کرپٹ سسٹم میں نوکریاں ، تمغے، انعامات ، ترقیاں پانے کا آسان طریقہ۔۔ عمران خان کو گالیاں دو، سزائیں دو۔ برا بھلا کہو۔۔ نظام کے تلوے چاٹو۔۔ اور امیر ہو جاؤ۔۔
شاہ رخ ارجمند نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران اور بشری بیگم کو سزا سنائی اور سرکار کی طرف سے پراسیکیوٹر عمیر مجید ملک پیش ہوتے رہے یعنی سزا سنانے والے اور سزا دلوانے والے دونوں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج بن گئے کوئی رہ تو نہیں گیا......
آج تین لوگوں کو ہائی کورٹ کا جج بنایا گیا۔
پہلا جس نے عمران خان کو سزا سنائی ۔
دوسرا وہ پراسیکیوٹر جو عمران خان کے خلاف کیس لڑتا رہا۔
تیسرا اسلام آباد کا ایڈووکیٹ جنرل جو عدالت میں عمران خان اور انکی بہنوں کی ملاقات کو سیکورٹی ٹھریٹ کا کہتا رہا ا ور ملاقات کی مخالفت کرتا رہا۔
مگر آپ نے ہی تو کہا تھا کہ:
انہوں نے 71 کی جنگ ہاری پوچھا کسی نے؟
65 کی فیک جنگ جیتی
سیاچن ہارا - کارگل ہارا
ایسے بہت سے بیانات ہیں آپ کے اسی ادارے کے خلاف جس کے آج وزیر دفاع ہیں آپ - یہ کیسی حب الوطنی تھی جناب 🤔
عمران خان کو سزاسنانے والا جج بھی ہائیکورٹ کا جسٹس بن گیا
عمران خان کے خلاف کیس لڑنے والا وکیل بھی ہائیکورٹ کا جسٹس بن گیا۔۔
عمران خان کی بہنوں سے ملاقات کو سیکیورٹی تھریٹ کہنے والا ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس بن گیا۔۔
ایسا جسٹس کبھی دیکھا نہ سنا🙂🙂
ایک پاکستان دو قانون۔۔
گوکہ علماء کی اکثریت کہہ چکی کہ ریحان طارق بلاوجہ اندر اور ریحان طارق نےمعذرت بھی کر لی مگر پھر بھی ریحان طارق سوال پوچھنے پر اندر جبکہ جواب دینے والے کا کہیں نام تک نہیں،گوکہ نورین نیازی کو یہ گفتگو نہیں کرنی چاہیئے تھی مگر انکا جو انٹرویو آیا ہی نہیں اُس پر انہیں NCCIA کا نوٹس آگیا جبکہ مولانا صاحب نے کیا کچھ نہیں کہہ دیا لیکن NCCIA خاموش۔۔
ایک پاکستان دو قانون۔۔
نواز شریف اور نورین نیازی کے مؤقف میں کیا فرق ہے؟ شاہد خٹک سے سوال کیا تو انہوں نے بار بار کہا آپ پہلے نواز شریف کا کلپ کیوں نہیں چلاتے جس میں وہ فوجی جرنیلوں پر تنقید کر رہے ہیں ہم نے وہ کلپ چلا دیا تو سینیٹر افنان اللہ نے کہا نوازشریف نے کوئی غلط بات نہیں کی
ذرا غور کیجیے۔ موجودہ حکومت کو کام کرنے کے لیے شاید کسی بھی حکومت سے زیادہ گنجائش حاصل ہے۔ کوئی جج ایسا نہیں جو اس کے خلاف ازخود نوٹس کے نشتر چلا رہا ہو، یا کسی منصوبے یا پالیسی کو غیر آئینی قرار دے کر روک رہا ہو۔ کوئی صحافی ایسا نہیں جو حکومت کے خلاف اسکینڈلز بے نقاب کر رہا ہو یا اپنی طرف سے یا کسی کے کہنے پر کوئی مہم چلا رہا ہو۔ کوئی اپوزیشن نہیں جو لانگ مارچ یا عوامی جلسے کر رہی ہو یا پارلیمان میں حکومتی نشستوں کو حقیقی چیلنج دے رہی ہو۔ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں۔ عالمی یا علاقائی طاقتوں یا مالیاتی اداروں کی جانب سے کوئی بیرونی چیلنج یا سزا دینے کی دھمکی نہیں۔ کوئی صوبہ ایسا نہیں جو مرکز کے نظامِ حکومت کو کمزور کرنے کی ضرورت یا صلاحیت رکھتا ہو۔ اور سفارتی سطح پر پاکستان کو اتنی خیرسگالی میسر ہے جتنی شاید ہماری زندگی میں کبھی نہیں رہی۔
آخر حکومت کو اور کیا چاہیے؟
اس کے باوجود حکومت ہچکولے کھا رہی ہے اور معاملات کو الجھائے جا رہی ہے۔ یہ ناقابلِ فہم ہے کہ اپنی مدتِ حکومت کا نصف حصہ مکمل کرنے کے باوجود حکومت عوام کو یہ نہیں بتا سکی کہ وہ دراصل کرنا کیا چاہتی ہے۔
فہد حسین کا ایکسپریس ٹریبیون میں کالم
ثاقب بشیر 🔥🔥
عمران خان سے ملاقاتوں کے حوالے سے سپریم کورٹ ہے 3 رکنی بنچ کے سامنے آج خدا خدا کرکے کیس لگا اور ججز صاحبان نے مجال ہے کہ پوچھا ہو حکومت سے کہ ایک قیدی سے گزشتہ 7 ماہ سے ملاقاتیں بند ہیں توہین عدالت ہو رہی ہے انسانی حقوق کا معاملہ ہے لیکن وہ تکنیکی چیزوں کے پیچھے چھپتے رہے یہ درخواست کیوں نہیں دی فلاں آرڈر کہاں ہے فلاں معاملہ کا کیا ہوا ۔ کوئی وجہ نہیں یورپی یونین پاکستان کی عدلیہ کو کرپٹ اور ایگزیکٹو کے کنٹرول میں ہونے کی رپورٹ دے رہی ہے۔ جسٹس مسرت حلالی جسٹس شاہد بلال اور جسٹس محمد علی مظہر جیسے ھیرے ججز نے یہ کیس کی سماعت کی۔۔
پاکستانی عوام کی حالت اس مرغے کی طرح ہے جو قصائی کی مڈھ کو محفوظ سرزمین سمجھ کر اطمینان سے کھڑا ہے اور اسے ذرا خبر نہیں کہ کسی بھی وقت اس کو اسی پر لٹا کر ذبح کیا جائے گا اور اس کا گوشت قصائی بیچ کر اپنے لئیے پر آسائش زندگی خریدے گا
طاہر اشرفی صاحب کس فوج کی بات کر رھے ھیں ۔۔ھماری فوج تو غیر سیاسی ھے ان کا تو عمران خان کی حکومت گرانے میں کوی کردار تھا ھی نہیں ۔۔کسقدر جھوٹے اور مکار ھیں طاھر اشرفی صاحب ۔۔شرم کریں دروغ گوئی سے پرھیز کریں
نورین نیازی ایک سیاسی لیڈر نہیں۔ انھوں نے متنازع بیان دیا تو اس کا احساس ہونے پر انٹرویو روکنے کی درخواست بھی کر دی۔ کسی اور نے انٹرویو لیک کیا تو مقدمہ نورین نیازی پر۔۔ دوسری طرف مولانا جو عملی سیاستدان ہیں ان کے متنازع اور سوچ سمجھ کر دیے بیان پر بھی کوئی کارروائی کیوں نہیں؟