@theRealYLH Claiming a false prophethood is biggest blasphemy of PROPHET MUHAMMAD. It cannot be justified through naats .
Suppose someone who claims to be your father and then writes poetry about your father you will accept his love?☺️
@WatanDost22 ان کے اختلاف، عبداللہ شاہ کے اغوا ��ور قتل کی پلاننگ کے شواہد سب کچھ پولیس ریکارڈ پر ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک فریق کی زبان بند کر کے غلط تاثر پھیلایا، لیکن جھوٹ آخرکار ایکسپوز ہو ہی گیا!
احمدیہ کتابوں (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ اور نسیم دعوت جلد ۱۹) میں مرزا غلام احمد نے خود دو دائمی بیماریاں بیان کیں: اوپر والے جسم میں درد سر، دوران سر اور مائیگرین (تقریباً ۲۵-۳۰ سال) اور نیچے والے جسم میں ذیابیطس و کثرت پیشاب (۲۰-۳۰ سال)۔ اسہال اور کمی خواب بھی مذکور ہیں۔ نفسیاتی بیماریوں (ہسٹیریا/مراق) کا ذکر سیرت المہدی وغیرہ میں ہے مگر احمدیہ اسے مائیگرین کی غلط تعبیر بتاتے ہیں اور خود انہوں نے ایسی بیماریوں سے حفاظت کا دعویٰ کیا۔
کیا عبدالحنان اپنے فون کی ری فرانزک کے لیے تیار ہے؟
پورنوگرافک توہین مذہب سے متعلق مقدمات کے ضمن میں آج کل ایک مخصوص طبقہ ملزم عبدالحنان کے نام کو غیر معمولی طور پر اچھال رہا ہے۔ اس کی کیڈٹ کالج کی وردی میں تصویر ہر جگہ گردش کرائی جا رہی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس مہم کے پیچھے بڑی حد تک وہی حلقے نظر آتے ہیں جو عام حالات میں افواج پاکستان اور وردی کو تنقید کا نشانہ بناتے نہیں تھکتے، لیکن یہاں اسی وردی کو بار بار نمایاں کر کے ایک مخصوص تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مگر اس پورے شور میں ایک چیز تقریباً مکمل طور پر غائب ہے: مقدمے کا اصل ریکارڈ۔
اس وقت عبدالحنان کے مقدمے کے حوالے سے عوام کے سامنے بنیادی طور پر دو چیزیں پیش کی جا رہی ہیں۔ ایک اس کی وردی والی تصویر، اور دوسری اس کی والدہ کا ایک رقت آمیز بیان۔ دونوں چیزیں انسانی جذبات کو متاثر کر سکتی ہیں، لیکن کسی فوجداری مقدمے کا فیصلہ جذبات، تصاویر یا سوشل میڈیا کی مقبولیت سے نہیں ہوتا۔
اصل سوال یہ ہے کہ مقدمے کی دستاویزات کس نے پڑھی ہیں؟
کیا اس مقدمے سے متعلق 80 سے زائد صفحات پر مشتمل فرانزک مواد کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا گیا ہے؟ کیا متعلقہ عدالتی ریکارڈ دیکھا گیا ہے؟ کیا جنید منیر کے کیس (عبدالحنان ہمراہی ملزم ہے)کا مطالعہ کیا گیا ہے؟ کیا اس مقدمے میں دیے گئے عدالتی فیصلے کو پڑھا گیا ہے؟ کیا ان مواد اور بیانات کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں بعض سیکولر تعلیمی ماحول میں مذہب مخالف اور جنسی نوعیت کے مواد کی تشہیر سے متعلق سوالات اٹھائے گئے
زیادہ تر صورتوں میں جواب نفی میں ہوگا۔
لیکن اس کے باوجود دجل اور رقت فروشی کا بازار گرم ہے۔ ایک تصویر دکھائی جاتی ہے، ایک ماں کا بیان سنایا جاتا ہے، اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر ایسے فیصلے صادر ہونے لگتے ہیں جیسے عدالت، فرانزک ماہرین، وکلا، گواہ اور پورا عدالتی عمل غیر ضروری ہو۔
یہ مقدمات سوشل میڈیا پر طے نہیں ہونے۔ اور نہ ہی فیس بک، یوٹیوب یا ایکس استعمال کرنے والے لوگ اس مقدمے کے جج ہیں۔
اگر کسی شخص کو یقین ہے کہ عبدالحنان بے گناہ ہے، تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کے حق میں آواز اٹھائے۔ لیکن پھر ایک بنیادی سوال کا جواب بھی دینا ہوگا:
ملزم نے اپنے خلاف پیش کیے گئے فرانزک شواہد کو باقاعدہ قانونی اور تکنیکی بنیاد پر کیوں چیلنج نہیں کیا؟
اگر یہ شواہد غلط ہیں، اگر فون سے منسوب مواد اس کا نہیں، اگر ڈیجیٹل ریکارڈ میں جعل سازی ہوئی، اگر ڈیٹا کسی اور نے ڈالا، اگر فرانزک طریقہ کار ناقص تھا، تو پھر سب سے مضبوط دفاع یہی ہونا چاہیے کہ فرانزک رپورٹ کو چیلنج کیا جائے اور آزادانہ فرانزک کر��ئی جائے۔
