افواج پاکستان کا احترام اور ان سے محبت پاکستانیوں کے ایمان کا حصہ ہے تاہم کچھ نادان دوست ایک فوجی افسر کا دفاع کرتے ہوئے پورے ادارے کی ساکھ کو بالواسطہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جس دن کرنل اسفند یار کی طرف سے سرحد یونیورسٹی کے روات کیمپس میں ایک طالب کو چھڑی سے مارنے کے بعد ہونے والی ہنگامہ آرائی اور کرنل صاحب کی ہوائی فائرنگ کی ویڈیو سامنے آئی چند گھنٹے میں ہی یہ خبر آگئی کہ کرنل اسفند کو حراست میں لے کر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور امکان ہے کہ ان کا کورٹ مارشل ہو جائے گا۔
اس خبر نے فوج کے بارے میں ایک زبردست تاثر قائم کیا کہ ڈسپلن کی پابندی اور قانون کی حکمرانی پر کوئی کمپرومائز نہیں۔ فوری طور پر کرنل رینک کے افسر کا حراست میں لیا جانا ایک بڑی پیش رفت اور فوج کے اندرونی احتسابی نظام کے مئوثر ہونے کو سامنے لا رہا تھا مگر پھر فوج کے نادان دوست میدان میں آگئے جنہوں نے کرنل صاحب کے دفاع کو فوج کا دفاع بنا دیا اور یوں ادارے کی خود احتسابی کا جو مضبوط تاثر ابھرا تھا اسے زک پہنچانے کی بھرپور کوشش کی۔
ان لوگوں نے جگہ جگہ لکھا اور بولا کہ کرنل صاحب کی بیوی کو طلباء ہراساں کر رہے تھے تو ایک غیرتمند شوہر ہوتے ہوئے ان کا یہی فرض تھا کہ وہ فوری طور پر وہاں پہنچ کر اپنی اہلیہ کو بچاتے۔ یہ دعوے کرنے والوں نے دلیل کے طور پر کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ ڈاکٹر اینا کو کسی بھی جگہ طلباء ہراساں کر رہے ہوں۔ پولیس کی موجودگی کے باوجود کرنل صاحب چھڑی لے کر ایک نوجوان کے پاس گئے اور اسے دو چھڑیاں ماریں۔ ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ کرنل صاحب کی اس حرکت سے پہلے کسی نے ان کا راستہ نہیں روکا نہ کسی نے بدتمیزی کی۔ مگر جب کرنل صاحب نے وہاں خود ہی طلباء کو سزا دینے کا فیصلہ کیا جو ان کا مینڈیٹ نہیں تھا تو بات بگڑ گئی۔ بعد میں سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر اینا احتجاج کرنے والے طلبہ کے درمیان جا کر اشتعال انگیز طریقے سے ایک بورڈ کو لات مار کر گرا رہی ہیں۔ ایک اور ویڈیو میں انہیں احتجاج کرنے والی طالبات کے درمیان بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اور وہاں بھی ان کا جارحانہ انداز ہے۔ کسی بھی جگہ محترمہ کے ساتھ کوئی زیادتی کم از کم ان پبلک کلپس میں نظر نہیں آتی نہ ہی وہ گھبرائی ہوئی نظر آتی ہیں۔
کرنل صاحب اگر کسی اشتعال انگیز کال کی بنا پر وہاں پہنچ بھی گئے تھے تو پولیس کے ذریعے معاملہ ہینڈل کرتے۔ طلباء صحیح یا غلط کسی بھی وجہ سے مشتعل تھے تو ان کے ساتھ براہ راست جا کر فزیکل کانٹیکٹ کرنا کسی بھی طور قانونی دائرے میں نہیں آتا۔ وہ اپنی اہلیہ کے لئے جذباتی ہو گئے اور ایک ایسا کام کر دیا جو کسی بھی طور پاک فوج کے ڈسپلن، روایات اور ساکھ سے لگا نہیں کھاتا۔ دوسرے لفظوں میں ان کے فعل نے فوج کو بدنام کیا۔ اس پر محکمانہ کارروائی ایک قابل تحسین فیصلہ تھا مگر افسوس کہ کچھ لوگوں نے اپنی کوتاہ اندیشی سے ماحول خراب کر دیا۔
