صدر کا آرڈر سٹاف نہیں مانتا ،سپریم کورٹ کا حکم حکومت نہیں مانتی،ہائیکورٹ کا حکم ایک جیلر نہیں مانتا الیکشن کمیشن کسی کی بھی نہیں مانتا ،ویگو ڈالہ پاکستان کا کوئی قانون نہیں مانتا ،اور ہم آزاد ہیں یہ بات دل نہیں مانتا
شرمناک امر یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان صاحب کے نام کی تختی، جو 200 بیڈ مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال اور نرسنگ کالج میانوالی کے مین گیٹ پر نصب تھی، اکھاڑ کر سٹور روم میں پھینک دی گئی۔ عمران خان صاحب نے تقریباً 3 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والا یہ مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال میانوالی کے عوام کو تحفے میں دیا تھا، جو نہ صرف میانوالی بلکہ پورے سرگودھا ڈویژن کے لیے ایک عظیم طبی سہولت تھا، اور جس کا افتتاح انہوں نے دسمبر 2022 میں خود کیا تھا۔ موجودہ فارم 47 کی حکومت نے اس ہسپتال کو ختم کرکے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ضم کر دیا، اور اب عمران خان صاحب کے نام کی تختیاں بھی اتاری جا رہی ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حکومت عمران خان صاحب کے عوامی منصوبوں کی شناخت اور تاریخ مٹانے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ عوامی منصوبے کسی سیاسی جماعت نہیں بلکہ عوام کی ملکیت ہوتے ہیں۔
جہاں پٹواریوں نے دس ارب کے جہاز کا ، اسحاق ڈار کی اولاد کا ، جعلی الیکشن مینڈیٹ کا ، ووٹ کو عزت دو کے فضلے کا بوجھ اپنے سروں پر ڈھویا وہاں یوتھیوں نے مراعات لینے پر پختونخواہ اسمبلی کو اڑا کر رکھ دیا۔
فرق صرف غیرت کا ہے !
ایک طرف لگژری پرائیویٹ جہاز کا دفاع کیا گیا بلکہ کہا گیا کہ ہاں لیا ہے بھئی ۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا خصوصی مراعات پر اپنی ہی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہا ہے
اور پریشر اتنا زیادہ ہے کہ حکومت کو شاید اب یہ مراعات ختم کرنی پڑیں گی ۔
جس دن تبصرہ پاڑوں اور بے غیرت پٹواریوں نے مریم نواز پر ووٹ کو عزت دو کو قربان کرنے پر ، دس ارب کا جہاز خریدنے پر ، سی سی ڈی جیسے ادارے بنانے پر ویسی تنقید کی جیسی یوتھیوں نے پختونخواہ اسمبلی پر مراعات لینے پر کی اس دن یہ ملک بدل جاوے گا۔
خبر ہے کہ پنجاب میں، مریم نواز صاحبہ کی ناک کے نیچے سے، 45 لاکھ ٹن گندم، پراسرار طریقے سے غائب ہوگئی ہے
تاریخ بتاتی ہے کہ 90 کی دہائی میں میاں صاحب کی حکومت میں ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ
شیر آٹا کھا گیا تھا
جو کام رضا ڈار نے کیا، اگر یہی کام عمران خان کے بیٹے یا بھانجے سے سرزد ہوا ہوتا تو اب تک متاثرہ لڑکیوں کے “ماموں” بن کر انصار عباسی اور عمر چیمہ سینہ کوبی کر چکے ہوتے۔
اگر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک ایڈیشنل جج جسٹس محمد آصف کا بیٹا اسلام آباد کی اہم شاہراہ پر دو معصوم بچیوں کو کچلنے کے تین دن بعد کیس سے فارغ ہو کر گھر پہنچ جاتا ہے تو ایسے نظام میں رضا ڈار کو کیسے سزا ہو سکتی ہے ؟زورین نظامانی کا سوال
حکومت کو مفت مشورہ ہے۔۔ اگر رضا ڈار کے اسکینڈل سے توجہ ہٹانی ہے تو عمران خان کو اسپتال شفٹ کر دیں یا کوئی تازہ تصویر جاری کر دیں۔۔ یا کوئی ملاقات کرا کے پیغام باہرآنے دیں۔۔
سلمان رضا اور جنید جہانگیر دونوں پڑھے لکھے، با شعور، قانون کی پاسداری کرنے والے نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں جو آج اس فاشسٹ سرکار کے فاشزم کا سامنا کر رہے ہیں اور اسی کی وجہ سے متحدہ عرب امارات میں ناحق قید ہیں، ان نوجوانوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ یہ پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے جدوجہد کرتے ہیں۔
اس ملک کے مستقبل کے ساتھ اس طرح کا سلوک ہرگز قابل قبول نہیں یہ نوجوان اس ملک کا اثاثہ ہیں، ان کی قدر کریں۔
#JusticeForJunaidAndSalman
بریکنگ نیوز... اسحاق ڈار نے خاموشی توڑ دی.
"نواسہ تو دور کی بات میں تو کسی علی ڈار کو بھی نہیں جانتا. ثناء یہ پتہ نہیں کہاں کہاں سے ہمارے نواسے نکال لاتے ہیں " اسحاق ڈار
کامران صاحب آپ حقائق کے بجائے گمراہ کن بیانیہ پیش کر رہے ہیں
2026 میں حکومت پنجاب نے پالیسی تبدیل کرتے ہوئے اعلان کیا کہ سی سی ڈی کے اندر جنسی جرائم کی تفتیش کے لیے خصوصی شعبہ قائم کیا جائے گا اور جنسی جرائم کی تفتیش کا نظام سی سی ڈی کے ذریعے نافذ کیا جائے گا اس لیے آپ کا یہ دعویٰ کہ ریپ کا مقدمہ کبھی بھی سی سی ڈی کے دائرۂ اختیار میں نہیں آ سکتا حقیقت کے منافی ہے
یہ لندن میں آج پاکستان کی نام نہاد حکومت کے خلاف کشمیریوں کا احتجاج تھا
پہلے یہ احتجاج بھارت کے خلاف ہوا کرتے تھے اب پاکستان کے خلاف ہو رہے ہیں
کیسا اعلی ویژن ہے کیا کہنے اعلیٰ دماغوں کے واہ
حدیث تو یہ بھی ہے
"تم سے پہلے کی قومیں اسی لیے ہلاک ہو گئیں کہ جب ان میں کوئی بڑا یا معزز آدمی چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور یا غریب چوری کرتا تو اس پر حد (سزا) نافذ کرتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔"