Pukhtunkhwa is a homeland, not a business proposal. Reform must serve its people—not turn their land, resources and future into a revenue plan for the powerful.
صوبہ بھر میں دہشتگردوں سے کوئی جگہ خالی نہیں رہی ہے، حالات بہت بگڑ چکے ہیں، خانہ جنگی کا خطرہ ہے، حالات کے مقابلے کیلئے اتحاد و اتفاق ناگزیر ہے۔
میاں افتخار حسین
صدر اے این پی خیبر پختونخوا
#ANP | #MianIftikharHussain
کہا جارہا ہے کہ نظام فیل ہوگیا ہے، نظام آپ چلا رہے تھے، نظام فیل ہے تو مطلب آپ فیل ہیں۔ وہ جو کونسلری بھی نہیں جیت سکتے آج ملک کے مستقبل کے فیصلے کررہے ہیں۔ حساب 1972 سے نہیں 1947 سے ہوگا۔ غلطیاں انکی ہیں، جنہوں نے مفت میں حکومتیں کی ہیں۔
میاں افتخار حسین
صدر اے این پی خیبر پختونخوا
#ANP | #MianIftikharHussain
⚫️ ریاستی پالیسیوں میں یہ شامل ہی نہیں کہ خیبرپختونخوا میں مستقل امن قائم ہو، اگر یہاں امن قائم ہوجائے تو پھر یہ ڈالر کہاں سے آئیں گے؟
⚫️ ڈالری جنگوں کے نام پر گزشتہ پچاس سال سے ہمیں مارا گیا، ہماری مساجد، گھر اور حجرے اجاڑ دیے گئے، اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے
⚫️ سوات کبل واقعے میں 7 افراد کی شہادت اور 18 افراد کے زخمی ہونے کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے
⚫️ پشاور میں پولیس وین پر دھماکہ اور خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات بھی انتہائی تشویشناک ہیں
⚫️ دہشت گرد اس قدر مضبوط ہوچکے ہیں کہ اب دن دیہاڑے پولیس اسٹیشنوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی کھلے عام ریاست کو چیلنج کر رہا ہو
⚫️ سوات میں آج اسی تھانے کے قریب سوات امن پاڅون کے زیرِ اہتمام احتجاج جاری تھا، اور اسی دوران دھماکہ ہوا جو لوگ امن کا مطالبہ کرنے آئے تھے، انہی میں سے کئی افراد زخمی اور شہید ہوئے
⚫️ سوال یہ ہے کہ دہشت اور وحشت کا یہ سلسلہ صرف پشتونوں کے مقدر میں کیوں لکھا گیا ہے؟ آج دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے، لیکن ہم آج بھی امن کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اسی امن کی خواہش کی سزا کاٹ رہے ہیں
⚫️ جنرل فیض اور طالبان کو واپس لانے والوں سے پوچھنا چاہیے کہ ان فیصلوں کا خمیازہ آج کون بھگت رہا ہے؟ پشتون عوام یا وہ لوگ جنہوں نے دہشت گردوں کو دوبارہ یہاں لایا؟
⚫️ایمل ولی خان نے اس حوالے سے ہائی کورٹ میں کیس بھی دائر کیا، لیکن بدقسمتی سے پختون عوام کو معلوم نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے
⚫️ ہم مسلسل آواز اٹھاتے رہے کہ خیبرپختونخوا کے ہر ضلع میں دہشت گرد دوبارہ منظم ہو رہے ہیں، لیکن ہماری بات کو نہیں سنا گیا
⚫️ اب بھی وقت ہے کہ اس خطرناک کھیل کے خلاف متحد ہونا ہوگا
⚫️ہم نے اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر یہاں امن قائم کیا تھا، لیکن بعد میں عمران خان، جنرل فیض حمید اور دیگر کی پالیسیوں کے نتیجے میں خطرناک دہشت گردوں کی رہائی اور مذاکرات کے نام پر ہزاروں افراد کی واپسی نے حالات کو دوبارہ خراب کیا
⚫️ عوامی نیشنل پارٹی جس طرح 2008 سے 2013 تک دہشت گردی کے خلاف چٹان کی طرح کھڑی رہی، آج بھی اسی عزم کے ساتھ کھڑی ہے اور آئندہ بھی کھڑی رہے گی، کیونکہ یہ قوم ہماری اپنی ہے اور ہم اس سرزمین کے حقیقی وارث ہیں
#ANP | #MianIftikharHussain | #ANP4Peace
عوامی نیشنل پارٹی کی سوات کبل پولیس اسٹیشن اور پشاور میں پولیس وین پر دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت
⬛ سوات کبل واقعے میں 7 افراد کی شہادت اور 18 افراد کے زخمی ہونے کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے
⬛ پختونخوا میں آخر ہو کیا رہا ہے؟ یہ حالات کس سمت جا رہے ہیں؟
⬛ آج کبل پولیس اسٹیشن کے قریب سوات امن پاڅون کے زیرِ اہتمام دہشت گردی اور بدامنی کے خلاف پُرامن احتجاج جاری تھا اور اسی دوران یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا
⬛ آئینی حق کے تحت احتجاج کرنے والے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج پُرامن شہری بھی محفوظ نہیں رہے
⬛ کیا سیکیورٹی اداروں کے ذمہ داران عوام کو جواب دیں گے کہ دہشت گرد دوبارہ کیسے منظم ہو رہے ہیں؟
⬛ نمبر ون اور مضبوط ریاستی رٹ کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں، لیکن عملی میدان میں صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے
⬛ وفاق میں موجود دو بڑی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی اور اسکرپٹڈ سیاسی ڈراموں کے ذریعے پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف ہیں
⬛ جبکہ صوبائی حکومت سیمی فائنل اور فائنل جیسے سیاسی نعروں میں الجھی ہوئی ہے
⬛ پہلے ہم جنوبی اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کر رہے تھے، لیکن اب دہشت گردی کے واقعات پشاور اور ملاکنڈ ڈویژن تک پہنچ چکے ہیں
⬛ ملاکنڈ ڈویژن وہ خطہ ہے جہاں ہمارے لوگوں نے اپنے خون کے نذرانے دے کر امن قائم کیا، لیکن آج دوبارہ اسی علاقے میں دہشت گردی کا سر اٹھانا انتہائی تشویشناک اور ناقابلِ قبول ہے
⬛ پارٹی کارکنان اور عہدیداران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ زخمی افراد کی ہر ممکن مدد کریں، خون کے عطیات کا انتظام کریں اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کریں
⬛ عوامی نیشنل پارٹی ایک بار پھر واضح کرتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پختونخوا کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور امن کے قیام کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کی جاتی رہے گی۔
#AimalWaliKhan | #ANP | #ANP4Peace
باجوڑ: عوامی نیشنل پارٹی باجوڑ کے زیراہتمام شہید مولانا خانزیب کی پہلی برسی کی مناسبت سے جلسہ عام، اے این پی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین اور جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی خطاب کررہے ہیں۔
#ANP | #RememberingMaulanaKhanzeb
During the ANP tenure in government, we were establishing new universities in every corner of Pakhtunkhwa. Not a single university ever faced a financial crunch. In fact, we prioritised education above all and generously supported both new and existing institutions with full commitment.
Once a thriving sector has now been thrown to the ground. Seeing our historical and prestigious Peshawar University crippled by financial crisis, delayed salaries and teachers leaving in droves simply pains me. This is not just a governance failure, it is a direct betrayal of our future generations. Education must be rescued before it is too late.
