حامد میر کو کچھ بھی نہی ہو گا اور جب یہ ثبوت پوسٹ کر رہا تھا تب سے یقین تھا کیونکہ نون لیگ کا یہ لاڈلا ہے اسٹیبلشمنٹ کو بھی پورا رکھتا ہے اور صحافی برادری اپنے صحافیوں کا قتل تک معاف کر دیتے ہیں یہ گروہی مفادات کا معاملہ ہے مگر آپ کو صرف یہ دیکھانا تھا کہ پاکستان میں لوٹ مار مچی کیسے ہے
جناب ڈاکٹر معید پیرزادہ عرف انگوٹھا ذادہ نے عمران، باجوہ، فیض دور میں 39 کروڑ روپے صرف اپنی این جی او گلوبل ویلیج اسپیس کا سیٹ اپ بنانے کے لیے لیے۔ پھر ایک کروڑ روپے ہر ماہ اس سیٹ اپ کو چلانے کےلیے بھی لیتے رہے۔ یہ حلال فیس تھی۔ یہ پاکستان کی ان چند شخصیات میں شامل ہیں جو بیک وقت عسکری اور پارٹی ٹاؤٹ ہونے کے ساتھ ساتھ بھرپور چونالگا رہے تھے۔ (اپنے والد کے انگوٹھے والا چونا الگ ہے)
اپنے تجربے کی بنیاد پر اب یہ پوری پاکستانی قوم کو ڈالری چونا لگا رہے ہیں۔ کیا کمال کے لوگ ہیں، آپ ان کے کارنامے دیکھیں اور پھر ان کی باتیں اور اخلاقیات کے لیکچر چیک کریں۔
اب اس کہانی کا ایک اور پہلو چیک کیجئے حامد میر سب سے بڑا دشمن اور مخالف نون لیگ کا ہے یہ پلاٹ جب الاٹ ہوا نون لیگ کا دور تھا انٹیلیجنس بیورو وزارت داخلہ کے انڈر آتی اور اس وقت چوھدری نثار وزیر داخلہ تھا اور جب پلاٹ ڈی سیکٹر سے اے سیکٹر ٹرانسفر ہوا اس وقت بھی نون کی حکومت تھی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ تھے
نون لیگ کے اس احسان کا بدلہ حامد میر نے الیکشن والی رات کو دیا تھااس سے پہلے یہ پلاٹ ٹرانسفر ہو چکا تھا بعد میں جو تمغے اور نوکریاں دی گئیں وہ الگ ہے
ایک صحافی کے ثبوت کے ساتھ سکینڈل پر کتنے صحافیوں نے سوال پوچھا ہے ؟ اگر معاملہ کسی سیاستدان کا ہوتا اب تک صحافیوں نے گھنگھرو توڑ دینے تھے مگر اب ان کی ساری حریت اور جمہور پسندی نیپال کے جنگل چلی جاتی ہے
فرمایا گیا تھا کہ سعودی چھپ گے ہیں پھر سعودی انکل اپنے لڑکے لیکر اُن دشمنوں کے ڈیرے پر پہنچ گے جو چھپ کر مسلمانوں کے مقدس مقامات پر حملے کروا رہے تھے
اللہ پاک ان لڑکوں کی حفاظت فرمائے موسادیوں کی کوفہ میں جانا آسان کام نہیں
لمبی لمبی زبانوں اور سب کے پردے چاک کرنے والے زبان دراز صحافیو ں کی وضاحتیں تیسرے درجے کے موقعے کے تلاش میں بھٹکتے صحافی اس قسم کی دے رہے کہ دس ہزار سال سے حامد میر کو جانتا ہوں وہ تو ایک رات کے وضو سے دس دن فجر کی نماز پڑھتے
نا منی ٹریل دیں گے نا اصل سوالوں کا جواب
نیازی کے جرائم کا خمیازہ قوم کی نسلوں کو بھگتنا ہوگا،اسکے جرائم میں یہ بھی شامل ہے کہ اس نے کرسی کی حرص میں نفرت کو بطورہتھیار استعمال کرتے ہوئے، قوم کو پولارائز کرکے،اپنے پیروکاروں کے دلوں کو نفرت سے اتنا تاریک کردیا ہے کہ وہ سچ کی روشنی کومحسوس کرنے کی حس اور سکت کھو چکے ہیں۔
پاکستان میں عمران خان نے بھی شریف فیملی، پیپلز پارٹی، مولانا فضل الرحمان اورقومی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کا بیانیہ بنا کر بیچاجوخوب بکا۔خان صاب کے اپنے پلے کوئی ایساکارنامہ یا اچھائی نہیں تھی جسکی بدولت مقبول ہو پاتے۔اب خود بھی اپنی لگائی ہوئی نفرت کی آگ کی بھینٹ چڑھے گا+
نفرت کے بیوپاریوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا:
امریکہ سیاسی منظر نامے پر قلیل وقت میں مقبول ہونے والے چارلی کروک نے دراصل سیاست میں نفرت پھیلا کر مقبولیت حاصل کرنے کا فارمولا استعمال کیا اور بالآخرخود بھی اسی نفرت کی بھینٹ چڑھ گیا۔ +++
کیا کوئی بتا سکتا ہیں یہ ہماری وزیر اعلی پنجاب قائد کی بیٹی @MaryamNSharif صاحبہ ہی ہیں ؟؟
کچھ ناقدین کہتے تھے ان کے ساتھ یوتھ نہیں ہیں
یوتھ انشاءﷲ نواز شریف صاحب اور @MaryamNSharif کے ساتھ ہیں
🚨 حامد میر کا گلبرگ گرینز میں چھ کنال کا فارم ہاؤس: ثبوت ،دستاویزات، مبینہ فوائد اور چند اہم سوالات!
حامد میر صاحب نے صحافیوں پر خفیہ اداروں سے مالی فوائد حاصل کرنے اور ان کے ایجنڈے کے مطابق لکھنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اگر صحافت میں مالی مفادات، ادارہ جاتی تعلقات اور مراعات سوالات اٹھانے کا موضوع ہیں، تو پھر یہی اصول ہر صحافی پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔
حامد میر صاحب اس وقت مبینہ طور پر تقریباً ایک ارب روپے مالیت کے چھ کنال کے فارم ہاؤس میں رہائش پذیر ہیں۔ اس حوالے سے دستیاب دستاویزات پر چند اہم سوالات سامنے آتے ہیں، جن کے جوابات عوام کے سامنے آنے چاہییں۔
معاملہ کیا ہے؟
گلبرگ گرینز، اسلام آباد میں واقع سول خفیہ ایجنسی انٹیلجنس بیور کی ہاوسنگ سوسائٹی ہےدستیاب دستاویزات کے مطابق، حامد میر صاحب نے 12 مار 2014 کو چھ کنال کا ایک فارم ہاؤس پلاٹ الاٹ ہوا ، جو سیکٹر ڈی میں واقع تھا۔ یہ سیکٹر نسبتاً غیر آباد بتایا جاتا ہے۔
بعد ازاں، عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں، 23 ستمبر 2022 کو مبینہ طور پر یہ پلاٹ سیکٹر ڈی سے منتقل کرکے سیکٹر اے میں کر دیا گیا۔ سیکٹر اے کو سوسائٹی کا اہم اور مہنگا علاقہ سمجھا جاتا ہے، جہاں اعلیٰ فوجی افسران کی رہائش گاہیں بھی موجود ہیں۔ اسی علاقے کے قریب سابق چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کی رہائش گاہ ہے
اس معاملے میں درج ذیل سوالات کے جواب ضروری ہیں:
1۔ ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ لینے کی بنیاد کیا تھی؟
حامد میر صاحب، اگر آپ خود کو اصول پسند اور آزاد صحافت کا علم بردار سمجھتے ہیں، تو ایک ایسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں چھ کنال کا پلاٹ خریدنے کی ضرورت اور اس کی بنیاد کیا تھی، جس کا تعلق خفیہ ایجنسی سے ہے؟ کیا یہ پلاٹ عام کمرشل یا اوپن مارکیٹ خریداری کے ذریعے حاصل کیا گیا، صحافیوں کے کسی مخصوص کوٹے کے تحت ملا، یا کسی خصوصی رعایت یا تعلق کی بنیاد پر حاصل ہوا؟ اگر کوئی خصوصی کوٹا یا رعایت تھی، تو اس کی شرائط کیا تھیں؟
2۔ پلاٹ کی اصل قیمت اور منی ٹریل کیا ہے؟