یاد رکھیں پاک فوج میں بھی لوگوں سے غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ کسی فوجی افسر کی غلطی کا دفاع خواہ مخواہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ماضی میں کئی حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسروں کے خلاف قانون شکنی پر سخت کارروائیاں حتی کہ سزائے موت تک دی جا چکی ہے۔ فوجی قیادت نے کرنل اسفند یار کو گرفتار کرنے کا حکم دے کر ایک مستحسن کام کیا ہے۔ اس کو خواہ مخواہ متنازعہ نہ بنایا جائے۔ اور بعض لوگ یہ خبریں دے رہے ہیں کہ کرنل صاحب کے ساتھ دھکم پیل کرنے والے طلبہ کو اٹھایا جا رہا ہے۔ ایسا اگر ہوا ہے تو نہیں ہونا چاہیئے۔ اس سے کرنل صاحب کے خلاف ہونے والی محکمانہ کارروائی کا تاثر زائل ہو جائے گا۔ ان طلباء کے عمل کو ردعمل کے طور پر دیکھنا چاہیے جو کرنل صاحب کی اشتعال انگیزی کی وجہ سے ہوا۔کرنل صاحب آفیشل ڈیوٹی پر نہیں بلکہ بیگم کی ڈیوٹی پر تھے۔ ان کے ساتھ دھکم پیل کو محکمے کے ساتھ مخاصمت کے تناظر میں ہر گز نہ دیکھا جائے۔
یاد رکھیں 2006 میں ایک کیپٹن کو بچانے کے چکر میں ہم پورا بلوچستان آگ میں جھونک چکے ہیں۔ اگر ہمارے فوجی افسر اور جوان ملک کے لئے جانوں کی قربانی دے سکتے ہیں تو ایک کرنل اسفند یار کی نوکری کی قربانی سے ادارے کا وقار بلند ہو گا کم ہر گز نہیں۔ گرفتار نوجوانوں کو رہا کیا جائے۔ وہ جانیں ان کی یونیورسٹی جانے۔ اس معاملے میں کوئی بھی balancing act حقیقت میں imbalance پیدا کر دے گا اور اس طرح کے چھوٹے چھوٹے واقعات سے بڑے بڑے سانحے جنم لے لیتے ہیں۔ ماضی قریب میں کئی عوامی مہمات کے ٹرگر پوائنٹ ایسے چھوٹے موٹے واقعات ہی تھے جو مس ہینڈلنگ کی وجہ سے قابو سے باہر ہو گئے۔ کرنل صاحب کا دفاع اور نوجوانوں کی گرفتاری معاملات کو اسی سمت لے کر جا رہی ہے میری ناقص رائے کے مطابق۔
و ما علی الا البلاغ
@RShahzaddk شہزاد بھائی اپ بھی اہستہ اہستہ یوتھیے بنتے جا رہے ہیں کیا کرنل کا اسٹوڈنٹ کو چھڑی سے مارنا ٹھیک عمل تھا؟پتہ نہیں کس طرح لوگ اس فوجی کے عمل کو ڈیفینڈ کر رہے ہیں
اندازہ کریں یہ " عسکرن" بھی شعر و ادب پر بات کر رہی ہے۔اری فوجی بیرک کی موم بتی یہ ہما شما کا کام نہیں۔تم اگر مجھے یہ شعر درست تلفظ اور بحر کے ساتھ پڑھ کر ہی دکھا دو تو تمہیں منہ مانگا انعام دوں۔تمہارا یہ بات کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی ریڑھی والے کا کوانٹم فزکس پر لیکچر دینا۔تم بس زبان سے "باربرداری" کا کام لیا کرو