لہٰذا بات صرف سوال اٹھانے تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ آئیے ایک عملی قدم اٹھاتے ہیں۔
جتنے لوگ سمجھتے ہیں کہ عبدالحنان بے گناہ ہے، وہ مل کر ایک چھوٹا سا فنڈ قائم کریں۔ اس فنڈ سے ملزم کے فون اور متعلقہ ڈیجیٹل مواد کی دوبارہ فرانزک کرائی جائے۔ فرانزک ایجنسی ��لزم خود منتخب کرے، بشرطیکہ وہ ایسی مستند لیبارٹری یا ادارہ ہو جس کی رپورٹ پاکستانی قانون اور عدالتی تقاضوں کے مطابق قابل قبول ہو۔
یہ کوئی کروڑوں روپے کا منصوبہ نہیں۔ میرے علم اور دستیاب معلومات کے مطابق اس نوعیت کا بنیادی فرانزک عمل پچاس ہزار روپے سے بھی کم میں ممکن ہو سکتا ہے۔ اگر اس مہم کے حامی واقعی سمجھتے ہیں کہ ایک بے گناہ نوجوان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے تو پھر کسی کے حصے میں ایک ہزار روپے آئیں، کسی کے حصے میں دو ہزار، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ کم از کم اس طرح جذباتی نعروں کے بجائے ایک قابل جانچ دعویٰ سامنے آئے گا۔
میرا دعویٰ ہے کہ ملزم اس پیشکش پر آمادہ نہیں ہوگا۔
اور اس دعوے کو غلط ثابت کرنے کا طریقہ بھی نہایت آسان ہے۔ ملزم کی فیملی یا اس کے وکیل کے ذریعے اس سے رابطہ کیا جائے۔ اس سے کہا جائے کہ آپ کے خلاف جو فرانزک رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ہے، آپ اسے چیلنج کریں۔ اپنا فون اور متعلقہ ڈیجیٹل مواد اپنی پسند کی کسی مستند فرانزک لیبارٹری کو دیں۔ قانونی طریقے سے دوبارہ فرانزک کرائی جائے۔
اگر پہلی رپورٹ غلط ہے تو حقیقت سامنے آ جائے گی۔ اگر شواہد گھڑے گئے ہیں تو وہ بھی سامنے آ جائے گا۔ اور اگر رپورٹ درست ہے تو پھر وہ حقیقت بھی سب کے سامنے ہوگی۔
اس سے زیادہ منصفانہ مطالبہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
ایک بار پھر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔
سوال صرف یہ ہے:
کیا عبدالحنان اپنے فون کی ری فرانزک کے لیے تیار ہے؟
@RShahzaddk بہترین تحریر
اس موضوع کو ادب احترام،خاندانی پرم پرا اور دنیا کیا کہے گی کی فلاسفی کی بجائے نفسیاتی زاویہ سے دیکھنا چاہیے کہ جدید نسل کی نفسیات کیسے تشکیل پاتی ہیں ۔
دھونس اور شک سے آ پ سدھارنے کی بجائے انہیں بگاڑ بیٹھیں گے پھر نقصان نا قابل تلافی ہو گا ۔
ٹین ایج میں نوجوانی میں بچے بہت سے فیز سے گزرتے ہیں ویسے بھی ہمارے میڈیا سوشل میڈیا ہر جگہ پیار محبت عشق اس کے علاوہ گفتگو نہی ہوتئ ہے عمر کا جذبات کا اس کی جسمانی نفسیاتی ضروریات کا والدین کو پتہ ہونا چاہیے ہم بھی اس دور سے اسی طرح گزرے ہیں
ہمیں بھی اب زمانے کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا بچوں کی شخصیت کی تعمیر اس طرح کریں کہ وہ میچور فیصلہ لے سکیں ان سے کمیونیکشن رکھیں عمر کے تقاضوں کو سمجھیں اور اٹھارہ انیس سال تک آپ کا بچہ اتنا میچور ہو کہ پسند نا پسند پر بہتر فیصلہ کر سکے اسے اپنے فیصلہ لینے اور اس فیصل�� کا بوجھ اٹھانے کا بھی سیکھائیں اس کے بعد وہ اپنی زندگی کا کیا فیصلہ کرتا یہ اس پر چھوڑ دیں جس نے زندگی گزارنی ہے وہ اپنے لائف پارٹنر کا بہتر فیصلہ کر سکتا ہے آپ بس کمیونیکیشن بہتر رکھیں تاکہ بچہ آپ سے کچھ چھپائے نہی اور کسی غلط قدم پر آپ کو بہت شروع میں اسے سمجھانے کا موقع مل جائے
بچوں پر اعتماد کریں تو وہ غلط فیصلے نہی کرتے ہیں باقی ہم سب غلطیوں سے ہی سیکھتے ہیں شادی بیاہ جیسے فیصلے پر تو بڑوں کے فیصلے بھی کبھی غلط ثابت ہو جاتے ہیں اس لیے اسے تسلیم کرنا سیکھ لیں
@decliningsince@Ahmadiyyafacts@theRealYLH@surkhawb No, mirza claimed to be the literal second coming ie: the ruh of prophet saw naudhubillah entered mirza and mirza became muhammad saw. As for the mirza having superior spirituality than prophet saw