اس ویڈیو میں واضح دیکھا جا سکتا ہے پہلے کرنل اسفندیار ولی صاحب کو پیچھے سے کہنی ماری پھر جب وہ واپس پلٹے تو انکے گریبان پر ہاتھ ڈالا گیا جبکے ساتھ ہی پیچھے سے چماٹ ماری گئ اور ڈنڈے سے کرنل صاحب کے سر پر مارا گیا
اب آگے سے بھی کوئ نائ موچھی تو تھا نہیں
پاک فوج کا کرنل تھا اور وو بھی چارسدہ کا پشتون
اس نے بھی پھر یہ سوچا کے
(نوکری سرا بہ روستو گوروں خو مخکے چے دائ یخ کم)
سرحد یونیورسٹی سے ایک اور ویڈیو ہے ویڈیو بنانے والی طالبہ غصے میں کہہ رہی “ عورتوں پر حملہ کر رہے ہیں دلی کے بچے “ یعنی جنگلی اپنے جنگلی پن کا مظاہرہ ہی کر رہے تھے
گولی چلنے پر طالبات نے کہا بہت اچھا ہوا ہے “ یہ دیکھ کر تو کہنا بنتا ہے گولیاں ضائع نہیں کرنی چائیے تھی
ویڈیو میں کرنل کی گرل فرینڈ فرعون بنی ہوئی ہے!
پرامن سٹوڈنٹس کو ٹینگہ دکھا رہی ہے!!
کرنل کی گرل نے, بڈھے کرنل کو ایسا پھنسایا,
کہ آئندہ کوئی فوجی گرل فرینڈ کے سامنے تیس مار خان بننے سے پہلے ہزار بار سوچیں گے!!