علی محمد خان کا قد سوا چھ فٹ سے نکلتا ہے۔ رنگ اناروں جیسا سرخ ہے۔ بال اس قدر سلیقے سے تراشے ہوئے کہ کسی فلمی ہیرو کا گمان ہوتا ہے۔ ہر کوئی وزیراعظم بننے سے رہا علی محمد خان نے سیاست کی معراج دیکھ رکھی ہے۔ لگاتار ایم این اے بن جانا ، وفاقی وزیر ہوجانا ، پورے ملک میں شناخت بن جانا ہی سیاست کا عروج ہوا۔ اتنا وقت سیاست میں گزارنے کے بعد علی محمد فن تقریر سے بخوبی آشنا ہے۔ نہ فمبل کرتا ہے نہ اٹکتا ہے ، نہ لہجے میں کوئی علاقائی چھاپ آتی ہے۔ ولایت پلٹ ایل ایل ایم بھی اپنے ساتھ بیرسٹر لکھتے ہیں ، صرف امتحان پاس کرکے باقی منازل طے کیے بغیر بھی خود کو بیرسٹر ہی کہتے ہیں۔ معلوم نہیں علی محمد کس کیٹگری والا بیرسٹر ہے لیکن بہرحال بیرسٹر ضرور ہے۔ یعنی یہاں بھی ایکسپوژر تو کچھ نا کچھ ہوا۔
پھر سیاستدانوں کی ایک کیٹگری وہ ہوتی ہے جو اچانک دولت کے زور سے یا پھر کسی حادثے کی وجہ سے یا اپنے کسی سابقہ عہدے کی وجہ سے سیاست میں آجاتے ہیں۔ وہ تمام جتن کرکے بھی خود کو خاندانی سیاستدان یا خاندانی رئیس قرار نہیں دے پاتے اور ان کا احساس کمتری کہیں نا کہیں جھلکتا رہتا ہے۔ علی محمد خان کے خاندان کے لوگ اگر ملکی سطح نا سہی اپنے علاقے کی حد تک جانے پہچانے لوگ ہیں۔ یعنی علی محمد خان کو قدرت کی جانب سے پریمیم سبسکرپشن والا ایک مکمل پیکج ملا۔
نوازشوں کا یہ سلسلہ رکا نہیں۔ رجیم چینج کی رات علی محمد خان کی ایک تقریر نے ریٹنگ کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ علی محمد خان اور قاسم خان سوری رجیم چینج کے وقت ہیرو بن کر ابھرے۔ چھوٹے شہروں کی ریلیوں میں انہیں سننے سینکڑوں ہزاروں لوگ پہنچتے۔
پھر حالات نے پلٹا کھایا۔ اب آزمائش کا وقت تھا۔ مشکلات اور سختیاں تھیں۔ فریق دو ہی تھے۔ ایک عمران خان اور دوسرا اسکو شکست دینے کے درپے طاقتیں۔ قدرت نے فیصلے کا اختیار علی محمد کی سوجھ بوجھ کو دیا۔ علی محمد خان ہر روز عمران خان کو شکست دینے کی کوششیں کرنے والوں کیساتھ کھڑا نظر آیا۔ معلوم نہیں لالچ ہے یا دباؤ ، سختیوں سے بچنے کی کوشش ہے یا بیچارہ تھا ہی یہی کچھ ، ہر روز کی ذلت ، ہر روز کی رسوائی۔ نشستیں فارم سینتالیس پر بھی مل جاتی ہیں۔ وزارتیں بھی مل جاتی ہیں۔ سیاستدان کی عزت وہ ہے جو عوام کے دل میں ہوتی ہے۔ علی محمد اس سے محروم ہوچکا۔
مولانا تقی عثمانی صاحب واہ
کبھی آپ کو کامران ٹیسوری میں حضرت عمر فاروق نظر آتا ہے لیکن
کبھی مینڈیٹ چوری پر فتویٰ نہیں دیا،
کبھی اس ملک اور قوم کی بدحالی پر فتویٰ نہیں دیا
پورا پاکستان سود پر اور آئ ایم ایف کے قرضوں پر چل رہا ہے اس پر بھی فتویٰ نہیں دیا
کبھی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے پر فتویٰ نہیں دیا،
کبھی ماورائے عدالت ق تل پر فتویٰ نہیں دیا،
کبھی لوگوں کو جبری گمشد_ہ کرنے پر فتویٰ نہیں دیا،
کبھی آئین توڑنے پر فتویٰ نہیں دیا۔ فتویٰ دیا بھی تو کس چیز پر؟
کرپٹو کرنسی پر!!!
ایک تصویر… دو چہرے… دو راستے… اور انجام کا لرزا دینے والا سبق!
تصویر میں دائیں جانب موجود شخص امریکہ سے تعلق رکھنے والا جوزف ایسٹس Joseph Estes ہے۔ اس نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک ایسے تاجر کے طور پر کیا جو انتہائی متعصب عیسائی سمجھا جاتا تھا۔ مسلمانوں پر طنز و تضحیک کرنا اس کا معمول تھا۔ اللہ کی پناہ! کعبۃ اللہ کے بارے میں بھی از راہِ طنز کہا کرتا تھا:
“مسلمان صحراء میں پڑے ایک سیاہ صندوق کی عبادت کرتے ہیں۔”
معاذ اللہ!
