فیصل موورز میں رات ایک بجے مسافروں پر غنڈہ گردی کا آنکھوں دیکھا حال، ویڈیو بھی شیئر کردی ہے
میں جلال پور پیر والا سے فیصل موورز کی بس میں سوار ہوا، سفر اپنے معمول پر تھا کہ رات ایک بجے کے قریب فیصل موورز کا عملہ دندناتا ہوا بس میں داخل ہوا اور ایک غریب مسافر کی نشست پر جا کر چڑھ دوڑا۔ وہ مسافر اور اس کا 10 سالہ معصوم بچہ رات ساڑھے آٹھ بجے اوچ شریف سے اسلام آباد کے لیے گاڑی میں بیٹھے تھے، جنہیں کاؤنٹر پر باقاعدہ تسلی اور طے شدہ معاملے کے مطابق ٹکٹ جاری کیا گیا تھا۔ مگر آدھی رات کے سنسان پہر بس عملے نے ان پر 1500 روپے کا اضافی چھاپہ مار دیا اور بچے کی ہاف ٹکٹ کے نام پر غنڈہ گردی شروع کر دی۔
جب اس بے بس باپ نے کہا کہ کاؤنٹر پر تمام بات طے ہوئی تھی اور اس وقت میرے پاس مزید پیسے نہیں ہیں، تو عملے کا فرعونانہ رویہ دیکھنے والا تھا۔ عملے کے بندے نے سیدھی دھمکی داغ دی کہ 1500 نکالو ورنہ بچے کو لے کر اسی وقت اتر جاؤ، اور تمہاری پرانی ٹکٹ کے پیسے بھی ڈوب گئے، ایک روپیہ واپس نہیں ملے گا۔ آدھی رات کو ایک باپ کو بچے سمیت سڑک کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی یہ کھلی بلیک میلنگ کس قانون اور اخلاق کے زمرے میں آتی ہے؟
اس کھلی ناانصافی اور غنڈہ گردی کو دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا، میں نے فوراً مداخلت کی، میری مداخلت پر عملہ مجھ پر غصہ کرتے ہوئے وہاں سے نکل گیا۔ اگر اس وقت میں مداخلت نہ کرتا، تو آج وہ غریب باپ اور معصوم بچہ آدھی رات کے اس سنسان اور خطرناک راستے پر سڑک کنارے اتار دیے گئے ہوتے۔
اگر کاؤنٹر والے نے کوئی غلطی کی تو اس کا تاوان سفر کے دوران ایک غریب مسافر کو سڑک پر پھینک کر وصول کیا جائے گا؟ فیصل موورز کا یہ رویہ مسافروں کی عزتِ نفس پر کھلا حملہ ہے۔ اس واقعے پر فیصل موورز کی اعلیٰ انتظامیہ اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو فوری ایکشن لیتے ہوئے ذمے دار عملے کے خلاف سخت ترین قانونی و ڈسپلنری کارروائی کرنی چاہیے
#FaisalMovers #PassengerSafety #ExposeFaisalMovers #PublicTransport #JusticeForPassengers #StopBullying #VoiceAgainstInjustice #viralvideochallenge
احسن بھون کی ڈگری پر کیپٹن صفدر اکیلا لڑ رہا ہے۔ یہ ILF والے دوست کیا دھنیا پی کر سو رہے ہیں ؟
انکی زمہ داری صرف عہدے ٹکٹیں اور ملاقاتوں اور دوسرے معملات ہی ہیں۔ یا وکلا کے کسی معاملے سے بھی کوئی لینا دینا ہے۔
اب یہ کنڈا بھی ہمیں ہی کھولنا پڑنا ہے ؟
اگر اگلے 24 گھنٹے میں ILF نے اپنی پوزیشن واضح نہ کی تو name and. Shame کیا جائے گا۔
کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخآری
جس نے کے پی کے، کی حکومت کے خلاف سازشوں کا جال بن رکھا ہے اور کے پی کے میں ڈرونز اور دھشتگردی کی آگ پھیلا رکھی ہے ۔
یہ چودھراہٹ، عزت، گارڈز، مہنگی گاڑی پروٹوکول
یہ سب اپنی ماں کے جہیز میں نہیں ملا تھا یہ اس قوم کا دیا ہوا ہے جسکی دن رات بجا رہے ہیں ۔ جس قوم کے ساتھ ان کو کھڑا ہونا تھا اسکو اپنے ساتھ کھڑا ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ قوم کے غدار ہیں
جو جو ایم پی ایز، ایم این ایز یا پارٹی قائدین 4 اکتوبر کو پاکستان میں موجود نہیں ہوں گے، ان کا پاکستان تحریکِ انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ وہ اپنے لیے کوئی دوسری پارٹی بنا لیں۔
تحریک انصاف کے تمام ورکرز کے نام:
جن جن بھائیوں اور بہنوں کے کیسز میرے پاس ہیں، وہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ میرے نزدیک ہر ورکر کی حیثیت وہی ہے جو عمران خان کی ہے۔ میں نہ عہدے، نہ سیاست اور نہ ہی کسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر کوئی فرق کرتا ہوں۔ میری اولین ترجیح ہمیشہ وہ عام اور کمزور ورکر ہوتا ہے جو مشکل میں ہو، اور میری بھرپور کوشش یہی ہوتی ہے کہ اسے وہی انصاف اور توجہ ملے جو کسی بڑے عہدے دار کو دی جاتی ہے۔
لہٰذا کسی بھی قسم کی سفارش، فون یا تعلق استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہر ورکر بلاجھجک براہِ راست مجھ سے رابطہ کرے۔ جو قانونی امداد میرے بس میں ہوگی میں ضرور کروں گا۔
ملک پرویز اقبال اُموی۔ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
شاید آپ کو یاد ہو گا. کہ سلام آباد کی سڑکوں پر بیٹھی ایک بلوچستان کی بیٹی کو دھکے مار کر اسلام آباد کی سڑکوں سے گرفتار کیا تھا.
اس دن سے بلوچستان کی سرزمین ان کے لیے نوگو ایریا ہے.
جب قانون آئین اور پروٹیسٹ کا حق چھین لیا جاتا ہے تو پھر بغاوت ہی جنم لیتی ہے.
خیبرپختونخواہ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ احتجاج اور لانگ مارچ کیلئے پنجاب کیا کر رہا ہے۔
یہ سوال خیبرپختونخواہ کو نہیں خود پنجاب کو پوچھنا چاہیئے مرکزی اور پنجاب قیادت سے ۔ جو لانگ مارچ کی ساری توجہ اور امید صرف کے پی سے رکھ کر اس حقیقی سوال کی جواب دہی سے اپنی جان چھڑا رہے ہیں
ایک کرنل کو ایک نجی مسئلے پر کسی نے گریبان سے پکڑ لیا۔ یہ واقعہ ایک قومی تہوار کی صورت اختیار کرگیا۔ فوج پتہ نہیں کس غلط فہمی میں ہے۔ اب فوج کا انجام دردناک ہے۔ وقت زیادہ لگے یا کم اسکی اب اہمیت نہیں بچی۔
اگر آج حکومتی ٹر ٹر ٹیم یعنی اطلاعات والوں کی یہ لاجک مان لی جاے کہ خیبر پختوخواہ میں ہونے والی دہشت گردی سہیل آفریدی کی ذمہ دادی ہے تو کیا پھر لاہور میں آے روز ہونے والے گینگ ریپ مریم نواز کی ذمہداری تصور کیے جایئں خاص کر جب حالیہ ایک واقع میں انکے قریبی عزیز ملوث پاۓ گے؟؟