1947ء سے 2012ء تک خیبرپختونخوا کا مجموعی قرضہ 100 ارب روپے سے بھی کم تھا، مگر گزشتہ 13 سال میں یہ بڑھ کر 1000 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ کہاں خرچ ہوا؟
ANP UK invites you to the memorial reference for its national martyr Maulana Khanzeb (R.A) on Sunday, 12 July at 7:00 PM at Taste of Shinwari Hall, Manchester. The event will include Quran recitation and prayers.
#AnpUk
اگر کسی کو یہ دیکھنا ہو کہ تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کی جامعات اور تعلیمی اداروں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے، تو گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کا حالیہ ڈگری سکینڈل ہی کافی ہے۔
تحریک انصاف کے ایک سابق وزیراعلیٰ نے ایک پرو وائس چانسلر ڈاکٹر شکیب اللہ کو 85 نمبر سے اوپر لاکر تعینات کیا(یہ موصوف سوات ویٹرنیٹی یونیورسٹی میں تعینات تھا اور ان کو سوات یونیورسٹی سے گومل یونیورسٹی اور ایگریکلچر یونیورسٹی ڈی آئی خان کا اضافی چارج بھی دیا گیا تھا)، اور انہی کے دور میں مبینہ طور پر گومل یونیورسٹی سے 500 سے زائد جعلی ڈگریاں جاری ہوئیں۔ بعد ازاں جب ایک مستقل وائس چانسلر تعینات ہوا تو اس نے اس معاملے کی انکوائری شروع کی اور تمام تر سیاسی دباؤ اور بااثر شخصیات، بشمول مینا خان، کو خاطر میں لائے بغیر سلیکشن بورڈ بھی منعقد کرایا۔ جب احتساب کا عمل آگے بڑھا تو اسی وائس چانسلر کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے انہیں جبری رخصت پر بھیجنے کی سفارش کی ہے، حالانکہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات میں کہیں بھی ایسی کوئی ہدایت موجود نہیں۔اسی دوران یونیورسٹی میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ وائس چانسلر نے اس پر اپنی سطح پر باقاعدہ انکوائری کمیٹی تشکیل دی اور زمہ داران کو معطل کروایا، لیکن اس کے باوجود ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک الگ انکوائری کمیٹی قائم کر دی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کمیٹی کی سربراہی اسی شخص ڈاکٹر شکیب اللہ کے سپرد کی گئی جسے سابق وزیراعلیٰ نے پرو وائس چانسلر مقرر کیا تھا اور جس کے دورِ تعیناتی میں جعلی ڈگریوں کا سکینڈل سامنے آیا۔ اب فائرنگ کیلئے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی جعلی ڈگریوں تک کیسی پہنچی یہ الگ داستان ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ کسی مخالف سیاسی جماعت یا کالے چینلز کی کہانی نہیں، بلکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی اپنی سرکاری دستاویزات سے سامنے آنے والے حقائق ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر تحقیقات کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو اور الزامات کا سامنا کرنے والوں کو ہی تحقیقات کی نگرانی سونپ دی جائے، تو صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شفافیت اور احتساب کی کیا امید باقی رہ جاتی ہے؟
خیبر پختونخوا کی جامعات کو سیاسی مداخلت، اقربا پروری اور انتظامی انتشار کے حوالے کرنا صوبے کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
خان رہا ہوتے ہیں یا نہیں، یہ اپنی جگہ؛ لیکن ان کے نام پر جس انداز سے اداروں کو چلایا جا رہا ہے، اس کی قیمت پورا صوبہ ادا کر رہا ہے۔ جلد یا بدیر اس حقیقت کا ادراک صرف عوام کو ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی ہو جائے گا جنہوں نے یہ نظام قائم کیا۔
اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا سینیٹ اجلاس سے خطاب:
🟥حکومت میں بیٹھے ہمارے یہ بھائی جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو آنکھیں بند کر لیتے ہیں، اقتدار سے نکلتے ہیں تو جمہوریت یاد آ جاتی ہے
🟥ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگانے والوں نے خود جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی
🟥پٹرولیم لیوی کے بوجھ تلے دبی عوام کو ریلیف کب ملے گا؟
🟥جنگ ختم ہو گئی تو پٹرول کی قیمتیں کیوں کم نہیں ہو رہیں؟
🟥پاکستان کا بجٹ اسلام آباد نہیں، آئی ایم ایف کے دفاتر میں بنتا ہے
🟥حکومتیں بدلتی ہیں، عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ نہیں بدلتا۔
🟥قرضوں اور سود کی ادائیگی نے قومی بجٹ کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
🟥بجٹ میں عوام کیلئے کیا ہے؟ قرض اور ٹیکس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔
🟥خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے حقوق مسلسل سلب کیے جا رہے ہیں۔
🟥صوبائی خودمختاری کوئی احسان نہیں، آئینی حق ہے۔
🟥اٹھارویں ترمیم پر عملدرآمد سے مسلسل گریز کیا جا رہا ہے۔
🟥وفاق صوبوں کے وسائل استعمال کرتا ہے لیکن حقوق دینے سے انکاری ہے۔
🟥پختونخوا کے حصے کے اربوں روپے روکنا آئین شکنی ہے۔
🟥صحت اور تعلیم صوبائی شعبے ہیں تو وفاق ان پر وسائل کیوں خرچ کر رہا ہے؟
🟥ملک قرضوں پر چل رہا ہے مگر وزیروں کی فوج کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔
🟥ایک اختیار کیلئے دو دو وزراء رکھنے کا بوجھ عوام کیوں اٹھائیں؟
🟥عوام کو چور اور ڈاکو کی سیاست نہیں، اپنے حقوق چاہئیں۔
🟥پاکستان میں ہر بجٹ غریب کے بجائے طاقتور طبقے کیلئے بنایا جاتا ہے۔
🟥تنخواہ دار طبقہ مسلسل نچوڑا جا رہا ہے جبکہ بڑے کاروباری گروہ محفوظ ہیں۔
🟥ایک سو چالیس سے زائد شعبے اب بھی مؤثر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔
🟥کام نہ کرنے کی تنخواہ اور کام کرنے کی رشوت لینے والا نظام ملک کو کھا رہا ہے۔
🟥ڈی سی اور کمشنر کا نوآبادیاتی نظام آج بھی عوام پر مسلط ہے۔
🟥انگریز چلے گئے لیکن ان کا انتظامی ڈھانچہ آج بھی قائم ہے۔
🟥بندوق اور ٹینک سے نہیں، تعلیم اور روزگار سے سیکیورٹی آتی ہے۔
🟥حقیقی دفاع سوشل سیکیورٹی، تعلیم اور صحت میں سرمایہ کاری سے ممکن ہے۔
🟥سکول، ہسپتال اور روزگار قومی سلامتی کی بنیاد ہیں۔
🟥بلوچستان، سندھ، پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے مسائل طاقت سے نہیں حل ہوں گے۔
🟥ہر اختلاف کرنے والے کو غدار قرار دینا ملک کے مفاد میں نہیں۔
🟥اگر بیرونی طاقتیں فائدہ اٹھا رہی ہیں تو پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ انہیں مواقع کون فراہم کر رہا ہے۔
🟥آئین کی بالادستی اور جمہوریت ہی پاکستان کے مسائل کا حل ہیں۔
🟥عوام کے ساتھ ریاست کا سالانہ سوشل کنٹریکٹ ہی بجٹ کہلاتا ہے۔
🟥یہ بجٹ عوامی فلاح کا نہیں بلکہ موجودہ نظام کی عکاسی کرتا ہے۔
🟥صرف تنقید سے نہیں، اختیارات کی حقیقی منتقلی سے پاکستان آگے بڑھے گا۔
🟥عوام کو کنٹرول کرنے کے بجائے انہیں بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔
🟥ٹیکنالوجی کے دور میں انسانی ترقی پر سرمایہ کاری قومی ترجیح ہونی چاہیے۔