یہ پلاٹ کس قیمت پر خریدا گیا؟ خریداری کے وقت اس کی سرکاری اور مارکیٹ ویلیو کیا تھی؟ ادائیگی کس ذریعے سے کی گئی، اور کیا اس کی مکمل مالی دستاویزات اور منی ٹریل موجود ہیں؟ اگر آج اس فارم ہاؤس کی مالیت تقریباً ایک ارب روپے بتائی جا رہی ہے، تو اس مالیت کا تعین کس بنیاد پر کیا گیا؟ پلاٹ کی قیمت اور اس پر تعمیرات کی لاگت کو الگ الگ واضح کرنا بھی ضروری ہے۔
3۔ سیکٹر ڈی سے سیکٹر اے میں منتقلی کیسے ہوئی؟
یہ اس معاملے کا سب سے اہم سوال ہے۔ سیکٹر ڈی اور سیکٹر اے کی زمین کی قیمت، محلِ وقوع اور اہمیت میں نمایاں فرق بتایا جاتا ہے۔ یہ فرق تقریباً ایسا ہے جیسے اسلام آباد میں کسی شخص کا پلاٹ آئی ٹین سے منتقل کرکے ایف 6 مارگلہ روڈ میں دے دیا جائے۔
اگر پلاٹ واقعی سیکٹر ڈی سے سیکٹر اے میں منتقل کیا گیا، تو اس منتقلی کی قانونی اور انتظامی بنیاد کیا تھی؟ کیا یہ معمول کی پالیسی کے تحت ہوئی یا کسی خصوصی منظوری سے؟ کیا دونوں سیکٹرز کے درمیان قیمت کے فرق کی ادائیگی کی گئی؟ کیا اس منتقلی کے لیے متعلقہ اتھارٹی کی منظوری، بورڈ کی کارروائی اور دیگر ضروری دستاویزات موجود ہیں؟ اور سب سے اہم سوال: کیا یہی سہولت عام الاٹیز کو بھی دستیاب ہے، یا یہ کسی خاص فرد کے لیے خصوصی رعایت تھی؟
4۔ مختلف ادوار میں مبینہ فوائد اور طاقت ور حلقوں سے تعلقات کی وضاحت کیا ہے؟
حامد میر صاحب، آپ کے ناقدین آپ اور آپ کے خاندان کے مختلف فوجی ادوار میں مبینہ فوائد اور سرکاری اداروں سے وابستگیوں پر بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کی حقیقت واضح کرنا ضروری ہے:
* آپ کی اہلیہ مشرف دور میں پی ٹی وی سے وابستہ تھیں، اور آپ کی بیٹی کے بھی موجودہ دور میں پی ٹی وی پر آنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان تقرریوں یا مواقع کی نوعیت اور بنیاد کیا تھی؟
* آپ کے بھائی نگران حکومت کے دور میں وزیر بنے۔ ان کی تقرری کا پس منظر کیا تھا؟
* آپ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ جنرل قمر جاوید باجوہ سے طویل ملاقاتیں کرتے اور انہیں مشورے دیتے تھے، حتیٰ کہ ایک ملاقات آٹھ گھنٹے جاری رہنے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔ ان ملاقاتوں کی نوعیت اور مقصد کیا تھا؟
* ان تمام معاملات کی روشنی میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ نے کسی دور میں کسی قسم کی خصوصی رعایت، سہولت یا فائدہ حاصل کیا؟
آزادیٔ صحافت کا تقاضا صرف دوسروں سے سوال کرنا نہیں، بلکہ اپنے بارے میں اٹھنے والے جائز سوالات کا جواب دینا بھی ہے
سب صحافی دھڑا دھڑ حامد میر کی تعریفی پوسٹیں کر رہے ایسے بچایا جاتا ہے اپنا بندہ جبکہ سیاست دانوں کی دفعہ ان کا معیار بدل جاتا ہے
اخے اس غریب کی مدد کی اس کی مدد کی مگر یہ نہی بتا رہے اس کے پلاٹ کو سستے سیکٹر سے مہنگے ترین میں بدلنے پر کس نے مدد کی؟
I BEG YOU 😭😭😭
PLEASE DON'T SKIP ME :((
My account has been restricted,
So, my gfm doesn't appear to everyone!
Please support my family gfm !!!!
by sharing and quoting and donating 💔🚨
Please, Leave a comment 🇵🇸 ، 🍉
https://t.co/QKkoW7OOx1…