یہ عمران خان کا دور ہے جب انہوں نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا تھا اور ٹھیک دو دن بعد 20 اگست 2018 کو دو افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ دونوں ملزمان کا جرم یہ تھا کہ جب میاں نواز شریف کو اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت لے جایا جارھا تھا تو ان دونوں نے نواز شریف کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے کی کوشش کی۔ یہ تھی عمران خان دور کی فسطائیت کہ وزیراعظم بننے کے فوراً بعد سیاسی مخالفین پر جبر شروع کردیا گیا تھا۔ کل پھولوں والی ایک ویڈیو گزری مگر موجودہ نظام نے کسی پر ایف آئی آر ہوئی نہ کیس اور یہ رونا روتے ہیں کہ موجودہ نظام میں ظلم کے ریکارڈ توڑ ڈالے گئے قیامت ڈھا دی گئی۔
ماشاءاللہ ماشاءاللہ بلکل فٹ۔الحمدوللہ
بہن ھے سیاسی فائدہ یا مصلحت کے لئے بھائ کی صحت کے متعلق غلط بیانی نہیں کرے گی۔
پارلیمانی پارٹی نے آج قومی اسمبلی میں ماتم کناں تھی جذبات شدید تھے IK کی صحت کے متعلق خدانخواستہ خطرے کی گھنٹیاں بجا رہے تھے ۔ جب مالی اور سیاسی مفادات لیڈر شپ کے ساٹھ وابستہ ھو جائیں تو اسطرح ھی رنگ بازی کی جاتی ھے۔
اسطرح بانی کی صحت کے متعلق pti افواہیں اور جھوٹ پھیلا کر اندرون ملک اور بیرون ملک سے اربوں روپے اکٹھے کرتے ھیں پھر وہ اربوں روپے لا پتہ ھو جاتے ھیں پھر لیڈران میڈیا پر ایک دوسرے کے کپڑے اتارتے ھیں ۔ کوئ شرم ھوتی ھے کوئی حیا ھوتی ھے لڑنا ھوتا ھے تو کم از میڈیا کے سامنے نہ لڑا کرو ۔
گرفتاری سے ڈر کر بھاگتے ہوئے تو پاکستان کی تاریخ نے بہت دیکھے ہیں، سینہ تان کر، بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر، اہلیہ کو قبر میں اتار کر، بار بار، ہر بار خود چل کر، پیش ہو کر قانون کو سربلند رکھنے والا صرف نواز شریف ہے! جیو نواز شریف ♥️ #جھکا_نہیں_نوازشریف
جو لوگ عمران خان کو مظلوم بننے کی کوشش کر رہا ہے یا جو لوگ عمران خان کو مظلوم سمجھتے ہیں
ان کو یہ تقریر ضرور سننی چاہیے
دیکھئیے عمران خان کس حد تک نیچے گئے مخالفت میں 👇
نا ھم بھولے ھیں نا ھم بھولنے دینگے۔
ان نوسربازوں کو آج لگتا ھے کہ خان پر بہت ظلم ھورھا ھے،ظلم عمران خان اور اس کو لانے والوں نے مسلم لیگ نواز کی تمام قیادت پر کئے
عمران خان کی بہن عظمیٰ خان
"ڈاکٹر فیصل آپ کہیں کہ مجھے اغوا کر لیا گیا تھا"
"No,
دیکھیں۔۔
They were very decent and civil
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس ثابت ہوا۔۔۔یہ سارا ٹبر ای
بدترین جھوٹوں،حرام خوروں،بہتان بازوں،بدکاروں کا ہے۔
میں انکو رولاوں گا
انکو تکلیف پہنچے گی ، میں انکو تکلیف پہنچاؤں گا-
یہ عمران خان کے وہ الفاظ ہیں جو پی ٹی آئ سیاسی لیڈران کی گرفتاریوں پہ وائرل کرتی اور مذاق اُڑایا کرتی تھی
نیازی تب تک نہیں مرے گا جب تک اس کے کہے ہوئے الفاظ اسی کے اوپر فٹ نہیں ہو جاتے
عمران خان کی بہن کا بیان سن لیجئے کہ عمران کو جب پتہ چلا کہ شفا جا رہے وہ بہت خوشی خوشی جانے کو تیار ہوئے
جبکہ بیانیہ ساز یوتھیے تو ان کو ڈٹ جانے والا اور سسٹم اس کے آگے جھک جانے والا لکھ رہے تھے
اصل حقیقت جان کر جیو وہ بھاگ کر ہسپتال خوشی سے گے
عوام یوں اپنےلیڈرکااستقبال کرتی ھے چاھےوہ جیل جارھاھوچاھےجیل کاٹ کےارھاھو
اج بھی مجھےوہ دن یادھےجب جاتی والی روڈراےونڈجیم پیک تھاجبکہ عوام کوبلکل بلایانھیں گیاتھا
7 مئی 2019 یہ وہ مناظر ہیں جب میاں محمد نواز شریف جاتی امرا سے جیل جا رہے تھے
آج ایک چور جیل سے چیک اپ کے لیے آ رہا سڑکیں خالی ہیں
جو بھڑکیں لگاتے تھے آج ڈرپوک بن کر گھروں میں بیٹھے ہیں
رائٹر کہہ رہا لنڈے کا منڈیلا ڈیل کے لیے ترلے کر رہا ہے
چھپ چھپ کر پھولوں کی پتیاں پھینک کر ٹک ٹاک بنانے والوں کا بھی ایک گھٹیا ہی لیول ہے
ایک طرف وہ عوام ہے جو اپنے لیڈر کو خود جیل چھوڑنے جا رہی ہے اور دوسری وہ ہیں جو ڈرپوک بن کر گھر بیٹھے ہیں