یہ گوجرانوالہ کو کس بات کی سزا دے رہے ہیں اتنی لوڈ شیڈنگ ۔۔۔۔اففف شدید گرمی میں 9 9 گھنٹے کی مسلسل لوڈ شیڈنگ ہو رہی۔با بار ٹرپنگ پرابلم الگ سے ۔چاہتے کیا ہیں یہ واپڈا والے نہ کاروبار چل پا رہے نہ گھر میں سکون
@akleghari
@ibnehussain03@sajjadahmadch میرٹ کےلحاظ سےوہ گریڈ22کی سینیئرافسرہونےکےناطےاس عہدےکی اہلیت پرپورااترتی ہیںFPSCکےممبران ریٹائرڈ یاسینئر بیوروکریٹ ہی ہوتےہیں
عمران دورمیں بھی انکانام کامرس منسٹری کی جانب سےDG IPOکی پوسٹ کےلیےمیرٹ لسٹ میں پہلےنمبرپرتھاتب بھی عمران نےاحسن اقبال کی وجہ سےمسترد کردیاتھا
@digitalchirrya اوہ انتہائ دکھ ہوا ماں جی کے جانے کا 😭بس اللہ کے حکم کے بنا پتہ بھی نہیں ہل سکتا رب کریم انکی بہت مغفرت کرے جنت الفردوس میں اعلی مقام دے اور آپ سب کو صبر دے آمین
مورخ لکھے گا تاکہ سند رہے کہ عمران ریاض ولد ٹھیکیدار ریاض دورِ حاضر کا سب سے بڑا جھوٹا خائن دھوکہ باز بددیانت اور بے ایمان ہے کیونکہ ڈالروں کی محبت میں ہم آشفتہ عمرانوں نے وہ جھوٹ بھی پھیلائے جو واجب نہ تھے
جب تک کسی کو یہ پتہ نہ ہو کہ وار کون کر رہا ہے اور تیر کدھر سے آ رہا ہے، نہ وہ اس تیرکو روک سکتا ہے اور نہ وار کرنے والے کی گردن دبوچ سکتا ہے۔
بہت عرصہ تک ہم طالبان کو دہشت گردی کا الزام دیتے رہے اور کم علمی میں یا مصلحتا” بھارت کا ذکر کرنے سے احتراز کرتے رہے حالانکہ یہ ساری دہشت گردی کو بھارت کی مالی معاونت حاصل تھی۔
جب بیماری نے پوری طرح جڑیں پھیلا لیں تب جا کر ہم نے بیماری کا اعتراف کیا اور دہشت گردی کو فتنہ آل ہندوستان کہا۔
اب واضح طور پہ اسرائیل بھی اس کھیل میں شامل ہو گیا ہے، کراچی کی دہشت گردی بھارت اور طالبان سے آگے کا لیول ہے۔ ہم اب اسرائیل کا ذکر کرنے میں بے دیر کر رہے ہیں۔ پہلے بھی ہم نے ایک عرصہ تک قوم کو ابہام میں رکھا اور اسے بتاتے رہے کہ یہ ناراض لوگ ہیں، محض بگڑے ہوے لوگ ہیں۔ یہ بہت بڑی غلطی تھی اب یہ غلطی نہیں دہرای جانی چاہیے۔
قوم کو اس دہشت گردی کے خلاف کھڑا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے صاف بتایا جاے کہ یہ دہشت گردی بھارت اسرائیل کے کراے کے مرسنریز کر رہے ہیں اور ان کی جیبوں سے ڈالر نکلتے ہیں۔
ففٹی سی سی ہنڈا کرائے کے گھر سے صحافتی کیرئیرشروع کرنے والا عمران ریاض آنکھ جھپکتے ہی ارب پتی بن گیا کنالوں پر محیط لگژری گھر امپورٹڈ گاڑیاں فارم ہاؤس کا مالک بن گیا اور آج ریحام تارک بھی اسی ڈگر پر چل پڑا ہے
اس برق رفتار ترقی نے پاکستانی صحافت کو مامے مودے کا کوٹھا بنا دیا ہے