتخاب کر لیا جس میں جرنیلوں پر تنقید گناہ اور ان کے سامنے سر جھکانا دانش مندی قرار پایا، ایسا بیانیہ جس سے چینل پر بیس تیس لاکھ کی نوکری بھی محفوظ رہتی ہے اور شریف خاندان کی نظروں میں وفاداری کا بھرم بھی قائم رہتا ہے
لیکن یہ سرپھرا آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں کل کھڑا تھا
آج بھی اسی بیانیے کا پرچار کرتا ہے جس سے طاقتور جرنیل ناراض ہوتے ہیں، جس کی قیمت حوالات کی صورت میں چکانی پڑ سکتی ہے، جس کے لیے چینل کی لاکھوں روپے کی نوکری قربان کرنا پڑتی ہے اور ملک کے سب سے طاقتور مافیا سے ٹکر مول لینی پڑتی ہے
اس ضدی شخص کو کوئی سمجھائے کہ اصول بھی کوئی چیز ہوتے ہیں جنہیں حالات، اقتدار اور شریف خاندان کی سیاسی ضرورتوں کے مطابق بدلنا پڑتا ہے
اسے کوئی بتائے کہ مشرف کی آمریت کو برا کہنا ہے لیکن عاصم منیر کے آمرانہ طرزِ عمل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے اسے کوئی سمجھائے کہ جنرل باجوہ اگر 2022 تک برا تھا تو اس کے بعد شریف خاندان نے بیانیے کی سمت بدل کر اسے اچھا قرار دے دیا، اب ہم کون ہوتے ہیں اسے برا کہنے والے؟
آخر کس جرنیل کو آمر کہنا ہے، کس کی آمریت کو وقت کی ضرورت قرار دینا ہے کس کے خلاف آواز اٹھانی ہے اور کس کے سامنے خاموشی اختیار کرنی ہے، یہ فیصلہ ہمارے اصول نہیں بلکہ شریف خاندان کی سیاسی ضرورتیں کریں گی
لیکن یہ سرپھرا شخص ہے کہ سمجھنے کو تیار ہی نہیں، کل بھی آمریت کے خلاف تھا، آج بھی آمریت کے خلاف ہے کل بھی طاقتوروں سے سوال کرتا تھا، آج بھی طاقتوروں سے سوال کرتا ہے
اسے کوئی سمجھائے کہ ہمارے ہاں اصولوں پر قائم رہنے والے کو صحافی نہیں، مقبول بیانیے کا پیروکار کہا جاتا ہے اور شریف خاندان کی خواہشوں کے ساتھ اصول بدلنے والے کو غیر جانب دار صحافت کا علمبردار
کیونکہ یہاں مسئلہ آمریت سے نہیں، مسئلہ صرف یہ ہے کہ شریف خاندان آمر کے خلاف کھڑا ہے یا حق میں
یہ کتاب صرف زخم زخم احمد فرہاد نہیں لہو لہو پاکستان کی بھی شعری تصویر ہے۔کتاب تقریبا 9 ماہ قبل مکمل ہو چکی تھی بس بات میرے پیش لفظ پر رکی تھی۔اور وہ نوبت تھانہ سٹی باغ کی حوالات میں آئی اور شاید اس کتاب کا حق بھی یہی تھا کہ پیش لفظ کسی عقوبت خانے سے لکھا جائے۔20 اگست کو سلاخوں کے پیچھے سے کتاب کا پیش لفظ مکمل کر کے پبلشر کو بھیجا تو اس نے انتساب میں عمران خان اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے نام یہ کہہ کر نکالنے کی درخواست کی کہ اس سے اس کو اور اس کے ادارے کو مالی و جانی نقصان ہو سکتا ہے لیکن میں نے انکار کر دیا ۔جب مزید ایک اور پبلشر نے یہی اعتراض اٹھایا تو یار عزیزوں نے مشورہ دیا کہ انتساب میں سیاسی قیدیوں کی فہرست سے عمران خان اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا نام نکال دیا جائے ورنہ ایک اچھی رائیلٹی سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔میں نے کہا کہ اگر میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے بھی پورا سچ نہیں بول سکتا تو شاید مجھے یہاں نہیں کسی عافیت گاہ میں ہونا چاہیے تھا۔یوں کتاب کی اشاعت کا معاملہ ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ گیا اور یہ بیل بالآخر میری رہائی پر ہی منڈھے چڑھ سکی اور وہ بھی مسودے میں ردوبدل کے بغیر جس کے لیے میں ایک مہربان کا شکرگزار ہوں جس نے کسی قسم کے ڈر خوف خطرے اور مالی نقصان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کتاب چھاپی اور عین میری مرضی کے مطابق چھاپی۔میرا اس کتاب کے بارے کوئی دعویٰ نہیں سوائے یہ کہ میں نے جو لکھا اسے جیا،جو جیا اسے لکھا، اپنے لفظ کو اپنا خون پلایا اور خود پر اور اپنے خاندان پر نا قابل بیان مصیبتیں جھیل کر اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔ باقی بہت سے فنی فکری شعری سماجی اور سیاسی قضیوں پر میری گذارشات آپ کتاب میں موجود میرے سرنامے میں پڑھ سکیں گے۔
دوستو اپنے نام سے میری دستخط شدہ کتاب حاصل کرنے کے لیے آپ براہ راست میری ویب سائیٹ
https://t.co/QBq4v3w88U
یا وٹس ایپ نمبر
0315 0855342
پر آرڈر بک کروا سکتے ہیں۔
آپ سب کے لیے دعا گو
@fawadchaudhry Exactly, vigilante justice, and any punishment without due process is not something to brag about. That's what her administration is doing, killing people in fake police encounters, unlawful imprisonment and fake FIR's. Justice is dead in Pakistan.