اور تصویر میں بائیں جانب بلادِ حرمین سے تعلق رکھنے والا عبد اللہ القصیمی ہے۔
یہ شخص آغاز میں کمال درجے کا داعی، مبلغ اور اسلام کا دفاع کرنے والا قلم کار تھا۔ یہاں تک کہ اسے “ابن تیمیہ دوم” کا لقب دیا گیا۔ اس کی مشہور زمانہ کتاب:
« الصراع بين الإسلام والوطنية »
“اسلام اور نیشنلزم کا ٹکراؤ”
اہلِ علم میں بے پناہ مقبول ہوئی۔ کتاب کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اس وقت حرم مکی کے امام نے اس کے بارے میں پورا قصیدہ پڑھا۔ مشہور عالمِ دین صلاح منجد نے ذکر فرمایا کہ بعض اہلِ علم کا کہنا تھا:
“قصیمی نے یہ کتاب لکھی، گویا جنت کا مہر ادا کر دیا۔”
لیکن پھر 1980ء میں اس کی زندگی کا رخ اچانک ایک سو اسی درجے بدل گیا۔ کہا جاتا ہے کہ بیروت میں ایک عیسائی لڑکی کے عشق میں مبتلا ہونے کے بعد اس کے افکار بدلنے لگے۔ اس کے بعد اس نے بے دین اور گمراہ نظریات کا دفاع شروع کیا اور کتاب لکھی:
« يكذبون لكي يروا الإله جميلا »
“وہ جھوٹ اس لیے بولتے ہیں کہ معبود کو خوبصورت دیکھیں”
استغفر اللہ!
اسی طرح اس نے کتاب لکھی:
« هذي هي الأغلال »
“یہی وہ زنجیریں ہیں”
اس کتاب میں صوم، صلاۃ اور دیگر عبادات کو گلے کے طوق سے تشبیہ دی گئی۔ معاذ اللہ!
پھر اس نے اپنے ملحد ہونے اور اللہ کے وجود سے انکار کا اعلان کر دیا۔ 1996ء میں زمین اس کے وجود سے پاک ہوئی۔
اسی دوران دوسری طرف جوزف ایسٹس نے اپنے خاندان سمیت ایک مصری مبلغ کے ہاتھوں اسلام قبول کیا۔ یوں ایک متعصب عیسائی، اسلام کا داعی بن گیا۔ اس نے اپنا نام تبدیل کر کے یوسف رکھا، اور پھر امریکہ میں اسلام کی دعوت کا روشن چراغ بن گیا۔ اس کے ہاتھوں سینکڑوں افراد حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔
یہ ہیں دلوں کو پھیرنے والی ذات کے کمالات!
ایک اسلام کا مذاق اڑاتا تھا، اللہ نے اسے اسلام کا داعی بنا دیا۔
ایک اسلام کا دفاع کرتا تھا، مگر انجام گمراہی پر ہوا۔
اس لیے ابتداء ہی سب کچھ نہیں ہوتی؛ اصل عبرت انجام اور خاتمے میں ہے!
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤️ نے ایمان پر خاتمے کے لیے یہ دعا پڑھی:
“اے اللہ! مجھے مرتے وقت ایمان کی حجت کی تلقین نصیب فرمایئے۔”
آمین یا رب العالمین
(جامع الحدیث للسیوطی 18034)
یا اللہ! ہمارا خاتمہ بالاسلام، بالایمان اور بالخیر فرمانا۔
آمین یا رب العالمین۔
مشہور لطیفہ ہے کہ کفن چور مر گیا کوئی اسے اچھے الفاظ میں یاد نہ کیا کرے۔ اس کے بیٹے کو یہ سن کر بہت تکلیف ہوتی تھی کہ ابا جی گزر گئے کوئی انہیں اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرتا۔ کسی سیانے سے مشورہ کیا تو اس نے بڑے پتے کی بات بتائی۔ اب بیٹا کفن چور کفن چوری کرتا اور ساتھ میں مردے کی تشریف میں ایک کلہ بھی ٹھونک دیتا۔ لوگوں نے پھر کہنا شروع کردیا کہ اس کا باپ بھی اگرچہ کفن چور تھا لیکن بہرحال رحم دل تھا۔
اگرچہ مریم بی بی کے ابا جی بھی چور تھے لیکن رحم دل تھے۔
ن لیگی صحافی عمران خان دور میں پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے کا اضافہ ہونے پر اتنا شور مچاتے تھے۔
جبکہ آج 137 روپے اضافہ ہو گیا، ابھی کچھ دن پہلے 55 روپے اور اس سے ہفتہ پہلے 8 روپے اضافہ کیا گیا تھا۔
حالانکہ پاکستان میں پیٹرول کی کوئی کمی نہیں۔ پھر بھی اس ظلم کا کوئی جواز نہیں۔ ظلم کی انتہا ہے۔