اب اگر آپ میں سے ہر بندہ اسے ۱۰ بندوں تک پنچا دے تو یہ واقعہ قوت بن سکتی ہے۔ سرحد یونیورسٹی کے ایڈمیشن ڈیٹ میں کچھ دن رہ گئے ہیں۔ اس کی بائیکاٹ کی مہم ہم سب کو چلانی چاہیئے۔
ان یونیورسٹیز کو کچھ نہ کچھ عوامی ردِ عمل ملنا چاہیئے۔
اگر آپ کا دل کمزور ہے تو یہ ویڈیو نہ دیکھیں۔
لا الٰہ الا محمد الرسول اللہ، میں نے پچھلے چار سالوں میں پاکستانی سیاست پر ایکٹیوزم کرنے سے پہلے اپنی ساری زندگی مقبوضہ کشمیر پر ایکٹیوزم کی، لیکن کبھی مقبوضہ کشمیر سے ایسی بربریت والی ویڈیو نہیں دیکھی جو آج آزاد کشمیر سے موصول ہوئی ہے۔
آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ اور فون سروسز بند ہیں۔ اگر کوئی وہاں سے کسی طرح پاکستان یا پاکستان سے باہر آتا ہے تو ایسی ویڈیوز وغیرہ ہمیں ملتی ہیں۔ آزاد کشمیر میں پاکستانی دہشت گرد فوج اور اس کے ماتحت کام کرنے والی دہشت گرد پولیس نے ایسا قہر برپا کیا ہے جس کا ہمیں ابھی اندازہ بھی نہیں ہے۔
لعنت ہو پاکستان کی دہشت گرد فوج پر، لعنت ہو پاکستان کی دہشت گرد پولیس پر، پاکستان کے سیاست دانوں اور اداروں پر۔
کشمیر پاکستان کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے نکل چکا ہے۔
@MaryamNSharif qayyaamat to already achuki hay jo haal tum logo na kar dia hay na is mulk ka gashtio or gandowoo na mil kar bht ibratnak anjam hoga, baghna bhi nahi dain gay tume
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
قائدِاعظم نے کوئٹہ اسٹاف کالج میں تقریر کی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جرنیل پاکستانی عوام کے نوکر ہیں!
اس کے بعد انہیں زیارت بھیج دیا گیا۔ دنیا سے کٹ آف کر کے وہاں انہیں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ وہاں کونسا حکیم تھا، کونسا ہسپتال تھا؟ اگر تھا، تو قائدِاعظم کے علاوہ زیارت کی چار ہزار سالہ تاریخ میں کوئی ایک اور مریض ہی بتا دیں۔
مطالعۂ پاکستان میں جو تم نے پڑھایا گیا ہے، وہ جھوٹ ہے۔
پاکستان میں غدار وہ ہے جو ووٹ کی طاقت کو نہیں مانتا۔ جرنیلو! تم کس حق سے حکمرانی کر رہے ہو؟ تمہاری حیثیت قائدِاعظم نے طے کر دی تھی۔ اب اسی کی پاسداری کرو!